Sensitive content
This media may contain sensitive content.
Video wird geladen...
Video konnte nicht geladen werden
میرے دوست کی والدہ فوت ہو گئیں، اس نے مجھے نہیں بتایا، جب میرا اس سے آمنا سامنا ہوا تو اس نے کہا 'تمہاری ماں نہیں مری، اگر وہ مر جاتی تو میں اسے لے جاتی' سحر حیات نے طلاق کی وجہ بتا دی جب بیٹی کے سامنے اسکی... show more
56,989 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)
0 Kommentare
Keine Kommentare verfügbar
Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt
Ähnliche Videos
3:28
Sensitive content
اللہ کسی کو آزمائش دے لیکن بچے کے لیے شوہر کے ہاتھوں ذلیل ہونے کی آزمائش کسی ماں کو نہ دکھائے۔ سحر کے شوہر نے کہا میرا پاؤں کا انگوٹھا منہ میں لے کر 20 منٹ بیٹھی رہو تو تمہیں الگ گھر میں رکھوں گا سحر حیات اپنی طلاق پر پہلی بار سچ بول رہی ہیں۔
Eshaal زہـــرہ
153,548 Aufrufe • vor 5 Monaten
2:09
Sensitive content
اب اگر کل تک یہی عورت سوشل میڈیا پر آکر کہے کہ میرے شوہر نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے، مجھے طلاق دے دی ہے تو لعنت ہے اس کی پوری نسل پر ،کیونکہ یہ تربیت اس کی ماں نے اس کی کی ہے ہمیشہ عورت نے مرد کو ظالم کہا ہے حالانکہ ظلم یہ خود کرتی ہیں،..
Ather Salem®
71,258 Aufrufe • vor 13 Tagen
2:39
Sensitive content
الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-
Amir H. Qureshi
50,849 Aufrufe • vor 3 Tagen
