Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ونڈن والے ونڈ گئے پنج دریاواں نوں پانی اج وی اک لہر اچ وگدا اے

85,135 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

مقدمہ پنجاب دا ۔۔۔ کہندے ن پنجاب کھا گیا اے پنجاب کھا گیا اے ، کی کھا گیا ؟ پنجاب تے آپ کھادا گیا اے ۔۔ پنجاب دیاں حکومتاں کم کر دیان ، باقی صوبیاں وچ ونڈیاں پیندیان ، پنجاب نے نئی کھادا ، تُسی کھا گئے او ھاں پاکستان خراب کرن وچ پنجاب دا حکمران طبقہ شامل اے پَر کلا اے نئیں ، سندھ ، بلوچستان تے خیبر پختونخواہ دا حکمران طبقہ وی اس خرابی وچ شامل اے ساڈے تین دریا سن ، ایوب خان انڈیا نوں دے گیا تے پنجاب دیاں زرخیز زمیناں ریگستان بن گئیاں پاکستان بنیا ،تقسیم صرف بنگال تے پنجاب ھوۓ ، خون صرف پنجاب دا وغیا ، او کِسے نوں یاد نئیں ۔۔ 65 دی جنگ وچ خون پنجابی دے وغیا، پَر کِسے نوں یاد نئیں گوادر وزیر اعظم ملک فیروز خان نون نے خرید کے پاکستان چ شامل کیتا ،بلوچستان دا حصہ بنایا ، ادے وچ بلوچستان دا کوئ پیسہ نئیں لگا ، صلہ اے ملیا کہ پنجاب دے وزیر اعظم نوں بے عزت کر کے کڈ دِتا پنجاب وچ کوئ ونڈ نئیں ، ایتھے پنجابی پٹھان بلوچ سندھی لوکل مہاجر دا کوئ چکر نئیں ، سب رل کے رھنے ایں ، تے ھسدے وسدے جیوندےرھن او چاندے ن کہ پنجاب دے جوان وی بُھوتر جان ، تے رد ِ عمل وچ ایتھے وی ساڈے پراواں دا خُون وغے ، اسی ایس جال وچ نئیں پھنسنا ، اسی لڑنا نئیں ، پَر پنجاب دا دفاع ضرور کرنا اے ، سچی دلیل دے نال ، پنجابیاں نے اپنے آ پ نوں پاکستان وچ ضم کر لِیتا سی ، چنگی گَل اے ، پَر اسی ھُن گونگے نہیں رھنا ۔۔

Khawaja Saad Rafique

145,177 просмотров • 1 год назад

امرتا پریتم کی آواز میں انکی مشہور نظم جو بٹوارے پر وارث شاہ کو مخاطب کر کے لکھی تھی،۔ امرتا پریتم کی آواز میں سنیں۔ ( 31 اگست 1919ء گوجرانوالہ- 31 اکتوبر 2005ء دہلی) اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول اک روئی سی دھی پنجاب دی تُوں ِلکھ ِلکھ مارے وین اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن اُٹھ دردمنداں دیاں دردیا اُٹھ تک اپنا پنجاب اج بیلے لاشاں ِوچھیاں تے لہو دی بھری چناب کسے نے پنجاں پانیاں وچ دِتی زہر رلا تے انہاں پانیاں نے دھرت نُوں دِتا پانی لا ایس زرخیز زمین تے لُوں لُوں پُھٹیاں زہر گٹھ گٹھ چڑھیاں لالیاں پُھٹ پُھٹ چڑھیا قہر ویہو ولسّی وا فیر وَن وَن وگی جھگ اوہنے ہر اِک وانس دی انجھلی دِتی ناگ بنا ناگاں کِیلے لوک مُونہہ بَس فیر ڈنگ ہی ڈنگ پل او پل ای پنجاب دے نیلے پے گے انگ وے گلے اوں ٹُٹے گیت فیر، ترکلے اوں ٹُٹی تند ترنجنوں ٹُٹیاں سہیلیاں چرکھڑے کُوکر بند سنے سیج دے بیڑیاں لُڈن دِتیاں روڑھ سنے ڈالیاں پینگ اج پپلاں دِتی توڑ جتھے وجدی سی پُھوک پیار دی اوہ انجھلی گئی گواچ رانجھے دے سب وِیر اج بُھل گئے اوہدی جاچ دھرتی تے لہُو وسیا قبراں پیاں چوون پرِیت دِیاں شاہ زادیاں اج وِچ مزاراں روون وے اج سبھے کیدو بن گئے ، حُسن عشق دے چور اج کتھوں لیائیے لبھ کے وارث شاہ اِک ہور اَج آکھاں وارث شاہ نُوں کتھوں قبراں وچوں بول تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول شکریہ اسلم ملک

اردو ورثہ

17,272 просмотров • 14 дней назад

فضاعلی کے شوہر نے لائیو شو میں اپنے بیوی کو کندھے پر اٹھا لیا ۔۔ مطلب کے اک اور اوچھی حرکت ۔۔ نیشنل ٹی وی پر ۔۔ فضا علی کے پاس لگتا ہے گیسٹ اور content ختم ہو چکا ہے اے روز ایسے ڈرامے بازی کرنا وہ بھی صرف ریٹنگ کیلے ۔ اب اس کلپ کے اخر میں وقار ذکا کا کلپ ہے اپ سوچ رہے ہونگے وقار ذکا کا فضا علی کے کلپ کے ساتھ کیا تعلق ہے ۔۔۔ فضا علی کے اندر وقار ذکا چھپا ہے اور وقار زکا بھی پروگرام کی ریٹنگ کیلے ایسی حرکات کرتا تھا ۔ جس سے اے ار وای والوں نے اس کو کئی سال تک برداشت کیا اور جب عوام یہ ڈرامے دیکھ کر اکتا گی شو بند ہو گیا ۔۔ تب سے لیکر اج تک وقار زکا ٹی وی سے اوٹ ہے ۔ یہ وقار زکا کے شو Living On The Edge کاکلپ ہے جس میں موصوف کہتے ہیں مجھے گالیاں دو ۔۔ اس وقت پیمرا کا ضمیر زندہ ہوتا تھا ۔۔ اس لیے بیپ سے اندازہ لگا لجیے کہ دنیا کی ساری گالیاں یہ صرف اک منٹ میں کھا چکا ہے ۔۔ یہ دونوں کلپ صرف ریٹنگ کیلے بناے گے ہیں ۔ جب اپکے پاس کوی ٹیلنٹ نہی ہوتا کوی سٹوری نہی ہوتی تو اپ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ۔۔

Saleem Speaks

51,206 просмотров • 5 месяцев назад

اس شخص کا نام کاشف ضمیر ہے اک چھوٹاسا ٹک ٹاکر تھا ۔ مگر ایسا کیا کیا کہ اج یہ پاکستان میں تیسری طاقت ور شخصیت بن چکا ہے ۔۔ اس شخص کا کوی Content نہی ہے کوی کاروبار نہی ہے ۔ پھر ایسا کیا ہے پاکستان کے سارے بڑے لوگ اور امیر لوگ اس کو اپنی گاڑی میں گھوماتے ہیں ۔۔ اب تو باہر کے ملک والے فنکار بھی اسے کے گرویدہ ہیں ۔ ارتغل غازی ڈرامے کا اداکار ایا اس شخص سے ملا ۔۔ سنجے دت کو اس نے بیس کڑوڑ سے اوپر کے تحائف دے دیے ۔۔ لوگ کہتے ہیں یہ نوسرباز فراڈی ہے جعلی سونا پہنتا ہے ۔ مگر کسی نے یہ زحمت نہی کی کہ اک فراڈیے کی اتنی پہنچ کیسے ہو سکتی ہے ۔۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹک ٹاکر ہو کوی ٹی وی ادکارہ ہو یا پھر کوی بھی فنکارہ ہو پاکستان کی یا باہر کی ۔۔ کسی کو ایونٹ کیلے چاہیے پارٹی کیلے چاہیے تو اس شخص کی سروس لی جاتی ہے ۔۔ اب اس ویڈیو میں دیکھ لیں ۔۔ پندرہ بیس کڑوڑ کے تحائف دیے ہر تحفہ کی مارکیٹنگ کر رہا ہے گھڑی مہنگے لیدر سے بنی ہے گولڈ میں جو سٹون استعمال ہوے تین سو سال پرانے ہیں ۔۔ کون سا سنجے دت نے چیک کرنا ہے ۔۔اور یہ سب دھکاوا ہے اصل دھندہ اسکا جو ہے وہ زبان زد عام ہے ۔۔

Saleem Speaks

99,198 просмотров • 6 месяцев назад

لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا کرشن چندر کسی شہر میں رہنا اور کسی شہر میں بسنا دو مختلف کیفیات ہیں لاہور میں رہنا نہیں بسنا پڑتا ہے پھر لاہور آپکے دل میں بس جاتا ہے اور ایسا بستا ہے کہ پھر کوئی اور اس دل میں بس نہیں سکتا مہرالنساء لاہور میں نور جہاں بن کر آسودۂ خاک ہوئیں لاہور سے انہیں بڑی محبت تھی جس کا اظہار اس لازوال شعر کی صورت میں کیا لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم جاں دادہ ایم و جنتِ دیگر خریدہ ایم (لاہور کو ہم نے جان کے برابر قیمت پر حاصل کیا ہے۔ ہم نے جان قربان کر کے نئی جنت خرید لی ہے) پطرس بخاری نے کہا تھا کہ لاہور کے کاٹے کا علاج نہیں کرشن چندر نے لکھا کہ لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا مشہور افسانہ نگار کرشن چندر لاہور میں رہے ایف سی کالج میں تعلیم پائی وہ اس شہر سے بے پناہ محبت کرتے تھے آزادی کے وقت ہندوستان جانے کے بعد بھی اپنی روح لاہور ہی میں چھوڑ گئے اس شہر کا تذکرہ وہ کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی طرح رقت آمیز لہجے میں کیا کرتے تھے وہ لاہور سے آنے والوں کو بڑی حسرت سے دیکھتے اور اپنے محبوب شہر کی گلی کوچوں، بازاروں، عمارتوں، باغوں کا تفصیل سے حال پوچھتے کرشن چندر نے احمد ندیم قاسمی کے نام اپنے خط میں لکھا کہ لاہور کا ذکر تو کجا، اس شہر کے بارے میں سوچتا بھی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں راجندر سنگھ بیدی جنہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز محسن لاہوری کے قلمی نام سے کیا تھا مرتے دم تک لاہور کے عشق میں گرفتار رہے لاہور کی باتیں کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ایک مرتبہ ٹی وی پر انٹرویو کے دوران لاہور کا ذکر آیا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اے حمید برما میں قیام کے دوران اپنی جنم بھومی امرتسر کی بجائے لاہور کو یاد کیا کرتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ لاہور کا نام زبان پر آتے ہی طلسم و اسرار کی الف لیلہ کا ایک باب کھل جاتا ہے لاہور ایک شہر ہی نہیں، یہ ایک کیفیت کا نام ہے سید احمد شاہ پطرس بخاری کا شمار بھی لاہور کے سچے عاشقوں میں ہوتا تھا نیویارک میں قیام کے دوران انہوں نے صوفی تبسم کے نام ایک خط میں پوچھا، "کیا راوی اب بھی مغلوں کی یاد میں آہیں بھرتا ہے؟" گویا یہ شہر اپنے عاشقوں کے اعصاب پر ایسا سوار ہوتا ہے کہ وہ کبھی کسی دوسری جگہ پر سکون نہیں پا سکتے جمنا داس اختر، گوپال متل، پران نوائل، اور ان جیسے کئی قلمکار آزادی کے بعد لاہور سے کوچ کر گئے، لیکن ان کا دل لاہور ہی میں اٹکا رہا معروف شاعرہ شبنم شکیل لاہور کے ہجر میں غزلیں کہتی رہیں بھارتی فلمی اداکار پران، اوم پرکاش، دیو آنند، یش چوپڑا، اور ناول نگار بپسی سدھوا جیسے مشاہیر لاہور کی بزم سے اٹھ جانے کے باوجود اس کی طرف بار بار مڑ کر دیکھتے رہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ لاہور ایک کیف و مستی کا نام ہے ایک نشہ ہے جو طاری ہوجائے تو اترنے کا نام نہیں لیتا پیدا ہونے کے لئے لاہور کے درشن کرنا بھی ضروری ہے کجھ روز گزار کے جنت وچ سب درشن کر لئے حوراں دے جدوں پی لئے جام انگوراں دے اک بابے غم نال آہ بھری نالے بات کہی اک صاف کھری ایتھے ٹشن بڑی نالے ٹور وی اے جو لبھنے ساں او دور وی اے پر میریا مولا دس مینوں کوئی جنت تیری ہور وی اے؟ جتھے وسدے نے سب دل والے جتھے دسدا شہر لاہور وی اے۔۔! #لاہور_لاہور_اے❤️ 👆یہ تحریر مجھے واٹس ایپ پر موصول ہوئی لکھنے والے کا نام معلوم نہیں جنہوں نے بھیجی کم از کم اُنہوں نے تو نہیں لکھی😝 مگر تحریر خوبصورت اور زندگی کا احساس لئیے ہوۓ ہے اسلئیے میں آپکے ساتھ شئیر کر رہا ہوں میں دنیا کے 70 سے زیادہ مختلف شہر دیکھنے کے بعد شاید اس تحریر سے زیادہ خوبصورت احساس اپنے شہر لاہور کے لئیے رکھتا ہوں مگر میرے پاس الفاظ کا فقدان ہے اتنا ضرور لکھوں گا کہ لاہور شہر کے حسن اور طلسم جیسا دنیا میں کوئی دوسرا شہر میں نہیں لاہور دنیا میں ایک ہی ہے❤️ لاہور سے سڑنے والے اس پوسٹ سے دور رہیں ورنہ میں تُہانو پورا ساڑ دینا 😝😝😝

کاشف چوہدری

31,886 просмотров • 2 лет назад

موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج اور پنجاب کی منصوبہ بندی: شہری سیلاب کے مستقل خاتمے کی طرف تاریخی پیش رفت مون سون کے دوسرے اسپیل نے پنجاب کے متعدد اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں گوجرانوالہ میں صوبے کی سب سے زیادہ 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، سیالکوٹ میں 94، جہلم میں 81، لاہور اور گجرات میں 48، 48، منڈی بہاؤالدین اور اٹک میں 37، 37، نارووال میں 34 اور چکوال میں 26 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد کو شہری سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ رکھا ہوا ہے۔ یہ محض موسمی تغیر نہیں۔ یہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کا وہ عملی مظہر ہے جس کا سامنا آج پوری دنیا کو ہے۔ کلاؤڈ برسٹ اور مختصر وقت میں غیر معمولی شدت کی بارش اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ پرانے شہری نکاسی آب کے نظام ایسی شدت کے لیے کبھی ڈیزائن ہی نہیں کیے گئے تھے۔ فوری ردعمل: ہفتوں کا کام گھنٹوں میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پورے صوبے میں نکاسی آب کا آپریشن بارش تھمتے ہی شروع کر دیا گیا۔ اکتالیس اضلاع میں واسا کے قیام اور ایک ہزار سے زائد مشینری کی موجودگی نے شدید بارشوں کے باوجود بارشی پانی کی تیز رفتار نکاسی کو ممکن بنایا۔ لاہور کے لکشمی چوک، جہاں پانی کئی روز کھڑا رہتا تھا، صرف نوے منٹ میں صاف کر دیا گیا، جبکہ گجرات شہر سے بارشی پانی تین گھنٹوں میں نکال دیا گیا۔ گوجرانوالہ میں ریکارڈ 250 ملی میٹر بارش کے پانی کی نکاسی مکمل کی گئی۔ بہتر مشینری اور منظم منصوبہ بندی کے باعث بارشی پانی کی نکاسی کا دورانیہ ماضی کے اڑتالیس گھنٹوں سے کم ہو کر دو سے ڈھائی گھنٹے رہ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے: "زخم لگنے کے بعد مرہم رکھنا کوئی کارنامہ نہیں، اصل حکمرانی زخم کو لگنے سے پہلے روکنے کا نام ہے۔" بنیادی حل: تاریخ کا سب سے بڑا شہری نکاسی آب پروگرام فوری ریلیف اپنی جگہ، مگر مستقل حل انفراسٹرکچر میں ہے۔ یہ وہ خلا تھا جسے ماضی میں مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پہلی بار ایک لاکھ سے زائد آبادی والے 189 شہروں کے لیے جامع سیوریج، ڈرینج اور اسٹارم واٹر مینجمنٹ منصوبہ منظور کیا گیا۔ اس پر تین سو ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ منصوبے پر کام گزشتہ مالی سال میں شروع ہو چکا ہے اور آئندہ دو برسوں میں مزید دو سو ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے، جس کے بعد اسٹارم واٹر ڈرینز اور نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا۔ منصوبے کے نمایاں اجزاء درج ذیل ہیں: چھ ہزار کلومیٹر سے زائد سیوریج لائنیں اور 189 کلومیٹر اسٹارم واٹر ڈرینز کی تعمیر تراسی ڈسپوزل اسٹیشنز کی تعمیر، اکسٹھ موجودہ ڈسپوزل اسٹیشنز کی بحالی اور چھپن نئے ڈسپوزل اسٹیشنز کا قیام پانی اور سیوریج کی فوری نکاسی کے لیے 358 زیرزمین اسٹوریج ٹینکس کا نیٹ ورک، جن میں شہروں کے لیے 34 بڑے زیرزمین اسٹوریج ٹینکس شامل ہیں ایچ ڈی پی پائپ لائنوں کی تنصیب، جن کی متوقع عمر ایک سو سال ہے صوبے بھر میں 328 ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا قیام صاف پانی اور سیوریج کی لائنیں مناسب فاصلے پر الگ الگ بچھانا تاکہ آلودگی کا امکان ختم ہو 517 ارب روپے کے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام نے صوبے میں متوازن ترقی کا نیا باب کھولا ہے۔ بارشوں میں ڈوبنے والے شہر جلد ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔ موسمیاتی موافقت اور زیرزمین پانی کی بحالی یہ منصوبہ صرف پانی نکالنے کا نہیں، پانی بچانے کا بھی ہے۔ یہی موسمیاتی موافقت اور تخفیف کی حکمت عملی کا اصل جوہر ہے۔ زیرزمین اسٹوریج ٹینکس کے ساتھ ری چارج ویلز تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے زیرزمین آبی ذخائر میں واپس جائے۔ صوبے بھر میں ایک ہزار ری چارج ویلز کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جو شہروں کے ساتھ ساتھ زرعی رقبوں اور منتخب علاقوں میں بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ذخیرہ شدہ بارشی پانی آبپاشی اور دیگر مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال میں لایا جائے گا۔ اس اقدام کی ضرورت اعداد و شمار سے واضح ہے۔ لاہور کا واٹر ٹیبل سالانہ چار فٹ تک نیچے جا رہا ہے، گلبرگ میں پانی کی گہرائی 125 فٹ سے بڑھ کر 300 فٹ سے زائد ہو چکی ہے، اور بعض علاقوں میں پینے کا پانی 800 فٹ کی گہرائی پر ملتا ہے۔ بارش کا پانی نالوں میں بہا دینا اب عیاشی نہیں، نقصان ہے۔ ادارہ جاتی تیاری پنجاب کلائمیٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس پلان 2026 کے تحت وفاق اور پنجاب کے درمیان شدید موسمی واقعات کی پیشگی وارننگ اور کم از کم چھ گھنٹے قبل باہمی رابطے پر اتفاق ہوا ہے۔ مون سون سے قبل صوبے بھر میں نالوں اور آبی گزرگاہوں کی بڑے پیمانے پر صفائی مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نکاسی آب کی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری

Syed Kousar Kazmi

48,636 просмотров • 1 месяц назад