Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ویڈیو میں نظر آنے والا ہوائی جہاز Beechcraft 1900D ماڈل کا ہے، جو کراچی، اسلام آباد اور لاہور سے غیر بلوچ ملازمین کو لے کر پرواز کرتا ہے اور اس ایئرپورٹ پر لینڈ کرتا ہے۔ یہ مقام بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک ہے، جو سونے، تانبے اور...

42,796 görüntüleme • 3 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

بی وائی سی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا پیغام! بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کاروان کو پورے بلوچستان میں ہر جگہ روکا جا رہا ہے۔ ریاست اپنی پوری طاقت اور پوری مشینری بلوچ راجی مُچی کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ ریاست پرامن اور نہتے عوام پر طاقت کا استعمال کرکے بلوچ عوام کے سامنے اپنی بدترین شکست کا اعتراف کر رہی ہے۔ میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ جہاں جہاں بلوچ راجی مُچی کے کاروان کو روکا جا رہا ہے، وہاں پر امن طریقے سے دھرنا دے کر پورے بلوچستان کو بند کریں۔ ہم اس بربریت کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے پورے بلوچستان کو بند کریں گے۔ آج مستونگ میں قافلے پر حملہ، متعدد بلوچ نوجوانوں کو زخمی کرنا، اور دیگر علاقوں میں گرفتاریاں اور تشدد کے تمام واقعات کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور ہم ریاست کے ان تمام واقعات کا حساب لیں گے۔ میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ فوری طور پر بلوچستان میں ریاستی بربریت کا نوٹس لیں۔ #GwadarIsUnderSiege #WeSupportBalochRaajiMuchi #BalochNationalGathering

Baloch Yakjehti Committee

23,749 görüntüleme • 2 yıl önce

آپریشن ہیروف 2 کے دوران بی ایل اے سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ نہیں کرسکی تو ریلوے بریج کو اڑا دیا ۔ لیکن یہ ریلوے بریج بلوچ عوام کیلئے تھا ۔ اور اب یہ دوبارہ بنایا جائے گا تو اس پر بلوچ عوام کا ہی پیسہ لگے گا ۔ وہی پیسہ جو تعلیم صحت پر لگنا چاہیے ۔ بی ایل اے کے حملوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو ٹھیک کرنے میں لگ رہا ہے اس میں نقصان تو بلوچ عوام کا ہورہا ہے ۔ کشمیر کیساتھ چین اور پاکستان کی سرحدیں لگتی ہیں کشمیر کی عوام انڈیا کیساتھ رہنا بھی نہیں چاہتے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود آج تک کشمیر آزاد نہیں ہوسکا بلوچستان میں آدھا علاقہ پشتونوں کے پاس ہے ۔ آدھا بلوچوں کے پاس ہے ۔ بلوچ عوام میں بھی صرف چند فیصد لوگ پاکستان سے علیحدہ ملک بنانا چاہتے ہیں واضح اکثریت پاکستان کیساتھ خوش ہے ایسے میں کس طرح بلوچستان کو پاکستان سے توڑنے کا خواب دیکھا جاسکتا ہے یہ کون لوگ ہیں جو اپنی ہی قوم کے دشمن ہیں جو اپنی ہی قوم کا نقصان کررہے ہیں یہ مزاحمت نہیں خودکشی ہے اور یہ لوگ خود بھی مررہے ہیں اور بلوچ قوم کو بھی مار رہے ہیں

Dr Zahra Baloch

20,115 görüntüleme • 7 ay önce

شریف خاندان پاکستان کو توڑنے اور صوبوں کو لڑانے کی سازش کر رہا ہے، آرمی اسٹیبلشمنٹ کے تحفے مریم صفدر نے آج فوج کے ہی بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں فتنۃ الہندوستان کے بیانیے کو دفنا دیا ہے اور مودی کے بیانیے کی تائید کر دی ہے کہ پاکستان دھشتگرد ملک ہے، ساری قوم کو فوج نے خیبر پختونخواہ اور خصوصاً بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان پر لگایا ہوا تھا، ہندوستان نے پاکستان کا پانی بند کیا ہوا ہے پاکستان سے جنگ کی میزائل اور ڈرون مارے اور آج مریم صفدر کہتی ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ مجھے تھریٹ میرے پڑوسی ملک سے کم ہے، لیکن میرے پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہے، وہاں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے، اس خاندان کو شرم نہیں آتی یہ اپنی شادیوں میں مودی کو بلاتے تھے، یہ فتنہ عورت پاکستان کی عوام کو لڑوا رہی ہے، بلوچستان میں بیوروکریسی کی اکثریت پنجاب سے ہیں بلوچستان کو تو وفاق میں اس کے کوٹے کی نوکریاں تک نہیں دی جاتیں اور پنجاب ہی کے لوگ بھرتی کر دیے جاتے ہیں، شریف خاندان نے پاکستان کو صرف کاروبار بنایا ہوا ہے یہاں سے پیسے چوری کرو اربوں روپے کے جہاز خریدو اور اپنے ملک برطانیہ لوٹ جاؤ۔ #مینڈیٹ_چور_شریف_مافیا #مینڈیٹ_چور_اردلی_حکومت

Qasim Khan Suri

22,932 görüntüleme • 27 gün önce

ہوشیار 🚨 اسلام آباد اور لاہور میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھائی جا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ کو کوہ سلیمانی لہجہ اور کچھ کو مکرانی لہجہ سکھایا گیا ہے۔آپ کو بتاتا چلوں کہ کوئی بھی زبان کے بنیادی الفاظ، عام جملے یا رٹی رٹائی باتیں یاد رکھنا یا کیمرہ کے سامنے بولنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بہت سے لوگ روس، چین اور دیگر ممالک میں سکالرشپس پر پڑھنے جاتے ہیں اور وہاں کی زبان چھ ماہ سے ایک سال کے اندر آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ اب جبکہ بلوچستان میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور بلوچ مسلح تنظیموں کی جنگی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اب خواتین نے بھی جنگ کا حصہ بننے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ پنجاب کے سو کالڈ تجزیہ کار جن میں مختلف ٹاؤٹسس، کچھ پشتون لڑکیاں بھی، استعمال کی گئیں لیکن بلوچ عوام نے ان کو مسترد کیا، براق ڈیجیٹل، آزاد ڈیجیٹل سمیت ہر فارمولا ناکام ہوا کیونکہ بلوچ ان کے اصل چہرے جانتے ہیں۔ پاکستان کو بیانیہ کی جنگ (narrative warfare) میں بلوچ خواتین کی ضرورت پڑی، لیکن بلوچستان کی مقامی خواتین اس قسم کے پروپیگنڈا کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوئیں (سوائے چند ایک کے)۔ اس لیے ریاست نے پنجاب اور دیگر شہروں کی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھانا شروع کر دیا۔آج کل انسٹاگرام، ایکس (ٹویٹر)، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلوچی زبان بولتی ہوئی خواتین ایک مخصوص بیانیہ چلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو مکمل طور پر سرکار کی سرپرستی اور حمایت میں ہو رہا ہے۔ واضح کرتا چلوں اگر ان کا بائیو ڈیٹا نکالا جاۓ تو ان میں سے ہر ایک کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔ ان خواتین کا بلوچستان یا بلوچ کاز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Zorakh Baloch

18,916 görüntüleme • 3 ay önce

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی معروف رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ ظالم اپنا ظلم بلوچستان کے ہر کونے میں جاری رکھے ہوئے ہیں، بلوچستان کے ہر گھر میں آگ برسائی جا رہی ہے۔ چاہے وہ زہری کا علاقہ ہو جہاں پچھلے 25 دنوں سے کرفیو نافذ ہے - اس دوران کتنے لوگ بھوک اور بیماری سے جان بحق ہوئے ہیں، اور کتنی خواتین اور بچے فائرنگ اور ڈرون حملوں میں مارے گئے ہیں۔ آواران میں ہر ہفتے کسی بلوچ کو فوجی کیمپ میں طلب کر کے اس کی مسخ شدہ لاش پھینک دی جاتی ہے۔ مکران میں بھی ایک ہفتے کے اندر ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں پانچ بلوچ نوجوان اغوا کر کے جبری طور پر گمشدہ کیے گئے یا فائرنگ کر کے شہید کر دیے گئے۔ یہ کسی گھر یا طبقے کی کہانی نہیں، بلکہ پورے بلوچستان کی کہانی ہے - ظالم یہاں بلوچ کی نسل کشی بلوچ کے اپنی سرزمین پر کرنا چاہتے ہیں۔ جو کوئی بلوچ قوم کے لیے بولنا چاہتا ہے، اسے خاموش کرنے کے لیے سازشیں رچی جا رہی ہیں۔ بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کیا گیا ہے، دیگر تنظیموں کے رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے، اور مختلف قوانین کا سہارا لے کر انہیں خاموش کرایا جا رہا ہے تاکہ وہ بلوچ نسل کشی کے خلاف بات نہ کریں۔ ہمارے عام عوام کو ڈرایا جا رہا ہے۔ رات کے وقت گھروں کی دیواریں پھلانگ کر گھس آتے ہیں۔ کبھی جعلی غم خوار بن کر لوگ بھیجے جاتے ہیں تاکہ تمھیں ڈرا دھمکا کر جھوٹی تسلیاں دے کر تمہاری آواز دبائی جائے اور یہ کہہ کر کہ تمہارے مسئلے حل کر دیے جائیں۔ ان تمام حربوں سے ایک بات واضح ہے، ریاست خاموشی سے ہماری نسل کشی جاری رکھنا چاہتی ہے، اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔ ایک فرزند، جو بے بسی اور غریبی میں بھی زندگی گزارنے کے ہزاروں خواب رکھتا تھا، اس کی لاش اس کے خوابوں کے ساتھ دفن نہ ہو۔ اس لاش کو زندہ رکھیں - کم از کم جو لوگ اغوا ہو رہے ہیں ان کے کیسز سامنے لائیں، جو لوگ قتل ہو رہے ہیں ان کی لاشیں اپنے خوابوں کے ساتھ سڑکوں پر لا کر دھرنا دیں تاکہ دنیا دیکھے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کم از کم ہم اپنے دشمن کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ پوری قوت کے ساتھ جو چاہے ہمارے ساتھ کرے - بچوں اور عورتوں کو لاپتہ کرے یا قتل کرے، اور اپنے دلالوں کو شہروں میں آزاد چھوڑ دے۔ لازم ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں، ہماری خاموشی ہماری نسل کشی کو مزید تقویت دے گی۔ ہمیں اس طاقت اور خاموشی کو توڑنا ہوگا۔ جس بلوچ کے گھر میں کوئی ظلم ہوا ہے اسے سامنے لائیں - ظلم کا خاتمہ یہی سے ہے کہ ہم خاموش نہ رہیں۔

BAAM

14,884 görüntüleme • 10 ay önce

اگر مقصد واقعی بلوچ حقوق ہیں تو راستہ تعلیم، شعور، سیاست اور ترقی ہونا چاہیے نہ کہ کم عمر بچیوں کو مختلف حربوں سے ورغلا کر، دھمکا کر بارود اور شدت پسندی کی طرف دھکیلنا۔ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے بندوق نہیں۔ بلوچ بیٹیوں کو یونیورسٹیوں میں ہونا چاہیے پہاڑوں کے عسکری کیمپوں میں نہیں۔ کیونکہ جو اسپانسرڈ عناصر بلوچ نسل کو جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں وہ بلوچ قوم کے مستقبل اور تشخص کو تباہ کر رہے ہیں۔ آج سامنے آنے والی ویڈیو نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی۔ شہناز بلوچ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ بلوچ قوم شعوری طور پر ایک مخصوص عسکری جدوجہد کا فیصلہ کر چکی ہے مگر دوسری طرف ان کے کیمپ میں جن چہروں کو تربیت دی جا رہی ہے ان میں تمام تر لڑکیاں کم عمر اور نابالغ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک شعوری سیاسی فیصلہ ہے تو پھر معصوم بچیوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے جنگ اور خودکش تربیت کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا معصوم ذہنوں کو جنگی نفسیات دینا انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف نہیں؟ بلوچ اور اسلامی روایت میں خواتین کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے مگر آج آزادی کے نام پر بلوچ بیٹیوں کو پہاڑوں پر عسکری تربیت دینا بلوچ ننگ، ثقافت اور تشخص کے سراسر خلاف ہے۔ یہی عناصر روز ریاستی اداروں پر بلوچوں کو اٹھانے کے الزامات لگاتے ہیں مگر جب درجنوں خواتین اور نابالغ لڑکیاں عسکری کیمپوں میں موجود ہوں تو ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ خود چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے کل ان کے خاندان والوں سے تحقیقات کریں ۔تاکہ یہی عناصر دوبارہ لاپتہ بلوچ” کا بیانیہ بنائیں ؟ خواتین کی اس حد تک بے حرمتی اور نسل کشی ہر بلوچ خاتون کی راہ میں منفی اثرات اور مشکلات چھوڑتی ہیں۔

Meena Majeed Baloch, MPA

38,657 görüntüleme • 4 ay önce

بلوچ راج! بلوچ راجی مچی 28 جولائی بروز اتوار شام 3 بجے پدی زِر گوادر میں منعقد ہوگا۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، ریاست پاکستان بلوچ راجی مچی کو ناکام بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جو ریاستی بوکھلاہٹ اور خوف کو صاف ظاہر کرتی ہے۔ اسے بلوچ راجی مچی کے سامنے ریاستی شکست اور بلوچ راجی مچی کی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ راجی مچی کو کامیاب بنانے کے لیے ریاست کے تمام تر مظالم اور جبر کے خلاف مزاحمتی طریقہ کار اور قاعدہ اپنائیں۔ جیسے کہ ریاست ٹرانسپورٹرز، باورچی، اور دکانداروں کو دھمکیاں دے رہی ہے، اس کے ردعمل میں بلوچ قوم کا ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق ٹرانسپورٹ، راشن، اور دیگر ضروری سامان زیادہ سے زیادہ تعداد میں راجی مچی کے لیے مہیا کرے۔ اس کے علاوہ، ریاستی جبر اور مظالم نے بلوچ راجی مچی کی اہمیت کو دوگنا کردیا ہے۔ اب یہ صرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کا نہیں، بلکہ بلوچ سماج کے ہر طبقہ فکر کے لیے اہمیت کا حامل ہوگیا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ اگر ہم آج ریاست پاکستان کے ظلم، جبر، اور بربریت کے سامنے خاموش ہوجائیں تو اس کے نتائج ہمارے موجود اور آنے والی نسلوں کو بھگتنے ہوں گے۔ لہٰذا یہ وقت خاموش ہونے کا نہیں، مزاحمت کرنے کا ہے۔ ہر طبقہ فکر کو ہر طریقے سے اس مزاحمت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اب ہر بلوچ کا کردار ادا کرنا لازمی بن چکا ہے۔ آخر میں ہم 28 جولائی کو گوادر کے علاوہ (گوادر میں دکاندار بلوچ راجی مچی کے شرکاء کو سامان اور ضروری اشیاء مہیا کریں گے) پورے مکران میں بلوچ راجی مچی کے احترام میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ راجی مچی بلوچ نسل کشی، بلوچ قوم کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے، اور بلوچ قوم کی تشکیل نو کے خلاف ایک منظم عوامی جدوجہد کا آغاز ہے۔ اس لیے اس راجی مچی کے احترام میں بلوچ راج کے تمام دکاندار، کاروباری حضرات، اور تاجر برادری رضاکارانہ بنیادوں پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں اور بلوچ راجی مچی اور بلوچ قومی بقاء کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ #WeSupportBalochRaajiMuchi #BalochNationalGathering #بلوچ_راجی_مُچی

Baloch Yakjehti Committee

26,779 görüntüleme • 2 yıl önce

کہاں ہیں وہ لوگ جو دعویٰ کرتے تھے کہ گوادر ایئرپورٹ بلوچ قوم کے لیے نقصان دہ ہوگا؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو وسائل پر قبضے اور استحصال کے نام پر اس ایئرپورٹ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے تھے؟ اس وقت گوادر ایئرپورٹ پر سب سے زیادہ بلوچ ہی موجود ہیں، اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھی بلوچستان، خاص طور پر مکران ڈویژن کے عوام کو ہو رہا ہے۔ وہ سفر، جو پہلے کئی دنوں میں طے ہوتا تھا، آج چند گھنٹوں میں ممکن ہو گیا ہے۔ یہ ایئرپورٹ ترقی کا وہ دروازہ ہے جس نے علاقے کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ آج وہی لوگ، جو اس ایئرپورٹ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، نہ صرف یہاں موجود ہیں بلکہ جب عمان اور کراچی کے لیے پروازیں روانہ ہو رہی تھیں، تو یہی لوگ سب سے پہلے ایئرپورٹ پر پہنچے تھے۔ گوادر ائیرپورٹ کی کامیابی ان تمام جھوٹے دعووں اور الزامات کا جواب ہے جو گوادر ایئرپورٹ کے خلاف کیے گئے تھے۔ گوادر ایئرپورٹ آج نہ صرف ترقی کی علامت بن چکا ہے بلکہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ خود بلوچ عوام کو ہو رہا ہے۔ #Balochistan #Gwadar #GwadarAirport

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

33,701 görüntüleme • 1 yıl önce