Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

نواب آف کالاباغ نے الطاف گوہر کور بتاتا تھا کہ غریب کے بچے کا تعلیم حاصل کرنے کی بجائے رنگساز بننا زیادہ بہتر ہے۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی پالیسی power through ignorance رہی ہے۔ اس میں سرداروں، فیوڈلز ، انڈسٹریلسٹس اور بیوروکریٹس میں کوئی فرق نہیں۔

28,241 views • 1 year ago •via X (Twitter)

10 Comments

Sajida Malghani's profile picture
Sajida Malghani1 year ago

تعلیم اور شعور سب سے بڑی انسانی طاقت۰ غلامی سے نجات کا زریعہ

Zaigham Khan's profile picture
Zaigham Khan1 year ago

Exactly!

M _ AIJAZ 💚❤️'s profile picture
M _ AIJAZ 💚❤️1 year ago

علم ہی تو دینا نہیں ورنہ کیا ، کیوں ، کیسے عام ہو جائے گا

Sohail Ahmad's profile picture
Sohail Ahmad1 year ago

پاکستان میں کوچوان کا بیٹا میٹرک میں بورڈ ٹاپ کرتاہے ، ایک تندور والے کا بیٹا بیچلر کی ڈگری میں یونیورسٹی میں اول پوزیشن بھی لیتا۔ وجہ یہ ہے آج کل زیادہ تر غریب طبقے کے بچے میٹرک ، ایف اے اور بی اے کرتے ہیں، جب کہ اشرافیہ اور ان کے بچے او لیولز اور اے لیولز کا انتخاب کرتے ہیں۔

Eyad's profile picture
Eyad1 year ago

@sunny3842 انہیں خیالات عالیہ کی وجہ سے نواب صاحب اپنے بیٹوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے

Mohammad Waleed Khan Yousufzai's profile picture
Mohammad Waleed Khan Yousufzai1 year ago

اگر عام مڈل کلاس بچے پڑھ لکھ گئے تو وڈیروں، سرداروں اور جاگیرداروں کی غلامیاں کون کرے گا؟ سیدھی سی بات ہے۔

Hassan ali's profile picture
Hassan ali1 year ago

بلکل وہی پالیسی اب بھی جاری ہیں تعلیم ہمارے جیسے مڈل کلاس کی بس سے باہر ہوگئی ایف سی کے بعد ہم بس پرائویٹ پر اکتفا کرتے ہے

Tauseef Ahmad's profile picture
Tauseef Ahmad1 year ago

پروجیکٹ عمران کے ایک جنرل اعوان نے کہا تھا، رکشے والے کا کیا کام کہ وہ اپنے بچوں کو انگریزی سکول میں بھیجے۔۔!!!

Raza Olakh's profile picture
Raza Olakh1 year ago

اور صحافیوں میں بھی کیونکہ ذیادہ تر اسی کلاس کے تلوے چاٹنے میں مصروف رہتے ہیں

Mohammad Tariq's profile picture
Mohammad Tariq1 year ago

@murtazasolangi bilkul ghalt

Related Videos

جو جھوٹ بول رہے ہیں کہ قاسم خان/سلیمان خان نے پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو ختم کرنے کی بات نہیں کی، ان پاکستان کے دشمنوں کو پتہ ہونا چاہئیے کہ جس فورم پر گفتگو کی گئی وہاں کوئی بچے نہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ بلاواسطہ بھی ذکر کریں پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کا اور آپ کی اشاروں کنایوں میں کی گئی پاکستان مخالف بات کو کوئی سمجھ نہ سکے۔ پاکستان کے سٹیٹس کو mention کرنے کا مقصد ہی اس بات کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ یہ backhanded approach ہوتی ہے جس میں براہ راست نہ کہہ کر بھی اپنا مدعا بیان کر دیا جائے۔ افسوس کہ وہ بچے جو آج تک غیرمتنازعہ تھے، اب متنازعہ اور سیاسی بن چکے ہیں۔ کسی کے سیاسی اور پاکستان مخالف مقاصد کے ہاتھوں استعمال ہو گئے۔ والد سے گفتگو میں تو عمران خان نے بتایا کہ ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے آنکھ ٹھیک ہو رہی ہے سو یہ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کو جیل میں ہر قسم کے انسانی حقوق عام قیدیوں سے بڑھ کر میسر ہیں۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ Attaullah Tarar کو ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس پاکستان مخالف حرکت بارے پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ اتنے اھم نہیں کہ ریاست کا مرکزی وزیر ان کو جواب دے؛ پاکستان الحمدللہ ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس حرکت سے بہت زیادہ بلند،مضبوط اور باوقار ہے۔ یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہاں اپنا ہی تشخص ضرور بگاڑ لیا۔ پاکستان مخالف دشمنوں کو تکلیف ہی اس بات کی ہے کہ اس ملک کو اس قدر عزت، پذیرائی اور عالمی وقار کیوں حاصل ہو رہا ہے اور وہ بھی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے دور میں ۔۔۔۔۔ لیکن ایک پلان ان کا ہے اور ایک پلان اللہ کا ہے ۔۔۔ اور غالب پلان تو اللہ ہی کا ہے ✌️💯💥🇵🇰 آج صبح جی ٹی وی GTV پر میرا تجزیہ ۔۔۔ 👇 👇 👇

Gharidah Farooqi (T.I.)

30,980 views • 5 months ago