Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

وہ چیزیں جو گرمیوں میں اپنی گاڑی میں کبھی نہ چھوڑیں!

76,649 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von abcd
abcdvor 1 Jahr

Make this compulsory - cars = CO2/DCP fire extinguisher - trucks and buses must have a large CO2/DCP extinguisher

Profilbild von Solar Heavy
Solar Heavyvor 1 Jahr

- All I Knew

Profilbild von Dr.Mughal
Dr.Mughalvor 1 Jahr

اگر موٹروے کے ساتھ ساتھ کھیتوں میں آگ لگانے پر آپ کنٹرول کر لیں تو مان جائیں آپ کو۔ کافی سال سے یہی مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ کتنی زندگیاں چلی گئی اس وجہ سے

Profilbild von AD Choudhary
AD Choudharyvor 1 Jahr

Very informative 👏

Profilbild von BalochMunda
BalochMundavor 1 Jahr

Good information ye hoi naa baat

Profilbild von Shebi Gujjar
Shebi Gujjarvor 1 Jahr

Paani wali plastic bottle se bhi aag lag satki hai

Profilbild von بن خمار
بن خمارvor 1 Jahr

میں پرفیوم کی بوتل کی وجہ سے ونڈ اسکرین تڑوا بیٹھا ہوں- بوتل پھٹ گئی تھی گرمی سے

Profilbild von Qasim Gondal
Qasim Gondalvor 1 Jahr

Haramzadon, koi sayadaar jagah ya drakht chhora hai tum logon ne is mulk main?

Profilbild von Naveed Asghar, MD
Naveed Asghar, MDvor 1 Jahr

@hawkkhosa @hawkkhosa

Ähnliche Videos

بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہو نہ دیکھنے میں عام سی نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اس کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہو نہ رشتۂ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئنہ حیا کرے نہ اختلاط میں وہ رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس قدر سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفراں کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق کو امر کہوں وہ میری ضد سے چڑ گئی میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے کہ عمر بھر کے ساتھ کو وہ بد تر از ہوس کہے شجر حجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پا بہ گل رہیں نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں محبتوں کی وسعتیں ہمارے دست و پا میں ہیں بس ایک در سے نسبتیں سگان با وفا میں ہیں میں کوئی پینٹنگ نہیں کہ اک فریم میں رہوں وہی جو من کا میت ہو اسی کے پریم میں رہوں تمہاری سوچ جو بھی ہو میں اس مزاج کی نہیں مجھے وفا سے بیر ہے یہ بات آج کی نہیں نہ اس کو مجھ پہ مان تھا نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی جو عہد ہی کوئی نہ ہو تو کیا غم شکستگی سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل دیا وہ اپنی راہ چل پڑی میں اپنی راہ چل دیا بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی اب اس کی یاد رات دن نہیں، مگر کبھی کبھی احمد فراز

Book of Love

14,532 Aufrufe • vor 3 Jahren