Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

میرے والد کو نوکری سے نکالے جانے کا نوٹیفیکیشن جعلی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی یہی لوگ ( پی ٹی آئی ) ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ ہمارے پیچھے کتنی فیک چیزیں ہو رہی ہیں ! فاطمہ۔ اب بھی کسی کو شک...

71,982 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

🚨🚨 بریکینگ نیوز :پی ٹی آئی اس بار تھکا تھکا کر ان کو بھگائے گی,!!🔥🔥✌️ اسوقت, حکومت کو پتہ ہی نہیں ہے, کہ پی ٹی آئی نے کرنا کیا ہے, یہ Strategy بہترین ہے, اور یہ Strategy صرف سہیل آفریدی اور ایک دو لوگوں کو پتہ ہے ۔ باقی کسی کو نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے ۔ اور پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ, پورا ملک بند کردیں, جو کہ حکومت خود کر رہی ہے۔ اب M1 بند ہو جائے گا ۔M2 کے اُوپر ہیوی ٹریفک بند کر رہے ہیں ۔ اور جیسے جیسے یہ مارچ قریب آئیگا کہ یہ M2 بھی مکمل بند ہو جائے گا ۔ اسلام آباد-پشاور موٹر وے بند, جی ٹی روڈ بند, لاہور موٹر وے بند ہو جاتی ہے, تو پھر پیچھے رہ کیا جاتا ہے,؟ سینٹرل پنجاب بند ہو جاتا ہے, وفاق بند ہو جاتا ہے, پنڈی بند ہو جاتا ہے تو یہی تو پی ٹی آئی چاہتی ہے ۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک چیز یہ بھی ڈسکس کی گئی کہ ہم اس لانگ مارچ کو آگے کیوں نہ کردیں ۔ہم اس مارچ کو ایک ہفتہ آگے کردیتے ہیں, تو یہ پولیس اہلکار جو انہوں نے بلا رکھیں ہیں, تو یہ بیٹھے بیٹھے تھک جائیں گے ۔ تو اس دفعہ ہم انکو تھکاتے ہیں ۔ جب یہ تھک جائیں گے, پھر ہم اسلام آباد جائینگے ۔ جب یہ شیلنگ کرنے کے جوگے بھی نہیں رہینگے, پھر ہم انٹری ماریں گے ۔ ذیشان عزیز 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

30,147 просмотров • 3 дней назад

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 просмотров • 4 дней назад

منیب فاروق نے بھی تصدیق کر دی ھے کہ پاکستان تحریک انصاف کو بطور جماعت ختم کرنے کے ممکنہ منصوبے کے تحت، یہ قوی امکان ہے کہ خیبر پختونخواہ کے گورنر کو تبدیل کر دیا جائے گا اور شاید کسی سابق فوجی افسر کو یہ عہدہ دیا جا سکتا ہے تاکہ انتظام تو وفاق کے ماتحت ہو لیکن عملی اختیار مقتدرہ کے پاس رہے۔ پی ٹی آئی کے پاس بطور جماعت جو سیاسی گنجائش باقی ہے وہ بھی ختم کر دی جائے گی اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی ایک محدود سیاسی رول کے ساتھ باقی رہ جائے۔ یہ بات صرف وقت ہی بتا سکتا ہے کہ آیا یہ منصوبہ حقیقت میں آتا ہے یا نہیں۔ اس وقت خیبر پختونخواہ کے چیف منسٹر اور وفاقی حکومت کے درمیان شدید کشیدہ تعلقات ہیں، اور اسٹیبلشمنٹ بھی خیبر پختونخواہ کے سی ایم کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔ پی ٹی آئی کے گرد فیک اکاؤنٹس اور ٹرولنگ کا مسئلہ بھی ایک بڑا طوق ہے جس سے جماعت خود کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن فی الحال کوئی بھی چیز پی ٹی آئی کے حق میں نہیں جا رہی ہے۔

چوہدری شاہد محمود

29,916 просмотров • 10 месяцев назад