Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

میں ہُن عشق قضا نہیں کرنا .. تیرے نال نبھاؤنا اے..!!

28,077 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von _sulmanabajwa_
_sulmanabajwa_vor 1 Jahr

اے اللہ ہمارے دلوں کو تم نے خان صاحب کے لیے مسخر کیا ہے اب ہمارے دل کی تکلیف کو رفع کر دے اور ہمارے محبوب کو اس ناحق قید سے رہائی نصیب فرما

Profilbild von YA
YAvor 1 Jahr

Sher

Profilbild von farah imran
farah imranvor 1 Jahr

يا ربي عمران خان كو رهاى عطا فرما امين

Profilbild von AìlurÕphilê 🇵🇰
AìlurÕphilê 🇵🇰vor 1 Jahr

اللہ کرے اس مرتبہ پاکستانی عوام خان صاحب کے ساتھ وفا نبھا دے آمین ثم آمین 🥺

Profilbild von ARhuM Ali PTI)
ARhuM Ali PTI)vor 1 Jahr

❤️❤️❤️❤️❤️💋💋💋💋

Profilbild von afzaal rathore
afzaal rathorevor 1 Jahr

ماشاءاللہ

Profilbild von SYED ADIL
SYED ADILvor 1 Jahr

Kisi ko bhi itni hype nahi deni chahiye

Profilbild von Ahmed alone
Ahmed alonevor 1 Jahr

زندگی کے سب سے برا دن بھلایا نہیں جا سکتا میرا بس نہیں چل رہا تھا سب وردی والوں کو کچل دون

Profilbild von Malik Tariq Rikhi
Malik Tariq Rikhivor 1 Jahr

انشاءاللہ

Ähnliche Videos

پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کا خوبصورت کلام بزبانِ شاعر مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعتِ صحرا دےدے کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا میں ہوں بے کس ترا شیوہ ہے سہارا دینا میں ہوں بیمار ترا کام ہے اچھا کرنا تُو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے کہ تری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا تیرے صدقے، وہ اُسی رنگ میں خود ہی ڈوبا جس نے، جس رنگ میں چاہا مجھےرُسوا کرنا یہ ترا کام ہے اے آمنہ کے دُرِّ یتیم ساری امّت کی شفاعت، تنِ تنہا کرنا کثرتِ شوق سے اوسان مدینے میں ہیں گم نہیں کُھلتا کہ مجھے چاہیے کیا کیا کرنا یہ تمنائے محبت ہے کہ اے داورِ حشر فیصلہ میرا سپردِ شہہِ بطحا کرنا آل و اصحاب کی سنت ، مرا معیارِ وفا تری چاہت کے عوض ، جان کا سودا کرنا شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا بزمِ عالم کو سجا کر ترا چرچا کرنا یہ صراحت ورفعنالک ذکرک میں ہے تیری تعریف کرنا ،تجھے اونچا کرنا تیرے آگے وہ ہر اک منظرِ فطرت کا ادب چاند سورج کا وہ پہروں تجھے دیکھا کرنا طبعِ اقدس کے مطابق وہ ہواؤں کا خرام دھوپ میں دوڑ کے وہ ابر کا سایا کرنا دشمن آجائے تو اٹھ کر وہ بچھانا چادر حسنِ اخلاق سے غیروں کو وہ اپنا کرنا کوئی فاروق سے پوچھے کہ کسے آتا ہے دل کی دنیا کو نظر سے تہہ وبالا کرنا اُن صحابہ کی خوش اطوار نگاہوں کو سلام جن کا مسلک تھا طوافِ رخِ زیبا کرنا مجھ پہ محشر میں نصیرؔ اُن کی نظر پڑ ہی گئی کہنے والے اسے کہتے ہیں، خدا کا کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اردو ورثہ

46,444 Aufrufe • vor 1 Jahr