Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

میں نے سیکیورٹی اور تحفظ کا مطالبہ کیا تو میرا ذاتی ڈیٹا اور نمبر پبلک کر دیا گیا: ۔ ڈاکٹر شازیہ خپلواک تیزاب گردی کے واقعے میں کون ملوث ہے، یہ جاننے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔

13,602 views • 2 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

بریکنگ نیوز 🚨 علیمہ خان کا ایمرجنسی پیغام 🛑 یہ انتہائی اہم اور فوری ہے کہ عمران خان کا مناسب طبی سہولیات والے ہسپتال میں معائنہ اور علاج کیا جائے۔ ہم نے چیف جسٹس کو اپنی سفارشات میں واضح طور پر مطالبہ کیا تھا کہ ان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے **شفا انٹرنیشنل ہسپتال** میں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں، ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں اور خاندان کے افراد کی موجودگی میں کیا جائے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اڈیالہ جیل میں ڈاکٹروں کے دورے پر اطمینان کا اظہار کیا اور خاندان کے جائز اور قانونی مطالبات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ **وہ کیا چھپا رہے ہیں؟** حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے عمران خان کو مناسب معائنہ، ٹیسٹ اور علاج سے روکنے کی غیر معمولی کوششیں — یعنی کسی معتبر ٹرشیری کیئر ہسپتال میں ان کے اپنے ڈاکٹروں کی نگرانی میں اور خاندان کی موجودگی میں — سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔ حکومتی وزراء نے غلط طور پر دعویٰ کیا ہے کہ خاندان کی موجودگی اور ذاتی ڈاکٹروں کی شرط کی وجہ سے علاج میں تاخیر ہوئی۔ یہ کوئی تاخیری حربہ نہیں تھا؛ بلکہ یہ شفافیت، مناسب علاج اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری حفاظتی اقدام تھا۔ پمز کے ڈاکٹر کے ساتھ جو اضافی ڈاکٹر اڈیالہ جیل بھیجا گیا تھا، وہ صرف معائنہ کے لیے تھا، علاج کے لیے نہیں۔ جیل کی سہولیات میں مناسب آلات، ماحول اور حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی میں کون سے جامع معائنات کیے جا سکتے ہیں؟ پمز کے ڈاکٹروں کے ساتھ الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ایک ماہر کو پیر، 16 فروری کو اڈیالہ جیل بھیجا گیا تھا تاکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی طرف سے مقررہ ڈیڈ لائن کی تعمیل دکھائی جا سکے۔ تاہم، منگل، 17 فروری کو عمران خان نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ان کی بیٹی کو پیغام پہنچایا کہ وہ ڈاکٹروں کے دورے یا فراہم کیے جانے والے علاج سے مطمئن نہیں ہیں، اور انہوں نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ ان کے خون کے ٹیسٹ ان کے ذاتی ڈاکٹروں ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل کی موجودگی میں کیے جائیں۔ ہم ان معائنات کی بنیاد پر تیار کی گئی کسی بھی میڈیکل رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں جو عمران خان کے ذاتی معالجین اور خاندان کے فرد کی غیر موجودگی میں کیے گئے ہوں۔ **فوریت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔**

ZEShan ⚫

31,085 views • 5 months ago

بہت ہی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ کوئٹہ سول ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک نامعلوم شخص نے تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں ان کا جسم تقریباً 70 فیصد جھلس گیا۔ وہ اس وقت آریا ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظامِ صحت، ہمارے معاشرتی رویوں اور ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سنگین سوال ہے۔ ہم ڈاکٹرز ہر روز دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں، لیکن جب زندگی بچانے والے خود غیر محفوظ ہو جائیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا تحفظ محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے، اور ایسے انسانیت سوز واقعات کے خلاف فوری، سخت اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور لیڈی ڈاکٹر کو بہترین اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں.

Dr M Shujat Rasool

33,745 views • 2 months ago

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 views • 7 months ago