Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

يه مسئلا بظاهر چهوٹا لگ رہا ہوگا .. مگر سندہ میں لاقانونیت اور بدمعاشی کی مثال بڙي هے . یہ لاڑکانہ شہر کی آج کی حالت ہے . بہٹو کے لاڑکانہ کی . بہینسوں کے مالک نے اپنے باڑے کے لیئے بہوسے کے دو ٹرک منگوائے اور باڑے کے...

12,212 views • 3 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

بلوچستان ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے آواز اٹھا رہی تھیں، بلوچستان میں جو ظلم اور زیادتیاں ہوتی ہیں لوگوں کو جبری لاپتہ کر دیا جاتا ہے اس کے خلاف پُرامن جمہوری جدو جہد کر رہی تھیں ان کو بھی جیل میں بند کیا ہوا ہے، یہ خواتین سے بھی ڈرتے ہیں خواتین نے ان چار سالوں میں پاکستان کے لیے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور حقیقی آزادی کے لیے بڑا کردار ادا کیا ہے اور آج تک جبر اور ظلم کے سامنے ڈٹی ہوئی ہیں عاصم منیر کی فرعونیت اور یزیدیت کو نہیں مان رہیں اور حسینیت کا پرچم بلند کر کے جیلوں میں بند ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایمان مزاری، ماہرنگ بلوچ وہ خواتین ہیں جنہوں نے یزید وقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، یہ خواتین نہیں مان رہی ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ ہم حق اور سچ کے راستے پر چلیں گی چاہے ہمیں جیلوں میں ہی بند کر دیا جائے۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

12,266 views • 3 months ago

یہ بلوچ عورت، جس کے ہاتھوں پر نیل اور زخم اب بھی موجود ہیں، اس وقت ریاستی تشدد کا نشانہ بنی جب سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) کے اہلکاروں نے اس کے بھائی صادق بلوچ کو زبردستی کراچی کی ایک گلی سے اٹھا کر طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ بہن نے اپنے بھائی کو بچانے کے لیے اہلکاروں کے سامنے کھڑے ہو کر مزاحمت کی، چیخ و پکار کی اور انہیں روکا کہ وہ اس کے بھائی کو غیرقانونی طور پر نہ لے جائیں۔ لیکن اس کے جواب میں ان اہلکاروں نے، لاٹھیاں اور ڈنڈے برسائے اور ایک نہتی عورت کو زخمی کر دیا۔ یہ منظر بلوچستان کے ان سینکڑوں گھروں کی ہے جہاں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے ریاستی طاقت کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں، مگر بدلے میں صرف تشدد اور زخم پاتی ہیں۔ صادق بلوچ کی بہن پر کیا جانے والا یہ تشدد اس وسیع تر ریاستی جبر کی نمائندگی کرتا ہے جو بلوچوں پر روزانہ ڈھایا جا رہا ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو بغیر کسی مقدمے کے اغوا کر کے غائب کر دیا جاتا ہے۔ اکثر تو ان کی واپسی کی کوئی خبر بھی نہیں آتی، اور اگر آتی ہے تو وہ مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں۔ اس واقعے کی ایک اور سنگین پہلو یہ ہے کہ کیمروں کے سامنے ہونے والی یہ بربریت ریکارڈ بھی ہو گئی ورنہ بلوچستان کی پہاڑیوں اور دور دراز دیہاتوں میں ہونے والا تشدد تو دنیا کی آنکھ سے بالکل اوجھل رہتا ہے۔ انہی چند ریکارڈ ہونے والے واقعات کی بنیاد پر ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں: جب ریاست خود اپنے شہریوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرے، ان کے خاندانوں کو یرغمال بنائے اور ان کی عورتوں کو سڑکوں پر پیٹے، تو آخر بلوچ اپنے زخم کہاں لے کر جائیں؟ ریاست الزام لگاتی ہے کہ بلوچ ریاست مخالف ہیں، لیکن یہ سوال کوئی اٹھائے کہ ایک قوم جو نسلوں سے لاشیں دفناتی آئی ہو، جس کے نوجوان مسلسل اٹھائے جا رہے ہوں، جس کی عورتیں لاٹھیوں سے پیٹی جا رہی ہوں، وہ آخر کیسے خاموش رہ سکتی ہے؟

Sammi Deen Baloch

28,896 views • 1 year ago

کاش سندھ سرکار کو اس ماں کی دل دہلا دینے والی چیخیں سنائی دیں،آخر کب تک روشنیوں کا یہ شہر کرپشن اور نااہل حکمرانوں کے ہاتھوں اپنے بچوں کو یوں کھوتا رہے گا؟ کیا ان مسلط کردہ فارم 47 کے حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کے دلوں میں ذرا سا بھی خوفِ خدا باقی ہے؟ کمسن ابراہیم آج اس بدانتظامی اور بےحسی کی بھینٹ چڑھ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا، مگر اس کی ماں کو اس کا بیٹا کون واپس لا کر دے گا؟ سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن نے کراچی کو اس حد تک برباد کر دیا ہے کہ یہ شہر اب انسانوں کے رہنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، لاقانونیت، کرپشن، بھتہ خوری، ہر طرف مافیا کا راج، اور بے قابو ڈمپر روزانہ انسانی جانیں نوچ رہے ہیں،کراچی والوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے چاہ کر بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اگر اب بھی خاموشی برقرار رہی تو یہ بربادی صرف کراچی تک نہیں رہے گی بلکہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

Senator Allama Raja Nasir

64,128 views • 9 months ago

یہ نجم الدین خان ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، سابق صوبائی صدر اور سابق وفاقی وزیر، 75 برس کی عمر میں، جہاں لوگ آرام اور گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے ہیں، وہاں دیر بالا کے اس غیور فرزند کا جذبہ اور ہمت دیکھئے۔ انہوں نے اپنے علاقے میں امن و امان کے قیام، فتنہ الخوارج کے فتنے کو روکنے اور سیکیورٹی فورسز کی پشتیبانی کے لیے خود اپنے ہاتھوں میں بندوق اٹھا کر مورچہ سنبھال لیا ہے۔ دیر کی دھرتی اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے اس عمر میں فرنٹ لائن پر ایستادگی اور جرات کی ایسی مثال قائم کرنے پر تمغہِ امتیاز واقعی ان کا حق ہے۔ ان کا یہ عملی کردار اور بے باک جذبہ ان تمام مقامی منتخب نمائندوں، ایم این اے اور ایم پی ایز کے لیے اک آئینہ ہے جو اس مشکل وقت میں اپنے عوام کو تنہا چھوڑ کر میدان سے غائب ہو چکے ہیں۔ 75 سالہ نجم الدین خان کا یوں ہاتھ میں بندوق لیے اپنے قبائل اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ دیر کے حقیقی مشران کے لیے قوم اور ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور یہی وہ غیور قیادت ہے جو کسی بھی اعزاز اور تمغے کی واقعی حقدار ہے۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

82,046 views • 14 days ago

دریاؤں کے کناروں سے لیکر پہاڑوں کی چوٹی تک گلگت بلتستان کی زمین پر گلگت بلتستان کے عوام کا حق ۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خصوصی پیغام جاری کردیا گلگت بلتستان کے عوام کے حقِ ملکیت کا خواب پاکستان پیپلز پارٹی نے حقیقت میں بدل دیا۔ جو لوگ کہتے تھے کہ یہ ممکن نہیں، ہم نے تاریخی قانون سازی کے ذریعے 28 ہزار مربع کلومیٹر زمین کے مالکانہ حقوق کو قانونی تحفظ دیا اور ثابت کیا کہ عوام کے حقوق صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے محفوظ ہوتے ہیں۔ اب اگلا مرحلہ اس قانون پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ اس مقصد کے لیے گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مضبوط حکومت اور بھاری اکثریت ضروری ہے تاکہ حقِ ملکیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اگر کوئی دوسری جماعت آئی تو وہ یہ قانون اٹھا کر پھینک دے گی۔ ہمارا عزم ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی زمین کا حقیقی مالک بنایا جائے گا اور ان کے حقوق کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ 7 جون کو گھروں سے نکلیں، اپنے حقِ ملکیت، اپنے مستقبل اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تیر کے نشان پر مہر لگائیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائیں۔ Bilawal Bhutto Zardari #GBMainTeerChaleyGa

PPP

62,125 views • 2 months ago

حکومت نے جو 900 افراد کی جانب سے 198 ملاقاتوں کے اعداد و شمار دیے ہیں وہ مکمل طور پر گمراہ کن ہیں۔ 2023، 2024 اور 2025 کے ابتدائی حصے کے دوران، ہاں، مقدمات کی سماعتیں ہو رہی تھیں۔ مثال کے طور پر، 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی تھی۔ ان سماعتوں کے دوران 50، 60 یا 70 شریک ملزمان آتے تھے اور ہاں، مسٹر خان ان سے ملاقات کر سکتے تھے۔ لیکن اس مقدمے کی نوعیت بھی اس کے بعد سے یکسر تبدیل کر دی گئی ہے۔ اور عمران خان کو دیگر تمام شریک ملزمان سے الگ کر دیا گیا ہے اور ان کا مقدمہ اکیلے ویڈیو لنک پر چلایا جاتا۔ وہ جیل کی کوٹھڑی میں اکیلے بیٹھتے ان کے سامنے ایک موبائل فون، ایک سیلولر فون رکھ دیا جاتا ہے۔ کئی میل دور موجود متعلقہ جج کو ویڈیو کال کی جاتی ہے، اور عدالت میں جج محض اس موبائل فون کو اپنے سامنے رکھتا، جس کی اسکرین پر عمران خان کو جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا تھا، اور پھر ان کی حاضری لگا دی جاتی ہے کہ وہ عدالت میں موجود ہیں۔ یہ اس طریقۂ کار کی مضحکہ خیزی ہے جس کے تحت یہ مقدمہ چلایا جاتا رہا۔ چنانچہ عمران خان وہاں مکمل تنہائی میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ نہ اپنے وکلاء سے رابطہ کر سکتے ہیں، نہ یہ سن سکتے کہ ان کے خلاف گواہ کیا بیان دے رہے ہیں، اور نہ ہی وہ گواہوں کے بیانات کے حوالے سے اپنے وکلاء کو ہدایات دے سکتے ہیں کہ جرح کس طرح کی جائے۔ اس کے خلاف ہم نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے سامنے آئینی درخواستیں دائر کی ہیں۔ میں نے ایک درخواست دائر کی ہے اور مسٹر قاسم نے بھی ایک درخواست دائر کی ہے۔ لیکن ان درخواستوں میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ لہٰذا جس انداز میں عمران خان کا ٹرائل کیا گیا وہ منصفانہ قانونی عمل کے بنیادی تصور ہی کی نفی ہے۔ ایک شخص جیل کی کوٹھڑی میں اکیلا بیٹھا ہے، اس کے سامنے ایک موبائل فون رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے وکلاء سے بات نہیں کر سکتا، اسے معلوم نہیں کہ اس کے خلاف کیا گواہی دی جا رہی ہے، اور پھر آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹرائل ہے؟ کیا اسے ٹرائل کہا جا سکتا ہے؟ سلمان اکرم راجہ

PTI

29,958 views • 21 hours ago