Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

وہ لمحہ جب تھرڈ امپائر نے معاذ صداقت کو ناٹ آؤٹ قرار دیا انڈیا والے رونے لگے😭🇵🇰🫴😭🇵🇰💚 ریلے کیچ ایسا کیچ ہوتا ہے جس میں کسی کھلاڑی کو کیچ لیتے ہوئے اگر باؤنڈری سے باہر جانے کا خطرہ ہو تو دوسرے کھلاڑی کی طرف گیند اچھال کے خود باؤنڈری...

31,176 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

فوجیو آج تک ہمیں یہ یاد نہیں ہے کہ کبھی بھارت کی فوج نےبھی اپنی منتخب حکومت کے خلاف سازش کی ہو، یا ایک سائفر پر عوامی حکومت گرائی ہو،عدم اعتماد کے لیے منڈیاں لگائیں ہوں۔ میرا خیال ہے کہ نہیں کی ۔۔!! یہ ایک بیماری صرف پاکستانی فوج میں پھیلی ہوئی ہے کہ وہ اپنی منتخب حکومتوں کو گراتے ہیں۔ “تو یہ کام اچھے بھی نہیں لگتے۔” کیونکہ دوسرے ملکوں کو پھر فوج کی کمزوریوں کا، جرنیلوں کی کمزوریوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ وہ اسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جو ہمارے دشمن ممالک ہیں اسی طرح جرنیلوں سے فائدے اٹھاتے ہیں۔ یہ جرنیل ملک کے ساتھ کیسے ہے عوام کے ساتھ کیسے ہیں اسی کا وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔اورپھر مداخلت کرتے ہیں۔ فوجی نے بڑے اعتماد سے کہا: “اس سے کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں ہوتا!” فوجیو اس سے ملکوں کی معیشت تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ اس سے ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔اس سے ملک میں انصاف ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے ملک دہشتگردی اور عدم استحکام کی نظر ہو جاتا ہے۔اس سے ملک لوٹنے والے چوروں ڈاکوں کا نیٹورک مضبوط ہو جاتاہے۔ جس سے ایٹمی ملک کے اثاثےخطرے میں پڑ جاتے ہیں ۔ لیکن فوجی صاحب ٹھیک ہی فرما رہے تھے… “اس سے کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں ہوتا!”🙃

Rodium-A

27,275 просмотров • 1 месяц назад

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے کان کھا لئے کہ “فتنہ الہندستان” نے تباہی تباہی مچا رکھی ہے ۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل نے یہ بات مارکو روبیو کو کیوں نہیں بتائی ؟! مارکو روبیو انڈین صحافی کے سوال پہ کئی جواب دے سکتے تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے ہمارا انڈیا سے الگ تعلق ہے پاکستان سے الگ،لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا بلکہ کہا کہ: “ہاں یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر سے انڈیا پہ دہشتگردی کے حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی زمیں انڈیا کے اندر دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی ہے” فیورٹ فلیڈ مارشل کا شٹل کاک بنکر گھومنے کا حاصل جمع کیا نکلا؟ انڈیا کہ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف یہی پوزیشن ہے، مارکو روبیو انڈیا میں کھڑے ہو کر اس پوزیشن کو اس وقت تسلیم کر رہے ہیں جس وقت ہم نے بلوچستان کے اندر شہید ہونے والے لوگوں کو دفنایا بھی نہیں ہے۔اس موقع پر مارکو روبیو یہ بھی کہہ سکتے رھے کہ جیسے انڈیا کو concern ہے ویسے پاکستان کو بھی concern ہے ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا اور پاکستان کو دہشتگردی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا یہ ہے جھوٹے بیانیے پاسپورٹ اور سلوٹ کی عزت ۔

Rodium-A

71,376 просмотров • 3 месяцев назад

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,163 просмотров • 2 месяцев назад

قتل کیے جانے والے مفتی منیر شاکر کی ایک حالیہ انٹرویو کا اردو ترجمہ۔ "بنوں اور اکوڑہ میں دھماکے پر مولوی طبقے کی خاموشی سوالیہ نشان بالکل نہیں ہے, کیونکہ یہ تو سرکار کی بی ٹیم ہے۔ جب سرکار روس میں جنگ چاہ رہی تھی تو ہر مسجد سے جہاد کی آوازیں گونجتی تھیں۔ جہاں سرکار جنگ کو جہاد نہیں کہتی تو ملا کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر یہ ملا لوگ حق بات کرتے تو یہ دھماکے سرے سے نہ ہوتے۔ میں مذمت کرنے کی اس روایت کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ملا اپنی بیغرتی اور خاموشی پر نشانہ بنتے رہیں گے۔ ان کا کوئی نظم و ضبط کوئی اتحاد نہیں ہے۔ یہ قرآن میں جو ہے اس کو فالو ہی نہیں کرتے۔ یہ وہ جانور ہیں جو ایک دوسرے کو کھا جانے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ کبھی دیوبند، کبھی بریلوی تو کبھی پنجپیر پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ان کے نام پر یہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر کہتے ہیں، اور انہیں قتل کرتے ہیں۔ یہ شافعی، حنفی ، حنبلی کیا لگتے ہیں تمہارے؟ جب تم یہاں مردار ہو جاتے ہو تو دیوبند، بریل، امام مالک، امام حنفی، شافعی، اور دیگر آتے ہیں تمہارے جنازے پر؟ بلکہ یہی تمہارے قام قبیلے کے لوگ آتے ہیں۔ لہذا ان ہی کو اپنا بھائی بنا لو، ان کو اسلام سکھاو۔ مجھے ہر دھماکے اور ہر عالم پر کیے گئے حملے پر افسوس ہوتا ہے کہ آخر پشتون ہی کیوں قتل ہوتے ہیں۔ یہ دہشتگرد صرف میرے صوبے ہی کیوں آتے ہیں۔ اگر تم کہتے ہو کہ افغانستان سے آتے ہیں تو وہاں پڑوس میں انڈیا و دیگر ممالک کیوں نہیں جاتے۔ یہ کبھی پنجاب بھی نہیں جاتے۔ اول بات تو یہ کہ دہشتگرد تم صرف اس کو کہتے ہو جس سے "تمہیں" خطرہ ہو۔ اگر میرے جیسوں کو خطرہ لاحق ہو تو وہ دہشتگرد نہیں سمجھے جاتے۔ مجھے موبائل پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ میں نے سی ٹی ڈی، اور اپنے علاقے کے تھانے میں درخواست دی ہے۔ خود سرکار، ایم آئی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، لیکن پھر بھی مجھے سیکیورٹی نہیں دے رہے۔ جہاں جاتا ہوں پولیس تنگ کرتی ہے۔ کہتی ہے کس کی اجازت پر اسلحہ لے کر آئے ہو۔ میں جس سے اجازت لیتا ہوں وہ اجازت دیتا نہیں ہے! ان کو جس سے خطرہ ہے اس کو یہ دہشتگرد کہتے ہیں اور مجھے جس سے خطرہ ہے یہ مجھے اس کے سامنے غیر مسلح کرتے ہیں۔ دراصل دہشتگرد تو وہ ہے جس سے سب کو خطرہ ہو، عوام کو خطرہ ہو۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے اس کے لیے کچھ کرو۔ " #munirshakir

Aneela Khalid

33,447 просмотров • 1 год назад

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 просмотров • 8 месяцев назад

پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو حیران کیا ھے۔ دنیا میں SLBM آبدوز سے دشمن کو ایٹمی میزائل نشانہ بنانے کی صلاحیت صرف چھ ممالک کے پاس تھی اب الحمداللہ پاکستان یہ طاقت حاصل کر چکا ھے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ پاکستان ذیر ذمیں اٹیمی تجربات کر رہا ہے۔ پاکستان نےسمندر کی گہراییون سے فائر ہونے والے بابر تھری کا کامیاب تجرب کر کےجنوبی ایشیا میں جنگ کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، یہ کوئی عام ہتھیار نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ کا مرکزی ستون ہے، ایسا ہتھیار جسکی طاقت شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں چھپی ہے، اور جس کا خوف حملے میں نہیں بلکہ اس کے جواب کے یقین میں ہے۔ بابر-3 ایک سب میرین لانچڈ کروز میزائل ہے، یعنی یہ زمین یا فضا سے نہیں بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود آبدوز سے فائر ہوتا ہے، جہاں دشمن کی آنکھ، ریڈار اور سیٹلائٹ سب بے بس ہو جاتے ہیں، دشمن کو نہ آبدوز کی جگہ معلوم ہوتی ہے، نہ اس لمحے کا علم ہوتا ہے جب حملہ ہوگا، اور نہ ہی اس سمت کا اندازہ ہوتا ہے جہاں سے تباہی آئے گی، یہی غیر یقینی کیفیت دشمن کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔ دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبدوز سے فائر ہونے والا نیوکلیئر میزائل کسی بھی ملک کی سب سے محفوظ اور مؤثر جوابی طاقت ہوتا ہے، کیونکہ دشمن زمینی اڈوں، فضائی بیسز اور میزائل سائٹس کو تو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا سکتا ہے، مگر سمندر کی تہہ میں چھپی آبدوز کو نہ ختم کر سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ بابر-3 کی رینج تقریباً 450 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، یہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہے، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کے قابل ہے، لیکن اس کی اصل خطرناکی اس کے دھماکے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ دشمن کبھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا جوابی وار ختم ہو چکا ہے۔ اگر دشمن پہلا حملہ کرتا ہے اور یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے پاکستان کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں وہ سب سے بڑی غلطی کرتا ہے، کیونکہ بابر-3 کی موجودگی اس سوچ کو دفن کر دیتی ہے اور یہ واضح کر دیتی ہے کہ پاکستان حملے کے بعد بھی جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اسی صلاحیت کو فوجی زبان میں سیکنڈ اسٹرائیک کیپیبلٹی کہا جاتا ہے، دنیا کے تھنک ٹینکس اور دفاعی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ یہی صلاحیت کسی بھی ریاست کو ناقابلِ شکست ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے۔ دشمن ممالک کے میڈیا اور دفاعی حلقے کھل کر لکھتے ہیں کہ پاکستان نے بابر-3 کے ذریعے اپنی نیوکلیئر ڈیٹرنس کو مکمل کر لیا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس زمین، فضا اور سمندر تینوں سطحوں پر جوابی طاقت موجود ہے، اور یہی توازن جنگ کو روکنے کی سب سے بڑی ضمانت بنتا ہے۔ سادہ الفاظ میں بابر-3 حملہ کرنے کا ہتھیار نہیں بلکہ دشمن کو حملے سے باز رکھنے کا اعلان ہے، یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کا انجام دشمن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے بابر-3 کو دنیا کی نظر میں خطرناک، سنجیدہ اور فیصلہ کن ہتھیار بنا دیا ہے۔ #پاکستان_زندہ_باد🇵🇰

چوہدری شاہد محمود

21,855 просмотров • 7 месяцев назад

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 просмотров • 7 месяцев назад

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 просмотров • 8 месяцев назад

🚨🚨 بریکینگ نیوز : ڈیل ڈیل کی رٹ لگانے والے ذرا یہ ویڈیو دیکھیں.!!!🔥🔥🔥 سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ اگر اس آرڈر کو توڑا گیا, یا ان شرائط میں سے کسی ایک شرط کو بھی توڑا گیا ۔ یعنی شفاء ہسپتال کے باہر لوگ جمع ہو جاتے ہیں, اگر عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پبلک سے شیئر کردی جاتی ہے, اگر لوگوں کو اتنا ہی بتا دیا گیا کہ انکی رپورٹ ٹھیک نہیں ہے, یا انکو دل کا مسئلہ ہے, یا ان کے لیور کا کوئی مسئلہ ہے, یا ان کی کڈنی کا کوئی مسئلہ ہے, اگر یہ بات کی تو یہ جو ہم نے آرڈر کیا ہے, فوری ختم ہو جائیگا ۔ اتنی سختی کیساتھ یہ آرڈر کیا گیا ہے ۔ جو ڈیل ڈیل کر رہے ہیں ۔ انکو سوچنا چاہئے کہ یہ کتنا سخت آرڈر آیا ہے ۔نواز شریف کی دفعہ کیا تھا ۔ کہ اس کی زندگی کی گارنٹی دو, وہ جس سے ملنا چاہتا ہے، ملنے دو ۔تو وہاں عدالتوں نے سختی نہیں کی اور یہاں آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ جرنیلوں کو کتنا خوف ہے عمران خان سے ۔ وقار ملک 🔥🔥🔥🚨

Anisha KHAN

43,781 просмотров • 12 дней назад