Loading video...
Video Failed to Load
نواب آف کالاباغ نے الطاف گوہر کور بتاتا تھا کہ غریب کے بچے کا تعلیم حاصل کرنے کی بجائے رنگساز بننا زیادہ بہتر ہے۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی پالیسی power through ignorance رہی ہے۔ اس میں سرداروں، فیوڈلز ، انڈسٹریلسٹس اور بیوروکریٹس میں کوئی فرق نہیں۔
28,241 views • 1 year ago •via X (Twitter)
10 Comments

تعلیم اور شعور سب سے بڑی انسانی طاقت۰ غلامی سے نجات کا زریعہ

Exactly!

علم ہی تو دینا نہیں ورنہ کیا ، کیوں ، کیسے عام ہو جائے گا

پاکستان میں کوچوان کا بیٹا میٹرک میں بورڈ ٹاپ کرتاہے ، ایک تندور والے کا بیٹا بیچلر کی ڈگری میں یونیورسٹی میں اول پوزیشن بھی لیتا۔ وجہ یہ ہے آج کل زیادہ تر غریب طبقے کے بچے میٹرک ، ایف اے اور بی اے کرتے ہیں، جب کہ اشرافیہ اور ان کے بچے او لیولز اور اے لیولز کا انتخاب کرتے ہیں۔

@sunny3842 انہیں خیالات عالیہ کی وجہ سے نواب صاحب اپنے بیٹوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے

اگر عام مڈل کلاس بچے پڑھ لکھ گئے تو وڈیروں، سرداروں اور جاگیرداروں کی غلامیاں کون کرے گا؟ سیدھی سی بات ہے۔

بلکل وہی پالیسی اب بھی جاری ہیں تعلیم ہمارے جیسے مڈل کلاس کی بس سے باہر ہوگئی ایف سی کے بعد ہم بس پرائویٹ پر اکتفا کرتے ہے

پروجیکٹ عمران کے ایک جنرل اعوان نے کہا تھا، رکشے والے کا کیا کام کہ وہ اپنے بچوں کو انگریزی سکول میں بھیجے۔۔!!!

اور صحافیوں میں بھی کیونکہ ذیادہ تر اسی کلاس کے تلوے چاٹنے میں مصروف رہتے ہیں

@murtazasolangi bilkul ghalt
