Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

میں ایک the physio college multan کا سٹوڈنٹ ہوں دن کو پڑھائی پڑھائی سے فارغ ہوکر میڈیکل سٹور پر جاب کرتا ہوں میں نے ایک روپیہ جوڑ کر یہ بائیک لی تھی جو کہ کالج کے باہر سے چوری ہوگئی ایف آئی آر کے بعد سی پی او ملتان...

21,755 görüntüleme • 24 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

666,190 görüntüleme • 2 yıl önce

یہ میری بیٹی ہے۔ الحمدللہ اس نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان کامیابی سے پاس کیا ہے۔ یہ بہت نیک، شریف اور فرمانبردار بچی ہے۔ اس کے والد گزشتہ دو سال سے روزگار کے سلسلے میں پردیس میں ہیں، اس لیے گھر کی تمام ذمہ داریاں میرے کندھوں پر ہیں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد اس کا زیادہ وقت موبائل اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں گزرنے لگا۔ ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے فکر تھی کہ کہیں اس کی توجہ تعلیم سے نہ ہٹ جائے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایسے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ اپنی پوری توجہ پڑھائی پر دے سکے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکے۔ اسی مقصد کے لیے میں نے اسے کالج میں داخل کروانے اور ہاسٹل میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے آفس کے باس سے بات کی۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے، انہوں نے نہ صرف میری بیٹی کا کالج میں داخلہ کروانے میں مدد کی بلکہ ہاسٹل میں رہائش کا انتظام بھی کروا دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کی تعلیم، ہاسٹل اور دیگر ضروری اخراجات کی فکر نہ کروں۔ ہاسٹل میں ان کا بیٹا بھی رہتا ہے، جو ایک اچھا اور بااخلاق لڑکا ہے، اور وہ بھی میری بیٹی کا خیال رکھے گا۔ میں اپنے باس کی اس مہربانی اور تعاون کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل انسانوں کو ہمیشہ خوش رکھے، کیونکہ آج کے دور میں دوسروں کے لیے اتنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ میری دعا ہے کہ میری بیٹی اپنی تعلیم پر پوری توجہ دے، محنت کرے اور زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے۔

Nadia Malik🍁

22,552 görüntüleme • 2 ay önce

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,594 görüntüleme • 1 ay önce

ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: "مجھے بھی کچھ عہدہ دیجئے جیسا کہ اللہ نے آپ کو دیا ہے۔" سیدنا عمر نے فرمایا: "کیا تمہیں قرآن پڑھنا آتا ہے؟" اس نے کہا: "نہیں۔" سيدنا عمر نے فرمایا: "ہم ایسے شخص کو عہدہ نہیں دیتے جسے قرآن نہیں آتا۔" چنانچہ وہ آدمی عہدہ حاصل کرنے کی امید میں قرآن سیکھنے لگا۔ جب اس نے قرآن سیکھ لیا تو پھر وہ سیدنا عمر کے پاس نہ گیا۔ ایک دن عمر رضی اللی عنہ نے اسے راستے میں دیکھا اور پوچھا: "کیا چیز تمہیں میرے پاس آنے سے روک رہی تھی؟" اس نے کہا: "میں نے قرآن سیکھ لیا، تو اللہ نے مجھے عمر اور عمر کے دروازے، دونوں سے بے نیاز کر دیا۔" حضرت عمر نے کہا: " کس آیت نے تمہیں بےنیاز کردیا؟ اس نے کہا: اللہ تعالی کے اس فرمان نے: ((ومن يتق الله يجعل له مخرجا. ويرزقه من حيث لا يحتسب)) جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا.اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا. (تفسير الثعلبي)

Ali Mughal

27,842 görüntüleme • 8 ay önce

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 görüntüleme • 8 ay önce

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

119,710 görüntüleme • 1 ay önce

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

Amir H. Qureshi

58,843 görüntüleme • 1 gün önce

"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddique

Dr Waqas Nawaz

45,959 görüntüleme • 8 ay önce

محترمہ مشعال یوسفزئی نے یہ جھوٹ پہلے بھی پھیلایا تھا کہ وہ اسلامیہ کالج پشاور کی پہلی خاتون صدر سٹوڈنٹ یونین رہی ہیں اور بعدازاں یکے بعد دیگرے وہ تین بار منتخب ہوئی ہیں۔ موصوفہ 2013 سے 2018 میں وہاں کی طالبہ تھیں اسلامیہ کالج پشاور میں کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے ہی نہیں۔ موصوفہ وہاں ایک ہال جس نام خیبریونین ہال ہے اس کی سٹوڈنٹ صدر رہی ہیں۔ یہ یونین کا کام غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کراتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ذاتی باتوں کا علم بھی میں رکھتا ہوں جو موصوفہ کالج ہاسٹل میں کیا کرتی تھیں۔ کس طرح وہاں چند لڑکیوں کے ساتھ مل کر موصوفہ نئی آنے والی لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلا کر کیا کیا کرواتی تھی ریگنگ کے نام پر اور کس نام سے ہاسٹل اور کالج میں مشہور تھیں وہ ذرا نامناسب حرکات اور القابات ہیں لہذا میں فی الحال کیلئے اس کو بیان نہیں کروں گا۔ البتہ موصوفہ ایک اور جھول سے کام لیتی ہیں کہ میں نے سو سالہ تاریخ رکھنے والے اسلامیہ کالج پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشاور دو مختلف سیٹ اپ ہیں۔ جس اسلامیہ یونیورسٹی سے انہوں نے لاء کی ڈگری کی وہ 18 سال پہلے بنا ہے۔ وضاحت: یہ تمام تفصیل مشعال کے ساتھ ہی اسی ٹینیور میں مگر اس سے جونیئر رہنے والے طالبعلم کی جانب سے ہی تفصیلات ملیں ہیں جن کا نام فی الحال بتانا مناسب نہیں کیونکہ وہ اب ایک نامور نوجوان ایکٹویسٹ اور صحافی ہیں۔

Azeem Butt

19,989 görüntüleme • 8 ay önce

آج پہلے فرید قریشی ، اسد ملک اور مغل نے سلمان اکرم راجہ کی میڈیا ٹاک میں مجھے ناصرف کارنر کرنے کی کوشش کی بلکہ میرے سوال پوچھتے وقت بولنا شروع کر دیتے تھے پھر جب لاسٹ میں میں سوال کرنے کی کوشش کی تو بھی مرزا اخلاق سے نعرے لگوا کر مجھے روکنے کی کوشش کی میں نہایت صبر کیساتھ سب برداشت کیا اور تحمل کیساتھ برداشت کرتے ہوئے سوال پوچھ کر دم لیا پھر سب میڈیا والے نیچے چلے گئے اور مرزا اخلاق بھی نیچے پہنچ گیا ان سب کیساتھ بیٹھ کر اظہر جاوید کو برا کہا گیا اور تحریک انصاف کے کارکن مرزا اخلاق نے اظہر جاوید کی والدہ کو گالیاں دیں مجھ سے برداشت نہیں ہوا اسی وقت اظہر جاوید کو فون کر کے بتایا کہ آپکی والدہ کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور رپوٹرز بیٹھ کر سن رہے ہیں کیونکہ میں سب کے سامنے اظہر جاوید کو فون کر کے بتا رہی تھی اسکے بعد شوکت ڈار اتے ہیں میں ہم لوگ باہر چلے جاتے ہیں میں جب دوبارہ ریسٹورینٹ میں داخل ہوتی ہوں یہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے اور میں شوکت ڈار صاحب سے کہا کہ میں ٹویٹ کرنے لگی ہوں کہ ہزار سور ملکر بھی شیر کو نہیں ڈرا سکتے اتنے میں اس ملک نے شوکت ڈار کو مجھے گالی دیتے ہوئے کہا اسے کہیں اپنا منہ بند کر لے میں نے کہا تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی میں تمہیں سور نہیں کہہ رہی اسکے بعد اس نے گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ میں چغل خور ہوں اور پھر میں نے بھی گالیوں کے جواب میں گالیاں ہی دیں اس نے مجھے دھمکی دی کہ تم مجھے جانتی نہیں ہو ہم تمہارے گھر ائیں گے خیر میں ایسے گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والی نہیں جو شخص اپنے گھر کی عورتوں پر تشدد کرنے کا عادی ہو اسکا مطلب یہ نہیں کہ باہر بھی گالی دے گا سن لی جائے گی میں نے پولیس میں ان لوگوں کے خلاف رپورٹ کروا دی ہے فرید قریشی کے خلاف پہلے ہی پولیس میں کمپلئین ہیں آج دوسرے گینگ ممبرز کا بھی اضافہ ہو گیا ہے میں نے ARY اور Hum والوں کو شکایات کیں تھیںیہ سلسلہ پچھلے ایک سال سے جاری ہے جان بوجھ کر تحریک انصاف کے لوگوں کو میرے خلاف چھوڑا جاتا ہے اور کئی مرتبہ جانی نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کی گئی ایسڈ اٹیک تک کروایا گیا لیکن میں نا تب ڈری تھی نا اب ڈروں گی کوئی مرد اٹھے اور مجھے گالی یا میری ماں کو گالی دے گا میں اس سے ڈبل گالی اسکی گھر کی عورتوں کو دونگی اور جتنی چیخیں مارنی ہے مار گالی تو ڈبل ہی ملے گی

Safina Khan

60,764 görüntüleme • 1 yıl önce

یہ ہے حکمرانوں کی احکامات کی اوقات۔۔۔۔ محترم سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ صاحب آج لاہور ہائیکورٹ تشریف لائے، انکے ساتھ پروٹوکول کیلئے ایک ڈی آئی جی سمیت مختلف پولیس افسران اور اہلکار بھی عدالت تشریف لائے۔ سی سی پی او لاہور آفس سے لاہور ہائیکورٹ کا فاصلہ شاید آدھا کلومیٹر ہوگا تاہم پروٹوکول پر آئے افسران کی گاڑیاں آن رکھنے، ای سی چلا کر رکھنے وغیرہ وغیرہ پر شاید پانی خرچ ہوتا ہے، اس لئے انہیں پرواہ نہیں، اگر حکومت اپنے سرکاری افسران کی پروٹوکول عیاشی پر کفایت شعاری نہیں کروا سکتی تو عوام پر پیرافورس کی شکل میں غنڈا گرد فورس مسلط کرنے کا کیا جواز ہے؟ محترم سی سی پی او صاحب اکیلے تشریف لے آتے، یا چلیں کم از کم متعلقہ ایس پی اور ایس ایچ او تین بندے بھی کافی تھے لیکن اتنی فوج ظفر موج کیوں؟ لاہور ہائیکورٹ کے سکیورٹی اسٹاف کو بھی نکال دیا جائے، پھر بھی پروٹوکول کیلئے افسر و اہلکار غیر ضروری ہیں۔۔۔

Mian Dawood

71,118 görüntüleme • 3 ay önce

آپ میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں۔ اور ہمارے حسان کے والد محترم بھی۔ اس لئے آپ کا بے حد احترام۔ اب کیوں کہ آپ کے نزدیک عاصم منیر صاحب تقریبا اولیا اللہ سے بھی اوپر کا درجہ رکھتے ہیں تو ظاہر ہے وہ آپکی بات بھی سنتے ہوں گے۔ تو جیسے ہی میں پاکستان اتروں گا ان ولی اللہ صاحب کے احکامات پر جہاز کے زینے سے سیدھا زندان میں بند کر دیا جاؤں گا۔ اس کا عمران خان کو تو کوئی فاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ ہاں جو میں آپکے ولی اللہ کی خدمت میں روز گستاخی کرتا ہوں۔ وہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ جو حسان نیازی کو ملٹری کورٹس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرنے والے مسرت حلالی جیسے گھٹیا ججوں کا میں منہ کالا کرتا ہوں وہ ختم ہو جائے گا۔ عمران خان کا ارشد شریف کا بشری بی بی یاسمین راشد کا حسان نیازی کا ایک اور ہمدرد خاموش کروا دیا جائے گا۔ آپ جیسے دوست ہوں تو دشمن کی تلاش پھر کیوں۔ اور آخری بات کاش آپ نے ایسا ہی مشورہ اپنے پیارے نواز شریف کو بھی دیا ہوتا۔ مجھے لگا تھا آپ کا غصہ ختم ہو چکا ہو گا۔ لیکن ابھی بھی جوبن پر ہے۔ اللہ آپکے دل میں نرمی پیدا کرے۔ وسلام

Dr. Shahbaz GiLL

317,171 görüntüleme • 16 gün önce

مجھے فیصل آباد یونیورسٹی کا ایک واقعہ یاد آیا جس میں کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے ایچ او ڈی کی جگہ سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے کسی اور لگانا تھا وہ صاحب عہدہ چھوڑنے اور کسی دھمکی میں آنے تیار نہیں تھے پھر ایک سٹوڈنٹ سے ان کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست ڈلوا دی گئ۔ شریف آدمی تھا پہلے گھبرا گیا، اپنے تمام سوشل میڈیا بھی ڈی ایکٹیویٹ کر دیے ۔ پھر ہمت پکڑی اور فیصلہ کیا کہ میں اس ہراسمنٹ کمپلینٹ کو فیس کرونگا انہیں کمپلینٹ کے فیصلے تک معطل کر دیا گیا اور تقریبا ایک سال بعد وہ معصوم ثابت ہوے، بچی نے بھی بتایا کہ اسے استعمال کیا گیا اور یوں وہ باعزت اپنے عہدے پر بحال ہوے۔ میں نے یہ سٹوری کور لی تھی لیکن کیس میرے پاس بچی کے حوالے سے آیا تھا۔ اس کیس میں بھی ججوں صاحب کے خلاف جو ہراسمنٹ کمپلینٹس، جن کا دعوی کیا جا رہا ہے آئی ہیں تو وہ سامنے لانی چاہیں، جدون کو عہدے سے ہٹایا گیا اور میڈم اینا کو وہ عہدہ دیا گیا اس کا نوٹیفکیشن بھی سامنے آنا چاہیے۔ یونیورسٹی بنی ہراسمنٹ کمیٹی کی تفصیلات اور رہورٹس سامنے آنی چاہیں۔ اور جن طلباء کو ججوں صاحب بقول میڈیا اور ادارے کے فیور دیتے رہے اس کی تفصیل بھی پبلک کر دیں۔ جب فیکلٹی چیٹس پبلک ہو سکتی ہیں تو یہ سب پبلک ہونا بہت ضروری ہے۔

Saddia Mazhar|سعدیہ مظہر

11,665 görüntüleme • 5 gün önce

لڑکی نے ایک دن اپنی ماں سے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہم بستر ہونے کی اجازت مانگی۔۔۔ عقلمند ماں نے کچھ سوچ کر بیٹی سے اجازت دینے کیلئے ایک شرط پر ایک ہفتہ کی مہلت مانگ لی۔۔۔ شرط یہ کہ ۔۔۔۔ وہ بادشاہ کے محل کے سامنے رُکے، اور جب بادشاہ اپنے قافلہ سمیت محل سے نکلے تو ایک بے ہوش انسان کی طرح خود کو اسکے سامنے گرا دے۔۔۔ اور جو گزرے وہ ماں کو سنائے۔۔۔ لڑکی نے ایسا ہی کیا تو بادشاہ خود گھوڑے سے اترا اور خود ہی اسکی حالت درست کی اور پھر اسے اچھی حالت میں گھر پہنچانے کا حکم دیا۔۔۔ ماں نے دوسرے دن بھی ایسا کرنے کا کہا! چنانچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا اس دفعہ بادشاہ نے اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھا۔۔ وزیر نے بھاگ کر لڑکی کو سنبھالا اسکی حالت درست کی اور آگے بڑھ گیا۔۔۔ تیسرے دن لڑکی نے خود کو وزیر کے سامنے گرایا، لیکن اس دفعہ وزیر نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ دستے کے کمانڈر نے آگے بڑھ کر جاکر اسے سنھبالا ۔۔۔ چوتھے دن ایسا کرنے پر کسی ایک سپاہی نے سنبھلا کیوں کہ کمانڈر نے آج اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔۔۔ پانچویں دن عام راہگیر نے اسے اٹھایا۔۔۔ چھٹے دن لوگوں نے پاؤں مار مار کر اسے راستے سے ہٹایا۔۔ راہ چلتے بھکاری نے اسے سنبھالا ۔۔۔ ساتویں دن انسانوں کے بجائے ایک کتا اسکے چہرے کو چاٹنے لگا۔۔۔ ماں نے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا، کہ بالکل اسی طرح معاشرے میں جب کوئی گرتا ہے، تو سب سے پہلے کوئی امیر شخص یا کوئی بگڑا امیر زادہ اس کی عزت نوچتا ہے۔۔۔پھر وہ اسکو اپنے سے کمزوروں کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔۔اسی طرح ہوتے ہوتے ایک دن وہ گلی کے کتوں (لفنگوں) کیلئے ایک سستا مال بن جاتا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ سب بہن بیٹیوں کی عزت محفوظ رکھیں آمین ثم آمین Copy

🦋𝐁ɪsᴍᴀ 𝐁ᴀᴛᴏᴏʟ🦋

13,596 görüntüleme • 9 ay önce

زمین کا بھوکا خارجی ملا!! یہ خارجی ملا کہہ رہا ہے کہ "افغان طالبان بھی پاکستان فتح کرینگے اور ٹی ٹی پی بھی تم لوگوں کا حشر کرے گی ان شاءاللہ!" کل ایک پولیس والی کو کیمروں کے سامنے گولی مارنے کی دھمکی دی کیونکہ اسکے خیال میں اس کے سر پر چادر ٹھیک نہیں تھی۔ یہ زمینوں کا بھوکا خارجی ملا کہتا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی اس لیے مرتد ہیں کہ شاہراہ کے درمیان قبضے کی جگہ سے مسجد کہیں اور منتقل کرنے کی کوشش کیوں کی؟ بیس سال میں ٹی ٹی پی نے 100 سے زائد مساجد بم دھماکوں میں اڑائی ہیں نمازیوں سمیت۔ خاص طور پر جمعے کی نمازوں میں اور ایسے ہر حملے میں پچاس سے سو نمازیوں کی جانیں گئیں۔ اس حوالے سے جب اس منافق ملا سے پوچھا گیا کہ ٹی ٹی پی مسجدیں اڑا رہی ہے اس پر کیا آپ ٹی ٹی پی کو بھی مرتد کہیں گے؟ تو موصوف نے سخت برا منایا اور جواب دینے سے بھی انکار کردیا۔ مطلب مساجد کو نمازیوں سمیت بموں سے اڑانے والے مجاہد اور مساجد کو قبضے کی جگہ سے کسی اور جگہ متنقل کرنے والے مرتد؟ انکی مساجد سے محبت یا دین سے محبت انکی سیاسی ضروریات کی حد تک ہوتی ہے۔ ورنہ اگر سچ میں زمین پر قبضہ کر کے مسجد بنانا جائز ہو تو مولوی عبدالعزیز نے جی سکس، جی سیون اور فیصل مسجد کے قریب کوئی 20 کنال زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ میں وہاں ایک مرلے کی مسجد اسکی اجازت کے بغیر بناتا ہوں جس پر اس کا کنٹرول نہ ہو۔ خدا کی قسم کہ مجھے اس مسجد سمیت زندہ جلا دیگا۔ اسی طرح فضل الرحمن نے جب اسمبلی میں کہا قبضے کر کے بنائی گئی مساجد کی ایک اینٹ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے تو فضل الرحمن کی ڈیرہ اسمعیل خان میں 13 ہزار کنال زمین ہے۔ میں وہاں اسکو بتائے بغیر ایک کنال زمین پر مسجد و گھر و مدرسہ بناتا ہوں۔ جیسے اسلام آباد میں مولوی کر رہے ہیں۔ یقین مانیں وہ مسجد کھود کر وہاں میری قبر بنا دے گا۔ خدا کی قسم یہ سارے منافق ہیں۔ انکی شریعت انکا دین اور انکی مساجد سے محبت یا انکی حرمت انکی سیاسی ضرورت کے تابع ہوتی ہے۔ #Pakistan #14August

Shahid Khan

65,316 görüntüleme • 1 yıl önce

گزشتہ روز کراچی کے فقیر کالونی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر احتجاج ہوا۔ احتجاج کے فوراً بعد جب مظاہرین بس کے ذریعے واپس ملیر جا رہے تھے، تو کراچی پولیس نے فقیر کالونی کے قریب بس کو روک کر تمام مظاہرین کو بس سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔ وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا، بی وائی سی کے مظاہرین کی رہائی کے لیے محمود آباد تھانے پہنچے۔ ابتدا میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر دینے سے انکار کر دیا اور بعد میں کہا کہ رات بارہ بجے آئیں، تب ایف آئی آر دی جائے گی۔ جب رات بارہ بجے وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت چھ وکلا تھانے پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر بند کر کے ایک ایک کر کے بدترین تشدد اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا۔ ان پر انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک مسلسل جسمانی تشدد کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کے تشدد کے بعد، وکلا کو ایک ایک کر کے رہا کر دیا گیا۔ یہ صرف اسی ملک میں ممکن ہے جہاں وکلا، جو اپنے مؤکلوں کے قانونی حقوق کے بارے میں پوچھنے آتے ہیں، خود پولیس کی تحویل میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ ریاست اپنی عقل و شعور کھو چکی ہے اور صحیح و غلط، انصاف و ناانصافی کا فرق مٹ چکا ہے۔

Sammi Deen Baloch

36,511 görüntüleme • 1 yıl önce