Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

🛑 وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو جواب ۔۔۔‼️ 🔹 خیبرپختونخوا نے 20 جولائی 1947 کو الحاق کیا ۔۔۔!! 🔹تقسیم ہند کے وقت برطانوی آرمی کی تعداد 10 لاکھ کے لگ بھگ تھی ‼️ :- نوٹ اسوقت فوج برٹش آرمی کہلاتی تھی 🔹 پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے...

16,142 views • 9 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

سہیل آفریدی کا بیان کہ افغانستان پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے تو اس کے ثبوت کیا ہیں انتہائی افسوسناک ہے وزیراعلی خیبرپختونخوا کو کیا ثبوت چاہیے؟ دوحا،استنبول میں ہونےوالےمذاکرات میں افغانستان نےانکارنہیں کیا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی نہیں ہورہی کیا وزیراعلیٰ کے پی کو افواج پاکستان کےافسران، جوانوں، سویلین افراد کی شہادتیں نظر نہیں آرہیں ہیں ایف سی ہیڈ کوارٹرز ، پولیس اور دیگر اداروں پر حملے ہورہے ہیں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث نکلتے ہیں اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس میں خودکش حملہ کرنے والے کا تعلق بھی افغانستان سے ہے پاکستان افغانستان کا ہمیشہ سے حامی ملک رہا ہے اور آج بھی ہے کوئی بھی ملک اپنی داخلی سلامتی کی قیمت پر تعلقات نہیں بناتا پاکستان کی سلامتی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے ہم قومی سلامتی کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری ادا کریں گے افغان حکومت یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین، پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو کوئی دہشتگرد تنظیم افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کارروائیاں کرے گی تو اس کی سرکوبی کریں گے افغانستان کو پیغام ہے کہ دہشت گردی کا گھناؤنا کھیل بند کرے

Dr. Tariq Fazal Ch.

14,024 views • 7 months ago

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 views • 5 months ago

افغانستان پر حملوں کابیان یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،نائن الیون کے فوراً بعد پاکستان کے اندر امریکیوں کو ہوائی اڈے دئے گئے،فضائیں امریکیوں کے حوالے کردی، 20 سال تک پاکستان کے ہوائی اڈوں سے امریکی جہازوں کو اڑنے کی اجازت دے دی گئی،20 سال تک افغانستان پر پاکستان کی سرزمین سے بمباریاں ہوتی رہیں، یہ سب نظر کیوں نہیں آرہا اور ایک بار پھر دہشت گردی کے عنوان سے ایک بھڑک مارنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہم افغانستان میں جا کر کاروائی کریں گے، پاکستان کی دہشت گردی کو روکنے اور اس کی خواب میں ناکامی کو چھپانے کے لئے افغانستان پہ حملوں کی بات کی جارہی ہے۔ ہمیں اس بات کا جواب دیا جائے کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی فنڈز سے جاری ہونے والے پروجیکٹس کے فنڈز کا 10 فی صد دہشت گردوں کو ادا نہیں کیا جاتا؟ ریاست سے شہری کو سوال کرنے کا حق ہے کہ یہ تم دہشت گردوں کے معاون ہو یا دہشت گردوں کے مقابلے میں بے بس ہو، ہم ریاست کے لیے فکر مند ہیں ہمیں ان طفل تسلیوں سے تسلیاں دینے کی کوشش نہ کی جائے سنجیدہ گفتگو کی جائے ہم معاملات کو آپ سے بہتر جانتے ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

127,503 views • 2 years ago

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کےہمراہ مفتی محمود مرکز آمد، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات! ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبائی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جد و جہد پر تبادلہ خیال کیا گیا. اگلے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ، صوبے کے شیئر سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس موقع پر کہا کہ ⬅️ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ نہیں مل رہا، پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے گندم کی فراہمی بند کر رکھی ہے، ⬅️ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں انتہائی تشویشناک ہیں، خیبرپختونخوا 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے، ⬅️ صوبہ صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کا طرز عمل آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی صریح خلاف ورزی ہے، وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے، ⬅️ پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیئر رہنما بھی ملاقات میں شریک تھے

Asad Qaiser

10,570 views • 2 months ago

میں اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاست دانوں،حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی کی گئی، اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ چوری سے نتیجے برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلیاں کرنا اس کے خلاف سب سے پہلے بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، مفکر اسلام نے کی تھی، ہماری گٹھی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کریں گے۔ چوری ہوئی ہے 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں ہوئی، پارلیمنٹ میں ہوئی، اس صوبے کی الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو اس کے ووٹ کا حق واپس نہ دلا دے۔ یہ وہ سیاست ہے جس کے نام سے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے وہی اس نظریے اور اس اصول کے رہبر تھے۔ اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے اصول کی سیاست کرنی ہے، جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، اخلاق کی سیاست کرنی ہے، شائستگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں کی سیاست نہیں، بدتمیزی کی سیاست نہیں ہے، بد اخلاقی کی سیاست نہیں ہے، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ ان شاءاللہ جو راستہ ہمیں اپنے راہبر نے دکھایا ہے، ہم اس راستے پر استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور ان شاءاللہ آج اس ڈیرہ کا شہر جو آج گزرگاہ ہے اگر اللہ نے چاہا اسی راستے سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد ہماری منزل گاہ ہوگی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,927 views • 10 months ago

🔹 موجودہ افغان حکومت کو لانے کے لیے چالیس سال تک پاکستان نے اس خطے کو آگ کے دامن میں جلایا، یہ ان کی خواہش بھی تھی اور ان کا ارمان بھی کہ افغانستان میں انہی لوگوں کو اقتدار دیا جائے، اصغر خان اچکزئی، 🔹 جب کابل میں حکومت قائم ہوئی تو کابل سے زیادہ خوشی اسلام آباد میں منائی گئی، جنرل فیض اور جنرل باجوہ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے، کابل کے سرینا ہوٹل میں فتح کے نشان دکھائے جا رہے تھے، دنیا نے سب کچھ دیکھا، اصغر خان اچکزئی، 🔹 آج ایک سال بھی نہیں گزرا کہ وہی حکومت پاکستان کی دشمن نمبر ایک بن گئی، اصغر خان اچکزئی، 🔹 دشمن نمبر ایک کے ساتھ عوام کے لیے روزگار اور آمد و رفت کے راستے بند ہیں، مگر مزار شریف، پنجشیر اور ہرات کے قدرتی وسائل لوٹنے کی اجازت ہے، اصغر خان اچکزئی، 🔹 کیا ہمیں نظر نہیں آ رہا کہ یہ پتھر، یہ وسائل،جو اس سیاہ ڈیورنڈ لائن کے اس پا آرہے ہیں؟ اصغر خان اچکزئی، 🔹 افغان عوام کے وسائل لوٹنا حلال ہے مگر افغان عوام کے لیے روزگار، تجارت اور آمد و رفت حرام ہے، اصغر خان اچکزئی،

Asghar khan Achakzai

10,319 views • 6 months ago

ہم کل کی پریس کانفرنس کا جواب دینے نہیں بیٹھے وہ ایک افسوسناک اضطرابی گفتگو تھی اس میں کوئی ایسا بیانیہ نہیں تھا جس کا جواب دیا جائے محض الزامات تھے ہم آپ کو اس کا جواب نہیں دینگے صرف اتنا کہیں گے پاکستان کی عوام کو مت دھتکارو، پاکستان کی عوام عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان سیکیورٹی تھریٹ نہیں عمران خان نے اس ملک کو جوڑ کے رکھا ہوا ہے پاکستان کے کروڑوں نوجوان عمران خان کی وجہ سے اس بیانیے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نسل پرستی فرقہ واریت صوبائیت جیسے تمام بیانیوں کو رد کرکے عمران خان پاکستان کے بیانیے کے ساتھ کھڑا ہے عمران خان جو ایک قومی لیڈر ہے اس کو سیکیورٹی تھریٹ کہا گیا جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے اور پہلی بار یہ بات نہیں ہوئی۔ 1990 میں میں اصغر خان کا وکیل تھا جس نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کے خلاف مقدمہ لڑا اس کا موقف تھا کہ انہوں نے انتخابات میں مداخلت کی جس کی وجہ سے ہمارے عسکری اداروں کا امیج خراب ہوا ہے۔ سولہ سال مقدمہ چلا اس وقت کی ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے ایک ایفی ڈیوٹ فائل کیا جس میں تسلیم کیا کہ ہم نے مداخلت کی ہم نہیں چاہتے تھے بینظیر وزیراعظم بنے پیپلز پارٹی کا وجود باقی رہے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی نیشنل سیکیورٹی تھریٹ ہیں۔ بار بار انہوں نے فیصلے کیے کہ عوام کا کوئی مقبول لیڈر سیکیورٹی تھریٹ ہے جس کو منظر سے ہٹانا ضروری ہے لیکن ایسا ممکن نہیں پاکستان کی عوام باشعور ہے ان کے دلوں سے آپ ان کے لیڈر کو نہیں ہٹا سکتے پاکستان کے عوام جانتے ہیں ان کی خاطر کون سیاست کررہا ہے، کون ہے جو عہدے سے بے نیاز ان کے حقوق کی خاطر لڑ رہا ہے۔اس بدلتے ہوئے معاشی نظام میں جب تک عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے نہیں ہونگے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔ جب تک پاکستان کی عوام کی مرضی پاکستان کے ایوانوں میں پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس میں نہیں گونجے گی تب تک فلاح ممکن نہیں ہے۔ آپ نے سولہ سیٹوں والی پارٹی کو پاکستان کی حکومت دے کر کہا یہ عوامی فلاح کے منصوبے بنائیں گے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ جھوٹ اور فریب کے اس نظام کو پاکستان کے عوام کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

64,970 views • 8 months ago

▪️کیا پی ٹی ایم خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی ہمدرد ہے یا دشمن؟ ▪️کچھ اہم سوالات نقیب اللہ محسود کے کراچی میں ہونے والے قتل کے بعد 2018 میں پی ٹی ایم منظر عام پر آئی جس کا ابتدائ مقصد نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانا تھا۔ نقیب اللہ محسود والا مقصد تو کہیں غائب ہُو گیا مگر پی ٹی ایم اُس وقت کی افغان حکومت کی مدد سے اور بہت سے ایجنڈوں کے ساتھ آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگی اور آج کی تاریخ میں 2024 میں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں نوجوانوں کو جھوٹے خوابوں کے نام پے ریاست کے خِلاف بھڑکا رہی ہے - حقیقت یہ ہے کہ 2018 سے لے کے اب تک پی ٹی ایم خیبرپختونخوا کے نوجوانوں سے صرف وعدے کرنے میں مصروف ہے اور ان کو اپنی تشدد سے بھرپور گھٹیا سیاست کا ایندھن بنا رہی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آج تک پی ٹی ایم کے لیڈرز کا لائِحَۂ عَمَل خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے کتنا مفید ثابت ہوا۔۔۔!! کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز کا لائِحَۂ عَمَل خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے مستقبل کے لئے نعروں کہ علاوہ کچھ کرنے کے قابل ہے ؟ منظور پشتین پاکستان کے سیاسی نظام کو نہیں مانتے، پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے تو پھر آخر نوجوانوں کے مستقبل کے لئے کیسے کچھ کریں گے ؟؟ منظور پشتین صاحب کہتے ہیں کہ نا میں نے وزیر اعلیٰ بننا ہے نا وزیر اعظم - بقول اُن کے وہ اس نظام کے باغی ہیں - لیکن جب ان سے پوچھو کہ پھر ان نوجوانوں کےمستقبل کا کیا کرنا ہے جو اچھے کی امید لگا کے ان کے ساتھ ہیں تو جواب میں نعرہ لگاتے ہیں لر و بر یو افغان - لیکن اس نعرے سے نوجوانوں کو کیسے نوکریاں ملیں گی ؟ آج بالفرض منظور پشتین کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے تو پھر یہ نظام اور آئین کو تسلیم نا کرتے ہوئے کیسے نوجوانوں کو کچھ دے سکیں گے ؟ کیا لر و بر یو افغان کا ایجنڈا نوجوانوں کی ترقی کا ضامن ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ فِتنہ الخوارج کی کارروائیوں اور دھماکوں میں ہمیشہ خیبرپختونخوا کے پختونوں کا خون بہا - کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے خیبرپختونخوا کے معصوم عوام کے قاتل فِتنہ الخوارج کی کسی بھی لیول پے مذمت کی ہے ؟ آخر کیوں پی ٹی ایم اپنے بے جا مطالبات سے فِتنہ الخوارج کی کارروائیوں کو فائدہ پَہُنچانا چاہتی ہے اور آخر ان کے مابین اتحاد کی وجہ کیا ہے ؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے آج تک اسمبلی میں یا کسی اہم فورم پے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کوئی آواز اٹھائی؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز کے چیک پوسٹوں کے خاتمے کے مطالبے سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ ھو گیا ؟ پی ٹی ایم کے لیڈرز نے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز حاصل کرکے نوجوانوں اور عوام کی فلاح کے کیا اقتدامات کیے؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے بنائے گئے صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں ڈاکٹروں اور ٹیچرز کی حاضری کو یقینی بنا کر عوام کو ریلیف مہیاء کیا گیا؟ تقریباً 5 سال اسمبلی میں رہ کر محسن داوڑ نے نوجوانوں کے لیے کونسا پراجیکٹ شروع کیا؟ *جی نہیں۔۔!!* *بدنصیبی کی بات ہے کہ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے-* حقیقت یہ ہے کہ صرف ریاست پاکستان اور اس کے ادارے ہی خیبرپختونخوا کے نوجوانوں اور عوام کے خیر خواہ اور ان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے فکر مند ہیں- یہ بات سب کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کے آج تک خیبرپختونخوا میں نوجوان نسل کی ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے جتنے منصوبوں کا آغاز کیا گیا وہ حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے پائے تکمیل تک پہنچے اور کچھ پے کام ابھی بھی جاری ہے۔ انشاءاللہ وہ بھی جلد از جلد مکمل کرلیے جائیں گے۔ *ان منصوبوں میں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے، صحت کے اعلیٰ مراکز قائم کیے گئے، انفراسٹرکچر کی بہتری اور نوجوانوں کے لئے مختلف سکلز پروگرامز کا انعام کیا گیا۔*۔ پچھلے 20 برس میں قبائلی علاقوں میں حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے تقریباً 383 ارب روپے سے زیادہ کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے- پی ٹی ایم چند لوگوں کا گروہ ہے جو کہ آپس میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جس کی مثال محسن داوڑ اور منظور پشتین کی مفادات کے لیے آپس میں لڑائی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ *محسن داوڑ نے اپنا سیاسی عہدہ حاصل کے بعد پی ٹی ایم سے آگے نکلنے کے لیے این ڈی ایم پارٹی کا قیام عمل میں لایا۔ اور یہی لوگ اب ایک دوسرے کو سیاسی مقاصد کے لیے قتل کروا رہے ہیں جس کی حالیہ مثال گیلامن وزیر کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔* مصدقہ ذرائع کے مطابق محسن داوڑ سیاسی مقاصد کی حصول کے بعد سوئٹزرلینڈ کی سیر کرتا پھرتا ہے جبکہ داوڑ، وزیر اور پشتین، تینوں اپنے اپنے لیول پے راولپنڈی میں ملاقات کے لئے سفارش کرواتے پھرتے ہیں -

Eagle Eye

12,000 views • 2 years ago

آرمی چیف کا پی ایم اے سے خطاب: پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال بھی اتنا ہی پریشان کن ہے، آرمی چیف ہم افغانستان کے لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ دائمی تشدد کی بجائے باہمی سلامتی کا انتخاب کریں اور سخت گیر تعصب پر پیش رفت کریں، آرمی چیف طالبان ریجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے، جن کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں ، آرمی چیف یہ پراکسیاں پاکستان کے اندر گھناؤنے حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر تی ہیں، آرمی چیف قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج پاکستان کے بہادر عوام بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے تعاون سے یقیناً اس لعنت کو بھی شکست دیں گے، آرمی چیف یقین رکھیں کہ روایتی میدان میں جیت کی طرح ہمارے پڑوسی کی ہر ریاستی پراکسی کو خاک میں ملا دیا جائے گا، انشاء اللہ ہم اسلام کی غلط تشریح کرنے والے مٹھی بھر گمراہ دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے، آرمی چیف

Waseem Abbasi

72,799 views • 10 months ago