Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

میرا گرم موٹا تازہ دودھ پینا ہے تو مجھے میسج کرو یہ وہ خالص دودھ ہے جو نا مردو کو بھی مرد بنا دیتا ہے یہ دودھ بوڑھوں کو جوان بنا دیتا ہے بچو کو بڑا کر دیتا ہے میرے دودھ دیکھ کر لوگو کا لن پانی چھوڑ دیتا...

33,842 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

دودھ جلیبی! ہر وہ بندہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میری غذا بہت عمدہ ہے اور میں اپنی غذا کے معاملے میں کوئی سستی نہیں کرتا۔ اگر اس کی غذا میں دودھ جلیبی شامل نہیں ہے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔ دودھ جلیبی عمدہ غذائیت کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی شاموں کو بھی قوس و قزح بنا دیتی ہے۔ دودھ جلیبی کے اگرچہ متعدد فوائد ہیں لیکن چند افادہ عام کے لیے چند ایک لکھ دیتا ہوں۔ دودھ جلیبی جسم کو توانائی دینے کے ساتھ ساتھ سردی کا احساس بھی کم کرتا ہے۔ ماہرین طب کا ماننا ہے کہ ہفتے میں ایک بار دودھ جلیبی کا استعمال صحت کو رونق بخش دیتا ہے ۔ سردی کے موسم میں ہڈیوں کا درد عام سی بات ہے، جوڑوں کے درد کے مریضوں کے لیے سردی کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں، مگر دودھ جلیبی کے استعمال سے نا صرف ہڈیوں کے درد میں کمی واقع ہوگی بلکہ جوڑوں کے درد میں بھی آرام ملے گا۔ سردی کے موسم میں پٹھوں کی سوزش اور سختی کے باعث شدید درد محسوس ہوتا ہے۔ لیکن دودھ جلیبی کا ایک پیالہ نا صرف پٹھوں کی سوزش کے خاتمے میں بلکہ گرمی فراہم کر کے نقل و حرکت میں بھی مدد دے گا۔ شادی شدہ حضرات بھی خوش ہو لیں کیونکہ یہ جنسی صحت میں اضافے کے ساتھ اعلیٰ ذرخیزی میں بھی مدد دیتا ہے۔ سردی کی شاموں میں گرما گرم دودھ جلیبی کی سوغات کے بے شمار فوائد سردی کے موسم میں گرما گرم دودھ اور جلیبی مل جائے تو کیا ہی کہنے، دودھ جلیبی جسم و جاں کو توانائی بخشتی ہے اور چہرے کی رنگت نکھارنے کے لئے بھی آزمودہ ہے۔ سردیاں شروع ہوتے ہی گرم گرم دودھ کا استعمال بڑھ جاتا ہے، گرم دودھ میں اگر جلیبی ڈالی لی جائے تو وہ مرغوب غذا بن جاتی ہے۔ لوگ صرف ذائقے کے لئے ہی نہیں بلکہ توانائی بحال کرنے اور جسم کو گرم رکھنے کے لئے جلیبی ملا دودھ پیتے ہیں. آئیے اور سرد راتوں میں توانائی بہال کرنے کے لئے گرما گرم دودھ میں جلیبی ملا کر پیئں اور خود کو تندرست و توانا رکھیں.

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

19,669 Aufrufe • vor 2 Jahren

پاکستان میں صحت کا مسئلہ صرف ہسپتالوں کا نہیں، پورے سسٹم کا ہے — خاص طور پر وہ سسٹم جو گلی کے نکڑ پر دودھ کے ڈبے سے شروع ہوتا ہے۔ آج بھی اگر پاکستان جاؤ تو ایسے ایسے سائنسی تجربات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ Albert Einstein بھی قبر میں کروٹ بدل لے۔ منظر کچھ یوں ہوتا ہے: دودھ کے کین کا ڈھکن بڑے وقار سے کھولا جاتا ہے۔ اوپر رکھی تُوڑی نکال کر ایسے پھینکی جاتی ہے جیسے یہ کسی خفیہ تجربے کا حصہ ہو۔ پھر ایک “ماہرِ دودھیات” اپنی آستین چڑھاتا ہے، اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوری بازو دودھ کے اندر ڈال کر باہر نکالتا ہے… اور پھر چہرے پر سنجیدگی لا کر اعلان کرتا ہے: ہاں جی، بلکل فِٹ ہے! اس کے بعد اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے — فلٹریشن ٹیکنالوجی کا۔ ایک سٹیل کے ٹب کے اوپر جالی والا کپڑا رکھا جاتا ہے، اور دودھ کو اس میں انڈیلا جاتا ہے۔ چھانتے ہوئے کپڑے پر تنکے، کیڑے، مکھیاں جمع ہو جاتی ہیں… جبکہ کچھ “بہادر سپاہی” دودھ کے ساتھ ہی اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ شاید وہ بھی غذائیت بڑھانے کے مشن پر ہوں۔ اور اگر قسمت سے کسی خریدار کو ٹب میں تیرتی ہوئی مکھی نظر آ جائے تو دکاندار بڑے سکون سے اسے انگلی سے پکڑ کر دیوار پر یوں چپکا دیتا ہے جیسے کوئی آرٹ انسٹالیشن لگا رہا ہو۔ اس کے بعد وہی جملہ: ہاں جی، بلکل صاف ہے! - - مزے کی بات یہ ہے کہ یہی دودھ لوگ بڑے فخر سے خریدتے ہیں، اور ساتھ ایک فلسفیانہ جملہ لازمی دیتے ہیں: بھائی ڈبے والا دودھ تو کیمیکل ہوتا ہے… - - یعنی ایک طرف وہ دودھ ہے جس میں مکھی، تنکے اور “ماہر کی بازو” شامل ہے، اور دوسری طرف وہ دودھ ہے جو مشینوں سے گزرا ہے… مگر ہمارے نزدیک قدرتی وہی ہے جس میں کچھ نہ کچھ تیرتا ہوا ضرور ہو۔ بس یہی وہ لیول ہے جہاں صحت نہیں بنتی، بلکہ “ایمیونٹی ٹریننگ پروگرام” چل رہا ہوتا ہے 😄

Mansoor | Mr. Hide - Rebirth

40,478 Aufrufe • vor 3 Monaten