Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

وزیراعلی کو سپریم کورٹ سے بھی مایوس🚨 پانچ دن تک قوم سے مسلسل جھوٹ بولا گیا، رات کے اندھیرے میں عمران خان کو آپریشن کے لیے منتقل کیا گیا۔آج چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی،رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات ہوئی لیکن چیف جسٹس سے ملاقات نہ ہو سکی...

18,155 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا 5 اگست کے جلسے کے حوالے سے پارلیمانی اجلاس سے خطاب! - پانچ اگست کے جلسے کی تیاریوں کے لیے تمام پارلیمانی اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ پانچ اگست کا جلسہ سیمی فائنل اور فیصلہ کن ہوگا، جبکہ آئندہ کا لائحۂ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ - عوام کی سہولت کے پیشِ نظر پانچ اگست کے جلسے کا مقام تبدیل کرکے پشاور موٹروے کے قریب واقع کھلے میدان میں منتقل کر دیا گیا۔ 15 اکتوبر 2025 سے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کیے اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں تھی، مگر مخالفین نے ان مثبت کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ عمران خان سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے بھی ملاقات کی کوشش کی۔ ایک تقریب میں چیف جسٹس کے سامنے بھی عمران خان سے ملاقات کا مؤقف پیش کیا۔ بطور وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے قائد سے ملاقات کرنا میرا آئینی اور قانونی حق ہے۔ صوبے کے فیصلے عمران خان کے وژن کے مطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم میں سے کسی کی ذاتی سیاسی حیثیت نہیں، عوام نے عمران خان کے نام پر ووٹ دیا۔ عمران خان کو ملنے والے مینڈیٹ کو مسترد کرنا ساڑھے چار کروڑ عوام کی توہین ہے۔ وفاق خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کر رہا ہے۔ عمران خان کی فیملی، بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں کو ملاقات اور بہترین علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ عمران خان قوم کا اثاثہ اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔ ہم پر فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزامات لگائے گئے۔ 9 مئی کے واقعات کی غیرجانبدار تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ عمران خان کا مؤقف ہے: "فوج بھی میری، ملک بھی میرا۔" تمام بیانیوں beمیں مخالفین کو شکست دینے کے باوجود مسائل حل نہیں ہوئے۔ اب پُرامن احتجاج ہی آخری آئینی راستہ ہے، اور آئین ہر شہری کو اس کا حق دیتا ہے۔

PTI

18,537 görüntüleme • 25 gün önce