Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

“میرے کزن رحمت اللہ ولد پروفیسر عبد الواحد کو 18 جنوری 2015 کو جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا۔ تب سے آج تک ہمارا خاندان ناقابل بیان اذیت اور غم میں مبتلا ہے۔” رحمت اللہ کی بازیابی کیلئےتمام انسان دوست افراد اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز اٹھائیں۔ #BalochFightForHumanRights

Комментарии: 9

Фото профиля ꧁༺ 𝐍𝐚𝐛𝐞𝐞𝐥 𝐍𝐚𝐚𝐳 ༻꧂🧢
꧁༺ 𝐍𝐚𝐛𝐞𝐞𝐥 𝐍𝐚𝐚𝐳 ༻꧂🧢1 год назад

دہشت گرد

Фото профиля Saad Ijaz
Saad Ijaz1 год назад

Contact Allah nazar Baloch. Only he can tell you about this man

Фото профиля Civilian
Civilian1 год назад

ایک اور مسنگ پرسنز والا چورن آ گیا یہ مزاری چھپکلی اور بھنگ بلوچ جس کا زکر کرتی ہے وہ دہشتگرد ہی نکلتا ہے۔

Фото профиля Noman Shahani
Noman Shahani1 год назад

Strongly condemn

Фото профиля Ali Faheem
Ali Faheem1 год назад

دہشت گردوں کے کیمپوں میں دیکھو وہیں ملے گا

Фото профиля saif khan paktoooon🇵🇰
saif khan paktoooon🇵🇰1 год назад

Is kutta KO afganestan ma deko 🤔

Фото профиля The Major
The Major1 год назад

Oye zoombie. Devil shaitaan Kuch bhoobko gi syed muzamil attack pe k nahe..oye kanjooro. Kahan mar gaye @Matiullahjan919 @AsadAToor @HamidMirPAK

Фото профиля ʍՄՌeeՐ ʍeՌԳԹʅ
ʍՄՌeeՐ ʍeՌԳԹʅ1 год назад

😓❤️‍🩹

Фото профиля Maiwand 🇦🇫
Maiwand 🇦🇫1 год назад

#SaveBalochStudents #EndEnforcedDisappearances

Похожие видео

اس وقت ایک ہی خاندان کے چار افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں حانی دلواش، خیرنساء واحد، مجاہد دلواش اور فرید اعجاز شامل ہیں۔ ان افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف لواحقین نے کرکی تیجابان کے مقام پر سی پیک روڈ بلاک کر کے احتجاج شروع کر رہے ہیں۔ جبری گمشدگیاں اس وقت ایک انتہائی سنگین اور تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں اب اس جبر کا نشانہ خواتین اور لڑکیاں بھی بن رہی ہیں۔ حانی دلواش اور خیرنساء کو تین روز قبل حب چوکی کے علاقے سے جبری طور پر اٹھایا گیا، اور اس کے بعد سے وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کی عدم بازیابی نے نہ صرف خاندان کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا بلوچستان میں خواتین بھی اب محفوظ نہیں رہیں۔ آئین اور قانون کو بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، بلوچستان کے لوگ کریں تو کیا کریں، ان متاثرہ خاندان کے لئے احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے گزارش ہیکہ اس خاندان کے ساتھ کھڑے ہوکر انکے لئے آواز اٹھائیں۔ #SaveBalochWomen

Sammi Deen Baloch

10,756 просмотров • 9 месяцев назад

10 دسمبر 2024 کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے تین افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔ ان کے اہلِ خانہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے بات کی، جس میں اتفاق منظور اور ان کے دو بھائیوں کی جبری گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات بتائی گئیں۔ بعدازاں، اتفاق منظور کے دونوں بھائیوں کو رہا کر دیا گیا، لیکن پرسوں رات ایک دھماکے میں اتفاق منظور کو قتل کر دیا گیا۔ اسی دوران، ایک اور واقعہ میں، نوجوان جہانزیب کو ہوشاب میں احتجاجی دھرنے کے دوران کچھ ریاستی کارندوں نے گاڑی سے ٹکر مار دی۔ جہانزیب کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن کل رات وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ روزانہ کی بنیاد پر افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے اور قتل کیا جا رہا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، انسانی حقوق کے اداروں سے دوخواست ہیکہ بلوچستان میں ہونے والی ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف نوٹس لیں۔

Sammi Deen Baloch

13,828 просмотров • 1 год назад

“جب کوئی نوجوان ریاست سے سوال کرتا ہے تو وہ لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔" اسلام آباد کے نوجوان اور انسانی حقوق کے کارکن سلیمان سہیل چند روز سے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں۔ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ایک اور باضمیر نوجوان کی آواز خاموش کروانے کی یہ گھٹیا حرکت انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ سلیمان سہیل کی پراسرار گمشدگی صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ملک کے آئین، آزادیِ اظہارِ رائے اور ہر باضمیر شہری کے بنیادی حقوق پر راست حملہ ہے۔ جو نوجوان کل تک ہزاروں مستحقین کو کھانا کھلانے اور معاشرے کی خدمت میں پیش پیش تھا، آج اسے ریاست سے سوال کرنے کی پاداش میں خاموش کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے؛ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جبری گمشدگیوں اور خوف کی فضا قائم کرنے سے نہ تو سوالات دم توڑتے ہیں اور نہ ہی عوام کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا جا سکتا ہے۔ سلیمان سہیل کو فوری اور بلا تاخیر بازیاب کیا جائے، کیونکہ یہ خاموشی آئندہ کسی بھی سچ بولنے والے کا مقدر بن سکتی ہے۔

PTI

23,012 просмотров • 27 дней назад