Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

نواز شریف جیسے سیاستدانوں کا حال کچھ یوں ہے ایک ہاتھی لکڑی کا بنا ہوا پُل پار کر رہا تھا اس کے اوپر چوہا بھی بیٹھا ہوا تھا جب وہ پُل پار کر رہے تھے تو پُل سے آوازیں آ رہی تھیں پُل پار کرنے کے بعد چوہے نے...

20,154 views • 9 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

پتہ نہیں میں بزدل ہوں، کمزور ہوں، یا ایمان ضعیف ہے، یہ تو اللہ کو بہتر پتا ہے۔ مطلب، جب بھائی آپ کا شہید کیا جائے، والد آپ کا شہید کیا جائے، کزن آپ کا اٹھا کر چھ مہینے غائب رکھا جائے اور پھر مسخ شدہ لاش آپ کے ہاتھ میں تھما دی جائے، اور جیتا ہوا الیکشن آپ سے چھین لیا جائے، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ یہ تو پتہ نہیں، میں نے آپ کو کہا تھا کہ میں دوسروں کا نام نہیں لیتا، اپنی بات تو کر سکتا ہوں۔ آپ کی نظر میں پتہ نہیں میں بزدل ہوں، میں کمزور ہوں، یا میں کس سوچ اور فکر کا مالک ہوں، پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ نہیں، خدا را! آپ ملازم کو نہیں بخش رہے۔ ایک ملازم کی کیا سزا ہو سکتی ہے؟ ایک سادہ سی ڈیمانڈ ہے، ڈی آر اے ہے اور یکساں نظامِ تنخواہ (Salary System) ہے۔ آپ کی نظر میں وہ بھی بد ہے۔ اب تو دروازے بند کر رہے ہو، عدالتوں سے انصاف کی توقعات آپ نے ختم کر دی ہیں، پارلیمنٹ کی خودمختاری آپ نے پاؤں تلے روند دی ہے۔ مطلب، وہ کیا کریں؟ وسائل ہمارے لوٹے جا رہے ہیں، اور ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میرے گھر کے سامنے سے گیس نکل رہی ہے، مگر میں اس سے مستفید نہیں ہوں؛ لوگوں کے کارخانے اس سے چل رہے ہیں۔ میرے گھر سے سونا نکالا جا رہا ہے، کوئلہ نکالا جا رہا ہے، لیکن میں دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوں۔ یعنی میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا اس وقت پاکستان کی اہمیت پنجاب کے کیلے اور مالٹے ہیں، یا بلوچستان اور پشتونخوا کے ساحل اور وسائل؟ اصغر خان اچکزئی (صدر، اے این پی بلوچستان)

Asghar khan Achakzai

54,628 views • 6 months ago

میں تو اپنے بھائی کا بھرم رکھنے کیلئے جنگ بندی کر چکا تھا لیکن اگر جنگ ہے تو جنگ سہی 😊 یہ رہی جَون حسین کی وضاحت آپ کو اپنا چشمہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ سیاست اور دنیا کو دیکھنے کیلئے آپ کو چشمہ بھی شاید انہوں نے ہی لے دیا ہے جنہوں نے آپ کی ٹاوٹی پر آپ کو تمغہ دلوایا اور آپ کو انٹرویو کرنے کیلئے سیاستدانوں کو مار مار کر لا کر آپ کے سامنے بٹھایا آپ جان بوجھ کر نہ سمجھنے والے سوشل میڈیا فسادیوں کا حصہ بن کر اپنی سنجیدہ شخصیت کو مسخ کر رہے ہیں، یہ بات ایرانی وفد کے پاکستان پہنچنے سے کم از کم 8/9 گھنٹے پہلے کی ہے جبکہ وفد کے پہنچنے کے آخری لمحہ تک مذاکرات پر ابہام کی خبریں بدستور آ رہی تھیں، جس کا الزام اسرائیل پر آ رہا تھا، کیونکہ اسرائیل جنگ بندی کے باوجود لبنان پر بمباری کر رہا تھا جس کا اظہار ایرانی وفد کے سربراہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ کا حوالہ دے کر بھی کیا اور یہی میری اور جون کی گفتگو کا سیاق و سباق تھا۔ یہ فارس نیوز ایجنسی کی خبر بھی پڑھ لیں کہ کس طرح آخری وقت تک عالمی میڈیا اُسی ابہام کی بات کر رہا تھا جس کا اظہار جون یا میں نے کیا رہی بات میری گُت بننے کی تو میں تو سمجھ رہا تھا کہ میں ایک قابل وکیل اور تمغہ بردار بڑے صحافی سے بات کر رہا ہوں جو اپنی دلیل کو تاریخ، فلسفہ، قانون، لسانیات، سماجیات وغیرہ کی بنیاد پر قائم کرے گا لیکن آپ تو اپنی بونگی پر شرمندہ ہونے اور میرے دیئے گئے حقائق پر علمی بحث کرنے کے بجائے ایک بدترین ن لیگی ٹرول نکلے جو مریم نواز کے بنائے سوشل میڈیا سیلز سے ناقدین کو سارا دن جُگتیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ مایوس کیا یار آپ نے 🤦 اور میرے پیارے ٹاوٹ بھائی آپ نے جس تمغہ پر الحمد اللّہ کہا ہے، اُس پر الحمد اللّہ نہیں بلکہ استغفر اللّہ کہا جاتا ہے 🫣 ایسے تمغے اعزاز نہیں ذلت کا طوق ہوتے ہیں اور آپ نے تمغہ نہیں سجایا بلکہ ذلت کا طوق پہنا ہے 😊 اور جو ذلت کو اعزاز سمجھتے ہیں شاید انہی کے بارے میں مہندر ہما نے کہا تھا غیرت زدہ تو ڈوب گیا ایک بوند میں بے غیرتوں کو کوئی سمندر نہیں ملا آپ اور آپ جیسے ٹرولز کیلئے جون اور میری بمعہ سیاق و سباق کے ویڈیو بھی حاضر ہے 🙏 آپ کا خیر اندیش

Ameer Abbas

79,847 views • 4 months ago

شہید ڈاکٹر علی لاریجانی ایک واقعہ سناتے ہوئے: ’’ایک وقت تھا جب میں امریکہ گیا ہوا تھا، مسٹر کسنجر (Henry Kissinger) نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ میری بھی خواہش تھی کہ ان سے ملوں۔ وہ آئے اور ایٹمی پروگرام اور دیگر مسائل پر مختلف باتیں کیں۔ پھر انہوں نے پوچھا: 'کیا آپ ہمارے ساتھ تزویراتی تعلقات (Strategic Relations) رکھنا چاہتے ہیں؟' میں نے کہا: 'ہمارا تو آپ کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے، آپ تزویراتی تعلقات کی بات کر رہے ہیں؟ آپ مجھ سے یہ سوال کیوں کر رہے ہیں؟' اس پر انہوں نے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 'ہم نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد خود لکیریں کھینچیں، ملکوں کو نام دیئے۔ سوائے دو ملکوں کے؛ ایک ایران اور دوسرا مصر۔ آپ (تاریخی طور پر) موجود تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ہمارے پاس آپ کے ساتھ چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔' ایک صاحبِ فکر شخص جب کسی قوم کا تاریخی پس منظر جانتا ہو، تو وہ اس طرح بات کرتا ہے۔ وہ 'تسلیم ہو جانے' کی بات نہیں کرتا۔ آپ سے بڑے (طاقتور) بھی اس قوم کو تسلیم نہیں کروا سکے

Harmeet Singh

198,607 views • 5 months ago

آپ سے ایک تعلق رہا ہے لہذا کوشش کی ہے تلخی نہ ہو لیکن کیاکریں جواب دینا پڑے گا۔ مجھے چینل میں آئے صرف دو تین ماہ آئے ہوئے تھے۔ کون سا چینل دو ماہ میں ریٹنگز پر نکالتا ہے؟شاید آپ کو کبھی نکالا گیا ہو۔ آفتاب اقبال صاحب کا کلپ شئیر کررہا ہوں سن لیں کس وجہ سے نکالا گیا تھا۔ آپ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے یہ کافی ہے۔ آپ کی اس وقت کیا حیثیت تھی کہ میں آپ کو فون کرتا کہ مجھے جنرل نکال رہے ہیں اور آپ میری مدد کرو اور مل کر بتائوں گا؟ اچھا لطیفہ گھڑ لیا ہے۔ جہاں تک ارشد شریف کی بات ہے آپ نے جو ارشد اور اس کی فیملی پر بدزبانی ٹوئٹر پر کی ہوئی ہے اور ا سکی بیوی کے بارے میں جو کچھ فرمایا تھا اس کے بعد بھی آپ ارشد کے وارث ہیں؟ آپ کو کسی نے بتایا تھا کہ آپ کے بارے گیلا تیتر والی ویڈیو ارشد شریف نے بنوائی تھی لہذا آپ کی تو ارشد اور اس کی بیوی سے سخت دشمنی چل رہی تھی۔ ارشد کے آپ کے بارے خیالات کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہے۔ میں تو الٹا اس کو آپ کے حوالے سے بہت ٹھنڈا کرتا رہتا تھا ورنہ وہ بھی آپ کا بھی وہ وہی حشر کرتا جو اس نے ایک اور صاحب کا گوادر میں کیا تھا جب اس نے بھی آپ کی طرح ارشد اور اس کی بیوی کے بارے بدزبانی کی تھی۔ آپ کب سے ارشد کے سگے بن گئے ؟ اپنے گندے ٹوئٹس یاد ہیں جو ارشد/بیوی پر آپ نے کیے تھے؟ جب آپ اور چند آپ جیسے دیگر ارشد کے سارے دشمن اس کے گرد اچانک اکٹھے ہوئے تھے اور وہ بھولا/سادہ انسان آپ لوگوں کے چکر میں آیا تو میں نے اسے میسج بھیجا تھا کہ ان تین چاروں سے بچنا یہ سب تمہارے پرانے دشمن ہیں۔ انہیں تمہارے ساتھ پلانٹ کیا جا رہا ہے ۔ یہ تمہارے سابقہ دشمن/اب جعلی ہمدرد تمہیں گھیر کر شکاریوں کے سامنے ڈالیں گے۔ وہ میسجز آج بھی میرے پاس موجود ہیں۔ ارشد کے لہو کو آپ جسیوں نے بیچا ہے۔ ڈالرز کمائے ہیں۔اس کی لاش کو بیچا ہے۔ میں نے ایک دوست کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی جس کے گواہ موجود ہیں۔ اسے بتایا تھا یہ سب تمہارے پرانے دشمن تمہیں مروانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ہم دیہاتی لوگ دوستوں کو بانس پر چڑھا کر نہیں مرواتے۔ مطلب آپ جیسا بندہ کیسے ارشد کا دوست یا خیرخواہ ہوسکتا تھا جو اس کے بارے ٹوئٹر پر مسلسل بدزبانی کرتا رہا ہو اور اس کی بیوی کی کردار کشی کرتا رہا ہو ؟حیرانی ہے آج آپ ارشد کی قبر کے وارث بن بیٹھے ہیں جو واہ واہ کر کے اسے مققل گاہ تک لے گئے تھے۔ آپ لوگ اتنے بے رحم ہیں کہ اپنے بدلے لینے کے لیے ارشد کے جعلی ہمدرد بن گئے۔اس کے پانچ بچوں پر بھی رحم نہیں کیا۔ جہاں تک بار بار جواب کی بات ہے آپ کو نے میرے ٹوئٹ پر لکھا تھا جس پر میں نے آپ کو اہمیت دے کر جواب دیا اور آپ چھت سے جا لگے۔ میں نے آپ کو کبھی آپ کے کسی ٹوئٹ پر نہیں لکھا ۔ اب آفتاب اقبال زرا سنیں جھوٹ کون بول رہا ہے۔ آپ فرما رہے ہیں ریٹنگز کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔ افتاب صاحب کو سنیں کیون نکالا گیا۔ ویسے اگر مجھے رینٹنگز پر نکالا جارہا تھا تو آپ کو میری فکر کیوں لاحق ہوگئی تھی۔ یہ میرا اور آفس کا ایشو تھا۔ بہرحال آفتاب اقبال کا کلپ سنیں اور اپنے جھوٹ پر کچھ شرمندگی ہونے کی کوشش کریں 😎

Rauf Klasra

270,321 views • 3 months ago

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,433 views • 5 months ago

آپ کے بھائی کو جنرل باجوہ نے بتایا تھا کہ سیاستدان بنو اور اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔ ہمارے سہارے پر نہ رہو۔ سیاستدانوں سے بات کرو۔ آپ کے بھائی سے کہا تھا کہ اپوزیشن میں بیٹھو اور اسمبلیوں سے استعیفیٰ نہ دو۔ قانون کے اندر رہو۔ آپ کے بھائی نے نو مئی کروایا اور الزام ان پر لگایا جن پر حملہ ہوا تھا۔ آپ کے بھائی نے آئی ایم ایف سے کہا کہ قرضہ نہ دو۔ آپ کے بھائی نے ترسیلات زر کا بائیکاٹ کروایا اور اپنے ہی ملک کیخلاف کانگریس میں سماعت کروائی اور آج بھی اسی طرح کی سازشوں میں مصروف ہے۔ آپ کا بھائی ٹرول برگیڈ کے ذریعے ریاستی اداروں اور ان کے اہلکاروں کیخلاف ڈھائی سال سے گندی اور غلیظ مہم چلا رہا ہے۔ آپ کے بھائی کو پچھلے سال مئی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ قوم سے معافی مانگیں اور مذاکرات ہم سے نہیں سیاستدانوں سے کریں۔ رہی بات قانون اور آئین کی تو ان دونوں کا جنازہ آپ کا بھائی دوران حکومت میں نکال چکا ہے۔ 190 ملین پاؤنڈ کے غبن کی سزا اسے عدالت نے دی ہے اور عدالت ہی اس سزا میں ردو بدل کر سکتی ہے۔ یہ معاملہ مذاکرات سے حل نہیں ہونا۔ باقی انقلاب، بنگلادیش اور سری لنکا بنانے کی دھمکیاں تو آپ لوگ ڈھائی سال سے دے رہے ہیں۔ اب آپ لوگوں کیساتھ پاکستان ہو گیا ہے۔

Murtaza Solangi

27,322 views • 1 year ago