Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

وزیر اعظم تو وزیر اعظم ہوتا چاہیے فارم 47 سے ہو یا بغیر وٹوں کے ہو جو پارٹی آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا فیصلہ کر رہی ہے کیاوہ خود بھی الیکٹڈ ہیں یا نہیں کیا وہ 2024 کا الیکشن جیت کے آئےتھے یا نہیں کیا نواز شریف جو یہ...

35,604 Aufrufe • vor 28 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جے کے ایل ایف کا امان کہتا ہے تمہارے پاس صرف ایک آپشن ہے ہمارے قدموں میں سرنڈر کرو۔ پھر کہتا ہے "وطن یا کفن"۔ سرنڈر کی بات پھر کسی دن رکھ چھوڑتے ہیں آج "وطن یا کفن" پر بات کر لیتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے چھوٹے سے ٹکڑے کو 24 اکتوبر 1947 کو آزادی ملی جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ 24 اکتوبر 1947 سے لیکر آج تک پاکستان اور بھارت کشمیر کو لیکر آپس میں پانچ جنگیں لڑ چکے لیکن پاکستان نے آج تک بھارت کو آزاد کشمیر کا ایک انچ نہیں لینے دیا۔ آج حیرانگی اس بات کی ہے کہ "وطن یا کفن" کی باتیں وہ کر رہے جن کا جدوجہد آزادیِ جموں و کشمیر سے چٹکی بھر سندور جتنا تعلق بھی نہیں۔ پاکستان تو اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج بھی کار بند ہے کہ خطہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کیمطابق ہو گا۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ اور آزاد کشمیر کے 22 لاکھ کشمیری خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو پاکستان کو کوئی انکار نہیں بلکہ پاکستان نے تو اسی لئے آج تک آزاد کشمیر کی حیثیت الگ ریاست کے طور پر برقرار رکھی ہوئی ہے جس کا اپنا صدر، اپنا وزیراعظم، اپنی اسمبلی، اپنی کابینہ اپنی ہائیکورٹ و سپریم کورٹ ہے۔ لیکن کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف JKLF کے سرخے کریں گے؟ کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے کریں گے؟ نہیں جناب یہ فیصلہ ڈیڑھ کروڑ آبادی والا مقبوضہ کشمیر بھی کرے گا جو بقول کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور JKLF سرخے مہاجر ہیں اور ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر JKLF کے سرخوں کو اتنا ہی زور سے "وطن یا کفن" آیا ہوا ہے تو یہ مقبوضہ کشمیر میں جا کر وہاں "وطن یا کفن" خود مختار کشمیر کا راگ کیوں نہیں الاپتے؟ کیونکہ جب تک مقبوضہ کشمیر نہیں چاہے گا تب تک تو JKLF کے سرخے ٹانگیں اوپر کر کے ہاتھوں کے بل بھی چلنا شروع کر دیں تب بھی آزاد کشمیر کی خود مختار وطن کے نام کی باگ ڈور تو انکے ہاتھوں نہیں تھمائی جا سکتی۔ ہاں مجھے اتنا ضرور یقین ہے کہ JKLF کے سرخے اس خود مختار چورن کو لیکر مقبوضہ کشمیر میں جا کر "وطن یا کفن" کی آواز لگائیں تو "کفن" ضرور ملے گا یا وہ بھی پتہ نہیں نصیب ہوگا یا نہیں۔

Political Prism

14,113 Aufrufe • vor 3 Monaten

🚨"وزیراعظم صاحب سے یہی درخواست کروں گا کہ ان وزیر صاحبہ کو فارغ کیا جائے۔ ہم اس قسم کی حرکتیں کرنے والے لوگ نہیں چاہتے۔ اگر یہ نشاندہی نہ ہوتی تو سوچیں کیا ہونے جا رہا تھا؟ یہ ایویں ہی نہیں ہو رہا، اس کے پیچھے پیسے لگے ہیں، ٹیلی کام کمپنیاں پیسے لگا رہی ہیں یہ سب کرنے کے لیے۔اس پر وزیراعظم کا نوٹس لینا بنتا ہے، اور انہیں مثال قائم کرنی چاہیے۔ یہ بل کیبنٹ سے بھی گزر کے آیا اور وزیراعظم کے دستخط بھی ہوئے۔ ہوتا یہ ہے کہ وزیراعظم خود نہیں پڑھتے، جن کا کام ہے وہ بریف کرتے ہیں، اور وزیراعظم کہتے ہیں ٹھیک ہے۔ اگر سب نے اوکے کر دیا تو اس کا مطلب ہے بہت سی لابنگ ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کو ان چیزوں کا پتہ نہیں ہوتا، لاء منسٹر یا متعلقہ وزیر نے کہا ہوگا یہ ٹھیک ہے، چلو چلا دو۔ اب دیکھتے ہیں انکوائری بیٹھتی ہے یا معاملہ داخل دفتر ہو جاتا ہے۔ رؤف کلاسرا صاحب اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں، ہم بھی پڑتے ہیں۔" نجم سیٹھی Najam Sethi Syeda Ayesha Naz Rauf Klasra

Arbaz Raza Bhutta

17,505 Aufrufe • vor 3 Monaten

بہت ہی کمزور وضاحت ھیکہ وزیر اعظم شھباز شریف کا ٹویٹر ھینڈل کسی نا اہل کے پاس تھا جس وجہ سے "ڈرافٹ فار پاکستانی پرائم منسٹر" والی ٹویٹ چل گئی۔ معاملہ "پہلوان" کی نا اہلی کا نہیں بلکہ اُس پالیسی کا ہے جس کے تحت پہلوان کو بتایا گیا تھا کہ فلاں بندے کیطرف سے آنے والی ھر ڈرافٹ پوسٹ کو وزیر اعظم کے ایکس اکاؤنٹ پر ٹھوک دینا ہے۔ دوسرا یہ کہ ڈرافٹ فار پاکستانی پرائم منسٹر" والا جملہ ڈیلیٹ نہ کیا جانا کسی سب ایڈیٹر کے لئیے تو اہم یا باعثِ شرمندگی ہو سکتا ہے مگر سینئیر ایڈیٹر لیول کے صحافی یا تجزیہ کار کے لئیے یہ کیسے اہم ہو گیا؟ صحافت اور تجزیہ کاری تو یہ بنتی ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کی ٹویٹ کا ڈرافٹ کس نے تیار کیا، کیا کوئی غیر ملکی تھا یا نہیں؟ اگر نہیں تو یہ جملہ کہ "ڈرافٹ فار پاکستانی پرائم منسٹر" کیوں لکھا گیا؟ جو وضاحتیں یا تردیدیں سرکاری طور پر جاری کرتے حکومت کو شرم آتی ہے ایسی وضاحتوں کے لئیے صحافیوں کو اپنا کندھا پیش نہیں کرنا چاہئیے۔ جب حکومت کے پاس مذکورہ بلنڈر کا سرکاری طور پر کوئی جواب نہیں ہو ہم صحافیوں کو مضحکہ خیز حکومتی وضاحتوں کو ذرائع کی خبر بنا کر انہیں زبردستی کی ساکھ بخشتے ہیں۔ او بھئی شھباز شریف خود آ کرکیوں نہیں بتاتے کہ بطور وزیر اعظم انکی ٹویٹیں کوئی غیر ملکی ڈرافٹ کرتا ہے یا نہیں؟ اور یہ ٹویٹ کس نے ڈرافٹ کی تھی؟ کیا واقعی ٗاصل مسئلہ کسی "پہلوان" کا پہلا جملہ ڈیلیٹ نہ کرنا ہے؟ سوشل میڈیا کے سرکاری پہلوانوں اور صحافت کے غیر سرکاری پہلوانوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہیئے۔

Matiullah Jan

403,970 Aufrufe • vor 5 Monaten

"معاملہ اس لیے اہم ہے کہ آج (عمران خان سے ملاقات کے لیے) فیملی جب جائے گی ایک یا دو بجے اڈیالہ جیل تو کیا سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل ان کی ملاقات کروائیں گے ؟ ایز پر ارڈر آف دا سپریم کورٹ ؟ اور کیا جب وہ فیملی اندر جائے گی عمران خان صاحب سے بات ہوگی تو وہاں سے ہمیں یہ بھی مل سکتی ہے خبر کہ کیا پچھلے ایک ہفتے میں دو دفعہ عمران خان صاحب کے بیٹوں سے بات کروائی ہے سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے یا نہیں؟ تو یہ دو پوائنٹس بڑے میجر ہیں اس ارڈر کے اور یہ ڈائریکٹ کرتے ہیں سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے ساتھ اور اگر ان پر عمل نہیں ہوتا تو سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین کی کاروائی انیشیٹ ہو سکتی ہے کہ پہلا معاملہ تو شفاء کا تھا انتظامیہ اسلام آباد کی تھی اب یہ تو سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل، آئی جی جیل خانہ جات یا پنجاب حکومت کا معاملہ ہے تو وہ چیزیں جو ہیں وہ میرے خیال میں خراب بھی ہو سکتی ہیں تو اب کل کا دن بڑا اہم ہے کہ حکومت کیا باقی دو نکات پر سپریم کورٹ کے آرڈر کے مطابق عمل کرتی ہے یا نہیں"

Saqib Bashir

46,234 Aufrufe • vor 1 Monat