Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

میری زندگی کے مشکل ترین دنوں میں ایک یہ دن بھی تھا اسی لیے آج کسی سے بھی کوئی ہمدردی نہیں. انہی لوگوں نے ہمیں فیڈرل لاجز سے آغواء کیے تھے۔ اللہ کی لاٹھی بے اواز ہے۔

14,406 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا، میں نے اور میرے بھائی نے ایک ہی کمپنی میں جاب کے لیے اپلائی کیا تھا۔ انٹرویو کے بعد باس نے مجھے سیکرٹری کے عہدے کے لیے سلیکٹ کر لیا، جبکہ میرے بھائی کو ریجیکٹ کر دیا گیا۔ گھر پہنچنے پر امی نے بھی بھائی کو سمجھایا کہ اپنی بہن سے سیکھو، وہ اپنی قابلیت کی وجہ سے آج اس مقام تک پہنچی ہے۔ اس وقت شاید یہ بات بھائی کے لیے مشکل تھی، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ ہر انسان کا وقت اور سفر مختلف ہوتا ہے۔ آج میرے آفس کا پہلا دن تھا۔ دن بھر کام میں اتنی مصروف رہی کہ ابھی آفس سے واپس گھر پہنچی ہوں۔ ابھی باس کی کال آئی ہے کہ آج رات میرے لیے ایک چھوٹی سی ڈنر پارٹی رکھی گئی ہے اور مجھے بھی مدعو کیا گیا ہے۔ باس خود مجھے لینے آ رہے ہیں اور ہم راولپنڈی کے پی سی ہوٹل جائیں گے، جہاں رات کا کھانا ہوگا۔ سچ کہوں تو اس وقت خوشی سے زیادہ ایک عجیب سی گھبراہٹ ہے۔ پہلا دن، نئی ذمہ داری، نیا ماحول اور پھر اسی دن یہ دعوت۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ رات کے لیے کیا پہنوں۔ زندگی میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ محنت واقعی رنگ لاتی ہے۔ شاید آج میرے لیے بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔

Nadia Malik🍁

13,263 görüntüleme • 2 gün önce

یہ میری بیٹی ہے۔ الحمدللہ اس نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہے۔ یہ بہت نیک، شریف اور فرمانبردار بچی ہے۔ اس کے والد گزشتہ دو سال سے روزگار کے سلسلے میں پردیس میں ہیں، اس لیے گھر کی تمام ذمہ داریاں میرے کندھوں پر ہیں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد اس کا زیادہ وقت موبائل اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں گزرنے لگا۔ ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے فکر تھی کہ کہیں اس کی توجہ تعلیم سے نہ ہٹ جائے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر دے سکے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اسے کالج میں داخل کروانے اور ہاسٹل میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے آفس کے باس سے بات کی۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے، انہوں نے نہ صرف میری بیٹی کا کالج میں داخلہ کروانے میں مدد کی بلکہ ہاسٹل میں رہائش کا انتظام بھی کروا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی تعلیم، ہاسٹل اور دیگر ضروری اخراجات کی فکر نہ کروں۔ ہاسٹل میں ان کا بیٹا بھی رہتا ہے، جو ایک اچھا اور بااخلاق لڑکا ہے، اور وہ بھی میری بیٹی کا خیال رکھے گا۔ میں اپنے باس کی اس مہربانی اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل انسانوں کو ہمیشہ خوش رکھے، کیونکہ آج کے دور میں دوسروں کے لیے اتنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ میری دعا ہے کہ میری بیٹی اپنی تعلیم پر پوری توجہ دے، محنت کرے اور زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے۔

Nadia Malik🍁

22,442 görüntüleme • 1 ay önce