Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

میری عمر نصف صدی سےزیادہ ہوچکی. لاہور میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا، میں بہت سوچ سمجھ کےیہ بات کرنےلگا ہوں کہ لاہورکو اتنا زیادہ charged, vibrant, lively، ناچتا گاتا اور دھمال ڈالتا میں نےاس سےپہلےکبھی نہیں دیکھا. یہ سب کچھ ناقابل یقین ہے. Cerdit goes to one and...

146,441 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

الحمد للہ میں خیریت سے ہوں میں پاکستان آچکا ہوں میں آپ سب بہن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جیسے آپ سب نے مجھے سپورٹ کیا میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان سے میری ویڈیو کو لے کر سعودیہ کو رپورٹ کیا گیا کہ جیسے میں نے سعودیہ کے خلاف بات کی ہے میں انتشار پھیلا رہا ہوں، لیکن جب سعودیہ کے اداروں نے دیکھا کہ اس ویڈیو میں ایسا کچھ نہیں ہے تو انہوں نے باعزت طریقہ سے مجھے چھوڑا اور معذرت بھی کی میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے سامنے بھی گواہی دونگا کہ عمران خان نے ہمیں کبھی اپنے ملک کے خلاف اپنی فوج کے خلاف کچھ کرنے کو نہیں کہا لیکن یہ میں آج بھی یہ کہوں گا کہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی اس نے 9 مئی کروایا میں آپ سب کا اپنی قوم کو اپنے دوستوں کا جنہوں نے میری فیملی سے رابطہ رکھا میری ہر طرح مدد کی ان سب کا بے حد شکر گزار ہوں خاص کر ان سب کا جنہوں نے میرے لیئے دعائیں کی ۔۔۔ پاکستان زندہ باد عمران خان زندہ باد PTI PTI Karachi

MNA Faheem Khan

118,691 görüntüleme • 2 yıl önce

آہستہ آہستہ ذرا دھیان لگا کر ان الفاظ کو اللہ سے کہو۔ اے اللہ میں صرف تجھ پر ہی بھروسہ کرتی/کرتا ہوں، میری اپنی کوئی طاقت نہیں ہے۔ جب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہوتا ہے تو میں جانتی/جانتا ہوں کہ سب تیری طرف سے ہے۔ میری اپنی کوئی طاقت نہیں۔ میری آزمائشوں میں، میں تجھ پر ہی بھروسہ کرتا/کرتی ہوں۔ میرا فتنوں اور مشکلات پر بھی مجھے تجھ پر یقین ہے۔ میری کامیابی اور وقتی ناکامی سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ میری روح بھی میری اپنی کوئی طاقت نہیں ہے۔ یا جبار، یا کریم، یا مالک، یا غفار، یا ودود، یا عزیز، یا لطیف۔ میں تیری رحمت کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتا/سکتی نہ ہی جی سکتی ہوں۔ مجھے ہر برائی سے بچا، میری نکلنے اور لوٹنے کی ہر راہ میں ہدایت دے اس وقت، آج کے دن اور اس دن تک جب تک تو نے میری موت کا وقت لکھا ہے۔ (آمین ضرور کہیں) یہ دعا ان شااللہ بہت زیادہ طاقتور ہے،اسے جتنے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں،ضرور کریں آپ حیران ہو جائیں گے یہ جان کر کہ کتنے لوگ اس دعا کے سخت ضرورت مند ہیں۔ (جزاک اللہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو کسی کو ہدایت (صحیح راستے) کی طرف بتاتا ہے، اسے وہی اجر ملتا ہے جو اس راستے پر چلنے والے کو ملتا ہے، بغیر اس کے اجر میں کوئی کمی کی کئے۔"

شبانہ شوکت

12,510 görüntüleme • 6 ay önce

میں اس ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ اسلام آباد میں جنوری سے 4 لاکھ ماہانہ کرائے پر 3 بیڈروم فلیٹ میں یہ سوچ کر شفٹ ہوا کہ یہ اسلام آباد کی سب سے بہترین لوکیشن پر بلڈنگ ہے۔ سوچا کہ پہلے کرائے پر رہ کر کچھ عرصہ دیکھوں پھر خرید لوں گا۔ لیکن اب جس طرح یہ ہو رہا ہے شکر کر رہا ہوں کہ کچھ خریدا نہیں تھا۔ میری فیملی کینیڈا میں رہتی ہے اور میری فیکٹری(انڈسٹری/بزنس) لاہور میں ہے۔ کینیڈا اور لاہور دونوں جگہ مجھے آدھا آدھا وقت گزارنا پڑتا تھا۔ چند دوستوں کے اصرار اور میری دیرینہ خواہش کے بعد اسلام آباد کا شوق چڑھا تھا کہ بڑا خوبصورت شہر ہے تو وہاں رہائش ہونی چاہیے اور لاہور ہفتے میں 1 دن چکر لگا کر فیکٹری کے معاملات دیکھ جایا کرونگا۔ اس لیے اسلام آباد والا تجربہ کیا۔ اس سال جنوری میں کینیڈا سے واپس آ کر اسلام آباد یہ فلیٹ لے لیا،بہت محنت سے فرنشڈ کیا لیکن جب چند ہفتے گزارے تو اس بلڈنگ میں ایسے لگنے لگا کہ جیسے آپ قید ہو گئے ہوں۔ بلڈنگ عین ریڈزون میں پرائم منسٹر،پریزیڈنٹ ہاوس،پارلیمنٹ کے پاس اور ساتھ جناح کنوینشن سنٹر جڑا ہوا تو سیکیورٹی/پابندیاں بھی اسی حساب کی۔ خاص طور پر جب کوئی غیرملکی سربراہ آ جائے۔ جب فلیٹ لیا تو پتا چلا کہ اس کا کوئی لیز کا کیس کئی سالوں سے کورٹ میں چل رہا ہے۔ اور پتا نہیں کب تک چلنا ہے۔ویسے جو بھی فیصلہ آئے یہ پراجیکٹ تو رہے گا۔ شومئی قسمت۔۔۔فیصلہ بھی فورا آ گیا۔۔اور آ بھی گیا بلڈر کے خلاف۔۔اور اب جس طرح وزیرداخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر دروازے توڑ توڑ کر فوری طور پر اس کو خالی کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ (کیونکہ حکومت اس منصوبے کو سیکیورٹی رسک سمجھتی ہے) تو اس سے یہ ہی یقین محکم ہوا کہ اسلام آباد کے بجائے لاہور رہنا ہی زیادہ بہتر تھا😄 بہرحال۔۔یہ اللہ کی طرف سے نشانی ہے کہ ہم لاہوریوں کے لیے لاہور ہی ٹھیک ہے۔ بے شک۔۔اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

97,182 görüntüleme • 3 ay önce

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,385 görüntüleme • 1 ay önce

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,433 görüntüleme • 5 ay önce

( جناب ٹرمپ کا ٹریلین ڈالر PR پیکج لینے کے بعد عرب ممالک کے بارے ریویو ! شیوخ کو اتنا کہوں گا ,, ہور چوپو ! ) اب ٹرمپ کی بھی سن لیں... کہتا ہے ! میں ابھی مشرق وسطیٰ سے واپس آیا ہوں اور یقین کریں، یہ زندگی کا سب سے بُرا انتظام تھا جو میں نے دیکھا۔ وہ جنہیں “لگژری مقامات” کہا جا رہا تھا، وہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں تھے۔ ارے بھائی، نیویارک کے کسی بھی ٹرمپ ٹاور کی شان و شوکت ان سب پر بھاری ہے۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا ایک 24 قیراط سونے کے فوارے سے — یہ مضحکہ خیز ہے! میں تو مار-اے-لاگو، فلوریڈا میں پچھلے 10 سال سے ٹھوس سونے کے نلکوں کے ساتھ رہ رہا ہوں! ان کی مذاکراتی صلاحیتیں تو اس سے بھی زیادہ مایوس کن تھیں۔ انہیں لگا کہ وہ مجھے صرف سونے کی پلیٹوں پر کھانا کھلا کر قابو پا لیں گے؟ میں پچاس سال سے کاروباری دنیا میں ہوں — اور کوئی بھی صدر ٹرمپ کو بے وقوف نہیں بنا سکتا۔ میں نے انہیں صاف الفاظ میں کہا: یا تو میری شرائط مانو، یا وقت ضائع مت کرو۔ اور ہوا کیا؟ فوراً معاہدے پر دستخط کر دیے! کیونکہ مجھ سے بہتر مذاکرات کوئی نہیں جانتا۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ میڈیا نے سینکڑوں تصویریں لیں، لیکن ایک بھی تصویر میری “صدارتی وجاہت” کو ظاہر نہیں کر سکی۔ اب اگلی بار میں وہاں تب ہی جاؤں گا اگر پورے ملک کو “ٹرمپ اسٹائل” میں سجا دیا جائے — ورنہ بھول جائیں بیعزتی جئی نئی ہو گئی🤣

ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂

311,165 görüntüleme • 1 yıl önce

یہ سب کچھ ڈی جی صاحب نے کہا ۔ صرف انکی جونسی انگریزی ہے اس کا ترجمہ کر دیا ۔ وہ یہ سب سمجھتے ہیں اسی لئے یوتھ کے خلاف ہیں ؟ انہوں نے کہا ۔ جو ہوپ والی بات ہے۔ ​آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا جو نوجوان ہے وہ باشعور نہیں ہے؟ بہت باشعور ہے مجھے اسکولوں، کالجوں اور دیگر پلیٹ فارمز پر پاکستان کے اس شاندار نوجوان طبقے سے بارہا گفتگو کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اور میں آپ کو سچ بتاؤں، جس عمر میں وہ ہیں، اس عمر میں ہمارے مقابلے ان کی سوچ کہیں زیادہ واضح اور روشن ہے۔ بے حد واضح ​وہ جو دنیا کے حالات دیکھتے ہیں نا میرے بھائی، انہیں ریاست کی اہمیت کا مجھ سے اور آپ سے زیادہ اندازہ ہے جو ہمیں اس عمر میں تھا۔ پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی، پاکستان سے ان کی محبت، اور پاکستان پر ان کا اعتماد بہت مضبوط ہے۔ اور میرے خیال میں وہ یہ بات بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے سامنے ابھی 50 سے 70 سال کی پوری زندگی پڑی ہے، کہ وہ ذاتی طور پر زندگی میں اور یہ ملک مجموعی طور پر کن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ​اور ایک بہتر تبدیلی اور سنہرے مستقبل کے لیے ان کی خواہش کہیں زیادہ شدید ہے۔ ​تو اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے، اور اب ہم کھلم کھلا اس بات پر بحث بھی کر رہے ہیں کہ جی ہاں، تبدیلی کی ضرورت ہے..." , تو آئی تھنک مایوسی نہیں، کہیں گے... وہ پرہیپس آئی تھنک کہیں گے 'دیر آئے درست آئے'۔ ٹھیک ہے نا؟ Because they also, ان کا اسٹیک ہے میرے بھائی ان کے پاس زندگی زیادہ ہے، ان کے پاس دہائیاں زیادہ ہیں۔ ​اور اسی ملک کے نیچے، انہیں پتہ ہے وہ غزة کو نہیں دیکھ رہے، انہیں پتہ ہے ریاست کیا ہوتی ہے۔ ریاست کی جگہ... انہیں پتہ ہے پاکستان کے علاوہ نہ ان کی پہچان ہے، نہ عزت ہے، نہ اوقات ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں، مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ میں جب بھی انٹریکٹ کرتا ہوں، ایک چیز.. . جب آپ ان سے ملتے ہیں تو کئی ایسی باتیں ہیں جو آپ کا دل جیت لیتی ہیں، کہ ہمارے پاس کتنا شاندار نوجوان طبقہ ہے! کتنا سلجھا ہوا اور روشن دماغ نوجوان طبقہ ہے!" ​تو یہ ان کی ریکوائرمنٹ ہے میرے بھائی۔ یہ امید کم نہیں ہوئی، یہ ان کے حوصلے کم نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، تو اب ایک... ایک سوچ جنم لے رہی ہے، ایک عمل آگے بڑھ رہا ہے، اور ایک بنیادی ضرورت بھی موجود ہے۔" اب اس کا طریقہ جونسا ہے وہ آئین اور قانون اور عوام... اور ​"تو پھر، سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر بھی تو وہی ہیں ​اگر پاپولیشن وائز بھی دیکھا جائے تو سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر وہی ہے نہ؟ 'ویل آف دی پیپل' کی بات کی جائے تو 'ویل آف دی پیپل' کا سب سے بڑا کمپوننٹ تو وہی ہے۔ تو ہم تو یہی کہہ رہے ہیں لوگوں کی رائے لیں' تو. یوتھ بتا دے گی آپ کو،کہ وہ کیا چاہتے ہیں"

Shafqat Ch

20,399 görüntüleme • 26 gün önce

میں یہ سطور ایک بھاری دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ خاران کے علاقے کلی بزگ گواش میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، اس نے مجھے بطور بلوچ، بطور صحافی اور بطور انسان اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں بی ایل اے کے مسلح افراد ایک شہری کے گھر میں داخل ہوئے۔ یہ کوئی میدانِ جنگ نہیں تھا، کوئی مورچہ نہیں تھا، بلکہ ایک عام گھر تھا جہاں خواتین اور بچے موجود تھے۔ متاثرہ خاندان نے مجھے بتایا کہ گھر کے تمام افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دو حملہ آوروں کی شناخت بھی ہو چکی ہے، اور یہ لوگ کوئی اجنبی نہیں، مقامی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات نے دی کہ اس حملے میں صرف جسمانی تشدد نہیں ہوا، بلکہ گھریلو تقدس کو پامال کیا گیا۔ بلوچ معاشرے میں گھر اور عورت کو ہمیشہ حرمت دی گئی ہے۔ میں نے اپنے بڑوں سے سنا، اپنی تاریخ میں پڑھا اور اپنی زمین پر دیکھا ہے کہ بلوچ روایت میں عورت پر ہاتھ اٹھانا غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس رات، بندوق کے زور پر اسی روایت کو روند دیا گیا۔ میں صاف کہنا چاہتا ہوں کہ عورت پر تشدد کسی بھی نام پر قابلِ قبول نہیں۔ چاہے کوئی خود کو آزادی کا دعویدار کہے، مزاحمت کے نام پر ہتھیار اٹھائے یا کسی نظریے کا سہارا لے ۔ خواتین پر ہاتھ اٹھانا نہ بلوچ روایت ہے، نہ بلوچ غیرت، اور نہ ہی انسانیت۔ اس واقعے کے بعد میں نے خاران ہی نہیں، پورے بلوچستان میں غم اور غصہ محسوس کیا۔ قبائلی عمائدین، سماجی حلقے اور انسانی حقوق کے کارکن سب ایک آواز میں یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ میں بھی انہی لوگوں میں شامل ہوں جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے آج اس پر خاموشی اختیار کی تو کل یہ آگ ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔

Junaid Baloch

10,971 görüntüleme • 7 ay önce

اس فتنہ پارٹی کی بنیاد مجھ جیسے نوجوانوں نے 30 اکتوبر 2011 مینار پاکستان کے جلسہ میں رکھی تھی۔ اور آج ہم ہی اس کو لاہور میں دفن کرگئے۔ عمران خان نے ہم جیسے کئی نوجوانوں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا۔ نوجوانوں کے زہنوں میں زہر گھولا گیا۔ اس جلسے میں میں بذات خود مردان سے قافلہ لے کر گیا ایک بیوقوفانہ سوچ تھا کہ ھم آذادی لینگے۔ مگر یہ معلوم نہیں تھا نا سمجھ تھے کہ ہمارے زریعے ریاست کو آگ لگائی جا رہی ہے۔ 📌میں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے ھدایت نصیب کی اور عمران جیسے دجال کے فتنہ سے آذاد کرایا۔ 📌میں نے عمران خان کے پارٹی میں تیرہ سال گزارے اور اس نقطے پر پہنچا کہ عمران خان رانگ نمبر ہے۔ وہ اسرائیل کا ایجنٹ اور اسلام دشمن ہے۔ میں کھل کر عمران خان کو اسرائیل کا ایجنٹ کہتا ہوں۔ کیونکہ یہ میرے ملک میرے اداروں کا دشمن اور میرے ملک کے نوجوانوں کے زہنوں میں زہر گھولنے والا دنیا کا ایک نمبر بدکرار شخص ہے۔ 📌تیرہ سالوں میں میں نے عمران خان کے منہ سے ایک بات بھی نہیں سنی جسمیں ریاست سے وفاداری یا نصیحت ہو۔ ہر وقت اس شخص نے خود کو ریاست سے بالاتر سمجھا اور نوجوانوں کے زہنوں میں یہی بات بٹھانے کی کوشش کی کہ میں ہی ریاست میں ہی اسلامی سکالر اور میں ہی پاکستان کا واحد ایماندار لیڈر ہوں۔ 📌میری نظر میں جو نوجوان آج عمران کی سپورٹ کررہے ہیں ان پر اللہ کا عذاب ہے اور ان کو ماں باپ کی بددعائیں لگی ہے۔ کیونکہ یہ پارٹی نہیں ایک فتنہ ایک عذاب اور جاھلوں کا ٹولہ ہے۔ 📌عمران خان کا شیطانی ایجنڈا اور گھناؤنا مقصد پاکستان کو ناکام ریاست بنانا۔ ایٹمی طاقت ختم کرنا۔ عوام کے زریعے خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا۔ پاک فوج کو بدنام کرنا ۔ دشمن ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان کو دیوالیہ کرنا۔ پاکستان کے معزز سیاسی رہنماوٴں کو عوام کے نظر میں بدنام کرنا۔ 📌میں اللہ کو گواہ بنا کر حلف لیتا ہوں کہ تیرہ سالوں میں کبھی عمران خان کو ریاست کے ساتھ مخلص نہیں دیکھا۔ 📌دعا گوہ ہوں کہ اللہ ان نوجوانوں کو ھدایت نصیب کریں اور ان سے ملک و قوم کے ترقی میں اھم میں کردار ادا کریں Attaullah Tarar Azma Zahid Bokhari Khawaja M. Asif Murtaza Solangi Rauf Klasra Maryam Nawaz Sharif Umar Cheema Azaz Syed Ammar Solangi Gharidah Farooqi (T.I.) DG ISPR Moeed Pirzada Ali Amin Khan Gandapur Asad Qaiser Ali Muhammad Khan

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

36,911 görüntüleme • 1 yıl önce

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 görüntüleme • 1 ay önce