Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو...

16,301 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

9 مئی کا ماسٹر فساد، خون خرابہ اور ملک میں لاشیں چاہتا ہے عمران خان کے حکم پر ایک صوبے کی پولیس اور لشکر لے کر پنجاب پہ چڑھائی کا ہر ہفتے خطرناک کھیل کھیلا جاتا ہے جس کی اجازت نہیں دیں گے. یہ احتجاج نہیں دہشت گردی کہا جاتا ہے 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کی ہدایت پر خیبر پختون خوا کا وزیراعلی ہر ہفتے اسلام آباد اور پنجاب میں لشکر کشی، غنڈہ گردی اور فساد کرتا ہے. پنجاب پولیس پہ آنسو گیس ، پتھر اور گلیلوں سے شیشے پھنکیں جا رہے ہیں . خیبر پختونخوا کی پولیس، سرکاری ملازمین، سرکاری وسائل، کرینیں، کنٹینر، ٹریکٹر، ٹرک اور دیگر مشینری اور گاڑیاں اس فساد اور غنڈہ گردی کے لئے استعمال ہو رہی ہیں . عمران خان اور پی ٹی آئی ملک میں امن اور ترقی کے دشمن ہیں . عوام کا شکریہ جو روز اِس فتنہ مائینڈ سیٹ کو مسترد کر رہی ہے اور اپنی ترقی کا ساتھ دے رہی ہے. لاہور میں جلسہ لاہور کے لوگوں نے مسترد کر دیا راولپنڈی کا جلسہ راولپنڈی کے لوگوں نے مسترد کر دیا

Marriyum Aurangzeb

139,934 views • 1 year ago

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 views • 3 months ago

دیکھو اپنے فیورٹ فیملی وی لاگر کے کام ۔یہ رجب بٹ جیسے پاکستان کی فیملیزبہت شوق سے دیکھتی ہیں ۔۔۔ کیسے قرانی ایت کا مذاق اڑارہا ہے پہلے بھی اس پر اسطرح کے انزام ہیں مگر عوام ہر بار اس کو معاف کر دیتی ہے ۔۔۔ مگر اب تو قرانی ایت کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔ یہ ویڈیو اور یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد فیصلہ اپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔ کیا یہ شخص قابل معافی ہے ۔۔ یہ اللہ کا حکم سنیے اس بارے میں خدارا اس پر اواز اٹھایے ۔۔ سورۃ التوبہ، آیت 65–66 ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کے بعد کفر کر بیٹھے ہو۔ 2. سورۃ النساء، آیت 140 ترجمہ: “تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو اُن کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ سورۃ الانعام، آیت 68 ترجمہ: “اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں لغویات میں پڑ رہے ہیں (یعنی مذاق یا بحثِ باطل میں)، تو اُن سے منہ موڑ لو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوں۔ سورۃ الزمر، آیت 56 ترجمہ: “کہیں کوئی جان یہ نہ کہے: افسوس ہے مجھ پر کہ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی، حالانکہ میں (اللہ کی آیات کے) مذاق اُڑانے والوں میں سے تھا ۔ سورۃ الجاثیہ، آیت 9 ترجمہ: “اور جب وہ ہماری آیات میں سے کچھ سنتا ہے تو انہیں مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ لقمان، آیت 6 ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ الکہف، آیت 106 ترجمہ: “یہی ان کی جزا ہے — جہنم — اس سبب سے کہ انہوں نے میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا۔

Saleem Speaks

54,770 views • 10 months ago

شہروں کی خوبصورتی اور قانون کی بالادستی پاکستان میں تجاوزات ہٹانے کی مہم شہروں کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کا ایک ضروری قدم ہے۔ پلازے، دکانیں اور غیر قانونی تعمیرات گرا کر سڑکیں کشادہ اور پارکس بحال کیے جا رہے ہیں، جو عوام کی بہتری کے لیے ہے۔مگر جب اس مہم میں غیر قانونی زمین پر بنی مساجد بھی شامل ہو جاتی ہیں تو دل کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے، ایمان کی علامت اور امت کی اتحاد کی جگہ۔ ایک مسلمان ملک میں عبادت گاہوں کو "شہید" کرنے کا منظر دیکھ کر درد ہوتا ہے کہ کیا قانون کی عملداری کے نام پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ضروری ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ ایسے معاملات میں حساسیت برتے: متبادل جگہ فراہم کرے، علماء سے مشاورت کرے اور متاثرہ مساجد کی فوری تعمیر نو کا بندوبست کرے۔ قانون سب پر برابر ہو، مگر اسلام کی روح کو نظر انداز نہ کیا جائے۔شہر خوبصورت بنیں، مگر دلوں میں زخم نہ لگیں۔ یہ توازن ہی پاکستان کی اسلامی شناخت کا تقاضا ہے۔

𝔸𝕞𝕒𝕝𝕢𝕒|🇵🇰

63,587 views • 8 months ago

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 views • 1 year ago

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,594 views • 1 month ago

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 views • 4 months ago

سیاحت کا خواب غفلت کی بھینٹ چڑھ گیا..😢 سوات کے خوبصورت وادیوں میں آج جو سانحہ پیش آیا اس نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے پندرہ سیاحوں کا سیلابی پانی میں بہہ جانا صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک المناک حقیقت ہے جو ہماری انتظامی غفلت، بےحسی اور مجرمانہ لاپرواہی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قدرتی حسن کو دیکھنے لمحوں کو جینے اور خوشیاں بانٹنے یہاں آئے تھے… مگر واپسی میں ان کے مقدر میں فقط تاحیات خاموشی، آنسو اور کفِ افسوس رہا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی وارننگ کے باوجود نہ ضلعی حکومت نے کوئی حفاظتی اقدامات کیے اور نہ ہی سیاحوں کو بروقت خبردار کیا گیا۔ جب سیلابی پانی نے انہیں گھیر لیا تو وہ پکار اٹھے۔ مدد مانگی، زندگی کی دہائیاں دیں مگر ریاستی مشینری کہیں نظر نہ آئی۔ نہ کوئی ریسکیو ٹیم پہنچی اور نہ کوئی ضلعی افسر۔ وہ ایک گھنٹے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہے اور آخرکار وہ ہار گئے۔ کیا ہم اتنے بےحس ہو چکے ہیں کہ انسانوں کی زندگیاں ٹھیکوں، کمیشنوں اور بجٹ کی فائلوں میں دفن ہو چکی ہیں؟ کیا سیاحت کے فروغ کا مطلب یہ ہے کہ سیاح غیر محفوظ راستوں پر بغیر کسی حکومتی رہنمائی کے چھوڑ دیے جائیں؟ یہ صرف بدانتظامی نہیں بلکہ ایک ایسا ریاستی جرم ہے جو کئی قیمتی جانوں کو نگل گیا۔ جب ریاست شہریوں کی حفاظت میں ناکام ہو جائے تو سوالات اٹھتے ہیں اور اٹھنے چاہئیں۔ میں متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔ لیکن تعزیت کے ساتھ ہمیں یہ عزم بھی کرنا ہوگا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم صرف حادثات پر افسوس نہ کریں بلکہ اس نظام کو جھنجھوڑ کر جگائیں، جو وقت پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ بشکریہ : مسا تالپور

Gilgit Baltistan Tourism.

52,416 views • 1 year ago

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,168 views • 1 year ago

یہ ابراہیم ہے، اسما نواز شریف کا بیٹا اور مریم نواز کا بھانجا، ایک سپیشل بچہ مگر سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان، جنید صفدر کی شادی کی تقریب میں اگر کوئی ایک منظر دل کو چھو گیا تو وہ اسی معصوم بچے کا تھا جو موسیقی کی دھن پر بے ساختہ خوشی سے جھوم رہا تھا، افسوس اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس معصوم بچے کی ویڈیو پر کچھ لوگوں نے منفی تبصرے کیے اور اسے والدین کے گناہوں کی سزا قرار دیا، حالانکہ سپیشل بچے گناہ اور سزا نہیں ہوتے بلکہ خدا کا تحفہ ہوتے ہیں، معذوری، آزمائش، صحت اور بیماری غریبی بیماری ان سب میں اللہ کی رحمت پوشیدہ ہوتی ہے جسے ہم دوسروں کی سزا سمجھ رہے ہوتے ہیں، بنانے والی ذات اللہ کی ہے اور وہ جسے جیسا بناتا ہے حکمت کے ساتھ بناتا ہے، گناہ تو وہ سوچ ہے جو خدا کی تخلیق کا مذاق اڑاتی ہے، مریم نواز خود کئی مواقع پر ابراہیم کا ذکر کر چکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بچہ توجہ اور احترام کا حقدار ہے، جنید صفدر کی شادی میں اس سپیشل بچے کی موجودگی اور اسے دی جانے والی محبت ایک مثبت مثال ہے کہ سپیشل بچوں کو الگ نہیں بلکہ ساتھ لے کر چلنا چاہیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سپیشل بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے، انہیں پورا وقت دیا جائے کیونکہ کمی ان میں نہیں بلکہ ہماری سوچ میں ہے، اللہ نے ہر انسان کو خوبصورت بنایا ہے اور خدارا سپیشل افراد کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی ان پر تنقید کریں کیونکہ یہ معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا امتحان ہوتے ہیں۔

عباس خٹک

104,545 views • 7 months ago

یہ ویڈیو دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے۔ لاہور موٹروے پر سردیوں کی ایک اور صبح۔ دھند اتنی گہری کہ چند قدم آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اور اس دھند کے سینے میں گھسی ہوئی ایک ڈائیوو بس۔ جو اب بس نہیں رہی، بس کے چیتھڑے سڑک پر بکھرے پڑے ہیں۔ یہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ لاپرواہی کا انجام تھا۔ سوال یہ نہیں کہ دھند کیوں تھی؟ سوال یہ ہے کہ دھند میں رفتار کیوں کم نہیں کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ درجنوں جانوں کو ایک ڈرائیور کی انا اور جلد بازی کے حوالے کیوں کیا گیا؟ یہ بس ٹائم پر پہنچنے کی دوڑ میں تھی، مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دیر سے پہنچنا بہتر ہے یا لاش بن کر؟ سردیوں میں موٹروے پر ہر سال یہی کہانی دہرائی جاتی ہے: دھند، تیز رفتار بسیں، اوورٹیک، ہائی بیم، اور پھر ایک ویڈیو… جس میں چیخیں نہیں ہوتیں، بس خاموشی ہوتی ہے اور لوہے کے ٹکڑے۔ قانون موجود ہے، وارننگ بھی دی جاتی ہے، پیغامات بھی آتے ہیں۔ مگر جب تک کمرشل گاڑیوں کو یہ احساس نہیں دلایا جائے گا کہ ان کی ذرا سی غفلت درجنوں گھروں کو اجاڑ سکتی ہے، تب تک یہ مناظر بدلیں گے نہیں۔ یہ ویڈیو صرف ایک حادثے کی نہیں، یہ ایک سوال ہے ہم سب سے۔ کیا ہماری جانیں واقعی اتنی سستی ہیں کہ دھند میں بھی بسیں نہیں رک سکتیں؟ اللہ رحم کرے اور ہمیں عقل دے۔ ورنہ اگلی ویڈیوکسی اور کی ہوگی۔

منصور مصطفیٰ

63,519 views • 8 months ago

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 views • 2 years ago