正在加载视频...

视频加载失败

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا صوبائی کابینہ سے اہم خطاب! وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنے تین روزہ پنجاب دورے کے دوران پنجاب حکومت کے رویّے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا طرزِ عمل غیر جمہوری، قابلِ مذمت...

21,151 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا صوبائی کابینہ سے خطاب! وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان، ان کی اہلیہ اور بہنوں کے ساتھ مسلسل غیر انسانی اور غیر جمہوری سلوک کیا جا رہا ہے۔ منگل کے روز واٹر کینن میں مبینہ طور پر زہریلے کیمیکل کے استعمال سے کارکنان اور قیادت کی طبیعت خراب ہوئی، جو کہ قابلِ مذمت ہے۔ پرامن سیاسی کارکنان اور منتخب نمائندوں پر تشدد جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وعدہ شدہ فنڈز مالی سال 2025-26 میں تاحال ریلیز نہیں کیے گئے، جس کے باعث قبائلی اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت محدود وسائل کے باوجود قبائلی اضلاع کے عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت منگل کے روز ہونے والے غیر انسانی اور غیر آئینی اقدامات کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور وفاق و پنجاب حکومت کو سیاسی انتقام کے بجائے ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت پر توجہ دینی چاہیے۔ جی ڈی پی گروتھ، زرعی پیداوار اور صنعتی ترقی کے اشاریے مسلسل تنزلی کا شکار ہیں، جبکہ وفاقی حکومت عوامی فلاح کے بجائے عمران خان اور پی ٹی آئی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزراء کو ہدایت کی کہ وہ ہر 15 دن بعد اپنے تفویض کردہ اضلاع کے فیلڈ وزٹس یقینی بنائیں، کیونکہ فیلڈ وزٹس سے عوام کا اعتماد بحال اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت کے گڈ گورننس روڈ میپ پر آئندہ کابینہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ لی جائے گی اور چیف سیکرٹری سے اس حوالے سے پیش رفت پر جامع رپورٹ طلب کی جائے گی۔ #CMKP #SohailAfridi #KPCabinetMeeting

PTI

29,317 次观看 • 8 个月前

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان کی سربراہی میں پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز اور پارٹی قائدین کے وفد نے ملاقات کی۔،۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کے صوبائی حکومت کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ملاقات میں وفاق کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ، این ایف سی، اے آئی پی اور کرنٹ بجٹ کے فنڈز، صوبے میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور بجلی کی ترسیل سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ترقیاتی برابری سے قبل ضم شدہ اضلاع پر ٹیکس نہ لگانے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر وفاق نے اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ضم شدہ اضلاع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ این ایف سی، اے آئی پی اور کرنٹ بجٹ کے فنڈز ہڑپ کرنے کے بعد اب نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وفد نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا کو غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جبکہ شدید گرمی میں کم وولٹیج نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ان تمام معاملات کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا اور ضم شدہ اضلاع میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور بجلی کی ترسیل سے متعلق امور پر باضابطہ مراسلہ ارسال کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے مسئلے کے حل کے لیے پیسکو، ٹیسکو اور ہیسکو کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام اور ضم شدہ اضلاع کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔

Asad Qaiser

12,855 次观看 • 1 个月前

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی پولیس لائن ٹانک آمد! وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی پولیس لائن ٹانک پہنچے، جہاں انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے، سلامی پیش کی اور دعا کی۔ اس موقع پر انہوں نے علاقائی مشران اور شہدائے پولیس کے ورثاء سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ وزیراعلیٰ نے علاقائی عمائدین اور شہدائے پولیس کے ورثاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر بہادری سے لڑ رہی ہے اور پولیس کے تمام مسائل جلد حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موت حق ہے، مگر وطن اور قوم کے عظیم مقصد کے لیے شہادت پانا سب سے بڑا اعزاز ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، پولیس، سیکیورٹی فورسز اور خیبر پختونخوا کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے ملک میں امن کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور پوری قوم نے ہر مشکل گھڑی میں لبیک کہا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ جنگ ہماری نہیں تھی، ہمیں زبردستی اس میں دھکیلا گیا۔ بدقسمتی سے گزشتہ بیس برسوں سے خیبر پختونخوا مسلسل قربانیاں دے رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مل کر 80 ہزار سے زائد شہداء پاکستان اور خطے میں امن کے لیے قربان کیے۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا شہدائے پولیس کے ورثاء کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے، وہ وقت قریب ہے جب خیبر پختونخوا میں مکمل امن قائم ہوگا۔

Shafi Jan

19,429 次观看 • 7 个月前

شوہد کے مطابق، سہیل آفریدی ملٹری جرنلز کو دیے جانے والے بجٹ اور صوبوں سے نکالے جانے والے اربوں روپے کے معاملے پر عمران خان سے ملاقات کے خواہشمند تھے۔ مزمل اسلم نے انہیں مشورہ دیا کہ وفاقی حکومت ہر صورت یہ پیسے لے گی، اس لیے ہاں کرنے میں ہی عافیت ہے۔ سہیل آفریدی نے بعد میں اعتراف کیا کہ انہیں غلط گائیڈ کیا گیا، ورنہ وہ یہ سودا نہ کرتے۔ خیبر پختونخوا (KP) میں عمران خان کی پہلی پسند تیمور سلیم جھگڑا تھے، جو کہ ایک انتہائی قابل اور تجربہ کار شخصیت ہیں۔ علی امین گنڈاپور کو لانے کا فیصلہ اس وقت کی احتجاجی تحریک کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا تھا۔ کابینہ کی تشکیل کے وقت گنڈاپور نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے تیمور جھگڑا کو وزیرِ خزانہ بنانے سے انکار کیا۔ عمران خان کی مرضی کے برعکس، مزمل اسلم کو کے پی کے کے فنانس کے معاملات سونپے گئے جو کہ گنڈاپور کی پسند تھے۔ یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ پسِ پردہ کس طرح کے سیاسی فیصلے اور سمجھوتے کیے جا رہے ہیں۔

Naureen Ruftaj Khan

64,628 次观看 • 2 个月前

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا 44 واں اجلاس! کابینہ نے اسلامی اصولوں کے تحت صوبے میں خیبر پختونخوا جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پختونخوا فیملی تکافل کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ جنرل تکافل کے لیے 2 ارب روپے اور فیملی تکافل کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 1990 میں خیبر بینک کے بعد یہ صوبے میں اس نوعیت کا پہلا نیا ادارہ ہوگا۔ جنرل تکافل صحت اور دیگر رسکس کی کوریج فراہم کرے گی، جبکہ فیملی تکافل وفات کی صورت میں خاندان کی مالی کفالت کو یقینی بنائے گی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی۔ منصوبہ پہلے مرحلے میں پشاور اور دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان تک توسیع پا چکا ہے۔ پشاور میں بعض اہداف پر 80 فیصد اور دیگر پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دائرۂ کار میں اضافے کے باعث اضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کمیٹی نے سابقہ فاٹا میں رسالدار اور دفادار کی پوسٹوں کے انضمام سے متعلق سفارشات پیش کیں، جن کے تحت انضمام سے رہ جانے والی 16 پوسٹوں کے نامنکلیچر کی منظوری دے دی گئی ہے۔ قواعد و ضوابط کی تکمیل پر ان پوسٹوں کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔ سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں مختص کوٹہ سسٹم سے متعلق لائحہ عمل بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کے بعد میرٹ کی بنیاد پر برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے اسلام آباد میں سمال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے پلازہ میں نیشنل فنانس کمیشن کے لیے خیبر پختونخوا سیل قائم کرنے، خیبر پختونخوا ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ کی تشکیلِ نو، اور رشکئی سی پیک اکنامک زون کے اطراف سیکیورٹی اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے 199 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری بھی دی۔ خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 168 ملین روپے کی گرانٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے بجٹ تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے مانسہرہ گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 49 ملین روپے کی لاگت سے چار گاڑیوں کی خریداری کی بھی اجازت دی۔ اجلاس میں سال 2025 کے سیلاب کے دوران رکشوں، پیٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں، چکیوں اور فیکٹریوں کے مالکان کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی گئی۔ حکومت خیبر پختونخوا کا احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ، جو رواں سال 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پروگرام تین سالوں پر مشتمل ہوگا، جس کے تحت ہر سال 850 قابل نوجوانوں کو سکولوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ کابینہ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات 1,144 اسکول لیڈرز کو مزید مواقع دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ اسی طرح مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نو مریضوں کو مہنگے علاج کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پشاور کے چھ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو رورل ہیلتھ سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے لیے پروجیکٹ لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔ پانچ آؤٹ سورس کیے گئے ہسپتالوں کے لیے نئے میکانزم کے تحت معاہدے کرنے، پاک بھارت جنگ کے شہداء اور زخمیوں کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، اور سابق رکن متحدہ علماء بورڈ شہید مفتی فضل رحمان کے صاحبزادے شہید نور رحمان کے لیے سولین وکٹم کمپنسیشن کے تحت ایک ملین روپے کے پیکیج کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رولز آف بزنس میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں ماورائے عدالت خیبر پختونخوا کے دو شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت، کابینہ نے اس واقعے کی انکوائری کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ #CMKP #KPCabinetMeeting #SohailAfridi

Government of KP

12,386 次观看 • 8 个月前

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا Sohail Afridi کا یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے قائم زمونگ کور ماڈل انسٹیٹیوٹ کا دورہ! وزیرِ اعلیٰ نے زیرِ کفالت بچوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ وزیراعلی نے بچوں سے تعلیم سے متعلق سوالات کیے اور اچھی کارکردگی پر شاباشی دی. وزیراعلی نے کلاس رومز میں کیمروں کی تنصیب اور درکار اساتذہ کی فوری فراہمی کے احکامات جاری کیے تاکہ تعلیمی ماحول مزید محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے بچوں کے لیے ایک مؤثر کمپلینٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ زمونگ کور کے نجی کالجز میں زیرِ تعلیم بچوں کی فیس حکومت ادا کرے گی۔ زمونگ کور کے اکاؤنٹس سسٹم کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے، جبکہ کالجز اور اسپورٹس اکیڈمیز جانے والے بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے انسٹیٹیوٹ کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا، بچوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار کا جائزہ لیا اور زمونگ کور کے گرلز کیمپس کا بھی دورہ کیا۔ گزشتہ دورے کے دوران جاری کیے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال حکومت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمونگ کور انسٹیٹیوٹس عمران خان کے احساس وژن کے تحت قائم کیے گئے ہیں اور انہیں اسی اصل روح کے مطابق چلایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ زمونگ کور کے تمام معاملات کی وہ بذاتِ خود نگرانی کریں گے۔ #CMKPSohailAfridi

PTI

17,150 次观看 • 7 个月前

🚨🚨🚨 عوامی سہیل آفریدی نے گزشتہ رات گئے بغیر کسی پروٹوکول کے تھانہ یونیورسٹی ٹاؤن پشاور کا اچانک دورہ کیا اور تھانے کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا!!! دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے حوالات میں موجود افراد سے ملاقات کی، ان سے ان کی گرفتاری اور زیرِ حراست ہونے کی وجوہات دریافت کیں اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بھی استفسار کیا، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر تھانے میں تعینات پولیس اہلکاروں سے بھی گفتگو کی اور ان کے پیشہ ورانہ امور، ڈیوٹی کے حالات اور درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کی!!! وزیراعلیٰ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ زیرِ حراست افراد کے ساتھ ہر صورت انسانی وقار، قانون اور آئین کے تقاضوں کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے اور ان کے تمام قانونی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے!!! انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تھانے آنے والے ہر شہری کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے، ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جائے اور ان کے جائز مسائل کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں!!! وزیراعلیٰ نے کہا کہ تھانہ عوام کیلئے انصاف اور تحفظ کی پہلی دہلیز ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہر شہری کو وہاں عزت، سہولت اور فوری رسائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو باوقار، شفاف اور بلاامتیاز انصاف کی فراہمی ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے!!! وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کے تصور کے مطابق ریاست کی اصل طاقت کمزور اور بے سہارا افراد کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی مساوی فراہمی میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام دوست، جوابدہ اور خدمت پر مبنی پولیسنگ کے فروغ کیلئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی!!!

Wasim Al Waziri

17,365 次观看 • 1 个月前

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کی طویل ملاقات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کی تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران حلقہ PK-71 سے متعلق تمام تحفظات، شکایات اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے اپنے حلقے کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور غیر ضروری مداخلت سے متعلق تمام معاملات وزیراعلیٰ کے سامنے رکھے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے تمام شکایات کو بغور سنا اور واضح الفاظ میں یقین دہانی کرائی کہ: “آپ اس حلقے کے منتخب عوامی نمائندے ہیں، اس لیے آپ کے حلقے کے معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ آپ کا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، جس کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔” وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ حلقہ PK-71 میں تمام سرکاری محکمے اور متعلقہ ادارے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی امور کے حوالے سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کے ساتھ مکمل رابطہ رکھیں گے اور ان کی مشاورت و رہنمائی کے مطابق کام کریں گے، تاکہ عوامی خدمت کا عمل مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی سے کہا کہ “گھر کے معاملات گھر کے اندر ہی حل ہونے چاہییں۔ اختلافات یا تحفظات کو باہمی مشاورت سے دور کیا جائے، جبکہ ایسے معاملات کو سوشل میڈیا پر لانے کے بجائے پارٹی اور حکومتی فورمز پر حل کرنا زیادہ مناسب اور مؤثر طریقہ ہے۔” ملاقات خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہوئی، جس میں باہمی اعتماد، حلقہ PK-71 کی ترقی، عوامی مسائل کے فوری حل، منتخب عوامی نمائندے کے آئینی اختیارات کے احترام اور حکومتی امور میں مؤثر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

Abdul Ghani Afridi

40,713 次观看 • 1 个月前

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کراچی میں بلال محسود شہید کے رہائشگاہ پہنچ گئے ہیں۔ بلال محسود کراچی اسٹریٹ موومنٹ کے دوران لیاری ایکسپریس وے پر پیش آنے والے حادثے میں شہید ہوئے تھے۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، ان سے تعزیت کا اظہار کیا اور بلال محسود کے لیے دعائے مغفرت کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے وہاں موجود لواحقین اور پارٹی کارکنان سے خطاب بھی کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں خیبر سے کراچی صرف تعزیت کے لیے آیا ہوں۔ یہی ہمارا نظریاتی رشتہ ہے جو ہمیں خیبر سے کراچی تک جوڑتا ہے۔ تحریکِ انصاف واحد قومی جماعت ہے، جس کا ہر ورکر عمران خان کے نظریے اور پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے ایک ہے۔ خیبر کا درد کراچی محسوس کرتا ہے اور کراچی کا دکھ خیبر۔ پی ٹی آئی کا ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ اور عمران خان کی امانت ہے۔ ہمیں اپنے کارکنوں کو گلے لگانا ہے، بچوں اور بھائیوں کی طرح ان کی حفاظت کرنی ہے۔ اگر آج عمران خان جیل میں ہے ، ہم نے انہیں تنہا چھوڑ دیا تو نہ قوم ہمیں معاف کرے گی اور نہ ہی عمران خان۔ نظریاتی کارکنوں کی بدولت اللہ نے ہمیں یہ مقام دیا ہے، اور میرا یقین ہے کہ جب تک یہ کارکن ہمارے ساتھ ہیں، یہ تحریک مزید مضبوط اور وسیع ہوتی جائے گی، اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ضرور کامیاب ہوگی۔ میں بلال محسود شہید اور پی ٹی آئی کے تمام کارکنوں کے ساتھ دلی تعزیت کرتا ہوں۔ بلال محسود کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کی ذمہ داری پی ٹی آئی سندھ نے لے لی ہے، اور ہم اس خاندان کے ساتھ ہر حال میں کھڑے رہیں گے۔

Shafi Jan

17,102 次观看 • 7 个月前