Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

نوٹیفیکشن ملنے کے بعد ۔۔۔ بلاؤ اپنے بیٹوں کو جنہیں باہر بھیجا ہوا ہے بلاؤ اپنی اولاد کو بھیجو انہیں فوج میں ۔۔۔ تم ہوتے کون ہو؟؟ 5 دسمبر کی پریس کانفرنس

140,539 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

Nadia Baloch

32,321 görüntüleme • 5 ay önce

کیس 1 | جبری پریس کانفرنس | ادیبہ ظہیر | لاپتہ ظہیر کی بیٹی ، مقتول ذیشان ظہیر کی بہن | لاپتہ باپ کی جہد سے دستبرداری اور بی وائی سی BYC سے لاتعلقی | گزشتہ ہفتے بروز بدھ 6 مئی کو پنجگور کے علاقے خدابادان مواچ سے دو بھائیوں، توحید اور ابوبکر ولد محمد صدیق، کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان دونوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا توحید، لاپتہ ظہیر کے داماد اور ادیبہ کے شوہر ہیں، ان کی اہلیہ آدیبہ ظہیر، بلوچ یکجہتی کمیٹی پنجگور کی سرگرم رکن ہیں جو اپنے والد کی جہدوجہد کررہی ہیں پریس کانفرنس کرنے والی ادیبہ ظہیر کے بھائی ذیشان ظہیر، کو 29 جون 2025 کو گرمکان فٹبال چوک سے دن دہاڑے اغواء کیا گیا تھا۔ اگلے روز ان کی گولیاں لگی مسخ لاش ملی۔ اور اب حالیہ اٹھائے گیے دونوں بھائیوں، ادیبہ کے شوہر توحید صدیق اور دیور ابوبکر صدیق کی گمشدگی کے بعد آدیبہ ظہیر کو باپ لاپتہ ظہیر کی جہد سے کنارہ کشی ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف پریس کانفرنس کرنے اور تنظیم سے لاتعلقی ظاہر کرنے کا مطالبہ رکھا گیا اسی شرط پر اس کے بعد ان کے شوہر اور دیور کو رہا کیا جاسکتا ہے۔ آدیبہ کے والد ظہیر کو 13 اپریل 2015 کو حب چوکی سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ کسی فرد کو جبری لاپتہ کرنا ، پھر اسکے خاندان کے لوگوں کو اٹھا کر مسخ لاش بھیجنا اور پھر اگر خاندان سیاسی و قانونی جہد کریں تو اس خاندان کے دیگر لوگوں کو اٹھا کر پریس کانفرنس کروانا ، بلوچستان میں " پاکستان " اب ایسے چل رہا ہے ! #StopBalochGenocide #EndenforcedDisappearances #Balochistan

Balochistan Facts

14,041 görüntüleme • 3 ay önce