正在加载视频...

视频加载失败

میرے لئے عید کا تیسرا چوتھا دن بڑا قیامت کا دن ہوتا ہے اس سال میرے بچوں کی بیسویں برسی تھی لیکن ایک ماں ہوں تو آج بھی آواز اور آنکھیں آبدیدہ ہو رہی ہے آپ سے بات کرتے ہوئے. سیدہ شہلا رضا اور حیدر عباس رضوی کے درمیان...

10,989 次观看 • 6 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 次观看 • 1 个月前

جنابِ اسپیکر! آج قبائل سے کہا جا رہا ہے، آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو، تم لڑو۔ میرا پشتون ہو یا بلوچ، وہ مقامی ہے، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ جنگ لڑے گا تو ان کی دشمنی نسلوں تک جائے گی، کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ یا پھر آپ کہیں کہ ہم پاکستان کے ہر شہری کو فوجی تربیت دیں گے تاکہ وہ جہاد کے جذبے سے سرشار بھی ہو اور اس کے لڑنے کی صلاحیت بھی اس کے اندر ہو۔ ہم نے تو پاکستان میں کسی کو چھوٹا سا پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی، ہم تو چھری بھی نہیں رکھ سکتے، ہم تو بغیر لائسنس کے ایک بندوق بھی نہیں رکھ سکتے، اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ آج ان حالات میں اگر میرے اوپر تین خودکش حملے ہوئے ہیں، میرے گھر پر کئی راکٹ حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کے اوپر حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کو گاڑیوں سے اتارنے کی کوشش کی گئی ہے، میری پارٹی کے سینئر لوگوں کے اوپر خودکش حملے ہوئے ہیں، ایک ایک حادثے میں پچیس پچیس اور تیس تیس لوگ شہید ہوئے ہیں، ان حالات سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں تو ایک بندوق رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔ ملبہ قوم پر ڈالنا، ملبہ لشکروں پر ڈالنا، یہ کون سی حکمتِ عملی ہے؟ فوج میں ہم کس لیے بھرتی ہوتے ہیں؟ ہم نے فوجی وردی کس لیے پہنی ہوئی ہے؟ ہم نے پیٹی کس لیے باندھی ہوئی ہے؟ اس لیے باندھی ہوئی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو پھر ہمارا یہ نوجوان جنگ لڑے ٹانک میں، میں جنگ لڑوں ڈیرہ اسماعیل خان میں، فتح اللہ خان جنگ لڑے ڈیرہ اسماعیل خان میں، اس لیے تو نہیں ہے۔ اور اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ اسٹیٹ، بس لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے، کوئی سر اٹھائے تو فنا کر دو۔ کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجیے، کون سی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پر نگوشییٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو؟ ایک پوائنٹ بتایا جائے۔ جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے، یہ ہماری اٹھہتر سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے ہیں۔ میرے علماء شہید ہو رہے ہیں، علماء اس لیے شہید ہو رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہیں، وہ پارلیمنٹ کی سیاست کیوں کرتے ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب

Siddique Jan

22,731 次观看 • 2 个月前

" کسی وقت میں (اسلام آباد ہائیکورٹ میں) یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں یوم آزادی تقریب سے خطاب "ہم پاکستان کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنا سب سے جو مختص کیا گیا کردار ہے وہ غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ ہر کسی کا حق ان کے گھروں تک پہنچا دینا ہمارا کام ہے اس مقصد کے حصول کے لئے بینچ اور بار ایک ہی نظام کے دو ستون ہیں ایک مضبوط ، باوقار ، آزاد اور مضبوط عدلیہ نظام کے لئے ناگزیر ہیں جب کہ بینچ کی ذمہ داری ہماری شفافیت اور قانون کے مطابق فیصلوں کے ذریعے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنا ہے اس کے لئے میں آپ لوگوں سے یہ بات آج کے موقع پر شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ ایک سال پہلے کے بعد آج ہی کے دن دوسری دفعہ آپ سے مخاطب ہوں اس وقت میں اور آج کے وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی عدالتوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ پر اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پر لوگوں کا اعتماد کیلکولیٹیڈ طریقے سے دیکھیں سے تو آجُ یومیہ دائری اڑھائی سو کے قریب ہے اس کے باوجود کہ ججز ہمارے پاس کم تھے لیکن کسی وقت میں یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں اور کتنا عدالتوں میں ریلیف ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کا عدالتوں میں آنا اور مسائل کو لےکر آنا اور ان کے حل کے لئے وہ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں "

Saqib Bashir

53,268 次观看 • 3 天前

آج تو بڑا مبارک دن ہے قیصر راجہ کا شُکریہ ادا کرنا بنتا ہے 😀🙏 پہلی بات تو قیصر راجہ پر 295 اے توہین مذہب دس سال قید بنتی ہے کیونکہ پاکستان کا یہ قانون ہر مذہب کی توہین کے لیے بنا ہے اور ان صاحب نے کھلے عام احمدی مذہب کی توہین کی ہے انکو معافی مانگ لینی چاہیے اور انکو پاکستان کے توہین مذہب قانون کے تحت سزا ہونی چاہیے کیونکہ یہ اور انکے خلیفے اس قانون کے پاسدار ہیں۔ دوسری بات آج انہوں نے اس بات کو بھی پبلک میں تسلیم کر لیا کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہا جا سکتا ۔ یہی میں کہتی ہوں ۔ تو میرا مقدمہ میرے مخالفین کے لیڈر نے ہی میرے حق میں کر دیا 🙏 اس کو اللہ کی شان کہتے ہیں تیسری بات راجہ پاکستانی کا طریقہ آپ دیکھیے کہ یہ خود ایک بدتمیز جاہل انسان کی طرح اپنی محفل میں اپنےمخالف نظریے کے انسان سے گفتگو کر رہے ہیں اور ہماری سپیس میں آتے ہی ہائی مورل گراؤنڈز پر کھیلنا چاہتے ہیں اورانسانی حقوق کی اپیل کرتے ہیں ڈبیٹ کے لیے۔ اب آپ اپنے خلیفے اور حواری میرے پیچھے چھوڑنے میں یقیناً دیر نہیں کریں گے 😀🙏 سچ بولا ہے نتائج تو بھگنے پڑیں گے

Sonia Khan khattak(SK)

18,428 次观看 • 2 年前