Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پاکستان کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی ساکھ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی دوروں پر میزبان ممالک میزبانی کے کیسے انتظامات کرتے ہیں۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار صاحب کی #UNGA اعلیٰ سطحی اجلاس کے لئے نیو یارک آمد...

73,115 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

اسلام آباد: 23 اپریل، 2026. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے انسانی خلائی مشن پر جانے والے پاکستانی خلا باز، خرم داؤد اور محمد ذیشان علی کی ملاقات ہوئی. اس موقع پر سپارکو کے خلاباز اتاشی حسنین افتخار بھی موجود تھے. ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی سید طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور چیئرمین سپارکو محمد یوسف خان نے شرکت کی. ملاقات میں چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ بھی شریک تھے. وزیرِ اعظم نے خلابازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں نوجوان خلا بازوں اور خلاباز اتاشی سے مل کر دلی مسرت ہوئی. آپکا خلائی مشن پر تحقیق کیلئے جانا پاکستان کیلئے ایک اہم سنگ میل اور مجھ سمیت پوری قوم کیلئے قابل فخر امر ہے. پر اعتماد ہوں کہ آپ پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب لکھنے جا رہے ہیں. آپ کی شبانہ روز محنت کی بدولت آپ نے یہ مقام حاصل کیا جو قابل ستائش ہے. چینی تعاون سے آپکا یہ سفر دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ کرے گا. وزیرِ اعظم نے چین کے سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلائی تحقیق میں پاکستان اور چین کے تعاون سے دونوں ممالک کی دوستی آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے ستاروں پر کمند ڈالنے کیلئے تیار ہے. چین کے سفیر نے وزیرِ اعظم کی گفتگو کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک کے خلائی تحقیق میں تعاون کو خوش آئند قرار دیا. خلابازوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیلئے خلاء میں تحقیق کے فرائض سر انجام دینا باعث عزت، منفرد اعزاز اور باعث افتخار ہے. محنت اور لگن سے قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے.

Prime Minister's Office

61,824 görüntüleme • 5 ay önce

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت دانش یونیورسٹی پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دانش یونیورسٹی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کے ذہین طلباء و طالبات کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی. دانش یونیورسٹی کے قیام میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اسکا نظام روایتی یونیورسٹیوں سے ہٹ کر اور بہترین رکھا جائے. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کی تعمیر کی معینہ مدت کے ساتھ منصوبے کی تفصیلات آئندہ دو ہفتوں میں مرتب کرکے پیش کی جائیں. دانش یونیورسٹی کے قیام کے پیچھے مرکزی محرکات میں سے اولین، غریب و متوسط طبقے کے طلباء و طالبات کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی ہے. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے آوٹ ریچ پروگرام میں اس عنصر کو کلیدی اہمیت دی جائے کہ معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کے بچوں کی اس کی آگہی اور رسائی یقینی بنائی جائے. اجلاس کو دانش یونیورسٹی کے بورڈ کی جانب سے بین الاقوامی معیار کی فیکلٹی اور تعمیر کے پلان اور مراحل پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی میں بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے ڈگری یافتہ عالمی شہرت کی حامل فیکلٹی کی تدریسی خدمات حاصل کی جائیں گی جسکے لئے فیکلٹی کے ساتھ ساتھ امریکہ کے معروف کالج کی خدمات حاصل کرنے کیلئے اقدامات حتمی مراحل میں ہیں. اجلاس کو فیکلٹی کی تفصیلات اور کالج کے ساتھ تدریسی نظام کے حوالے سے حالیہ مذاکرات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یونیورسٹی کی تعمیر بین الاقوامی سطح پر رائج اسٹیٹ آف دی آرٹ کیمپس ڈیزائن کے مطابق کی جائیگی جسکے لئے بڈنگ جلد کی جائیگی. اجلاس کو یونیورسٹی کا مجوزہ ڈیزائن و پلان بھی دکھایا گیا. اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، دانش یونیورسٹی کے بورڈ کے ارکان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

10,779 görüntüleme • 22 gün önce

اسلام آباد: 30 مارچ 2026۔ وزیراعظم کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثر، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں. مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے. اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ریلیف سے استفادے کیلئے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے روابط مربوط کئے جار ہے ہیں. وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فی الفور بند کیا. موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا. تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کرکے، بچت کے اقدمات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لائی گئی. ڈیجیٹل نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچائیں گے. عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا. پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے. وزیرِ اعظم اجلاس کو ایندھن کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز اور موجودہ اسٹاک پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو وزیرِ اعظم کے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر عملدرآمد اور سادگی مہم پر پیش رفت پر انٹیلیجینس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی بچت و سادگی مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے. ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود اور آئندہ کیلئے بھی انتظامات کئے جا رہے ہیں. اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی. بریفنگ. وزیرِ اعظم کی بچت مہم کے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے. ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے. اجلاس کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئیں. اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئیر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

19,777 görüntüleme • 5 ay önce

اسلام آباد: 27 اپریل 2026. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی و پراسیسنگ کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی اور انکی برآمدات میں اضافے کا عزم، وزیرِ اعظم نے ملک میں تین سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی. اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قیمتی پتھروں سمیت قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے. یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مقامی وسائل سے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے. معاون خصوصی ہارون اختر اور انکی ٹیم کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام میں شفافیت کے عنصر کو اہمیت دی جائے. وزیرِ اعظم نے پاکستانی قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت منصوبہ بندی کو سونپ دی. وزارت منصوبہ بندی جلد جامع لائحہ عمل مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی. اجلاس کو قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور کان کنی کے جدید طریقوں کو رائج کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور انہیں زیورات میں مزین کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے حکومت تین سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام عمل میں لارہی ہے. گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سینٹرز کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی. علاوہ ازیں اسلام آباد میں سینٹر کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی پر کام جاری ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ ان سینٹرز آف ایکسیلینس میں قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار کی پراسیسنگ کیلئے تربیت فراہم کی جائے گی. اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے. اس کے علاوہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے افرادی قوت کی تربیت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں. اجلاس کو قیمتی پتھروں کی کم سے کم ضیاع کے ساتھ کان کنی کے حوالے سے وزارت پیٹرولیم کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر اس حوالے اشتراکی منصوبوں کا اجراء کیا جارہا ہے. ایک ہزار لوگوں کو قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کان کنی کی تربیت بھی دی جارہی ہے. وزیرِ اعظم کو منصوبوں کے مراحل اور انکی تکمیل کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کی شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے وزرات منصوبہ بندی کو جامع لائحہ عمل مرتب کرکے جلد پیش کرنے کی ہدایت. اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

18,313 görüntüleme • 5 ay önce

"ایران پر حملہ ہوا اور اس کے بعد پورے خطے میں اس وقت جنگ کی صورتحال ہے، اس حوالے سے دنیا میں پیٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور قریباً 50 سے 70 فیصد مختلف پراڈکٹس میں اضافہ ہو چکا ہے۔ پرائم منسٹر صاحب نے ایک کمیٹی میری سربراہی میں قائم کی ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مجموعی طور پر جتنا کم سے کم بوجھ عوام تک منتقل کر سکتے ہیں، کریں۔ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ اپنے ساتھی ممالک کو ساتھ ملا کر اس وقت جو تنازع پیدا ہوا ہے اسے ڈی اسکیلیٹ کیا جائے۔ اس وقت عملی طور پر جنگ جیسی صورتحال ہے اور اس کو قابو میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف صاحب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور سے متعدد مرتبہ بات چیت کر چکے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اپنی افواج کے حوالے سے دیگر ممالک کے فوجی سربراہان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔" نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی نیوز کانفرنس

Government of Pakistan

52,984 görüntüleme • 6 ay önce

اسلام آباد: 13 اپریل 2026. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیرِ اعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطے کی صورتحال اور پاکستان کی امن کیلئے کوششوں کے حوالے سے گفتگو کی. وفاقی کابینہ نے اتفاقِ رائے سے قرارداد منظور کی جس کا متن مندرجہ ذیل ہے. "وفاقی کابینہ ربِ ذوالجلال کے حضور سجدہ شکر ادا کرتی ہے کہ اس نے وطن عزیز پاکستان کو موقع دیا کہ وہ خطے اور دنیا میں قیام امن کیلئے مرکزی ادا کرے. ہم ایران اور امریکہ کے درمیان ان تاریخ ساز امن مذاکرات کے انعقاد پر وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے معاونین کے ہمراہ انتھک لگن، محنت اور تدبر کے ساتھ دو متحارب فریقین کو اکٹھے بٹھا دیا اور تقریباً نصف صدی پر محیط تعطل کا خاتمہ کیا. وفاقی کابینہ بالخصوص نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شبانہ روز کوششوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جنہوں نے راتیں جاگ کر انتہائی احسن طریقے سے معاملات کو نبھایا. ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امن کے اس سفر میں انہیں کامیابیاں عطا فرمائے. بلاشبہ اقوام عالم کی تاریخ میں پاکستان کا یہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. ہماری دعا ہے کہ پاکستانی قیادت کی یہ پر خلوص کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور دنیا میں قیام امن کا باعث بنیں."

Prime Minister's Office

12,555 görüntüleme • 5 ay önce