Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پاکستان کا ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ، دشمن بوکھلاہٹ کا شکار بھارت کی گیدڑ بھبکیوں کےجواب میں پاکستان نے دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کر کے دشمن کو باز رہنے کی تنبیہ کی 3 مئی 2025 کو پاکستان نے جنگی مشق انڈس کے تحت ابدالی میزائل سسٹم کے کامیاب...

17,737 просмотров • 4 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

28 مئی یومِ تکبیر، پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع اور قومی وقار کی روشن علامت 28مئی 1998 پاکستان کی تاریخ میں تجدیدِ وفا اور قوم کی بقاء کا دن ہے 28 مئی کو بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے طاقت کا توازن بحال کر کے خطے میں نئی تاریخ رقم کی بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے بعد ہندوستانی قیادت کے جارحانہ عزائم نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا تھا عالمی دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت نے قومی سلامتی پر جراتمندانہ فیصلہ کیا 1998 کو بلوچستان کے ضلع چاغی میں کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان جوہری ریاست بن گیا 28 مئی 1998 کو پاکستان نے دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بن کر تاریخ رقم کر دی چاغی میں گونجتے اللہ اکبر کے نعروں نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی سالمیت اور خودمختاری پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کرے گا پاکستان کے ایٹمی پروگرام نے دشمن کی برتری کا غرور خاک میں ملا کر دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا یومِ تکبیر پاکستان کے خوددار فیصلے، قومی سلامتی اور ناقابلِ شکست دفاعی قوت کی روشن علامت ہے

Muhammad Hanzala

10,351 просмотров • 4 месяцев назад

آج کے on my radar کے vlog میں پہلی بار انکشاف ہورہا ہے کہ فروری 27 2019 پاکستان ائیر فورس کے ماہر پائلٹس نے انڈین ائیر فورس جیٹ آزاد جموں و کشمیر میں مار گرایا تو وزیر اعظم نریندر مودی کے national security advisor اجیت دوول نے پاکستان میں اس وقت کے ISI سربراہ جنرل عاصم منیر کو فون کیا اور پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکی تو جنرل عاصم منیر نے جواباً پاکستان کا اپنی پوری قوت سے بھارت کو تین گنا نقصان پہچانے کا وعدہ کیا اور جنگ کا خطرہ ٹل گیا پاکستان کے میزائل و نیوکلئیر پروگرام کی بھرپور معلومات رکھنے والے ماہر کا کہنا ہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام پاکستان و بھارت کے درمیان ایک no-war firewall ہے، جس نے اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان کم از کم 8 ممکنہ جنگوں کو روکا ہے۔ پاکستان کے حالیہ بیلسٹک میزائل تجربات پر امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے میزائل پروگرام میں اب امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے۔ اس بنیاد پر امریکہ نے پاکستان کے اسٹریٹجک ادارے اور تین نجی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔OMR کے اس وی لاگ میں ایک سینئر نیوکلیئر امور ماہر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں کہ پاکستان کا نیوکلیئر اور میزائل پروگرام صرف بھارت کے لیے ڈیٹرنس فراہم کرنے کے لیے ہے۔ یہ پروگرام جنوبی ایشیا میں جغرافیائی توازن اور امن کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔انکشافات سے بھرپور nukta Vlog دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئیے

Kamran Khan

55,006 просмотров • 1 год назад

پاکستان نے ہمیشہ دنیا کو حیران کیا ھے۔ دنیا میں SLBM آبدوز سے دشمن کو ایٹمی میزائل نشانہ بنانے کی صلاحیت صرف چھ ممالک کے پاس تھی اب الحمداللہ پاکستان یہ طاقت حاصل کر چکا ھے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کو باور کروایا تھا کہ پاکستان ذیر ذمیں اٹیمی تجربات کر رہا ہے۔ پاکستان نےسمندر کی گہراییون سے فائر ہونے والے بابر تھری کا کامیاب تجرب کر کےجنوبی ایشیا میں جنگ کے پورے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے، یہ کوئی عام ہتھیار نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ کا مرکزی ستون ہے، ایسا ہتھیار جسکی طاقت شور میں نہیں بلکہ خاموشی میں چھپی ہے، اور جس کا خوف حملے میں نہیں بلکہ اس کے جواب کے یقین میں ہے۔ بابر-3 ایک سب میرین لانچڈ کروز میزائل ہے، یعنی یہ زمین یا فضا سے نہیں بلکہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود آبدوز سے فائر ہوتا ہے، جہاں دشمن کی آنکھ، ریڈار اور سیٹلائٹ سب بے بس ہو جاتے ہیں، دشمن کو نہ آبدوز کی جگہ معلوم ہوتی ہے، نہ اس لمحے کا علم ہوتا ہے جب حملہ ہوگا، اور نہ ہی اس سمت کا اندازہ ہوتا ہے جہاں سے تباہی آئے گی، یہی غیر یقینی کیفیت دشمن کے لیے سب سے بڑا ڈر ہے۔ دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبدوز سے فائر ہونے والا نیوکلیئر میزائل کسی بھی ملک کی سب سے محفوظ اور مؤثر جوابی طاقت ہوتا ہے، کیونکہ دشمن زمینی اڈوں، فضائی بیسز اور میزائل سائٹس کو تو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا سکتا ہے، مگر سمندر کی تہہ میں چھپی آبدوز کو نہ ختم کر سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ بابر-3 کی رینج تقریباً 450 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، یہ کم بلندی پر پرواز کرتا ہے، ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کے قابل ہے، لیکن اس کی اصل خطرناکی اس کے دھماکے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ دشمن کبھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ پاکستان کا جوابی وار ختم ہو چکا ہے۔ اگر دشمن پہلا حملہ کرتا ہے اور یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے پاکستان کی طاقت کو مفلوج کر دیا ہے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں وہ سب سے بڑی غلطی کرتا ہے، کیونکہ بابر-3 کی موجودگی اس سوچ کو دفن کر دیتی ہے اور یہ واضح کر دیتی ہے کہ پاکستان حملے کے بعد بھی جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اسی صلاحیت کو فوجی زبان میں سیکنڈ اسٹرائیک کیپیبلٹی کہا جاتا ہے، دنیا کے تھنک ٹینکس اور دفاعی تجزیہ کار تسلیم کرتے ہیں کہ یہی صلاحیت کسی بھی ریاست کو ناقابلِ شکست ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے۔ دشمن ممالک کے میڈیا اور دفاعی حلقے کھل کر لکھتے ہیں کہ پاکستان نے بابر-3 کے ذریعے اپنی نیوکلیئر ڈیٹرنس کو مکمل کر لیا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس زمین، فضا اور سمندر تینوں سطحوں پر جوابی طاقت موجود ہے، اور یہی توازن جنگ کو روکنے کی سب سے بڑی ضمانت بنتا ہے۔ سادہ الفاظ میں بابر-3 حملہ کرنے کا ہتھیار نہیں بلکہ دشمن کو حملے سے باز رکھنے کا اعلان ہے، یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ جنگ شروع کرنا شاید آسان ہو، مگر اس کا انجام دشمن کے اختیار میں نہیں ہوگا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے بابر-3 کو دنیا کی نظر میں خطرناک، سنجیدہ اور فیصلہ کن ہتھیار بنا دیا ہے۔ #پاکستان_زندہ_باد🇵🇰

چوہدری شاہد محمود

21,855 просмотров • 8 месяцев назад