Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پرویزخٹک اور محمود خان ایک نیب نوٹس کا سامنا بھی نہیں کرسکے۔ نیب نوٹس سے گھبرانے والے سن لیں کہ اے این پی نے گولیوں اور خودکش دھماکوں کا سامنا کیا ہے لیکن آج بھی میدان میں کھڑے ہیں۔ تھوڑی سی سختی کیا آئی، انکے لیڈر نے بالٹی سر...

11,214 просмотров • 3 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

سندھ ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کو سی ای او رفتار فرحان ملک اور پروڈیوسرحافظ منہاج افضل کیخلاف طاقت کے استعمال سے روک دیا جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس عبدالحمید بھرگڑی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے این سی سی آئی اے کے نوٹس سے متعلق درخواست پر فیصلہ سنایا این سی سی آئی اے نے پیپلزلائرز فورم کے طارق محمود خٹک کی شکایت پر فرحان ملک اور حافظ منہاج افضل کو 20 اگست کی طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے بدنیتی کی بنیاد پر جاری کیا گیا نوٹس قانون کے مطابق بھی نہیں ہے، پیشی کے موقع پر گرفتاری کا خدشہ ہے، وکیل رفتار معیز جعفری ایڈووکیٹ این سی سی آئی اے کےانویسٹی گیشن آفیسر طارق حسین نے جس شکایت کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا اس سے آگاہ ہی نہیں کیا ہے، وکیل رفتار معیز جعفری نوٹس اور شکایت میں یہ بھی نہیں بتایا گیا ہے کہ رفتار کی ڈاکیومینٹری کے کس حصے پر پیپلزلائرزفورم کے طارق محمود خٹک کو اعتراض ہے، وکیل رفتار معیز جعفری آئینی بینچ نے این سی سی آئی اے اور تفتیشی افسر سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی

Raftar

29,459 просмотров • 4 дней назад

جب کاٹلنگ ڈرون حملہ ہوا تو میں نے اسمبلی میں بے گناہ شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے حق میں تقریر کی اس دن سے مجھے ایجینسیوں کی طرف سے دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ اس کے بعد میں جب بھی اسمبلی میں یا کسی جلسے میں تقریر کرتا ہوں مجھے نیب، سائبر کرائم اور ایف آئی اے کی جانب سے نوٹس موصول ہوتے ہیں۔ میں نے ایفیڈیوٹ جمع کرایا ہے کہ نیب کے نوٹس میں جس پراپرٹی کا مجھ پر الزام ہے اگر وہ میری ثابت ہوجائے تو اس کو نیلام کرکے سوات کے یتیم بچوں اور بچیوں میں تقسیم کردیا جائے۔ جناب میں نوٹس پر نیب پیش ہوا تو وہاں کوئی افسر نہیں بلکہ ایک سولہ سالہ بچے نے انتہائی تضحیک آمیز انداز میں جیسے کہ میں مجرم ہوں مجھ سے تفتیش کی۔ میں نے اسے کہا کہ کیا نیب کے پاس کوئی ایسا میکنزم نہیں ہے کہ کسی کے شناختی کارڈ سے اس کی پراپرٹی چیک کر سکے سوات کا نظام آن لائن ہے میں تم کو چیک کر دیتا ہوں تم لوگ کیوں نہیں چیک کر سکتے؟ نیب کے قانون کے مطابق جھوٹی شکایت درج کرنے والے کے خلاف کاروائی ہوتی جب میں نے شکایت کرنے والے کا پوچھا تو بتانے سے انکار کیا گیا۔ پھر مجھے کہا گیا ڈاکٹر صاحب ہمیں اوپر سے ایجینسیوں کا پریشر ہے ہم اس لیے نوٹس بھیجتے۔ ڈاکٹر امجد خان کا خیبرپختونخوا اسمبلی میں خطاب

PTI

62,032 просмотров • 10 месяцев назад