正在加载视频...

视频加载失败

پاکستان کے جی ایس ٹی status کو برقرار رکھا جائے اگر reverse کیا گیا تو اس سے میرے ملک کے لوگوں کا نقصان ہو گا لیکن جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اس پر نوٹس لینا چاہیے۔ زلفی بخاری

104,473 次观看 • 4 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

💥ستائیسویں آئینی ترمیم مارشل لاء سے کہیں ذیادہ خطرناک ہے۔یہ جرنیلوں کی بادشاہت کا اعلان ہے ۔ 127 سالا پرانا برٹش انڈیا کا قانون مجسٹریٹ نظام آ جائے گا ۔ اسٹینٹ کمیشنر،ڈپٹی کمیشنر،اور کمیشنر کو اختیار ہو گا کہ،وہ ہم میں سے کسی کو بھی کسی بھی وجہ سے دو سال کے لیے قید کر سکے گا۔اور ہمارے پاس اپیل کا حق نہیں ہو گا۔ آرمی چیف کو ہٹانا ناممکن ہو گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر جو پریس کانفرنس کرتا ہے یہ چارج شیٹ بنا رہا ہے اس چارج شیٹ کے نام پر قومی مفاد کے نام پر کوئی بھی حکومت ختم۔اور آپ عدالت نہیں جا سکیں گے ۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات ختم بظاہر جو بھی الیکشن ہو لیکن منتخب نام اوپر سے آئیں گے اس ترمیم کے بعد صوبائی حقوق ختم۔ اس ترمیم کے بعد بنیادی انسانی حقوق ختم۔ اس ترمیم تنام سیاسی جماعتوں کو ملکر روکنا ہو گا مزاحمت کرنی ہوگی ۔اس ترمیم کے خلاف جو نقصان ہو گا وہ اس نقصان نمک کے برابر بھی نہیں ہے جو اس ترمیم کے بعد ہو گا اس جرنیلی بادشاہت کے خلاف آواز اٹھانی ہو گی ۔

Rodium-A

136,106 次观看 • 9 个月前

یہ شیعہ عالم علامہ شہنشاہ نقوی ہیں، جنہیں بظاہر ریاست کی خصوصی قربت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی سرزمین کو کسی پڑوسی اسلامی ملک کے خلاف استعمال کیا گیا تو پاکستان کا سنی اور شیعہ گھر میں نہیں بیٹھے گا، اور پھر پاکستان کے اندر امریکی مفادات کو نقصان پہنچانا ہم پر لازم اور ضروری ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کل کوئی دیوبندی مولوی افغانستان کے حوالے سے اسی طرح کی اشتعال انگیز گفتگو کرے تو کیا ریاست اسے بھی اسی طرح نظر انداز کرے گی؟ یا اس کے خلاف فوری کارروائی ہوگی؟ اگر ایسے بیانات پر بھی لگام نہیں دی جا سکتی تو پھر تحریک لبیک پاکستان کے خلاف سخت آپریشن کیوں کیا گیا تھا؟ کیا قانون اور ریاستی رِٹ سب کے لیے یکساں نہیں ہونی چاہیے؟ ریاست کو کم از کم اس بارے میں وضاحت کرنی چاہیے کہ اس ملک کو کس سمت لے جایا جا رہا ہے۔ اصول اور قانون اگر مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہوں گے تو سوالات تو اٹھیں گے۔ ہمیں اپنا مقصد بتا دیں، تاکہ کم از کم یہ سمجھنے میں ہمیں آزادی ہو کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

Sabookh Syed | Journalist

16,424 次观看 • 5 个月前

7 ستمبر 1974 تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا،پتہ نہیں پاکستان کے کچھ دانشوروں کو قادیانیوں کے حقوق یاد آجاتے ہیں، ہم سے زیادہ انسانی حقوق کوئی نہیں جانتا ہم انسان حقوق کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر صوفی محمد شریعت کی بات کرتا ہے اور آئین کا انکار کرتا ہے عدلیہ کا انکار کرتا ہے اور اس کے باوجود اس کو غدار قرار دیا جاتا ہے تو پھر قادیانی اگر آئین کا انکار کرتے ہیں عدالتوں کا انکار کرتے ہیں فیصلوں کا انکار کرتے ہیں تو انہیں انسانی حقوق کے حوالے سے نہیں سوچا جائے گا ملک اور آئین سے وفاداری کے ترازو میں تولا جائے گا اور کسی طریقے سے بھی ان کو ایسی مراعات دینے کا حق نہیں دیا جائے گا کہ جس سے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر سکیں 7 ستمبر 2024 کو اس تاریخ ساز فیصلے کو 50 سال پورے ہورہے ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام نے اس موقع پرمینار پاکستان لاہور پر یوم الفتح کے نام سے گولڈن جوبلی منانے کا اعلان کیا ہے، جس میں پوری قوم اور تمام مذہبی تنظیموں کو متحد کر کے ایک تاریخ ساز اجتماع منعقد کیا جائے گا۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

17,378 次观看 • 2 年前