正在加载视频...

视频加载失败

میڈیا آپ کا احتجاج بلکل بھی نہیں دکھائے جو جو احتجاج پر ہے وہ ویڈیو اور تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالنا شروع کر دیں تا کہ عوام اور دنیا کو پتہ چلے کہ خان کے چاہنے والے زندہ ہیں۔

31,191 次观看 • 3 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

کیا تحریک انصاف اور بھارتیا جنتا پارٹی BJP کی میڈیا سٹریٹجی ایک ہی برطانوی فرم بنا رہی ہے؟ 💥💥 ڈیجیٹل میڈیا کے بہت سے ماہرین کے مطابق PTI اور BJP کے سوشل میڈیا سیل بالکل ایک طرز عمل پر چل رہے ہیں اور دونوں میں بے انتہا مماثلت ہے۔ 1۔ تحریک انصاف نے غریب عوام کے ٹیکس کے 87 کروڑ روپے سے خیبر پختونخواہ سوشل میڈیا ٹیم کھڑی کی جبکہ BJP بھی بھارتی ٹیکس کا پیسہ ان کاموں پر لگاتی ہے۔ 2۔ دونوں BJP اور PTI کی تمام تر کوشش جعلی خبروں کو پھیلانے پر ہوتی ہے۔ 3۔ دونوں BJP اور PTI کے میڈیا سیل میں ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جو عقل کا استعمال نہیں کرتے 4۔ دونوں PTI اور BJP میڈیا سیل میں شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ اسکی سب سے بڑی مثال نیچے ہے جہاں BJP نے مودی کے بت کو پوجنا شروع کردیا ہے جبکہ تحریک انصاف والے بھی شخصیت پرستی میں بالکل ویسے ہی حرکتیں کر رہی ہے ان دونوں گروہوں کی مماثلت سے لگتا یہی ہے کہ ایک ہی برطانوی فرم دونوں کو گائیڈ لائن دیتی رہی ہے۔

Dr Farhan K Virk

127,208 次观看 • 2 年前

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 次观看 • 4 个月前

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,168 次观看 • 1 年前

یہ ویڈیو کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مل کے مقام پر سیکورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کی بتائی جا رہی ہے جہاں سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرنے والے مسافر کے مطابق شاہراہ پر موجود مسلح افراد نے سیکورٹی فورسز کی آنے والی گاڑیوں پر چار بم دھماکے کیے ہیں اور دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، اس ویڈیو میں سب سے بڑا اور واضح انکشاف یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ سادہ لباس میں مسلح افراد موجود ہیں جو مکمل ملٹری ٹریننگ کے مطابق پرون پوزیشن میں لڑ رہے ہیں، یہی وہ تربیت یافتہ ایجنٹس ہیں جو جب کسی جھڑپ میں مارے جاتے ہیں تو ریاست، میڈیا اور سیکورٹی ادارے انہیں مزدور، ملنگ، قوال، نہتے مسافر، بے گناہ شہری، نائی یا ٹھیکیدار قرار دے کر ان کے مسلح وجود سے مکمل انکار کر دیتے ہیں، یہ منافقانہ اور جعلی بیانیہ کب تک چلے گا کہ جب یہ لوگ سیکورٹی کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہوں تو ان کی فوجی تربیت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور جب انہیں نشانہ بنایا جائے تو انہیں فوراً بے گناہ شہری بنا دیا جاتا ہے، حقیقت اب اس ویڈیو میں خود دیکھ لیں۔

Zorakh Baloch

24,709 次观看 • 2 个月前