Video yükleniyor...
Video Yüklenemedi
وزیرداخلہ محسن نقوی کی آج نظام کےڈیلیورنہ کرنےکی تقریر۔اُسوقت کاآغازہوگیاجب سیم پیج ہائبرڈنظام کےاسٹیک ہولڈرز،نظام کی ناکامیوں کی ذمہ داری ایکدوسرےپرڈالنا شروع کردیتے ہیں؟4سال نظام کی کامیابی کےدعوےاورآج ناکامی کااعتراف۔ذمہ دار کون؟دیکھیےطلال چوہدری کاموقف
92,850 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)
25 Yorum

نقوی صاحب سے ایک سوال تو بنتا تھا کہ سر پھر آپ اس سسٹم کا حصہ کیوں ہیں جب کوئی تبدیلی نہی لا سکے تو سسٹم سے باہر نکل جائے اور پی سی بی چیئرمین سمیت سارے عہدے چھوڑ دیں یا پھر پلان دیں سسٹم کو کیسے تبدیل کرنا ہے اور اس پر عمل کریں سب سے پہلے پی سی بی سے شروع کریں

ملک چلانے والی اھم وزارتیں بشمول نقوی صاحب (داخلہ خزانہ خارجہ )فوج پاس ہیں تو سوال کس سے یا تجویز کس کو دے رہے نقوی صاحب ؟سوائے مریم نواز کے کوئی ڈلیور نی کر سکا بشمول شہباز شریف

یہ سیاستدان ہمیشہ ہی غیر سیاسی و جمہوری کرداروں کو ملجا و ماوّا سمجھتے ہیں۔ لعنت ہے ان کئ سیاسی سوجھ بوجھ پر اور بوٹوں کی چاپ میں جمہوریت ڈھونڈھنے کی کوششوں پر۔۔۔۔۔

اپکے اس سارے پروگرام کا خلاصہ یہی ہے کہ بس کرپشن لیگ ہی بہتر ہے اور پنجاب بہتر ہے۔ اوہ بھائی پو چھ لیتے کتنا فیصد جی ڈی پی کا پنجاب لے جاتا ہے۔ وفاق اپنے صوابدید سے کتنا دیتا ہے۔ باقی دو صوبوں کو کیا مل رہا ہے۔ پنجاب میں ایک ہی شہر ہے لاہور باقی پنجاب کا کیا حال ہے۔

دونوں امن و امان کے ذمہ دار ھیں اور دونوں کا ھی امن و امان سے کوئی تعلق نہیں

جس سسٹم کی ناکامی کا آج محسن نقوی اعتراف کر رہے ہیں امام سیاست مولانا فضل الرحمان صاحب نے آج سے دو سال قبل اسکی پیشین گوئ کر دی تھی کہ سسٹم کے اندر رہنے والے روئیں گے اور سسٹم سے باہر والے جم کے بات کریں گے

ان کو اب بھی بے عزتی فیل نہیں ہورہی ہے اور لاہور لاہور کررہے ہیں۔ بھائی لاہور تو صرف پاکستان نہیں ہے۔ پاکستان کا جغرافیہ بہت بڑا ہے

بلایا بھی کون دلال چودری۔ 🤷🏻♂️🤷🏻♂️🤷🏻♂️🤷🏻♂️یہی لیول رہ گیا ن لیک کا اور جیو کا۔۔

Hahaha kamal ha sawal 1 pocha ja raha ha aur jawab dosra diya ja raha ha. Mulk ka bhera gharq kiya In zalimo ne khuda @TalalChoudhry samait tamam hukumati arakeen ka bhera gharq kare jinho ne ghareeb awam ko tabah kiya

@OfficialDGISPR @DGPR_PAF @dgprPaknavy نقوی صاحب سبکو بچانے نکلیں ہیں لیکن 🇵🇰کا آئینی نظام بہت مضبوط ہے جو بھی شخص منسب اعلی پر ہو رکن قومی صوبائی اسمبلی ہو یا نہ ہو سینٹ کا رکن ہو آگر توہین مذہب یا دو قومی نظریہ برخلاف زمرے میں آگیا تبSysytem Resetنام پر بحالی راستہ نہیں ملےگا

شاہ زیب کس ٹوچے ٹٹو سے بات کر رہے ہیں یہ بغریت ہے اس کو کیا پتہ کہ حکومت کے نظام کا

طلال چوھدری از سے قابل نہی جو اد پر درست بات کرسکے یہاں بھی وہ محسن نقوی کی بات کو گول مول کررھے نہ غلط کہہ رھے نہ غلط کو تسلیم کر رھے یہ تو کوئ جواب نہی انے تو اس سے بہتر بات کی ھے نہ سابقہ نظام پر تنقید کی ھے نہ اس نظام کو ترامیم کے خوالے بہتر کہا ھے بلکہ کھلے طوپر ناکامی کا

جس رات نیازی کو چپیڑیں مار کر وزیراعظم ہاؤس سے نکالا گیا تھا اج پٹواریوں کی ٹاوں ٹاوں دیکھ کر بلکل اسی رات والی کمینی کمینی فیلنگ آ رہی ہے

Mohsin Naqvi has the right approach to creating new provinces because powerful elites have captured the existing system and are not giving enough opportunities to local governments.

بہتری باتیں ان کاروباریوں سے جن کی اکثریت ایک طرف سارا سال سرکار سے رعایتیں لیتی ہے اور دوسری طرف عوام کا لہو نچوڑتی استحصال کرتی ہے۔ عوام سے اوور بلنگ کر کے ریکوریاں کی جاتی ہیں۔ اگر یہ کچھ ایکسپورٹ کرتے ہیں تو ڈالر باہر پارک کرتے اثاثے بناتے ہیں۔ ٹیکس چوری کرتے ہیں۔
بوٹ پالش، پالش اور پالش

کیا طلال چوہدری صاحب نون لیگ چھوڑ گئے ہیں شازیب بھایی بتایے گا یا بک گیے ہیں یا جھک گیے ہیں لیکن ایک بات ہے محسن کش نہی ہیں محسن نواز ہیں کمال ہی ہوگیی

ذمہ دار وردی والے اور وردی والوں کو کندھا دینے والے دونوں ہیں

دلال چوہدری کی پھٹ گئی ہے

یہ بہتر جواب دینے سے قاصر ہیں۔سوال کا جواب نہیں مل رہا۔یہ سب فارم 47 کے پیداوار ہیں۔عوام کو ان سے کوئی امید نہی۔

پہلے اپنی کارکردگی بتائے

بگاڑ کر بنائے جا ابھار کر مٹائے جا کہ میں ترا چراغ ہوں جلائے جا بجھائے جا

انتہائی نالائق انسان ہے محسن نقوی جس کام میں ہاتھ ڈالا اس کا سوا ستیاناس کیا اب ریاست پر ہاتھ ڈالا ہے دیکھیں نئی صوبے بناتا ہے یا نئی ریاستیں۔!!

سرکار پوچھنا یہ ہے کی محترم نقوی صاحب اس حکومت میں نہیں ہیں

پی سی بی کا اس وقت یے حال ہے ہم ویسٹ انڈیز بنگلہ دیش زمبابوے افغانستان جیسی ٹیموں سے بھی میچ جیتنے کے قابل نہیں ہیں اور خواتین کو تو ویسے ہی پتا نہی میچ جتنا بھی کسی چڑیا کا نام ہے بس مفت کے ورلڈ ٹوور انجوائے کرتے ہیں اور اربوں کا بوجھ سرکار پر ڈالتے ہیں
