Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

میں کارکن اور متوسط طبقے کی آواز ہوں میرا کلپ کاٹ کر لگایا گیا جس سے بات کا پس منظر بدلنے کی کوشش کی۔ اوگرا کی سمری ایک سو بیس روپے لیٹر اضافہ وزیراعظم نے مسترد کیا۔ ہم عوام پہ خوشی سے یہ اضافہ نہیں کر رھے۔ حالات کے...

34,882 просмотров • 6 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

اہم، امریکہ نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تو پاکستانی حکومت نے اسی دن یعنی 28 فروری کو پیٹرول کی قیمت میں 8روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 16 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا، حالانکہ حکومت کے اپنے مطابق اس وقت 45 دن کا پیٹرول اور ڈیزل پہلے سے خریدا ہوا موجود تھا، اس کے بعد حکومت نے 6 مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55,55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا، اس کے بعد حکومت نے 2 اپریل کو پیٹرول 137روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا اگلے دن وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کی کمی کرتے ہوئے 57 روپے اضافہ برقرار رکھا، یوں ایران امریکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 120 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 244 روپے کا اضافہ کیا ہے، لیکن یہاں اہم بات یہ ہے کہ وزیر پیٹرولیم نے 6 مارچ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ جس دن عالمی مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آئیں گی،ہم اسی پھرتی سے آ کر قیمتیں کم کریں گے جس تیزی سے اضافہ کررہے ہیں، اب نوبل پرائز کے لیے نامزد عالمی دہشتگرد ٹرمپ کے سرنڈر کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ایسے گری ہیں جیسے مسلمانوں کی نظروں میں ایران پر حملہ کرنے والے اور حملہ آوروں کے اتحادی گرے ہیں تو امید ہے کہ آج انتہائی پھرتی کے ساتھ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل سستے کیے جائیں گے، حالانکہ پہلے ہی یہ اضافہ دو وجوہات سے ناجائز تھا، ایک تو اس لیے کہ پیٹرول اور ڈیزل حکومت کے اپنے دعووں کے مطابق سستے خریدے ہوئے پہلے سے پڑے تھے اور دوسرا اگر کچھ تیل بعد میں بھی آیا تو بھی آبنائے ہرمز سے پاکستان کے لیے جہاز گزز رہے تھے، اب حکومت کو بغیر کسی ڈرامے کے قیمتیں کم کرنی چاہئیں، لیکن یہ نہیں کریں گے کیونکہ ان پر عوام کا کوئی دباو نہیں اور ان کا ٹیکس شارٹ فال 610 ارب کا ہے جوکہ انہوں نے عوام کے خون پسینے سے پورا کرنا ہے بجائے امیروں سے ٹیکس لینے یا اپنے اخراجات کم کرنے کے۔

Siddique Jan

207,083 просмотров • 5 месяцев назад

میں جس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، اس علاقے میں جو سب سے زیادہ فصل ہوتی ہے وہ تمباکو ہے۔ 70 فیصد میرے علاوہ تمباکو کے کاشتکار ہیں۔ یہ کیش کراپ ہے جس کی وجہ سے ہماری اکانومی چلتی ہے۔ یہاں میرے بارے میں ایک موصوف صاحب نے کہا کہ شاید میرا تمباکو کا کاروبار یا روزگار ہے۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ نہ میرا تمباکو کا کوئی کاروبار ہے نہ روزگار ہے اور میں تمباکو کے پتے کو بھی نہیں جانتا۔ لیکن میں اس حلقے کا نمائندہ ہوں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے۔ آپ نے تمباکو پر 390 ارب روپے کا ٹیکس لگایا لیکن انٹرسٹنگ بات یہ ہے کہ جب آپ نے ٹیکس لگایا، اس سے پہلے 2023-24 میں ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق آپ کی ٹیکس کلیکشن 394 ارب روپے تھی، لیکن جب یہ ٹیکس لگایا تو آپ کی ٹیکس کلیکشن گر کر 165 ارب روپے ہو گئی۔ خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے، وہاں کے کسانوں کو بالکل کرش کر دیا گیا ہے، کسان بیچارے رو رہے ہیں۔ آپ نے مارکیٹ میں کمپٹیشن ختم کر دی، آپ نے چھوٹے اور بڑے کمپنیوں پر یکساں ٹیکس لگا دیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ تیسرا ٹیکس سلیب لے کر آئیں تاکہ کمپٹیشن میں اضافہ ہو اور کسانوں کو اپنی فصل کا اچھا نرخ مل سکے۔

Asad Qaiser

45,184 просмотров • 2 месяцев назад