Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

وقوعہ 67/ڈی پاکپتن نیا رخ اختیار کر گیا..... PFA Vs. Milk Adulteration Mafia محمد تنویر مجید، ڈائریکٹر جنرل پنجاب روڈ سیفٹی اتھارٹی کے مبینہ طور پر ملزم فخر جھیڈو کے ساتھ تعلقات نے عوام میں شدید غصہ اور سوالات پیدا کر دیے ہیں… 👈 سوشل میڈیا پر پولیس افسران...

11,455 просмотров • 5 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

عمران خان پرنشانے پر کیوں ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کو ایک آزاد، خودمختار اور طاقتور ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کا مقصد صرف سیاست میں تبدیلی نہیں، بلکہ پاکستان کے تمام اداروں کی آزادی اور مضبوطی ہے تاکہ ملک عالمی سطح پر اپنی عزت اور وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔ہم عمران خان کے ساتھ مل کر ایک ایسے پاکستان کی تعمیر چاہتے ہیں جو نہ صرف داخلی طور پر خود مختار ہو، بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط مقام رکھتا ہو۔ ملک کے فیصلے خود ملک کے اندر ہوں گے، تو پاکستان دنیا کے ساتھ ایک عزت دار اور باوقار تعلقات قائم کر سکے گا، بجائے اس کے کہ بیرونی طاقتوں کے زیر اثر ہو۔ ہماری سیاست کا محور پاکستان کے سیاسی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ دوسری طرف، پاکستان میں دھاندلی کرنے والے، آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے والے اور احتجاج کا حق چھیننے والے حاکم و مقتدرہ دراصل ملک کی سالمیت اور خودمختاری پر حملہ آور ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف سیاسی کرپشن کو فروغ دیتے ہیں، بلکہ عوام کے حق حکمرانی کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ ایسے عناصر ملک میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں اور اس کے عالمی وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ قوم کو سمجھنا ہوگا کہ اگر ان عناصر کا راستہ روکا جائے اور عوامی فیصلہ سازی کو مضبوط بنایا جائے، تو پاکستان اپنی تقدیر خود بدل سکتا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو

Senator Allama Raja Nasir

21,124 просмотров • 1 год назад

اس ویڈیو میں ایک خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے تشویشناک منظر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں عوام کو انصاف اور سروس کے لیے اس طرح اپیلیں کرنا پڑیں تو پھر ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ دو سال گزرنے کے باوجود اگر اسلام آباد پولیس کی سروس ڈلیوری پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو یہ وقت ہے کہ اس پورے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ پاکستان میں قابل اور تجربہ کار افسران کی کمی نہیں، اس لیے عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا وفاقی پولیس کو ایسے افسران کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جو عملی تجربے کے ساتھ دارالحکومت کی پولیس کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔اسلام آباد پولیس کے آپریشن ڈویژن کے حوالے سے بھی یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ اختیارات کا توازن درست نہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے سینئر عہدے کو مکمل طور پر مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے تجربہ کار افسران اگر مکمل اختیارات اور سپورٹ کے ساتھ کام کریں تو اسلام آباد پولیس کا آپریشنل نظام کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ عوام کی توقع صرف ایک ہے: دارالحکومت کی پولیس مضبوط، منظم اور حقیقی معنوں میں عوام دوست نظر آئے۔ Islamabad Police Mohsin Naqvi

Abbas Ahmed

12,152 просмотров • 6 месяцев назад

پنجاب پولیس نے ایک سنگین کیس میں ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں الزام ہے کہ ایک لڑکے نے محبت کے بہانے ایک لڑکی کو استعمال کیا، شادی کا وعدہ کر کے بعد میں انکار کر دیا، اور پھر اس کی ذاتی ویڈیوز بنا کر لڑکی کو بلیک میل کیا۔ متاثرہ لڑکی کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا، یہاں تک کہ ویڈیو کال کے دوران اسے اپنے سامنے خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا۔تاہم، ایف آئی آر کے مطابق، پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی اور مقدمہ بھی کمزور درج کیا گیا، جو متاثرہ لڑکی کی حفاظت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ناکافی ہے۔یہ معاملہ نہ صرف متاثرہ لڑکی کے لیے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کے لیے ایک تشویشناک انتباہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور اس درندے کو گرفتار کریں تاکہ وہ مزید کسی کی زندگی برباد نہ کرے۔ساتھ ہی، والدین کی بھی کوتاہی واضح ہے کہ بچوں کے اوپر مناسب نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا، اور نہ ہی وہ ان کے رویے کو پڑھ کر خطرات کا بروقت اندازہ لگا سکے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی میں اس طرح کے خطرات سے بچاؤ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ Government of Punjab Punjab Police Official

Haroon Anjum

12,832 просмотров • 7 месяцев назад

پنجاب پولیس نے ایک سنگین کیس میں ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں الزام ہے کہ ایک لڑکے نے محبت کے بہانے ایک لڑکی کو استعمال کیا، شادی کا وعدہ کر کے بعد میں انکار کر دیا، اور پھر اس کی ذاتی ویڈیوز بنا کر لڑکی کو بلیک میل کیا۔ متاثرہ لڑکی کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا، یہاں تک کہ ویڈیو کال کے دوران اسے اپنے سامنے خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا۔تاہم، ایف آئی آر کے مطابق، پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی اور مقدمہ بھی کمزور درج کیا گیا، جو متاثرہ لڑکی کی حفاظت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ناکافی ہے۔یہ معاملہ نہ صرف متاثرہ لڑکی کے لیے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کے لیے ایک تشویشناک انتباہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور اس درندے کو گرفتار کریں تاکہ وہ مزید کسی کی زندگی برباد نہ کرے۔ساتھ ہی، والدین کی بھی کوتاہی واضح ہے کہ بچوں کے اوپر مناسب نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا، اور نہ ہی وہ ان کے رویے کو پڑھ کر خطرات کا بروقت اندازہ لگا سکے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی میں اس طرح کے خطرات سے بچاؤ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ Government of Punjab Punjab Police Official

Harmeet Singh

184,823 просмотров • 7 месяцев назад

میری تمام پاکستانی بہنوں اور بھائیوں سے عاجزانہ درخواست ہے: یہ ہمارے ساہیوال کا واقعہ ہے ایسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اللہ کا واسطہ ہے اپنے بچوں کی حفاظت کے معاملے میں کبھی غفلت نہ کریں۔ بچوں کو اسکول، مسجد یا مدرسے بھیج کر یہ سمجھ لینا کہ اب وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں، درست نہیں۔ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، ان سے روزانہ بات کریں اور اگر کوئی بات انہیں پریشان کرے تو اسے سنجیدگی سے سنیں۔ مسجد اور قرآنِ مجید ہمارے لیے انتہائی مقدس ہیں، لیکن افسوس کہ ایک شخص نے اپنے منصب اور اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ ایسے واقعات پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ اطلاع کے مطابق امام مسجد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اب ضروری ہے کہ قانون کے مطابق مکمل تحقیقات ہوں اور اگر الزام ثابت ہو تو سخت کارروائی کی جائے، تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور آئندہ کسی کو ایسے اعتماد کا غلط فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ بچوں کی حفاظت صرف اداروں کی نہیں، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Nazia Chaudhary🇵🇰

649,830 просмотров • 1 месяц назад

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,814 просмотров • 19 дней назад

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 просмотров • 1 год назад

میری اپیل ہے تمام مخلص اور نظریاتی گراؤنڈ ورکرز سے، جو عمران احمد خان نیازی سے حقیقی محبت کرتے ہیں، کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی آواز بلند کریں۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود MNA اور MPA کے گھروں یا دفاتر کے سامنے پرامن احتجاجی طور پر کھڑے ہوں۔ آپ کو ان سے کسی قسم کی بحث یا جھگڑے کی ضرورت نہیں — بس اپنے ضمیر کی آواز کو ویڈیو پیغام کی صورت میں ریکارڈ کریں۔ ویڈیو پیغام میں صرف اتنا کہنا ہے: "میں اپنے علاقے کے MNA/MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر آیا تھا، ہمیں امید تھی کہ یہ عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھائے گا، لیکن اس نے ہمیں مایوس کیا۔ یا تو یہ بزدل ہے، یا غدار ہے، یا پھر کسی مجبوری کا شکار ہے — جو بھی وجہ ہو، عمران خان آج جیل میں ہے تو اس کا ذمہ دار یہی MNA/MPA ہے۔" یہ ویڈیو پیغام پرامن ہو، باوقار ہو، اور سچ پر مبنی ہو۔ اسے سوشل میڈیا پر پھیلائیں، تاکہ ہر پاکستانی کو معلوم ہو کہ عوام جاگ چکی ہے، اور اب کسی بے وفا نمائندے کو خاموشی کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اگر آپ میں یہ حوصلہ نہیں کہ اپنے علاقے کے MNA یا MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے جا کر ایک پرامن ویڈیو پیغام ریکارڈ کر سکیں… تو معذرت کے ساتھ، آپ حقیقی آزادی کی جنگ، عمران خان کی رہائی، یا پاکستان کی بقا کے دعوے صرف باتوں تک محدود رکھیں۔ لیکن مجھے یقین ہے! وہی مخلص، نظریاتی کارکن جو دل سے عمران خان سے محبت کرتے ہیں — وہ ضرور کھڑے ہوں گے، سچ بولیں گے، اور یہ پیغام سوشل میڈیا پر پھیلائیں گے۔ #مائنس_عمران_خان_نامنظور #رہائی_تک_مزاحمت #ReleaseImranKhan Aleema Khanum Mian Abbad Farooq Waqar Malik

Ayesha Khan

28,126 просмотров • 1 год назад

ضمیر کے مقتل میں انصاف کا جنازہ: جس معاشرے میں انصاف کے ایوان مقبوضہ ہو جائیں، وہاں صرف فیصلے صادر ہوتے ہیں، عدل نہیں ہوتا۔ آج انصاف کے ایوانوں سے ایک بار پھر انصاف کے قتل کی وہ سدا گونجی جس کا ڈر اس ملک کے ہر باضمیر شہری کو تھا۔ ارشد شریف وہ شخص جس نے سچ کی قیمت اپنی جان دے کر چکائی، اس کے کیس کی فائل کو بند کر دینا محض ایک قانونی فیصلہ نہیں، بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام کی اخلاقی موت کا اعتراف ہے۔ فسطائیت کے اس دور میں ترازو طاقتور کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ جب عدالتیں مقبوضہ ہوں وہاں ثبوت نظر انداز کرکے طاقتوروں کی منشا پر فیصلے ہوتے ہیں۔ ارشد شریف کا قصور یہ تھا کہ اس نے اس سیاہ نظام کے چہرے سے نقاب الٹنے کی جرات کی تھی جسے آج مقدس بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ارشدشریف شہید محب وطن پاکستانی ،ایک حق اور سچ کی آواز سے کینیا کی گمنام سڑکوں پر جینے کا حق چھینا گیا، اور آج اپنے ہی وطن کی عدالتوں نے اس کی یاد پر مٹی ڈال کر اس جرم میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔ ایک ریاست دو دستور کا عملی نمونہ پاکستانی عدالتوں میں آئے روز دیکھنے کو مل رہا جہاں عام آدمی کے لیے قانون کی گرفت آہنی، قابض سیاہ نظام کے خلاف بولنے والے حق پر بھی ہوں ان کے قتل کے کیس بھی داخل دفتر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مخصوص ٹولے کو ملک لوٹنے پر کرسی اور آئین توڑنے پر بڑے عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔ ارشد شریف کی ماں آج بھی انصاف کی منتظر ہے، لیکن شاید ہمارے نظام کے پاس اس کی آنکھوں کے آنسوؤں کا کوئی وزن نہیں۔ آپ نے کیس تو ختم کر دیا، لیکن کیا عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو بھی ختم کر پائیں گے؟ کیا تاریخ کے اس سیاہ باب کو مٹا پائیں گے جہاں لکھا جائے گا کہ ایک سچے صحافی کے خون کا سودا بے دردی سے کیا گیا؟ #JusticeForArshadSharif

PTI

12,294 просмотров • 7 месяцев назад

اختر سعید میڈیکل کالج (بحریہ ٹاؤن لاہور) میں طالبات کی حرمت، طلبہ کی تذلیل اور انتظامیہ کے رویّے پر سوالیہ نشان- کالج کے گرلز ہوسٹل میں خفیہ ویڈیو گرافی کر کے طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہ صرف انتہائی سنگین جرم ہے اور کالج کے اندر نظم و ضبط کے شدید فقدان کی نشاندھی کرتا ہے نہی بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یونیورسٹی کے سربراہ کا مبینہ رویّہ ہے- اطلاعات کے مطابق جب طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ سامنے آیا تو سربراہ نے مبینہ طور پر چیخ چیخ کر اسے معمولی بات قرار دیا اور کہا کہ ایسا ہو ہی جاتا ہے- شاید ان کے خاندان میں یہ عام سی بات ہو- اس کے بعد طلبہ کو دھمکایا گیا کہ انتظامیہ صرف ہاسٹل میں رہنے والی طالبات سے بات کرے گی- طلبہ کے احتجاج کے بعد ڈے اسکالرز کو بھی بلا لیا گیا- لیکن سوالات اٹھنے پر مبینہ طور پر طلبہ کی تصاویر بنانا شروع کر دی گئیں اور انہیں ایک ایک کرکے دیکھ لینے اور یونیورسٹی سے نکال دینے کی دھمکیاں دی گئیں- سوال یہ ہے کہ آخر ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کا اپنے ہی طلبہ کے ساتھ یہ کیسا رویّہ ہے؟ اگر طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانا کوئی بڑی بات نہیں, جیسا کہ مبینہ طور پر کہا گیا, تو پھر طالبات کی عزت، تحفظ اور نجی زندگی کی اہمیت کہاں گئی؟ یونیورسٹی کے سربراہ طلبہ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے الٹا انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں- کیا اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں طلبہ کو تحفظ، اعتماد اور عزت ملنے کے بجائے خوف کے ماحول میں رہنا چاہیئے؟ یہ صرف ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ اس ذہنیت اور انتظامی رویّئے پر بھی سوال ہے- کیا ہماری بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ احتجاج میں طالبات کے حق میں لڑکے بھی شامل ہیں- واقعے کا فوری نوٹس لیکر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گزارش کرتا ہوں-

Amir H. Qureshi

55,592 просмотров • 16 часов назад

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,708 просмотров • 8 месяцев назад

الہ آباد میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ ایک معصوم بچی مبینہ بلیک میلنگ اور ہراسانی کے بعد اپنی زندگی ہار بیٹھی۔ لائیو ویڈیو کال پر خ۔۔و۔۔۔د۔ک۔۔ش۔۔ی یہ صرف ایک خاندان کا نہیں، ہم سب کا دکھ ہے۔ درندے کی مبینہ بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے لاکھوں روپے لٹا کر بھی بچی بے بسی سے زندگی دے گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کون سا دباؤ ہے جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے نظر نہیں آ رہے؟ کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اثر و رسوخ رکھنے والوں کو تحفظ حاصل ہے اور خاموشی کی چادر تانی جا رہی ہے؟ ایم پی اے (ن لیگ) احسن رضا خان میو اور وکیل الیاس خان طاہر میو سمیت ہر اُس شخص پر لازم ہے کہ وہ کھل کر سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ صرف میو ہونے کی وجہ سے اس درندے کی حمائت ایک جرم عظیم ہے۔ ایسے جرائم کسی صورت معافی کے قابل نہیں ہوتے۔ ظلم کی نہ کوئی برادری ہوتی ہے اور نہ کوئی سیاسی رنگ — بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔ اگر آج انصاف کا گلا گھونٹا گیا تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم کی آہ رائیگاں نہیں جاتی۔ بہتر یہی ہے کہ متاثرہ خاندان کا ساتھ دیا جائے، شفاف تحقیقات ہوں، اور قانون اپنا راستہ خود بنائے۔ ہمیں امید ہے کہ ذمہ داران مصلحتوں سے بالاتر ہو کر سچ اور انصاف کا ساتھ دیں گے۔پولیس اور صحافت کی زبانیں کھلیں گی اور ایف آئی آر ڈی سیل کر کے حقائق سامنے لائے جائیں گے- احسن بھائی میں نے ہمیشہ آپ کی تعریف کی ہے آج آپ پر امتحان ہے بتائیں برادری کا ساتھ دیں گے یا انصاف کا؟ انصاف ہونا بھی چاہیے اور ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔

Daim Mubashar

61,074 просмотров • 7 месяцев назад

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 просмотров • 6 месяцев назад

🚨🚨 مریم نواز صاحبہ، یہ ایک عورت پر تشدد کا واقعہ ہے۔ اس کی انکوائری کروائیں۔ شفقت عباسی پی ٹی آئی کا ایم این اے ہے اور ایک بدمعاش کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ میں نے میانوالی سے پتا کیا ہے کہ مرسلین خان ایک بدمعاش غنڈا ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا اپنی بہو کو مار رہے تھے اسے گھر میں بند کر رکھا تھا ۔ اس نے 15 پر کال کی تو پولیس فوری آئی اور انہیں نے مزاحمت کی پولیس پر حملہ کیا جس پر اسے تھانے لے گے تھانے میں اس نے اپنے کپڑے اتار کر شرمگاہ پکڑی اور پولیس سے کہا: میرا یہ دیکھو، تم نے ہمارے گھر کے معاملے میں مداخلت کیوں کی؟ پھر گالی گلوچ شروع کر دی۔ جھگڑا ہوا تو تھانیدار نے پکڑ کر اس کی مونچھیں مونڈ دیں۔ یہ تھانے کی ویڈیو ہے، اس کی گالی گلوچ سنیں۔ مرسلین کا قبیلہ اور برادری میانوالی میں طاقتور ہے، اس لیے سب اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو معطل کر دیا اور وہ مظلوم عورت جس پر تشدد ہوا، اس کی جان خطرے میں ہے۔ یہ ہے پنجاب میں عورت کی اوقات۔

RAShahzaddk

14,220 просмотров • 3 месяцев назад