Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پروفیسر محمود اخترلیکچرر ویمن یونیورسٹی باغ جس آزادی یا خودمختاری کا مطالبہ کالعدم بھارتی ایکشن کمیٹی کرتی ہے وہ مجھے ہرگز قبول نہیں اگر کبھی کشمیر خودمختار بھی ہو جائے تو میں ایسے کشمیر میں رہنے کے بجائے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جھونپڑی بنا کر رہنا زیادہ...

12,075 views • 18 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 views • 1 month ago

کشمیر ایشو (حصہ اوّل) پہلے تو آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے جسکا پاکستان کیساتھ الحاق ہے ڈیفینس کرنسی اور خارجی معاملات حکومت پاکستان دیکھتی ہے داخلی اور دیگر معاملات مکمل حکومت کشمیر کے اپنے ہیں کشمیر کی عدلیہ سول انتظامیہ پولیس وغیرہ سب کا کشمیری ہونا لازم ہے کشمیر میں فوجی معاملات میں بھی حکومت کشمیر سے اجازت آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کشمیریوں کے شناخی کارڈ پر دو پرچم ہوتے ہیں ایک کشمیر کا دوسرا پاکستان کا 👆یہ میں مختصر خاکہ لکھ دیا اب آجائیے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں ہوا کیا؟ 👇👇👇 سب سے پہلی اور اہم بات یہ حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے باسی کشمیریوں کا مسئلہ ہے پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہ تو تھا اور نہ ہے بلکہ حکومت پاکستان نے یہ تمام معاملہ حل کروایا وزیزاعظم شہباز شریف نے اب ہم شروع کرتے ہیں کہ معاملہ ہے کیا؟ اور کب سے شروع ہے؟ معاملہ کشمیر میں مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر گذشتہ دو سال سے شروع ہے جو تاجروں نے شروع کیا اس تحریک کے بانی کہہ لیں روح رواں کہہ لیں شوکت نواز میر صاحب مرکزی انجمن تاجران مظفر آباد کے چئیرمین ہیں پہلے یہ تحریک مظفر آباد میں شروع ہوئی پھر روالا کوٹ اس میں شامل ہوا اور پھیلتے پھیلتے پورے کشمیر کے تاجر اس تحریک میں شامل ہو گئے اور اس پلیٹ فارم کو ”جموں و کشمیر تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی“ کا نام دے دیا گیا سب کشمیری تاجر اس پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے سو جو پہلے ہڑتالیں اپنے علاقوں یا شہروں میں ہو رہی تھیں وہ اب پورے کشمیر میں ایک ساتھ ہونے لگیں اور پھر اس تحریک میں سول سوسائٹی اور طلباء بھی شامل ہو گئے اور یہ پلیٹ فارم اب تاجروں سے آگے نکل کر سب کشمیریوں کا بن گیا یہاں یہ بات واضح رہے کہ دو سال سے جاری ان ہڑتالوں اور پہیہ جام میں کوئی گھیراؤ جلاؤ نہیں ہوا کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوا ایک گلملا بھی نہیں ٹوٹا آپکو بھی یاد ہوگا کہ آج سے 8 ماہ پہلے کشمیریوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا وہ اسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ جب تک بجلی سستی نہیں کیجاتی ہم بجلی کے بلز نہیں دیں گے اب حکومت کشمیر کے اپنے اعداد شمار کے مطابق پچھلے آٹھ مہینے سے 80% کشمیریوں نے بجلی کے بلز دینا بند کر دئیے جبکہ سو فیصد تاجروں نے بجلی کے بلز دینے بند کر دئیے دسمبر میں حکومت کشمیر نے مذاکرات کی کمیٹی بنائی اور عین حکومت والی کاروائی ڈالی مذاکرات مذاکرات مذاکرات تے کم دھلے دا نئیں حکومتی ہٹ دھری دیکھ کر اس تحریک نے جنوری میں اعلان کیا کہ 5 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاۓ گا 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے کشمیر حکومت نے 3 فروری کو اسلام آباد میں جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئیے اور دس مطالبات میں سے 7 مطالبات مان لئیے گئے یہ سات لوکل سطح کے چھوٹے معاملات تھے اور کہا گیا کہ ہم ابھی نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں اور تین اہم اور بڑے مطالبات پر مذید وقت مانگا گیا وہ تین مطالبات یہ تھے 👇👇👇 پہلا بجلی کی قیمت کم کی جاۓ دوسرا آٹا سستا کیا جاۓ ( براؤن آٹا، جو کھاتا ہی غریب ہے) تیسرا اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں 👆تین مطالبات پر جو ایک مہینے کا وقت مانگا گیا اُس میں بہانہ لگایا گیا کہ ان تین مطالبات کو پورا کرنے کے لئیے ہمیں پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہے پیسے دینا نگران سیٹ اپ کے اختیار میں نہیں پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن ہوجاۓ منتخب حکومت بن جاۓ تب ان معاملات پر حکومت پاکستان سے بات کر کے ہم یہ مطالبات حل کر دیں گے سو ہمیں ایک مہینے کا وقت دیں تحریک والوں نے 5 فروری کی احتجاج کی کال واپس لے لی پاکستان میں الیکشن ہوگئے منتخب حکومت بن گئی اور کشمیر حکومت وہی روائیتی ٹال مٹول کرتے ہوۓ مذاکرات سے بھاگتی رہی تاجران نے پریشر بڑھایا تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک یریس کانفرینس بلائی اور دھمکی آمیز بیان داغ دیا کلپ تھریڈ کے ساتھ لگا ہوا کہ سوشل میڈیا تے چاں چاں نہ کرو دم ہے تے بار نکلو اسی تُہانو نبڑ لواں گے یہ دھمکی وزراعظم دے گاٹے فٹ ہو گئی تحریک کا اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ 11 مئی کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوگا اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ پریس کانفرینس کی دوبارہ تڑیاں لگائیں اور ساتھ میں روائیتی گھسا پٹا ریکارڈ بجا دیا کہ جو کروا رہا ہے ہندوستان کروا رہا ہے اور کمیٹی والے غدار ہیں 😂😂😂 آج جمعہ ہے جمعہ کی تیاری کرنا ہے اسلئیے آج اتنا ہی تحریر ابھی باقی ہے کہ معاملہ ٹریگر کیسے ہوا؟ وہ اب کل جب آپ سب پڑھ لیں تو پراپیگنڈہ کرنے والے تو اپنی جگہ مگر انکے ڈھول پر ناچنے والے بیشرم اپنا گریبان ضرور جھانکئیے گا

کاشف چوہدری

27,471 views • 2 years ago

لامین یامال کی درد ناک کہانی!؟ صحافی نے لامین یامال سے پوچھا کہ صرف 18 سال کی عمر میں اسپین کی ٹیم کا دباؤ وہ کیسے سنبھالتے ہیں؟ لامین یامال نے جواب دیا: "میری والدہ نے مجھے صرف 16 سال کی عمر میں جنم دیا، وہ اصل دباؤ تھا۔ میرے والد پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں سے چیزیں چنتے تھے، وہ دباؤ تھا۔ مجھے تو صرف فٹبال کھیلنی ہے۔" یہ جواب ان کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرتا ہے، جس کے پیچھے ایک جذباتی ماضی چھپا ہے لامین کی پیدائش سے پہلے ان کے والدین کرایہ نہ دے سکے۔ دو پڑوسیوں، لامین اور یامال نے ان کی مدد کی۔ والد نے عہد کیا کہ بیٹے کا نام انہی محسنوں پر رکھیں گے۔ یہ نام ایک ایسے قرض کا ریکارڈ ہے جسے خاندان کبھی پیسوں سے ادا نہیں کر سکا۔ والدین کی علیحدگی کے بعد والدہ نے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں کام کر کے انہیں پالا۔ اسی نوکری کے دوران ان کی ملاقات "CF La Torreta" کلب کے کوآرڈینیٹر سے ہوئی، جنہوں نے لامین کی صلاحیت دیکھ کر فیس معاف کر دی۔ لامین نے بچپن میں والدین سے کہا تھا: "اگر میں عام نوکری کروں گا تو ہم مشکل میں رہیں گے، لیکن فٹبالر بن گیا تو آپ کو زندگی بھر فکر نہیں کرنی پڑے گی۔" انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں یہ وعدہ سچا کر دکھایا۔ لامین ہر گول کے بعد وہ انگلیوں سے 304 بناتے ہیں۔ یہ ان کے غریب محلے "روکافونڈا" کا پوسٹل کوڈ ہے، جہاں ان اجنبی پڑوسیوں نے ان کے خاندان کی مدد کی تھی۔آج، 19 سال کی عمر میں وہ دنیا کے سب سے بڑے فٹبال اسٹیج پر کھیل رہے ہیں۔ آج رات اگر وہ گول کرتے ہیں، تو اربوں اسکرینوں پر 304 کا اشارہ چمکے گا اور ان دو پڑوسیوں کے احسان کی گونج پوری دنیا سنے گی۔

ZEShan ⚫

37,434 views • 1 month ago

کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین #RightsMovementAJK کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔ ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب 6 جون 2026ء (مکمل خطاب سنئے 👇)

Altaf Hussain

11,172 views • 2 months ago

آپ میرے بڑے بھائیوں جیسے ہیں۔ اور ہمارے حسان کے والد محترم بھی۔ اس لئے آپ کا بے حد احترام۔ اب کیوں کہ آپ کے نزدیک عاصم منیر صاحب تقریبا اولیا اللہ سے بھی اوپر کا درجہ رکھتے ہیں تو ظاہر ہے وہ آپکی بات بھی سنتے ہوں گے۔ تو جیسے ہی میں پاکستان اتروں گا ان ولی اللہ صاحب کے احکامات پر جہاز کے زینے سے سیدھا زندان میں بند کر دیا جاؤں گا۔ اس کا عمران خان کو تو کوئی فاہدہ نہیں ہو سکے گا۔ ہاں جو میں آپکے ولی اللہ کی خدمت میں روز گستاخی کرتا ہوں۔ وہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ جو حسان نیازی کو ملٹری کورٹس کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرنے والے مسرت حلالی جیسے گھٹیا ججوں کا میں منہ کالا کرتا ہوں وہ ختم ہو جائے گا۔ عمران خان کا ارشد شریف کا بشری بی بی یاسمین راشد کا حسان نیازی کا ایک اور ہمدرد خاموش کروا دیا جائے گا۔ آپ جیسے دوست ہوں تو دشمن کی تلاش پھر کیوں۔ اور آخری بات کاش آپ نے ایسا ہی مشورہ اپنے پیارے نواز شریف کو بھی دیا ہوتا۔ مجھے لگا تھا آپ کا غصہ ختم ہو چکا ہو گا۔ لیکن ابھی بھی جوبن پر ہے۔ اللہ آپکے دل میں نرمی پیدا کرے۔ وسلام

Dr. Shahbaz GiLL

316,225 views • 9 days ago