Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

میں ہُن عشق قضا نہیں کرنا .. تیرے نال نبھاؤنا اے..!!

28,061 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 9

Фото профиля _sulmanabajwa_
_sulmanabajwa_1 год назад

اے اللہ ہمارے دلوں کو تم نے خان صاحب کے لیے مسخر کیا ہے اب ہمارے دل کی تکلیف کو رفع کر دے اور ہمارے محبوب کو اس ناحق قید سے رہائی نصیب فرما

Фото профиля YA
YA1 год назад

Sher

Фото профиля farah imran
farah imran1 год назад

يا ربي عمران خان كو رهاى عطا فرما امين

Фото профиля AìlurÕphilê 🇵🇰
AìlurÕphilê 🇵🇰1 год назад

اللہ کرے اس مرتبہ پاکستانی عوام خان صاحب کے ساتھ وفا نبھا دے آمین ثم آمین 🥺

Фото профиля ARhuM Ali PTI)
ARhuM Ali PTI)1 год назад

❤️❤️❤️❤️❤️💋💋💋💋

Фото профиля afzaal rathore
afzaal rathore1 год назад

ماشاءاللہ

Фото профиля SYED ADIL
SYED ADIL1 год назад

Kisi ko bhi itni hype nahi deni chahiye

Фото профиля Ahmed alone
Ahmed alone1 год назад

زندگی کے سب سے برا دن بھلایا نہیں جا سکتا میرا بس نہیں چل رہا تھا سب وردی والوں کو کچل دون

Фото профиля Malik Tariq Rikhi
Malik Tariq Rikhi1 год назад

انشاءاللہ

Похожие видео

پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کا خوبصورت کلام بزبانِ شاعر مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعتِ صحرا دےدے کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا میں ہوں بے کس ترا شیوہ ہے سہارا دینا میں ہوں بیمار ترا کام ہے اچھا کرنا تُو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے کہ تری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا تیرے صدقے، وہ اُسی رنگ میں خود ہی ڈوبا جس نے، جس رنگ میں چاہا مجھےرُسوا کرنا یہ ترا کام ہے اے آمنہ کے دُرِّ یتیم ساری امّت کی شفاعت، تنِ تنہا کرنا کثرتِ شوق سے اوسان مدینے میں ہیں گم نہیں کُھلتا کہ مجھے چاہیے کیا کیا کرنا یہ تمنائے محبت ہے کہ اے داورِ حشر فیصلہ میرا سپردِ شہہِ بطحا کرنا آل و اصحاب کی سنت ، مرا معیارِ وفا تری چاہت کے عوض ، جان کا سودا کرنا شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا بزمِ عالم کو سجا کر ترا چرچا کرنا یہ صراحت ورفعنالک ذکرک میں ہے تیری تعریف کرنا ،تجھے اونچا کرنا تیرے آگے وہ ہر اک منظرِ فطرت کا ادب چاند سورج کا وہ پہروں تجھے دیکھا کرنا طبعِ اقدس کے مطابق وہ ہواؤں کا خرام دھوپ میں دوڑ کے وہ ابر کا سایا کرنا دشمن آجائے تو اٹھ کر وہ بچھانا چادر حسنِ اخلاق سے غیروں کو وہ اپنا کرنا کوئی فاروق سے پوچھے کہ کسے آتا ہے دل کی دنیا کو نظر سے تہہ وبالا کرنا اُن صحابہ کی خوش اطوار نگاہوں کو سلام جن کا مسلک تھا طوافِ رخِ زیبا کرنا مجھ پہ محشر میں نصیرؔ اُن کی نظر پڑ ہی گئی کہنے والے اسے کہتے ہیں، خدا کا کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اردو ورثہ

46,228 просмотров • 1 год назад