Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت ٹیوٹا کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نوجوانوں کی فلاح، اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار کے مواقع سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ...

11,269 просмотров • 6 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی ملاقات ہوئی. چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے آج وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری اقدامات، منصوبوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں کو جدید تعلیم و تربیت اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر فراہم کرنے، ڈیجیٹل معیشت میں ان کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے، روزگار اور کاروبار کے مواقع بڑھانے سمیت وزیراعظم یوتھ پروگرام کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری تعلیمی، ہنرمندی، ڈیجیٹل اور فلاحی پروگراموں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے اور ان کے مؤثر و شفاف نفاذ پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ملک کا نوجوان ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ حکومت نوجوانوں کو جدید تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کو مزید مؤثر، نتیجہ خیز اور نوجوانوں کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے، جبکہ ترجیحی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے۔

Prime Minister's Office

10,796 просмотров • 22 дней назад

اسلام آباد : 28 جولائی، 2026. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پرائم منسٹر اپنا گھر اسکیم پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ عام آدمی کو چھت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے. ملک کے غریب و متوسط طبقے کو اپنی چھت کے حصول کے لیے ’’وزیراعظم اپنا گھر اسکیم‘‘ کا اجراء کیا ہے. اپنا گھر اسکیم کے حوالے سے کام کی رفتار کو تیز کیا جائے. سرکاری اور نجی بینک اپنا گھر اسکیم کو کامیاب کرنے کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ فنانسنگ کریں. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اپنا گھر اسکیم کے لئے عمودی اور افقی ماڈل ہاؤسنگ منصوبوں کے لئے حکمت عملی ترتیب دی جائے. اجلاس کو پرائم منسٹر اپنا گھر اسکیم کی فناسنگ میں پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپنا گھر اسکیم کی فنانسنگ کے لئے بینک اب تک 204 ارب روپے منظور کر چکے ہیں جبکہ 27 ارب روپے کی فنانسنگ کی جاچکی ہے. وزارت ہاؤسنگ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اپنا گھر اسکیم پر پیشرفت کا ہر ہفتے جائزہ لے رہے ہیں. اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیر زادہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

Prime Minister's Office

12,854 просмотров • 1 месяц назад

اسلام آباد: 13 اپریل 2026۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خطے میں کشیدگی کے پیش نظر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی. وزیراعظم نے ملک میں تیل کی کھپت کی مستقل نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت کی. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ تیل کی کھپت اور ذخائر کی مستقل نگرانی اور بہتر حکمت عملی کی وجہ سے خطے میں کشیدگی کے باوجود تیل کی کمی کا بحران پیدا نہیں ہوا. عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے جو اقدامات لئے ہیں وہ جاری رہیں گے. اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں تیل کے موجودہ ذخائر اور مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے، مگر بچت کے لیے کفایت شعاری کو برقرار رکھنا ضروری ھے. مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر تیل کی درآمد کا انتظام کیا جا چکا ہے. اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

Prime Minister's Office

12,440 просмотров • 5 месяцев назад

اسلام آباد: 6 اپریل, 2026 اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے ریلویز حنیف عباسی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان ریلویز کی مجموعی کارکردگی، جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر ریلویز نے وزیراعظم کو پاکستان ریلویز کے آپریشنل امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیج کی صورتحال میں عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں چلنے والی تمام آپریشنل ٹرینوں کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے اور ریلوے کے نظام کو بہتر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز کو ایک جدید، محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو تیز کیا جائے. وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور تمام اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر ریلویز کو ہدایت کی کہ ریلوے کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بہتر، محفوظ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

Prime Minister's Office

12,798 просмотров • 5 месяцев назад

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کرغستان سے واپس پہنچتے ہی وزرات صحت کے امور اور پمز آتشزدگی واقعے کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی. اجلاس میں وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفی کمال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکریٹری ہیلتھ کپٹن (ر) محمد محمود اور پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان شریک تھے. اجلاس میں وزیرِ اعظم کو شعبہ صحت کے حوالے سے بریفنگ جبکہ پمز آتشزدگی واقعے کے حوالے سے جاری تحقیقات پر خصوصی بریفنگ دی گئی. اجلاس میں بتایا گیا کہ عبوری تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں وزیرِ اعظم کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جارہا ہے. وزیرِ اعظم نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو کسی قدر رعایت نہیں دی جائیگی. وزیرِ اعظم نے وزیرِ صحت اور سیکریٹری صحت، کو ہدایت کی کہ وہ دونوں، متبادل دنوں میں پمز ہسپتال میں اپنی ذاتی موجودگی کو یقینی بنائیں اور اپنی نگرانی میں ہسپتال کی بہتری کیلئے اقدامات پر عملدرآمد کروائیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پمز ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات کی بہتری اور تمام تر حفاظی اقدامات کا اطلاق یقینی بنایا جائے. وزیرِ اعظم کی شعبہ صحت میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی بھی ہدایت.

Prime Minister's Office

25,259 просмотров • 23 дней назад

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطی میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دے دی. فیصلہ اسلام آباد میں وزیرِ اعظم کی زیر صدارت منعقدہ کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات پر اہم اجلاس میں ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر مہنگائی کی لپیٹ میں ہے. سب سے پہلے حکومت اور اشرافیہ سے قربانی کا آغاذ کیا جائے گا. معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کیلئے فیول سبسڈی کا آغاذ ہو چکا. موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر کے تناسب سے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے. وزیراعظم نے سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کو کفایت شعاری اقدامات پر مؤثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں حکومتی اخراجات میں کمی، ایندھن کے تحفظ اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے اضافی کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا . اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کے اقدام پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی۔ ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضروری خدمات کی گاڑیاں اس اقدام سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ انتظامی یا غیر آپریشنل نوعیت کی گاڑیوں کے لیے استثنا کی اجازت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی، سرکاری سطح پر ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور آئی ٹی سے متعلق خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ تین ماہ کے لیے سرکاری دوروں اور بیرون ملک سفری سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی. ناگزیر بیرون ملک دوروں کی صورت میں وزراء، مشیران، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ اجلاس میں سرکاری امور کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ اور ٹیلی کانفرنسنگ کے زیادہ سے زیادہ استعمال، سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر پابندی، سوائے غیر ملکی وفود کے اعزاز میں ضروری عشائیوں اور حکومت کے زیر اہتمام سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کے انعقاد میں غیر ضروری اخراجات سے گریز کرنے کی بھی منظوری دی گئی. اجلاس میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں سنگل ڈش کے اقدام پر بھی عملدرآمد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، بازار اور دیگر عمومی کاروباری مراکز رات 9 بجے، جبکہ شادی ہالز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند ہوں گے۔ ریستوران، کیفے، کھانے پینے کے مراکز اور اسٹینڈ الون فروٹ و سبزی کی دکانوں کے لیے بندش کا وقت رات 11 بجے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا. جبکہ فارمیسیز، طبی مراکز، ہسپتال، بیکریاں، پیٹرول و سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو اوقات کار کی پابندیوں سے استثنا دے دیا گیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ کے اقدامات کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی وزارتوں، ڈویژنز، محکموں، سرکاری اداروں اور صوبائی حکومتوں سے عملدرآمد رپورٹس حاصل کرے گی، عدم تعمیل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی اور وزیراعظم کو ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کے اقدامات پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی اور ایندھن کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 میں پہلے سے نافذ کفایت شعاری اقدامات کو جاری رکھنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جبکہ یہ اقدامات وفاقی حکومت کے منسلک محکموں، سرکاری ملکیتی اداروں، قانونی اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹیز پر بھی لاگو ہوں گے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

27,814 просмотров • 8 дней назад

#AsimMunirOurPride دبئی ترکی مصر ملائشیا انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک نے اپنے ملک میں انتہا پسندی کو ماڈلزم کے ذریعے سے قابل نہیں کیا ان ملکوں میں دہشت گردی اور امتحان بھی اس لیے نہیں ہے کہ ایک تو انہوں نے مولویوں کو مسجد تک محدود کیا صرف نماز پڑھانے تک اور دوسرا انہوں نے اپنے ملکوں میں اور دیگر چیزوں کو کھولا تاکہ عوام دہشت گردوں کو اور انتہا پسندوں کی طرف مت جائیں جہاں تک کہ سعودی کے محمد بن سلمان نے جو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے نوجوانوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے اس لیے وہ جدید اور محرم سعودی عرب پر کام کر رہے ہیں پاکستان میں بھی اسی طرز کا سسٹم ہونا چاہیے ہمارے ہاں 70 فیصد لوگ انپڑھ ہوتے ہیں جو اسانی سے دہشت گرد ہیں اور مولویوں میں ا جاتے ہیں دہشت گردی کی طرف سے ہٹانے کا صرف ایک طریقہ ہے انٹرٹینمنٹ اور ماڈرنزم کو بھی ساتھ ساتھ لے کے چلا جائے اور مجھے خوشی ہے کہ پاکستان بدل رہا ہے اور تیزی کے ساتھ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بھی ترقی کر رہی ہے یہ پاکستان کی ایک ماڈل ہے اسلام اباد #اليوم_الوطني_السعودي_٩٦

Khurram Khan

64,216 просмотров • 2 дней назад

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

Amir H. Qureshi

65,422 просмотров • 26 дней назад

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت علاقائی اور پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اعلی سطح اجلاس اجلاس میں علاقائی و خطے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا. اجلاس میں پاکستان کے خطے میں امن کے قیام کیلئے کرادر اور مختلف اقدامات زیر غور آئے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لیا گیا اجلاس کو ملک کی داخلی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کے اقدامات کا بھی جائزہ۔ ان کی بحفاظت واپسی کے لیے دفتر خارجہ کی تفصیلی بریفنگ۔ آذربائیجان کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلاء کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ بریفنگ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز، وفاقی وزراء احسن اقبال، محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور اعلی سول و عسکری حکام نے شرکت کی.

Eagle Eye

17,447 просмотров • 6 месяцев назад

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال اور ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائمخانی کی نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے ملاقات؛ ملاقات میں کراچی کے بجلی کے مسئلے اور اسکے حل سمیت متعدد مسائل پر گفتگو ہوئی۔ سرکلر ڈیبٹ کی مد میں کراچی سے فی یونٹ 3 روپے 81 پیسہ اضافی چارج وصول کرنا کھلی زیادتی ہے، جسے بند ہونا چاہیے۔ سید مصطفیٰ کمال پاکستان کو درپیش معاشی بدحالی سے IMF نہیں بلکہ صرف کراچی نکال سکتا ہے۔ سید مصطفیٰ کمال پچھلے 15 سالوں میں صوبائی حکومت کراچی کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آئی۔ سید مصطفیٰ کمال نگراں وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کو حل کرنے میں براہِ راست دلچسپی لے۔ سید مصطفیٰ کمال وفاق کراچی کے نوجوانوں کو مواقع اور سہولیات فراہم کرے وہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال کراچی میں رہائشی اور صنعتی انفرااسٹرکچر کی بہتری کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ سید مصطفیٰ کمال ملک کو اس بحران سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے MQMP نگراں وزیراعظم کے مثبت اقدامات کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نگراں وزیراعظم نے سینئیر ڈپٹی کنوینر MQMP سید مصطفیٰ کمال کی تجاویز کو سراہتے ہوئے کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے وفاقی سطح پر اقدامات کی یقین دہانی کروا دی۔ نگراں وزیراعظم نے پاکستان کی ترقی میں کراچی کے کردار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے نوجوانوں کو مواقع اور سہولیات دینے کی تجویز کی تائید کی۔ #Karachi #Sunsh #Pakistan Anwaar ul Haq Kakar

Syed Mustafa Kamal

118,513 просмотров • 3 лет назад

اسلام آباد انتظامیہ کی بے حسی اور جبر کا عالم یہ ہے کہ بلوچ مظاہرین، جو صرف اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج کے لیے آئے ہیں، انہیں نہ پریس کلب کی حدود میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے، نہ ٹینٹ لگانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس، انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ شدید بارش اور خراب موسم میں بھی سڑک پر بیٹھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ یہ کسی بھی مہذب ریاست کا بنیادی اخلاقی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق دے، خاص طور پر ان خاندانوں کو جو صرف اپنے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں مگر یہاں معاملہ اُلٹا ہے، چونکہ یہ بلوچستان کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں، اس لیے ان سے اس قدر بے رحمی سے پیش آ کر گویا ان کی مظلومیت کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ ریاستی تعصب اور عدم برداشت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

Sammi Deen Baloch

191,052 просмотров • 1 год назад

شہروں کی خوبصورتی اور قانون کی بالادستی پاکستان میں تجاوزات ہٹانے کی مہم شہروں کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کا ایک ضروری قدم ہے۔ پلازے، دکانیں اور غیر قانونی تعمیرات گرا کر سڑکیں کشادہ اور پارکس بحال کیے جا رہے ہیں، جو عوام کی بہتری کے لیے ہے۔مگر جب اس مہم میں غیر قانونی زمین پر بنی مساجد بھی شامل ہو جاتی ہیں تو دل کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے، ایمان کی علامت اور امت کی اتحاد کی جگہ۔ ایک مسلمان ملک میں عبادت گاہوں کو "شہید" کرنے کا منظر دیکھ کر درد ہوتا ہے کہ کیا قانون کی عملداری کے نام پر مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ضروری ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ ایسے معاملات میں حساسیت برتے: متبادل جگہ فراہم کرے، علماء سے مشاورت کرے اور متاثرہ مساجد کی فوری تعمیر نو کا بندوبست کرے۔ قانون سب پر برابر ہو، مگر اسلام کی روح کو نظر انداز نہ کیا جائے۔شہر خوبصورت بنیں، مگر دلوں میں زخم نہ لگیں۔ یہ توازن ہی پاکستان کی اسلامی شناخت کا تقاضا ہے۔

𝔸𝕞𝕒𝕝𝕢𝕒|🇵🇰

63,587 просмотров • 8 месяцев назад