正在加载视频...

视频加载失败

پاکستانی پائلٹس کا لیول چیک کریں👇 ایس 400 دنیا کا جدید ترین اور مہنگا دفاعی نظام ںے، جسے انڈیا نے 5.4 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔۔ انڈیا کے بعد ترکیہ نے امریکہ کے F35 طیاروں کو ٹھوکر مارتے ہوئے S400 خریدنے کو ترجیح دی تھی۔ کیونکہ امریکہ نے شرط...

50,477 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

سعید چوہدری کے مطابق غیر ملکی جریدے دی ٹیلیگراف تین بار آرٹیکل لکھ چکا ھے کہ طیاروں کی مارکیٹ میں جے ایف 17 تھنڈر اور رافیل میں مقابلہ شروع ہو چکا ھے۔ اور اسوقت پاکستان 16 ممالک کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر کی بات چیت کر رہا ھے جس میں کچھ ڈیل مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی ڈیل کے اعلانات ہونے باقی ہیں۔ کچھ دن پہلے پاکستانی وزیردفاع مراکش کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کے 40 طیاروں کی یادداشت پر سائن کر چکے ہیں۔ اسوقت جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی ڈیمانڈ بہت بڑھ چکی ھے کیونکہ پاکستان نے اس میں موڈیفکیشین کی ھے اسکو مذید جدید بنایا ھے۔ ان طیاروں کے استعمال ہونے والے میزائل/بم میں REK کٹ لگائی گئی ھے۔ جس سے عام بم بھی گائیڈڈ سمارٹ ویپئن میں تبدیل کر دیتا ھے اور پاکستان اس کا کامیاب تجربہ بھی کر چکا ھے۔ اس REK کٹ سے عام بم بھی اپنے نشانے پر جا کر لگا ھے۔۔ اس طیارے کی مانگ اس لئے بھی زیادہ ھے کیونکہ یہ جنگ میں آزمایا جا چکا ھے اور یہ طیارہ خود کو منوا چکا ھے۔ جبکہ رافیل عملی جنگ میں ناکام ہوا ھے۔ اور اسوقت صرف بھارت ہی رافیل کا گاہک بچا ھے، اور اسی سلسلے میں فرانس کا صدر خود انڈیا آ رہا ھے تاکہ رافیل کے مزید طیاروں کی ڈیل کی جا سکے۔۔ یعنی انڈین پائلٹس کی تربیت دیکھتے ہوئے اسے کوئی طیارے دینے کو تیار نہیں اور رافیل کو خریدار نہیں مل رھے۔ اس لئے یہ دونوں ملک اب آپس میں ہی یسو پنجو کھیلنا شروع ہو گے ہیں۔۔۔

چوہدری شاہد محمود

32,949 次观看 • 8 个月前

بہت ساروں کو شاید 17 اکتوبر 2023 کو ہارون حامد کے اس ایک گول کی پوری اہمیت نہ معلوم ہو۔ یہ گول پاکستانی فٹبال کی تاریخ کا سب سے ضروری گول سمجھنا چاہئے۔ اس نے پاکستان کو پہلی مرطبہ ایک ورلڈ کپ کوالیفیکیشن میچ تو جتوایا لیکن اس کی اصل اہمیت اسٹیڈیم سے باہر محسوس ہوئی. جب پاکستان کمبوڈیا کا ورلڈ کپ کوالیفائرز فرسٹ راؤنڈ کا دوسرا میچ جناح اسٹیڈیم اسلام آباد میں 17 اکتوبر 2023 کو ہونا تھا تو ماحول کافی گرم تھا۔ پہلے میچ میں پاکستان نے کمبوڈیا میں 0-0 ڈرا نکال لیا تھا تو کافی لوگوں میں امید تھی کہ پاکستان ہوم گراؤنڈ میں کچھ نکال سکتا ہے۔ کچھ لوگوں میں بےتابی بھی تھی کہ پاکستان نے اتنے سالوں سے لگاتار میچ ہار ہار کے اور پی ایف ایف کے سیاسی بحران میں نقصان اٹھانے سے شاید وہ قسمت کو اپنے ہاتھ میں نہ لے سکے۔ کچھ لوگ تو بلکہ یہ چاہ رہے تھے کہ پاکستان یہ میچ ہار ہی جائے کیونکہ ان کو اس ٹیم سے ہی نفرت تھی کہ اس میں اوورسیز پاکستانی کا ہونا ان کے اپنے مخصوص علاقے یا برادری کے فٹبالر کے خلاف “سازش” ہے۔ یہ حال ہے ہمارے لوکل فٹبال کے نام نہاد اسٹیک ہولڈرز کا۔ کئی کو لگا کہ چونکہ میچ منگل کی دوپہر شروع ہونا تھا تو شاید اسلام آباد کی عوام میچ دیکھنے آ ہی نہ سکے۔ نہ اس میچ کی کوئی خاص مارکیٹنگ ہوئی اور نہ ہمارے میڈیا نے اس اہم میچ کو پورا کوور کرنا چاہا۔ پورا پی ایف ایف اس میچ کے لئے اسلام آباد پہنچا ہو تھا۔ اللہ اللہ کرکے جناح اسٹیڈیم کو فیفأ اور اے ایف سی کی ریگولیشنز پر اس قابل کیا کہ وہ کم از کم پاکستان کا ہوم میچ ہوسٹ کرسکے۔ اس وقت کی پی ایف ایف فیفأ کی قائم کردہ نارملائزیشن کمیٹی چلا رہی تھی لیکن تب بھی فیڈریشن کی مشکلات بڑھتی ہی جارہیں تھی۔ کبھی پی ایف ایف پر اقتدار چاہنے والے اوپر سے حکومتی دباؤ لا کر جلدی فیڈریشن کے الیکشن انہی کے حق میں کروائیں تو کبھی فیڈریشن میں انہی ڈھڑوں کی سیاسی مداخلت کی وجہ سے فیفأ کی پاکستان فٹبال پر ۱۵ ماہ کا بین ہوا۔ اور کچھ نہیں تو پنجاب حکومت کو اچانک پی ایف ایف لاہور کی لیز اگریمنٹ پر سوال اٹھا کر اسی بلڈنگ پر خود قبضہ کرنے کی خواہش۔ بیچ میں ہماری فٹبال ٹیم کئی سالوں سے سرکاری مسئلوں کا شکار۔ اسی 17 اکتوبر کی صبح اطلاع ملی کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے پی ایف ایف کی غیر موجودگی میں پی ایف ایف ہاؤس کو پھر سے لیز اگریمنٹ کی مبینہ خلاف ورزی پر سیل کردیا۔ ہمارے بابو بھی بابو گردی سے بعض تو آتے نہیں۔ فیڈریشن کے اراکین کو چار چار کام ایک ساتھ کرنے پڑے۔ کمبوڈیا والے میچ کو ہونے دیں اور پنجاب حکومت سے منتیں کریں کہ خدارا وقت کی اہمیت تو دیکھیں۔ اس سب مسئلے سے پتہ چلا کہ اگر پنجاب حکومت نے پے ایف ایف ہاؤس واپس نہیں کیا تو شاید فیفأ پھر سے پاکستان پر بین لگوا دے, نارملائزیشن کمیٹی کو دباؤ میں آکر مستفی ہونا پڑے, اور شاید پاکستانی فٹبال اور بربادی کی راہ پکڑے. اب اس سب پریشان حالت میں یہ کمبوڈیا والا میچ اسلام آباد میں ہوا۔ تنگ ماحول تھا اور پاکستانی ٹیم پہلے ہاف میں کسی طریقے سے اسکور بغیر کسی گول کے برابر رکھا۔ دوسرے ہاف میں جب ہیڈ کوچ اسٹیفن کانسٹنٹائن نے ہارون حامد اور عبدالصمد ارشد کو بینچ سے اٹھا کر فیلڈ میں ڈالا تو لگا جیسے یہ کوئی اور ہی پاکستان ٹیم تھی۔ اٹیک پر اٹیک ہوئے اور بال آخر ہارون حامد نے وہ گول کرکے اسٹیڈیم میں 13 ہزار شائقین کی آوازیں بلند کیں۔ کمبوڈیا کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور فائنل وسل پر پاکستان نے تاریغ رقم کی اور تمام پلیئرز اور آفیشلز اور فینز جزبات میں آکے آب دیدہ ہوئے۔ اس گول کی وجہ سے فیڈریشن کی جان میں جان آئی۔ اب ورلڈ کپ کوالیفائرز کے سیکنڈ راؤنڈ میں پاکستان نے اپنی جگہ پکی کی۔ اس کی بدولت پی ایف ایف نے اب حکومت پر دباؤ ڈالا کہ پی ایف ایف ہاؤس واپس کریں۔ پاکستان فٹبال کی نئی جنریشن کے فینز نے بھی آواز بلند کی کہ خبردار اگر ہماری فٹبال ٹیم کو اور نقصان پہنچایا۔ میڈیا نے بھی اس اسٹوری پر کووریج شروع کی اور پنجاب ریونیو اتھارٹی نے کچھ دن بعد پی ایف ایف کو پوری بلڈنگ واپس دے دی۔ اب سوچیں۔ اگر ہارون حامد یہ گول نہ کرتا اور پاکستان یہ میچ ہی ہار کر آؤٹ ہوجاتا تو کیا کیا ہوسکتا تھا۔ حکومت کو اور دھڑوں کو تو کوئی پرواہ نہیں تھی کہ پاکستان پر بین لگے۔ فٹبال چلانا تو ویسے بھی کسی کو آتا نہیں لیکن سیاست کرنے میں ہر کوئی ماہر ہے۔ لیکن وہ گول ہوا۔ فینز نے پاکستان ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو اپنا سمجھا چاہے وہ جس مرزی نسل یا علاقے یا بیرون ملک سے ہوں۔ سیکنڈ راؤنڈ میں پاکستان نے ایشیا کی بڑی ٹیموں کا سامنا ہوا جب سعودی عرب، اردن، اور تاجکستان نے ہمیں ہماری اوقات ضرور دکھائی لیکن ایسے معاملات میں ان ٹیموں کے ساتھ صرف میچ ہی کھیلنا پاکستان فٹبال کے لئے بڑی بات تھی۔ اسی کے بعد ایشین کپ کوالیفائرز بھی کھیلے جب سیریا، میانمار اور افغانستان سے بھی مقابلہ ہوا۔ رزلٹ پھر بھی ہمارے حق میں نہیں آئے لیکن اگر وہ گول نہ ہوتا تو شاید کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ لیکن اس ایک گول کی وجہ سے کئی سالوں اور کئی دہائوں سے دھکے کھانے کے بعد اسی سال جون میں پاکستان ٹیم نے ایک انٹنیشنل ٹرافی اپنے نام کی جب مالدیپ میں چار ملکی ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ جیتا۔ اس ٹورنمنٹ کا ٹاپ اسکورر؟ ہارون حامد۔ اب آپ لوگوں کو اس 17 اکتوبر 2023 والے گول کی اہمیت ظاہر ہوئی ہوگی۔ جشن آزادی مبارک۔ پاکستان زندہ باد۔ تحریر علی احسن، ایڈیٹر فٹبال پاکستان داٹ کوم

FootballPakistan.com

22,135 次观看 • 1 个月前

ایک وقت تھا ہم مختلف ممالک کے پاس جاتے تھے اور انہیں JF 17 تھنڈر لینے کے لئے قائل کرتے تھے انکو اسکی خوبیاں بتاتے تھے۔ لیکن انڈیا سے جنگ کے بعد جب لوگوں نے اس طیارے کی کارکردگی خود دیکھ لی تو ہمیں کسی کو بتانا نہیں پر رہا بلکہ اس کے اتنے آرڈر مل رھے ہیں کہ جنہیں پورا کرنے میں بہت وقت درکار ھے۔ اور اس میں جو مین فیکٹر ھے وہ پاک، انڈیا جنگ کے بعد ہمارا فاتح ہونا تھا۔ یہ دنیا طاقتور اور فاتح ممالک کی طرف ہاتھ بڑھاتی ھے۔ دوبئی ائیر شو کے دوران پاک فضائیہ کے چیف ظہیر سدھو وہاں موجود تھے اور وہاں موجود بہت سارے ممالک کے وزیردفاع اور فضائیہ کے چیف ہمارے ائیر چیف ظہیر سدھو سے ملنا چاہتے تھے لیکن انکے پاس ملاقات کا وقت نہیں نکل رہا تھا۔ اور اسکی بڑی وجہ لوگ جے ایف 17 تھنڈر بارے زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے تھے، کیونکہ اب ہمیں لوگوں کو قائل کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ ہم جنگ میں جو ایکسپریمنٹ کر چکے ہیں ہمارے لئے وہی کافی ھے۔

چوہدری شاہد محمود

11,309 次观看 • 8 个月前

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 次观看 • 9 个月前

سنتے جائیے سر دھنتے جائیے ۔۔ پاکستانی تاریخ کا بھیانک سکینڈل ۔تحریر سے متفق ہوں تو شئیر کرتے جائیں شاید ارباب اختیار تک ہماری اواز پہنچ سکے ۔۔ 👇🏾 وہ بچی چینی بول رہی تھی۔ اسلام آباد کی جھگیوں میں۔ کوئی سکول نہیں۔ کوئی ٹیچر نہیں۔ تو پھر اس معصوم کم سن بچی نے یہ زبان کہاں سے سیکھی۔ جب کسی نے پوچھا تو اس نے معصومیت سے جواب دیا کہ چینی لوگ ہمارے علاقے میں آتے ہیں۔ ہمیشہ آتے ہیں۔ بس یہیں سے ایک ایسی کہانی شروع ہوتی ہے جو آپ کو اندر سے ہلا کر رکھ دے گی۔ یہ صرف ایک وائرل ویڈیو نہیں ہے۔ یہ ایک پوری تجارت کا چہرہ ہے۔ ایک ایسا کاروبار جہاں مال ہماری بیٹیاں ہیں۔ اس سب کی شروعات سمجھنے کے لیے چین جانا ضروری ہے۔ چین نے دہائیوں پہلے ایک بچہ پالیسی لاگو کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔ آج چین میں مردوں کی تعداد عورتوں سے کروڑوں زیادہ ہے اور جو لڑکیاں موجود ہیں وہ کسی بھی معمولی مرد سے شادی کرنے کو تیار نہیں۔ تو ان مردوں نے نظریں پھیریں اپنے پڑوسی ممالک کی طرف۔ پاکستان۔ بنگلہ دیش۔ میانمار۔ کمبوڈیا۔ پاکستان سب سے آسان ہدف تھا کیونکہ چین اور پاکستان کے سیاسی تعلقات بہت گہرے ہیں۔ سی پیک کے بعد یہاں چینی شہریوں کی آمدورفت اور بھی آسان ہو گئی۔ اس سے فائدہ اٹھایا گیا۔ بھرپور فائدہ۔ یہ لوگ کیسے کام کرتے تھے۔ پہلے ایک دلال آتا تھا۔ کبھی کسی فنکشن میں۔ کبھی گرجا گھر کے باہر۔ وہ غریب عیسائی خاندانوں کو نشانہ بناتا تھا۔ ان سے کہتا تھا کہ ایک امیر چینی تاجر نے آپ کی بیٹی کو پسند کیا ہے۔ کرسچن ہے۔ نیک آدمی ہے۔ بیٹی کی زندگی بدل جائے گی اور ہر ماہ آپ کو بھی پیسے آتے رہیں گے۔ غریب باپ نے سوچا کہ شاید یہی بیٹی کا مستقبل ہو۔ 2019 میں اسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیق نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم سے نکالی گئی ایک فہرست میں 600 سے زائد ایسی پاکستانی لڑکیوں کے نام تھے جن کا نکاح چینی مردوں سے ہوا تھا اور جو پھر واپس نہیں آئیں۔ ہر نام کے ساتھ شناختی نمبر۔ شوہر کا نام۔ نکاح کی تاریخ۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپریل 2019 میں خبردار کیا کہ یہ لڑکیاں چین میں جنسی غلامی کے خطرے میں ہیں۔ وہاں جا کر انہیں پتہ چلتا تھا کہ شوہر کرسچن نہیں ہے۔ اور جو وعدے کیے گئے تھے وہ سب جھوٹ تھے۔ انہیں چین کے دور دراز دیہی علاقوں میں قید کر دیا جاتا تھا جہاں پولیس کی رسائی نہیں ہوتی تھی۔ پھر انہیں مجبور کیا جاتا تھا اپنا جسم بیچنے کے لیے۔ ایک لڑکی کی قیمت اس بازار میں 65 ہزار ڈالر تک پہنچتی تھی۔ ماں باپ کو ملتے تھے صرف 1500 ڈالر۔ باقی سب دلالوں کی جیب میں جاتا تھا۔ ایف آئی اے نے ایکشن لیا۔ چھاپے مارے۔ 52 چینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن پھر وہی ہوا جو پاکستان میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ گواہ پیچھے ہٹ گئے۔ کوئی ڈرا کر۔ کوئی خریدا گیا۔ عدالت نے 31 چینی ملزمان کو بری کر دیا۔ جنہیں ضمانت ملی انہیں فوری ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ تحقیق کاروں پر دباؤ ڈالا گیا کیس بند کرنے کا۔ صحافیوں کو کہا گیا کم لکھو۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی محققہ مادیہ افضل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان نے انصاف کی بجائے چین سے اپنے تعلقات کو ترجیح دی۔ اور پھر دنیا کو لگا یہ سب بند ہو گیا۔ لیکن بند نہیں ہوا۔ مارچ 2025 میں ٹریبیون پر ایک خبر شائع ہوئی۔ ایف آئی اے نے ایک چینی شہری کو گرفتار کیا جو پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے بہانے اسمگل کر رہا تھا۔ متاثرہ خاتون نے بیان دیا کہ اسے اچھی نوکری اور شادی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اسی سال ایف آئی اے نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک اسمگلنگ نیٹ ورک کو اس وقت پکڑا جب وہ راولپنڈی سے خواتین کو چین روانہ کرنے والا تھا۔ کاغذات کا بغور جائزہ لینے پر حکام کو شک ہوا اور گرفتاریاں ہوئیں۔ چین کے سرکاری پراسیکیوٹر کے دفتر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے مارچ 2025 کے دوران 1546 افراد کو انسانی اسمگلنگ اور جعلی شادیوں کے جرائم میں گرفتار کیا گیا۔ یعنی یہ کوئی ماضی کی بات نہیں ہے۔ یہ آج بھی ہو رہا ہے۔ اب اس بچی کی ویڈیو کی طرف واپس آتے ہیں۔ وہ بچی جو اسلام آباد کی جھگی میں رہتی ہے اور روانی سے چینی بولتی ہے۔ وہ بچی جو کہتی ہے کہ یہ لوگ ہمارے یہاں ہمیشہ آتے ہیں۔ کیا یہ محض سیاحت ہے۔ کیا یہ محض کاروبار ہے۔ پاکستان کی حکومت کو 2019 میں بھی معلوم تھا۔ ایف آئی اے نے رپورٹ سیدھی وزیراعظم عمران خان کو بھیجی تھی جس میں 52 چینی شہریوں اور 20 پاکستانی ملزمان کی تفصیل تھی۔ پھر بھی کچھ نہیں بدلا۔ یہ خاموشی جرم ہے۔ اگر ہمارے اندر تھوڑی بھی غیرت باقی ہے تو اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔ اپنے حلقے میں بات کریں۔ اداروں کو بتائیں کہ پاکستان کے غریب علاقوں میں ایک ایسا کاروبار چل رہا ہے جہاں ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو تجارتی مال سمجھا جاتا

Saleem Speaks

20,104 次观看 • 4 个月前

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی نظام کا افتتاح کر دیا جس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد، پیشرفت اور نگرانی کو ٹریک کرنا ہے تاکہ خودکار احتسابی نظام کے ساتھ فیصلہ سازی کا عمل تیز ہو اور وزیراعظم کی ہدایات اور حکومتی پالیسیوں کا مؤثرنفاذ یقینی، بروقت اور معیاری بنایا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی جدید ترین ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام کے افتتاح کی تقریب آج وزیراعظم آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹریکنگ اور فیصلہ سازی کے نظام پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ آج کے بعد کوئی روایتی فائل نظام نہیں ہوگا، عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کو یقینی بنانے کے لئے اس نظام کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے اس نظام کی تیاری اور فعالیت کے لئے وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اس نظام کو اختیار کرتے ہوئے اس کے تحت امور سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب روایتی انداز میں فائلیں لے کر گھومنے کی ضرورت نہیں، تمام امور اس جدید نظام کے ذریعے نمٹائے جائیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احد خان چیمہ نے کہا کہ جدید طرز حکمرانی کے لئے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید نظام حکومتی فیصلوں میں شفافیت اور بروقت اقدامات کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کی روشنی میں فیصلہ سازی میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لائی جا رہی ہے، مؤثر پالیسی سازی اور ڈیٹا پر مبنی نتائج کے لئے یہ نظام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نظام میں تمام تقاضے پورے نہیں ہوتے تھے اور آؤٹ پٹ سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اس لئے ان خامیوں کو دور کرتے ہوئے یہ جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے، پرانے نظام میں کئی اقدامات اور عوامل موجود نہیں تھے جن کو اس نئے نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم آفس سسٹم سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماضی میں ڈیجیٹائزیشن کا آغاز کیا تھا جس کے بعد اب ہم ڈیجیٹل سے اے آئی کی طرف گامزن ہیں اور تمام شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی بروئے کار لا رہے ہیں، سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کو بھی ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیس طرز حکمرانی کی طرف جا رہے ہیں، وزیراعظم آفس سسٹم سے کارکردگی اور خود احتسابی کا عمل بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس جدید نظام کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے مطابق ’’وزیراعظم آفس سسٹم‘‘ (پی ایم او ایس) پاکستان کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا نظام ہے، یہ وزیراعظم آفس کا سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد وزیراعظم کے احکامات جاری ہونے سے لے کر ان پر عملدرآمد، ان کی تکمیل اور تکمیل کے بعد نگرانی تک تمام امور کی انجام دہی کا خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔ یہ نظام گورننس اور شفافیت کے لئے سنگ میل اور حکومت کی معاشی ترجیحات اور خدمات کی فراہمی کے ضمن میں انتہائی کارآمد ثابت ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے وزیراعظم کی طرف سے ان کے احکامات کی ڈیڈ لائنز کی نشاندہی اور انہیں اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور وزارتوں کی جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Prime Minister's Office

15,456 次观看 • 2 个月前

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,535 次观看 • 9 个月前

ہندوستان کے اتنے بڑے دفاعی سسٹم کو چار گھنٹوں میں تباہ کردیا گیا لیکن ملک میں موجود مسلح گروہوں کو پچھلے چالیس سال سے ختم نہیں کیا جاسکا،اس وقت پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے،پاکستان میں اگر کہیں کوئی رٹ ہے تو وہ مسلح لوگوں کی ہے تو پھر ہماری مسلح قوتیں کیا کر رہی ہے؟ اگر ان سے بات کی جائے تو کہتے ہیں ہم قربانیاں دے رہے ہیں آپ ہماری قربانیوں کو نہیں مانتے، جب آپ واقعی قربانی دیں گے تو ہم ایسے تسلیم کریں گے جیسے انڈیا کے مقابلے میں آپ نے چار گھنٹے قربانی دی اور ہم نے اس کو تسلیم کر لیا۔ اگر آپ عوام کے ووٹ چوری کرکے اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کریں گے اور عوام کو اس بات کا ادراک ہے کہ یہ الیکشن ہماری رائے کی مطابق نہیں، تو پھر جیسے فوج کو مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے تو عوام کو بھی اسلام آباد پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے،ہمیں عوام کے ساتھ اسلام آباد آنے پر مجبور نا کیا جائے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

43,449 次观看 • 1 年前

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,044 次观看 • 5 个月前

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 次观看 • 6 个月前

ایران نے امریکا کے 13 ارب ڈالر مالیت کے بحری بیڑے اور 3 ارب ڈالر کے جنگی بحری جہازوں کو تباہ کرنے والی سستی تیز رفتار لڑاکا جنگی کشتیاں تیار کرلیں - یہ کشتیاں جدید میزائلوں سے لیس ہیں- ان کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے - یہ امریکی جہازوں کے قریب جاکر کوئی بھی میزائل داغ کر فرار ہوسکتی ہیں - دلچسپ بات ان کشتیوں کی کثیر تعداد ہے- ایرانی ذرائع کے مطابق ایران نے اس طرز کی 1500 سے زائد کشتیوں کا ایک مکمل بیڑا بنایا ہے - اس بیڑے کو مچھر فلیٹ کا نام دیا گیا - سوارم ٹیکنالوجی یعنی جھنڈ یا غول کی طرح یہ امریکی بیڑے پر حملہ آور ہوسکتی ہیں - اس حکمت عملی سے امریکی ایئر ڈیفنس یا میزائل سسٹم زیادہ موثر کاروائی نہیں کرسکے گا - ایران نے حال ہی میں ان پر مختلف رینج کے میزائل نصب کرکے امریکی جہازوں کو تباہ کرنے کی مشقیں کی گئیں- یہ جدید کشتیاں 3 لاکھ ڈالر سے 10 لاکھ ڈالر میں اندازا تیار ہوتی ہیں جب کہ امریکی بیڑا 13 ارب ڈالر اور ایک ڈسٹرائر جہاز 3 سے 4 ارب ڈالر میں بنتا ہے - اگر ان کشتیوں نے کسی ایک بیڑے یا کسی ایک جہاز کو بھی نشانہ بنا دیا تو بہت بڑا نقصان امریکا کو اٹھانا پڑسکتا ہے-

Ghulam Nabi Madni

165,309 次观看 • 7 个月前