Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پاکستان دنیا کا ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے، لیکن دنیا میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ ہم اس منصوبے کا حصہ بن گئے ہیں۔ نہ پارلیمنٹ میں اس پر کوئی بحث ہوئی، نہ عوام کو اعتماد میں لیا گیا، کسی سے مشاورت نہیں کی گئی اس بورڈ...

13,559 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

"پشتون بہت باوقار لوگ ہیں، بہت کشادہ دل رکھتے ہیں، درگزر کرنے والے ہیں۔ ایسا نہ بولیں، ایسا نہ بولیں۔ یہ بہت برا کام ہے، یہ بہت خطرناک کام ہے۔ اس حوالے سے میں نے بہت پختہ ارادہ کیا ہوا ہے۔ ​ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ کیوں لیتا ہے، مولوی صاحب؟ کیوں ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ لیتا ہے اور تلوار نکال کر وار کرتا ہے؟ یہ بہت برا کام ہے۔ یہ باتیں وہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس کو اتنا آسان مت سمجھیں کہ آپ نے کسی کو مار دیا اور وہ بھول جائیں گے۔ ​اس کا حساب ہم لیں گے، خدا کی قسم، انشاءاللہ الرحمٰن۔ ہم اس کا حساب لیں گے اور قرآن شریف کی رو سے لیں گے۔ پشتونوں کی روایات اور جرگہ کی رو سے لیں گے۔ عزیزان! ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، برا نہیں کریں گے۔ ہمارے ساتھ جو برا ہوا ہے ہم اسے معاف کر دیں گے۔ ہم کسی کے ساتھ برا نہیں کریں گے۔ ​لیکن اب ہم اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب ہم تمام پشتونوں کے مشورے سے آگے بڑھیں گے۔ تمام پشتونوں سے، یہ پشتونوں کے مشورے سے ہوگا۔ ہم تمام پشتونوں سے مشورہ کریں گے۔ پشتون ہر جگہ موجود ہیں۔ جنہوں نے گولیاں چلائی ہیں... ہم نہتے لوگ ہیں۔ ہم نہتے لوگ ہیں عزیزان! ​لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ہمیں ماریں گے اور پھر وہ ہمارے وطن پر حکمرانی کریں گے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کہ میرے وطن پر حکمرانی کرنے والا بھی بہادر ہو اور اگر میں نے اپنی باری نہ لی تو میں مسلمان بھی نہیں ہوں، میں پشتون بھی نہیں ہوں۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

33,198 views • 2 months ago

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 views • 2 years ago

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,527 views • 1 month ago

چراغِ حق جلانا اب ہواؤں میں ضروری ہے سلگتے اس چمن کو پھر بچانا اب ضروری ہے اور ہوائیں خوف کتنی ہی چلیں، پیچھے نہیں ہٹنا گھروں سے سوئے لوگوں کو جگانا ضروری ہے۔ اس ملک کو اسی سال میں عروج سے زوال کی طرف کون لے گیا ہے اور کون ذمہ دار ہے؟ پاکستان بنا کن امیدوں کے ساتھ؟ پاکستان میں تین طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام کے لیے بنا تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں معیشت کے لیے بنا تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں جمہوریت کے لیے بنا تھا۔ اسی سال میں ان تین میں کوئی چیز نظر آ رہی ہے؟ اسلام کی بات کرنے والے، وہ اسلام کے حوالے سے تشنگی محسوس کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ معاشی طور پر اپنی پسماندگی کا گلہ کر رہے ہیں۔ اور جمہوریت والے بیچارے، وہ تو ایسی گلی کوچوں میں رول رہے ہیں۔ کون ذمہ دار ہے اس کا؟ مقتدرہ ذمہ دار ہے، بیوروکریسی ذمہ دار ہے، جاگیردار ذمہ دار ہے، سرمایہ دار ذمہ دار ہے، سرکار ذمہ دار ہے۔ ان قوتوں نے میل ملاپ کے ساتھ قسم کھا رکھی ہے کہ اقتدار ہمارے قبضے میں ہوگا اور ہم کسی کو حکومت پر نہیں آنے دیں گے۔ مرضی چلے گی تو ہماری چلے گی، ہم کمائیں گے، ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ اور ہم نے بھی طے کیا ہے کہ ہم آپ کو بھی اس طرح حکومت نہیں چلنے دیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ضلع ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 05 ستمبر 2026

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,584 views • 22 days ago

بلّے کا نشان عمران خان کی نشانی ہے،ہم نظرِثانی درخواست دائر کریں گےاور بلّے کا نشان واپس لیں گے، ان شاءاللہ۔ ہمارے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئی ہیں، 175 سیاسی جماعتوں میں سے سب سے زیادہ بہترین انتخاب ہم نے کروایا جنہیں قبول نہ کیا گیا جو کہ سازش کا نتیجہ ہے۔ ہمیں عدلیہ اور ریاستی اداروں سےبہت شکوے اور شکایات ہیں لیکن ہم نےہمیشہ عدلیہ پر اعتماد کیا۔ میری درخواست ہے کہ اب یہ جھگڑا ختم ہونا چاہیئے۔ 8 فروری کو عوام کی آواز کا راستہ نہ روکا جائے۔ عوام کی آواز کا راستہ روکنے کی کوششوں اور شطرنج کی طرح حکومتیں بنانے سے ملک ہمیشہ تباہی کی طرف گیا۔ اس ملک کی معیشت، اس ملک کی نازک جمہوریت ایک اور تجربےکی متحمل نہیں ہوسکتی،برائےمہربانی عوام کو بولنے دیں۔عوام جو فیصلہ کریں گےہمیں منظورہوگا۔عوام پارلیمان بنائیں گے،عوام ہی حکومت بنائیں گے، عوام ہی حکومت کریں گے۔ عوام جسے منتخب کریں گے وہی حکمران ہوگا۔حکومت اور پارلیمان ہمارے کسی کے اشارے سے یا کسی ادارے کی مداخلت سے نہیں بنے گی۔ کارکنان 8 فروری کو بھی اس طرح صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں جیسے اب تک کرتے آئے ہیں۔عوام متحد رہیں، اپنے امیدواروں کے نشانات کو پہچانیں اور انھیں کامیاب کریں۔ یہ عمران خان کا وژن ہے جو جیل میں ہیں اور آپ میں سے ہر ایک نے ان کی غیر موجودگی میں عمران خان بن کر ان کا پیغام گھر گھر پہنچانا ہے۔ این اے-10 بونیر میں انتخابی مہم کے دوران جلسۂ عام سے خطاب!!

Barrister Gohar Khan

169,872 views • 2 years ago