Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پریشان جیا بیٹھا اے تینوں منسٹر دا کلپ نہ سنوا دیئے استاد بنڑن نوں کوسدا پھریں گے دل دل وچ بولدا پھریں گا از استاد متن: 25 سال سروس میں 20 سال استاد آیا ہی نہیں: مفت کی تنخواہ لیتا رہا پھر 102 سال پنشن چلتی رہی اور جاتے...

14,959 views • 1 year ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

استاد قمر جلالوی کی غزل اور منی بیگم کی خوبصورت آواز، ایسی غزلیں ایسے گلوکار اب بہت کم ملتے ہیں کیا حسین زمانہ تھا۔ ———————————— انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتے تمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دل سخت جان کو مسلتے مسلتے بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے ارادہ تھا ترک محبت کا لیکن فریب تبسم میں پھر آ گئے ہم ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے بس اب صبر کر رہرو راہ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے ادھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے ادھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارے قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دئے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے استاد قمر جلالوی

اردو ورثہ

12,497 views • 9 months ago

آج ایک خاتون لاہور چڑیا گھر گئیں تو انہوں نے یہ ویڈیو شئیر کی ۔ مجھے کراچی چڑیا گھر کی ہتھنی ,, نور جہاں ،، کی موت نہیں بھولتی اور وہ اس کے آخری دن ۔۔۔ ، وہ اٹھارہ سال قید تنہائی میں تڑپتی رہی ، اور پھر ایسی گری کہ کھڑی نہ ہوپائی ، اور وہ لاہور کی سوزی ! چھ سال کی عمر میں چڑیا گھر لائی گئی ، جس نے 35 سال دیکھنے والوں کا دل بہلایا مگر اس کا دل کوئی نہ بہلا سکا ، ڈپریشن کا شکار ہونے لگی ، ہفتوں سر جھکائے بھوکی رہتی اور عمر کے آخری سال دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کے مر گئی یعنی آزاد ہوگئی ۔ اور وہ لاہور Zoo کے ہی نایاب ببر شیر اور شیرنیاں ۔۔۔ فیری ، راول اور انجیلا ، اور ان کے بچے مصنوعی ماحول میں جینے کی کوشش میں۔۔۔۔ مرگئے ۔ میرے بس میں ہو تو کم ازکم پاکستان کے چڑیا گھر ختم کرادوں ، جس ملک میں انسانوں کی حالت قابل رحم ہو وہاں جانوروں کی ذمہ داری کوئی کیوں لے ؟ مجھے ان بےزبانوں کی حالت پر رحم آتا ہے ۔ کاش ۔۔۔ یہ چڑیا گھر نہ ہوتے ۔۔۔ نہ ہمیں پیسے بھر کو ان کو قید دیکھنے کی چاہ ہوتی ۔۔ اس ویڈیو میں ایک سفید چیتا بےچینی سے پنجرے کے اندر چکر لگا رہا ہے ، صاف نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاؤں میں کوئی مسئلہ ہے، شاید ہڈی ٹوٹی ہے، مگر تکلیف میں ہے ۔ بےچین ہے ۔۔ مجھے نہیں معلوم چڑیا گھر کی انتظامیہ کہاں ہے ۔۔۔ بس اتنا معلوم ہے یہ بھی ایک دن زندگی ہار جائے گا ۔ کاش یہ ویڈیو چیف منسٹر پنجاب تک پہنچ جائے ، کروڑوں کی ٹکٹوں پر چلنے والے یہ چڑیا گھر نہیں عقوبت خانے ہیں ، یہاں ہر پنجرے اور دیوار سے عجیب سی وحشت ٹپکتی ہے ۔۔ قید میں مرنے والے ہرجانور کی روح ، سلاخوں میں جینے والوں کو تسلی دیتی ہے کہ فکر نہ کرو ! کبھی مر گئے تو آزاد ہوجاو گے ۔ سوزی ، نور جہاں ، فیری ، راول اور انجیلا ۔۔۔ کی طرح 💔

Ch Asif Hamaiyon

118,664 views • 1 year ago

اداکارہ ریشم صاحبہ آپ کئی سال سے لنگر بنا کر غریبوں میں بانٹ رہی ہیں یہ عمل آپکے اور الله کے درمیان ہے اللہ تعالی اجر دے گا، آپ نے چیخ چیخ کر ان غریبوں کو روٹیاں بغلوں میں چھپا کر لے جانے کا طعنہ تو دے لیا مگر کبھی آپ نے سوچا کہ آپ 40 سال سے جس جماعت کو کٹر لیگی بن کر سپورٹ کر رہی ہیں یہ یہ ان کی ہی مہربانی ہے؟ آپکو لگتا ہے کہ کسی کو شوق ہے روٹی بغل میں چھپانے کا؟ آپ عظمیٰ بخاری کو پیر و مرشد سمجھتی ہیں مریم نواز کو استاد کہتی ہیں نواز شریف کی بہت بڑی مداح ہیں تو ذرا جواب دیں اس معصوم سے سوال کا کہ جب 40 سال اور 8 مرتبہ وزارتوں پر رہنے والا خاندان کھرب پتی بن گیا ان کے نوکر تک کروڑوں کے بنگلے گاڑیاں بنا گئے تو وہاں غریب روٹی بغل میں نہ چھپائے تو کیا کرے، میں نے پہلے عرض کی آپکے لنگر بانٹنے کا معاملہ خاص الله اور آپکے بیچ ہے الله آپکو اس کا اجر دے لیکن یہ نوبت کیوں ہے کہ ریشم 40 سال سے 2 نسلوں میں لنگر بانٹ رہی ہے یہ نسلیں بدل کیوں نہیں پا رہیں، یہ غربت مٹ کیوں نہیں رہی کون کھا گیا اس قوم کا پیسہ کون ان کی ہڈیوں سے گودا نکال رہا کون 60 فیصد ان کی کمائی کھا رہا ہے یہ غریب آج بھی غریب سے غریب تر کیوں ہوتا چلا جا رہا ہے.؟

Aamir Gujjar

70,406 views • 2 months ago

مریم نواز کی ترقی کا اصل چہرہ مریم نواز شریف صاحبہ کل ترقی کی بات کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ ایک صوبے میں سترہ سال حکومت کرنے والے بھی کچھ نہیں کر سکے۔ تو آئیے، ہم آپ کو بھی مریم نواز شریف صاحبہ کی ترقی کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔ لاہور کے تھانوں میں خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات اور قتل کے کیسز—کیا یہ مریم نواز کی پنجاب میں ترقی ہے؟ لاہور میں چند منٹ کی بارش کے بعد انڈر پاسز پانی سے بھر جاتے ہیں۔ پورے پنجاب کا بجٹ خرچ کرکے سڑکیں تو بنائی جا رہی ہیں، لیکن نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہ کیسی ترقی ہے کہ بارش ہوتے ہی لاہور کے شہری مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ اب ذرا جنوبی پنجاب کی طرف چلتے ہیں، جس کی حکمران مریم نواز شریف ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں جنوبی پنجاب کے لوگ بہتر اور مفت علاج کی سہولت کے لیے پنجاب سے باہر سندھ کا رخ کرتے ہیں، جہاں سکھر، گمبٹ اور دیگر شہروں میں NICVD، SIUT اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے دل، گردوں اور جگر کے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے ہی صوبے میں ایسی معیاری اور مفت طبی سہولیات کیوں میسر نہیں؟ اگر ایک مریض کو علاج کے لیے پنجاب چھوڑ کر سندھ جانا پڑے تو یہ پنجاب کی ترقی کا ثبوت ہے یا ناکامی کا؟ سندھ میں عوام کو دل، گردوں اور جگر کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں، جبکہ پنجاب کے عوام آج بھی ان بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ، صرف سڑکیں اور دعوے ترقی نہیں ہوتے۔ ترقی وہ ہے جس میں شہری محفوظ ہوں، خواتین کو انصاف ملے، لاہور بارش میں ڈوبے نہیں اور جنوبی پنجاب کے عوام کو علاج کے لیے سندھ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ یہ ہے وہ ترقی جس کا جواب پنجاب کے عوام مانگ رہے ہیں۔ احمد رحمان گھمن ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، لاہور Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb Faisal Mir

Ahmad Ghuman

56,467 views • 13 days ago

جب تک سب مل کے نہیں بیٹھیں گے اور مسائل کا حل نہیں نکالیں گے ہم دائرے کا سفر کرتے رہیں گے دائرے کا سفر ختم ہونا چاہیے، پاکستان کو آگے جانا چاہیے پاکستانیوں کا مقدر بھوک اور غربت اور ناانصافی نہیں ہے مختلف مواقع پہ انصاف کے نام پہ یا تو دھوکہ دیا گیا ہے یا انصاف دیا ہی نہیں گیا لوگ حکومت میں بغیر تیاری کے آ جاتے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ادارے چلانے کا میکنزم کیا ہے آپ بیٹیوں، بچیوں اور بہنوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب بھی فیصلہ کریں جذبات میں آ کر نہ کریں، سوچ سمجھ کے فیصلہ کریں وقت آنا چاہیے کہ ہمیں ائی ایم ایف کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں جب آپ پیسے مانگنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں چلے جائیں اپنے سے سو گنا چھوٹے ملکوں کے آگے جا کے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو اچھا نہیں لگتا پھر ہم کہتے ہیں کہ گرین پاسپورٹ کی عزت نہیں ہے، جب ہم پیسے مانگیں گے، خیرات مانگیں گے تو کون ہماری عزت کرے گا؟ یہ درسگاہ صرف ٹیکسٹ بک کے لیے نہیں ہے یہ آپ کی گرومنگ اور روحانی نشونما کی درس گاہ ہے آپ کے اساتذہ کے لیے ذمہ داریاں ہیں کہ وہ آپ کو اس طریقے سے تیار کریں کہ آپ جہاں رہیں میرٹ پر کام کریں میں نے بھی زندگی میں بہت قیمت ادا کی ہے لیکن ہر مشکل سے آپ نکل ہی آتے ہیں، اگر مشکل آتی ہے تو اس کے بعد آسانی بھی آ جائے گی ریل حادثہ ہمارے کم وسائل کا شاخسانہ ہے، ہم اس کو انویسٹیگیٹ کر رہے ہیں چائنیز کے ساتھ ایم ایل ون کا ہمارا فیصلہ ہو گیا ہے فیصلہ تو ہم 2018 میں کر گئے تھے مگر پھر سب کچھ بی فریزر میں چلا گیا یہ میں نے ڈنکے کی چوٹ میں سب کو بتایا ہے کہ پی آئی اے کو بدلنا پڑے گا اور ویسے ہی بدلنا پڑے گا جیسے دنیا میں باقی ایئر لائن کو بدلا گیا ہے آج پی آئی اے کی حالت بری ہو گئی ہے کیونکہ اس میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور میرٹ کی بنیاد پر کام نہیں کیا گیا اسلام آباد کا ایئرپورٹ ہم 15 سال کے لیے آؤٹ سورس کریں گے یہ اسلام آباد کا ایئرپورٹ جوخالی ایئرپورٹ نظر آتا ہے یہ بھرا ہوا ایئرپورٹ ہوگا، دنیا بھر کے برانڈز اس کے اند ر ہونگے اور اس کی کپیسٹی 90 لاکھ سے ایک کروڑ 30 لاکھ پہ چلی جائے گی یہ چند چیزیں جو میری ذمہ داری تھی میں نے سمجھا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف مایوسی کی بات ہے بہت سے کام ہیں جو ہو رہے ہوتے ہیں لیکن لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا

Khawaja Saad Rafique

40,146 views • 3 years ago

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی مداخلت پر القادر ٹرسٹ کیس میں ہوئی۔ مجھے ہدایت دی گئی کہ میں عمران خان سے ملاقات کروں ،میں القادر ٹرسٹ کیس میں میاں بیوی دونوں کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ میں آپ کو بتا دوں کہ اس فیصلے میں سزائے موت یا عمر قید شامل نہیں ہے۔ یہ 14 سال کی سزا ہے ایسے کیس میں جہاں ایک روپے کی بھی مالی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔۔ سوال یہ ہے کہ جرم کیا ہے؟سابق وزیراعظم ہیں، اور ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔میں نے فیصلہ پڑھا ہے۔ ہم قانون سے بخوبی واقف ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 73 تنہائی قید کی اجازت دیتی ہے لیکن آپ حیران ہوں گے۔میرا 25 سال کا تجربہ ہے، میں نے ہزاروں قتل کے کیسز دیکھے ہیں، لیکن میں نے کبھی اس طرح کی تنہائی قید نہیں دیکھی، حتیٰ کہ دہشت گردی کے کیسز میں بھی نہیں۔جیلوں میں ایک نظام ہوتا ہے۔ کچھ قیدیوں کو وقتی طور پر الگ رکھا جاتا ہے، چند گھنٹوں یا دنوں کے لیے، لیکن ایسا سلوک 74 سالہ خاتون کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔اس ملاقات میں عمران خان بار بار ایک ہی بات کرتے رہے کہ یہ تنہائی قید ان کے لیے اور ان کی اہلیہ کے لیے اذیت ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وکلاء تک رسائی نہیں، خاندان سے ملاقات نہیں، ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت نہیں، ٹی وی نہیں، کتابیں نہیں، پڑھنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ دیواریں دیکھنے تک کی آزادی نہیں۔وہ بار بار یہی بات دہراتے رہے کہ یہ قید کتنی تکلیف دہ ہے اور کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔جب میں نے القادر ٹرسٹ کا فیصلہ پڑھا تو جیل سپرنٹنڈنٹ جو سزا دے رہا ہے وہ فیصلے میں درج ہی نہیں۔ کیا یہ حیران کن اور تشویشناک نہیں؟یہ انتہائی سخت سزا ہے، جو نہ صرف غیر ضروری بلکہ غیر منصفانہ اور قابل مذمت ہے۔مزید یہ کہ ان کی ضمانت بھی نہیں سنی جا رہی۔ ہم بار بار اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی سنگین اور پریشان کن ہے۔عمران خان اور ان کی اہلیہ کی تنہائی قید کو فوری طور پر ختم کیا جائے، یہی ہماری اولین ترجیح ہے۔ عمران خان اپنے کیسز لڑ رہے ہیں اور قانونی طریقہ کار کے مطابق انصاف چاہتے ہیں۔ہم آئین کے آرٹیکل 10A اور منصفانہ ٹرائل کی بات کرتے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے حالات میں آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔میں 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، لیکن یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے بایومیٹرک روم سے گرفتار کیا گیا۔ اور اب انہیں مسلسل مختلف کیسز میں قید رکھا جا رہا ہے، نہ اپیل سنی جا رہی ہے نہ ضمانت، اور انہیں تنہائی قید میں رکھا گیا ہے۔عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ یہ قید اذیت ناک ہے اور بار بار اس پر زور دیا۔سلمان صفدر

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

48,309 views • 4 months ago

آج پہلے فرید قریشی ، اسد ملک اور مغل نے سلمان اکرم راجہ کی میڈیا ٹاک میں مجھے ناصرف کارنر کرنے کی کوشش کی بلکہ میرے سوال پوچھتے وقت بولنا شروع کر دیتے تھے پھر جب لاسٹ میں میں سوال کرنے کی کوشش کی تو بھی مرزا اخلاق سے نعرے لگوا کر مجھے روکنے کی کوشش کی میں نہایت صبر کیساتھ سب برداشت کیا اور تحمل کیساتھ برداشت کرتے ہوئے سوال پوچھ کر دم لیا پھر سب میڈیا والے نیچے چلے گئے اور مرزا اخلاق بھی نیچے پہنچ گیا ان سب کیساتھ بیٹھ کر اظہر جاوید کو برا کہا گیا اور تحریک انصاف کے کارکن مرزا اخلاق نے اظہر جاوید کی والدہ کو گالیاں دیں مجھ سے برداشت نہیں ہوا اسی وقت اظہر جاوید کو فون کر کے بتایا کہ آپکی والدہ کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور رپوٹرز بیٹھ کر سن رہے ہیں کیونکہ میں سب کے سامنے اظہر جاوید کو فون کر کے بتا رہی تھی اسکے بعد شوکت ڈار اتے ہیں میں ہم لوگ باہر چلے جاتے ہیں میں جب دوبارہ ریسٹورینٹ میں داخل ہوتی ہوں یہ لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے اور میں شوکت ڈار صاحب سے کہا کہ میں ٹویٹ کرنے لگی ہوں کہ ہزار سور ملکر بھی شیر کو نہیں ڈرا سکتے اتنے میں اس ملک نے شوکت ڈار کو مجھے گالی دیتے ہوئے کہا اسے کہیں اپنا منہ بند کر لے میں نے کہا تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی میں تمہیں سور نہیں کہہ رہی اسکے بعد اس نے گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ میں چغل خور ہوں اور پھر میں نے بھی گالیوں کے جواب میں گالیاں ہی دیں اس نے مجھے دھمکی دی کہ تم مجھے جانتی نہیں ہو ہم تمہارے گھر ائیں گے خیر میں ایسے گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والی نہیں جو شخص اپنے گھر کی عورتوں پر تشدد کرنے کا عادی ہو اسکا مطلب یہ نہیں کہ باہر بھی گالی دے گا سن لی جائے گی میں نے پولیس میں ان لوگوں کے خلاف رپورٹ کروا دی ہے فرید قریشی کے خلاف پہلے ہی پولیس میں کمپلئین ہیں آج دوسرے گینگ ممبرز کا بھی اضافہ ہو گیا ہے میں نے ARY اور Hum والوں کو شکایات کیں تھیںیہ سلسلہ پچھلے ایک سال سے جاری ہے جان بوجھ کر تحریک انصاف کے لوگوں کو میرے خلاف چھوڑا جاتا ہے اور کئی مرتبہ جانی نقصان بھی پہنچانے کی کوشش کی گئی ایسڈ اٹیک تک کروایا گیا لیکن میں نا تب ڈری تھی نا اب ڈروں گی کوئی مرد اٹھے اور مجھے گالی یا میری ماں کو گالی دے گا میں اس سے ڈبل گالی اسکی گھر کی عورتوں کو دونگی اور جتنی چیخیں مارنی ہے مار گالی تو ڈبل ہی ملے گی

Safina Khan

60,764 views • 1 year ago

مجھے احساس ہے اس بات کا کہ وہ بھی میرا خون ہے۔ چند ہفتے پہلے وانا میں آپ کے پورے قلعے کو اڑا دیا گیا، جس میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے۔ کل بنوں میں ہونے والے ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا۔ جتنے بھی وہاں سپاہی تھے، وہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اور آج تمام شہر اور علاقے کے تھانوں کی پولیس اپنے اپنے تھانوں کو چھوڑ کر پولیس لائن میں آ کر جمع ہو گئی ہے۔ جو مقامات ہمارے تحفظ کے لیے تھے، آج ان کو خود تحفظ حاصل نہیں۔ کس کے پاس جائیں؟ ہم روایتی لوگ ہیں۔ اگر میں غم کے اندھیروں میں کھڑا ہوں، اگر میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں، اور ہر طرف میرا خون بہہ رہا ہو، تو ایسے ماحول میں کم از کم میں جشن نہیں منا سکتا۔ بڑا دل ہے، ہر طرف خون بکھرا ہوا ہے، زندگیاں غیر محفوظ ہیں، اور ساتھ ساتھ جشن بھی منایا جا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ہم نے یہاں بڑے بڑے واقعات دیکھے ہیں۔ مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ میں روز مرہ کی بات کر رہا ہوں۔ پورے سال کے تعلیمی دور میں وہ ہر روز اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ بیک وقت ایک مدرسے میں تیرہ سو اور دوسرے مدرسے میں پندرہ سو طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں شہادت کے لباس میں دفن کیا گیا۔ تو مجھے فیض کا یہ شعر یاد آیا: کہ اپنے سر پر کفن کو ذرا ٹیڑھا رکھو تاکہ دشمن کو یہ گمان نہ ہو کہ میں غرورِ عشق کی بانکپن کھو چکا ہوں۔ وہ زندہ ہے، تمام شہداء زندہ ہیں۔ میرے اداروں کے نوجوان اگر جا رہے ہیں تو وہ اپنا خون اپنی مٹی کے حوالے کر رہے ہیں، اپنی جان مٹی کے حوالے کر رہے ہیں۔ تو ہماری پالیسیاں کہاں ہیں؟ امن و امان نہ ہو تو کاروبار کہاں ہوگا؟ آج میرے علاقوں میں، جناب اسپیکر، توجہ سے سن لیجیے، کوئی حکومتی رٹ موجود نہیں۔ دیہاتوں میں، مسجدوں کے اندر مسلح لوگ، بیٹھکوں میں مسلح لوگ۔ عام آدمی اپنے بچے کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، لیکن قوم کو نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہے۔ میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا ہوں، ٹانک میرا علاقہ ہے، لکی مروت میرا علاقہ ہے، بنوں میرا علاقہ ہے۔ میں ان علاقوں سے ووٹ لیتا رہا ہوں، ان علاقوں نے بار بار مجھے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ یہ میرے آنکھوں کے سامنے کے علاقے ہیں۔ ہمارا کوئی سپاہی محفوظ نہیں، کوئی شہری محفوظ نہیں۔ ایک ہی گاؤں میں چھٹی پر آیا ہوا نوجوان صبح لے جایا گیا، صحرا میں اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی گاؤں سے ظہر کے بعد دوسرے شخص کو لے جایا گیا اور مغرب سے پہلے اس کی لاش آ گئی۔ اس طرح ہماری جانیں آسان ہو گئی ہیں، اس طرح ہمارا خون سستا ہو گیا ہے۔ آپ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائیں، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں میرا خون کتنا سستا ہو چکا ہے۔ کبھی احساس ہے ہمیں اس بات کا؟ جب میں نہ ملک کے لیے، نہ امن و امان کے لیے، نہ شہری کی حفاظت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، نہ معیشت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، تو پھر حکومت تو نہ رہی۔ حکومت کے تو دو ہی کام ہوتے ہیں: لوگوں کی معیشت کو بہتر کرنا اور لوگوں کی جان و مال اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا۔ نہ ہم لوگوں کو معیشت دے رہے ہیں اور نہ جان و مال کا تحفظ دے رہے ہیں۔ اس بات کا بھی نوٹس لیا جائے کہ جب بجٹ پاس ہوتا ہے اور کسی بھی اسکیم کے ٹینڈر آتے ہیں تو ٹھیکیدار کو سائٹ پر جانے سے پہلے پورے ٹینڈر کے پیسے کا دس فیصد دینا پڑتا ہے۔ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم پھر بھی ان علاقوں میں جاتے ہیں، ان گاؤں میں جاتے ہیں اور وہاں کس ماحول میں ہوتے ہیں؟ اب تو لوگوں نے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے نوٹیبل لوگ بھی اب غمی خوشی اسلام آباد تک محدود ہو گئے ہیں۔ اور اگر کوئی عام آدمی گاڑی میں جا رہا ہو یا درس حدیث دے رہا ہو تو اسے شہید کر دیا جاتا ہے، جیسے مرغی کو بھی اتنی آسانی سے ذبح نہیں کیا جاتا۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

34,824 views • 3 months ago

#پشتون مجھ سے کہہ رھے ھیں کہ آپ بلوچوں کو اتنا سراہ رہی ھے اور پشتونوں کو ترغیب دے رھی تو کیا آپ وطن کے لئے خود فدائ بننے کے لئے تیار ھے۔ #بلوچ اور پشتون میں واضح فرق ھے، پشتون پارلیمنٹ کے ہر کونے میں بیٹھا ہوا ھے یہاں تک کہ بلوچستان کا نمائندہ بھی بنتا رہا ھے، فوج اور ایف سی میں الگ دم ہلا رہا ھے اور سرجی کو خوش کرنے کے لئے ایکدوسرے کے گریبان پکڑ رہا ھے لیکن اسکے باوجود کچھ ہاتھ نہیں آرہا سوائے بم دھماکوں اور جبری ہجرت کےتو میں پاگل ہوں کہ مفت میں جان دوں، سب جماعتیں امن کا نام لیتی رہیں، مگر دن دیہاڑے کتنے پشتون نوجوان شہید کیے گئے۔ کچھ اغوا ہوئے، کچھ آج تک جیلوں میں ہیں۔ آپ ایک دن شور مچاتے ہیں اور اگلے دن ایک جماعت، دوسری جماعت کی مخالفت میں اپنا بیان بدل لیتی ہے۔ پھر ایک تحریک اٹھی جو تمام پشتونوں کے لیے تھی، مگر وہی پرانی آپسی رنجشیں آڑے آ گئیں۔ اسے سب جماعتوں کے لئے خطرہ سمجھ کر بدنام کیا گیا، حالانکہ وہ تو صرف آپ کی حفاظت کے لیے میدان میں اتری تھی۔ سر جی کی اتنی خوشامدیاں کی گئ کہ منظور پشتین کو جان بچانے کے لئے اوجھل ہونا پڑا، پھر اسے “گودام” کے طعنے دیے گئے۔ حالانکہ وہ کبھی آپ میں سے کسی کی نشست کے لیے کبھی خطرہ نہیں بنا، نہ ہی اس نے اپنی جدوجہد کے لیے پارلیمنٹ کا راستہ چنا۔ جب کوئی آپ کو بچانے آتا ہے تو آپ اسی پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ میں تو بس یہی کہہ رہی ہوں کہ ذرا ہوش کریں، سنبھل جائیں، ایک ہو جائیں۔ سر جی آخر میں بسکٹ دے کر لات ہی مارتے ہے۔ آخر کب تک یہ لاتیں کھاتے رہیں گے؟ آپ پڑھے لکھے، سمجھدار، صحت مند اور خوبصورت لوگ ہیں۔ اپنے بارے میں سوچیں، اپنے لیے کریں۔ اپنی زمین پر آپ کا حق ہے، اپنا حق لیں اور حق آپکو پلیٹ پر رکھ کر نہیں ملے گا، لینا پڑۓ گا۔

Aina Durkhanai آئینه درخانۍ

93,818 views • 6 months ago

آپ شاید میرا یقین نہ کریں لیکن مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ ٹک ٹاک کی بھی مونوٹائزیشن ہوتی ہے اور وہاں بھی ڈالرز میں آمدن ہوتی ہے ورنہ مجھے صرف یو ٹیوب اور ایکس کا ہی معلوم تھا اور مجھے آج سمجھ آئی کہ یہ ٹک ٹاکرز ویڈیوز لیک ہونے کے زیادہ واقعات کیوں ہونا شروع ہو گئے ویسے میں سوشل میڈیا کے زہر آلود اثرات پر متعدد تحریریں لکھ چُکا ہوں مگر آج ٹک ٹاک کی مونوٹائزیشن اور ڈالرز میں آمدن کا سُن کر ایک مرتبہ تو پسینے چھوٹ گئے ایک وی لاگ سے اندازہ ہوا نہ صرف ٹک ٹاک پر آپ یو ٹیوب سے زیادہ کماتے ہیں بلکہ یہاں ویڈیوز دیکھنے اور ویڈیوز کو ریسپونڈ کرنے سے بھی کمائی ہوتی ہے محترمہ حکومت صاحبہ Shehbaz Sharif DG ISPR Mohsin Naqvi Maryam Nawaz Sharif اگر اس عنفریت (ٹک ٹاک) کو پاکستان میں بند نہ کیا گیا تو آنیوالے چند سالوں میں جب آج کے دس سال کا لڑکا/لڑکی 17/18 سال کا ہوگا تو ہمارے معاشرے کا چہرہ بگڑ کر بہت بدنما چُکا ہوگا جب ایک لڑکے/لڑکی کو بیہودگی پھیلانے پر ٹھیک ٹھاک پیسے مل رہے ہونگے تو پھر اس بیہودگی کو عام ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا اس میں تباہ حال بات یہ ہے کہ ایک بچہ/بچی 18/20 سال کی سخت محنت طلب پروفیشنل تعلیم کے بعد برسر روزگار ہوتا ہے اور پھر وہ لاکھ روپیہ سے اپنی پروفیشنل زندگی کا سفر شروع کرتا ہے 👆 یہ بات تو میں نے پروفیشنلز ڈاکٹر انجنئیرز اکاؤنٹینٹس وکلاء سے متعلق کی یہاں تو لاکھوں بچے بچیوں کی تعداد ہے جو مالی مشکلات کی باعث میٹرک انٹر کے کے بعد ہی چھوٹی موٹی چند ہزار کی نوکریاں کرنا شروع ہو جاتے ہیں پیسہ ہر انسان کی ضرورت ہے میں نے اپنی زندگی میں کسی انسان کا پیٹ پیسے سے بھرتے ہوۓ نہیں دیکھا بھلے وہ غریب ہے یا امیر تو جس ملک میں لاکھوں فیملیز سطح غربت سے نیچے رہتی ہوں بروکن فیملیز ہیں جن میں پچوں کا کوئی پرسان حال نہیں گھر کے حالات یا ماحول کی وجہ سے سپائلڈ اور بغاوت پر اُترے ہوۓ بچے ہیں بہت سی نابالغ اولادیں جو صرف اس ڈر سے اپنے گھر میں رہتی ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ باہر اُنہیں روٹی تک نہیں ملے گی ٹک ٹاک والے ان حالات میں میرے مُلک کے بچے کا دیھان کیونکر اس طرف نہیں جاۓ گا یا وہ بغاوت پر نہیں اُترے گا؟ اور اُسکے ذہن میں یہ سوال کیونکر پیدا نہیں ہوگا؟ کہ اُسے محنت کی ضرورت کیا ہے؟ کیونکہ اُسکی نظروں کے سامنے ایک جاہل اور کنجر مافق ٹک ٹاکر کے پاس فیم اور پیسہ دونوں کہیں زیادہ ہیں بلکہ وہ حرامزادے تو مذھبی اور سیاسی لیڈرز بھی بنے ہوۓ ہیں اور اس کام میں محنت کوئی ہے ہی نہیں بیہودہ بکواس کرنا ہے جسم کی نمائش کرنا ہے اور پھر کسی دن کپڑے اُتار دینے ہیں پیسہ تو اندھا کر دیتا ہے اور پیٹ کی بھوک تو ازل سے کپڑے اُترواتی آئی ہے یہ بیہودگی والی خوفناک صورتحال تو اس مُلک کی ناپختہ ذہن بچیوں کے لئیے ہے اور لڑکوں کے لئیے ٹک ٹاک پر کیا ہے؟ ہتھکڑی لگے بدمعاش قاتل ڈکیٹ گینگسٹرز ٹک ٹاک پر اپنا آپ ہیرو کی طرح پیش کرتے ہیں بدماشعوں غنڈوں کے شرمناک قصے بہادری کے قصے بنا کر پیش کئیے جارہے ہیں مفرور مجرم انٹرویوز دے رہے ہیں مطلب آپ اس اپلیکیشن کے ذریعہ اپنے وطن کی ینگ جینریشن کو کیا پیغام دے رہے ہیں ہیں؟ کہ اس ملک کی لڑکیاں بیہودگی سے انسپائر ہوں اور لڑکے بدمعاش غنڈوں سے؟ یہ 13 سے 25 سال تک کی عمر بہت خطرناک لاپرواہ اور نفع نقصان کا سوچے بغیر جُرأت والی ہوتی ہے اس عمر میں کوئی لانگ ٹرم پلاننگ نہیں ہوتی نہ یہ سوچ ہوتی ہے کہ کل کیا ہوگا یا نتائج کیا ہونگے یہ بچے صرف آج میں جیتے ہیں ابھی حال ہی میں ایک جھوٹی ریپ ٹک ٹاک پر پنجاب میں آگ لگ گئی ایک جان چلی گئی املاک کو نقصان پہنچا جانے کتنے طلباء جن میں بچے بچیاں دونوں شامل ہیں کالج سے نکالے گئے اُنکا فیوچر ختم ہو گیا آپ نے ایک ٹک ٹاکر گرفتار کی جس نے بچی کی ماں ہونے کا جھوٹا دعوہ کیا اور بچوں کو گرفتار اور پھر کالجز سے نکال دینے کے آرڈرز جاری کر دئیے ایک یوٹیوبر عمران ریاض نے سب سے پہلے اس جھوٹی خبر پر پورا پروگرام کیا معاملے کو ہوا دی اور ملک انتشار پھیلایا آگ لگوا دی وہ کُتی کا بچہ تو اب بھی روز یوٹیوب پر بیٹھا ہوتا ہے اس فساد کے پیچھے ایک سیاسی پارٹی کی پوری لابی موجود تھی آپ نے خود اُنکے واٹس ایپس ایکسپوز کئیے کوئی پکڑا گیا؟ کہاں گئیے آپکے وہ دعوے کہ ہم اس معاملے میں ملوث کسی کو نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے مکمل پڑھنا ہو وہ آرٹیکل میں پڑھ لیں یہ جو کلپ میں لگا رہا ہوں اسکے لئیے تھوڑی تھوڑی معذرت یہ کلپ انڈیا کا ہے اور انڈیا میں تو تباہی پھری ہوئی ہے پاکستان میں ابھی اکا دُکا واقعات ہیں لیکن اگر حکومت نے سخت اقدامات نہ کئیے تو دو چار سال میں پاکستان میں بھی یہی ہوگا جیسے کہ کلپ میں لڑکا بتا رہا ہے بیشک ہمارا مذھب فرق ہے مگر کلچر اور ڈی این اے ایک ہی ہے

کاشف چوہدری

20,454 views • 1 year ago

⚠️حیدر مہدی کا کہنا ہے کہ میں بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح اندھا تھا میں نے بھی انکی پوجا کی ہے۔دراصل ہم لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ہم غلاظت کے گٹر میں ہیں۔ یہ فوج دہشتگرد نما ادارہ ہے۔ یہ نہ آئین کو مانتا ہے نہ قانون کو۔ فوج میں اب غلیظ اقتدار والے خاندانوں سے لوگ لیتے ہیں جو اپنی ماں بہن بیٹیوں کو بیچنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اقتدار والے لوگ اب فوج میں نہیں آتے۔ جو غلطی سے چلا جائے اسے سمجھ آجائے وہ فوج چھوڑ جاتے ہیں۔یہ غلاظت کا مجموعہ بنا کر فوج بنائی ہے یہ تالاب صاف کرنا پڑے گا جو فوج میں خدمت کرنے آئے گا۔جج کو آزاد کرے گا۔ نہ کہیں کہ پاکستانی کچھ نہیں کرتا پاکستانیوں میں قربانی دینے کا جذبہ ہے، اس فسطائیت کے دور میں عاصم منیر جتنا ذیادہ ظلم کر رہا ہے پاکستانیوں پہ جتنی ذیادہ وہ ماؤں بہنوں کی عزتیں لٹواتا ہے۔ جتنا ذیادہ لوگوں کے کاروبار کو ختم کرواتا ہے، جتنا زیادہ لوگوں کو ٹارچر کرواتا ہے، لوگوں کے اندر دہشت پھیلانا چاہتا ہے فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے،اسکو بہت ذیادہ خوف ہے کہ اگر ظلم نہ کیا تو لوگ نظام الٹ دیں گے۔ اسی لیے وہ ہم پر ذیادہ سے ذیادہ ظلم کرتا ہے، تاکہ ہمیں چپ کروا سکے۔ چار سال میں دنیا پلٹ جاتی ہے۔ پھر بھی لوگ باہر نکلتے ہیں اڈیالہ کے باہر پہنچتے ہیں۔ آپ گولیاں چلائیں لوگوں کو مار دیں یہ روکنا نہیں ہے۔کچھ نہیں ہو گا کہنا چھوڑ دیں۔پاکستانی نکلے گا اور اس ملک کا نظام بدلے گا عاصم منیر فوج نواز زردادی چاہے کچھ بھی کر لے۔فوج اٹھارہ کیا چھتیس صوبے بنا لے اگر فوج کا قبضہ رہا، عدلیہ آزاد نہ ہوئی، فوج کا احتساب نہ ہوا، انکو نہ لٹکایا گیا پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔ جس ملک میں حقوق محفوظ نہیں جس ملک میں آپکے کاروبار پر فوجی قبضہ کرلیں۔

Rodium-A

77,210 views • 3 months ago

ایزل ڈیڑھ سال کی معصوم بچی تھی جس کیساتھ جنسی زیادتی کی گئی ۔ ایزل کی والدہ بتارہی ہے کہ وہ کہیں گئی ہوئی تھی گھر پر بچی کی خالہ تھی ان کا رشتہ دار 17 سالہ منان جو بچی کا بھائی بنا ہوا تھا گھر پر آیا اور چیز دلانے کیلئے بچی کو ساتھ لے گیا پھر 25 منٹ بعد واپس لیا اور بچی کی خالہ کو دیا ۔ بچی اس وقت بے ہوش تھی ۔ خالہ سمجھی سو رہی ہے ۔ پھر بچی نے الٹیاں کی تو والدہ ڈاکٹر کے پاس لے گئی اس نے کہا او آر ایس دے دو۔ سوتے وقت پیمپر بدلا تو بلیڈنگ ہورہی تھی ۔ بچی کو لیکر نیچے گئی سب کو بولا کہ ڈاکتر کے پاس لے جاؤ کسی نے مدد نہیں کی اس وقت تک بچی سانسیں لے رہی تھی پھر اس کو سرسید لیکر گئی وہاں پر انہوں نے کہا کہ ہارٹ بیٹ ہے لیکن سانس نہیں ہے میں نے کہا آپ آکسیجن لگائیں ہارٹ بیٹ آجائے گی لیکن انہوں نے آکسیجن نہیں لگایا اور کہا اس کو جناح لے جاؤ ۔ میں نے خود اس کو سی پی آر دیا اور جب میں اس کو جناح لیکر جارہی تھی رکشے میں اس نے آخری بار مما کہا اور آنکھیں اوپر کرلیں پھر اس کی سانسیں نکل گئیں۔ یہ کراچی قیوم آباد کا واقعہ ہے ۔ بچوں کے معاملے میں کسی پر بھی اعتماد نہ کریں ۔ ان کو اکیلے باہر کھیلنے کیلئے بھی نہ بھیجیں خود ساتھ جائیں ۔ ٹک ٹاک سمیت ہر ایسے پلیٹ فارم پر پابندی لگادینی چاہیے جس کو دیکھ دیکھ کر 17 سال کے لڑکے حیوان بن رہے ہیں ۔ یہ چھوٹا واقعہ نہیں ہے پے در پے واقعات ہورہے ہیں ۔ حیوان پر حیوان سامنے آرہے ہیں ۔ معاشرہ کولیپس کررہا ہے ۔ لوگ یورپ کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن یورپ میں کوئی ڈیڑھ سال کی بچیوں کیساتھ ایسا نہیں کرتا ۔ یورپ میں خواتین کو رات باہر جاتے ہوئے ڈر نہیں لگتا ۔ یورپ میں بچوں کو باہر اغواہ کا خوف نہیں ہوتا ۔ بچوں کیساتھ یہ سب وہاں نہیں ہوتا ۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن یہاں مسلسل برے لوگ ہی سامنے آرہے ہیں بہت کم اچھے لوگ رہ گئے ہیں ۔ اپنے بچوں پر خود پر رحم کریں ۔ اپنے سوا اپنی اولاد کے معاملے پر کسی پر بھروسہ نہ کریں حتیٰ کہ اپنے سگے بھائی پر بھی نہیں

Tanveer Awan

13,090 views • 22 days ago

زندگی کی مشکلات کہاں سانس لینے دیتی ہیں انسان کو۔ آج آپ کے سامنے ایک گھر کی وڈیو لگا رہا ہوں ۔ تین بہنیں ہیں کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے ۔ علاقے کے پٹواری نے اپنا ایک پرانا گھر جو جیسا بھی ہے تین یتیم بہنوں کو دے رکھا ہے۔ اس گھر کا لیول گلی سے 6 فٹ سے زیادہ نیچے ہے۔ جی بارش ہو جائے تو موٹر لگا کر پانی گھر سے نکالا جاتا ہے ۔ کیسی زندگی کے بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہوئے ان بہنوں کی پچھلی 18 سال کی زندگی گزری ہے ۔ لوگ ابھی زندگی ۔ معاشی حالات درست ہونے کی۔ دعا کرتے ہین ۔ ان بچیوں کی زندگی بارش نہ ہو کرتے گزر رہی ہے ۔ ۔۔۔۔ بس ایک بار پوچھا وہاں بیٹھے کے بہن جی اگر یہ گھر واپس لے لیا مالک نے تو پھر کیا کریں گی آپ۔ تو بولین رب ہی سہارا ہے ۔ اور کون ہے بھائی ہمارا۔ آنکھوں کی نمی چھپانےکو منہ دوپٹے سے صاف کرنے لگیں یہ بات کرتے ہوئے ۔ ۔۔۔۔ ایک بہن گھر میں کپڑے سی کر گزارا کرتی ہے۔ دوسری ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھا رہی ہے۔ تیسری جو سب سے چھوٹی ہے 18 سال کی وہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہے۔ پیدائشی ۔ اس کے دو آپریشن ہو چکے ہیں جھلی ڈل چکی ہے دل میں لیکن حالات ایسے مشکل اور تکلیف دہ ہیں کے اکثر وہ میڈیسن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے جو اس کی زندگی کا حصہ ہے۔ مجھے میرے پیارے دوست بھائی نعیم گلزار نے جب ان کے بارے بتایا تو سب سے پہلے ان کے لئے سلائی مشین چائیے تھی وہ ساتھ لے کر گیا ۔ پہلی مشین جس سے یہ سلائی کر رہی ہیں آدھا ماہ دوکانوں پر دھکے کھاتی ہے۔ ۔۔۔۔ چھوٹی بہن جو دل کے عارضے میں مبتلا ہے اس کے الفاظ نے وہاں موجودگی میں دل چیر دیا۔ بھائی میری زندگی کا کیا مقصد ہو سکتا ہے ۔ گھر اپنا نہیں بھائی سگے دونوں کبھی پوچھنے نہیں آئے دل کا عارضہ ایسا کے اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پلپٹیشن اور چکر شروع ہو جاتے ہیں ایسے لگتا ہے ابھی جان نکلی کے ابھی نکلی۔ ۔۔۔۔ وڈیو میں موجود آخری کلیپ میں اسی بچی کا پاوں ہے جس میں دو ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ 6 دن پہلے گھبراہٹ شروع ہوئی تو خود کو سنبھال نہیں پائی گلی میں گری تو پاس کھڑی ریڑھی پاوں پر سے گزر گئی ۔ سگے بھائی کو کال کی تو گلی سے اٹھا کر گھر تو لایا۔ لیکن بولا کچھ نہیں ہوا اس کو سب ٹھیک ہے اور چلا گیا۔ معاشی مسائل رشتوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ بچی کو ارتھوپیڈک سے بھی چیک کروا کر اس کی ہڈیوں کو پراپر جڑوا دیا ہے۔ ۔ اس دل کے عارضہ میں ہر چھ ماہ میں معالج سے چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اور ڈیڑھ سال ہو چکا ہے ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کے ویگن پر فیصل آباد جا کر چیک اپ کروا لیتے سرکاری کارڈیو ہسپتال سے ۔ ۔۔۔۔ میں نے یہ پہلا گھر ہے جس کو ساتھ گاون میں زمین 3 مرلے لے کر دینے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اوپر ایک کمرہ واشروم۔ اور کچن کر دینا ہے۔ انشاءاللہ یہ کرنا ہے۔ 3 کمروں کے پیسوں میں ان کا گھر مکمل ہو جائے گا بجلی کے کنکشن سمیت سارا حساب کر لیا ہے۔ اور نعیم بھائی نے زمین کی بات کر لی ہے۔ وہیں جہاں۔ شاہد ( مخنث کھسرے ) کا گھر۔ بن رہا ہے وہیں پاس یہ گھر بنے گا تاکہ ان کو تحفظ کا۔ بھئ مسلہ نہ ہو ۔ نعیم بھائی کا گاون ہے وہاں مشکل نہیں ہو گی ان کو ۔ ۔۔۔۔ بہت کچھ ہے جو لکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن الفاظ ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ اس کیس بارے میں لکھنا نہیں چاہتا تھا۔ بس اس کو مکمل کرنا تھا بنا کسی کوبتائے۔ لیکن مبشر اور نعیم کی سخت ہدایت پر لکھنا پڑا کے ۔ اس کو بیان کرنے سے وہ لوگ ھدایت پائیں گے جو ناشکری کرتے ہیں۔ جو متعصب ہو کر سوچتے ہیں۔ جو ہوتے سوتے کہتے ہیں ہمارے پاس کیا ہے ۔ ایک بہن کی ان میں سے شادی ہوئی ہوئی ہے۔ اس کا شوہر بھئ مزدوری کرتا ہے ۔ لیکن جسمانی طور پر کمزور ہے تو مزدوری بھئ بس گزارے لائق ہی ملتی ہے اس کو ۔ ۔۔۔۔ کیا اس سب کو پڑھ کر بھی آپ آئندہ ناشکری کریں گے ۔ کیا آپ کے پاس اب بھی ناشکری کا جواز موجود ہے ۔ خدا کا شکر ادا کریں آپ کو کیا نہیں۔ دیا ہوا رب نے ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

24,358 views • 2 months ago

جو کچھ پاکستان کے بارڈرز پہ ہو رہا ہے یہ آج سے نہیں بلکہ چالیس سال سے ہو رہا ہے اور اگر چالیس سال کا عرصہ نہ گنیں تو گزشتہ بیس سال سے ایک ہی علاقے پر جنگ فوکس کی گئی ہے، جس سے جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی ہوتی ہےاور یہ پہاڑوں کا وہ منطقہ ہے جو عالمی جنگ کا سبب بنا ہے، جہاں روس اور امریکہ نے قبضہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن افغانوں نے لڑ کر ان کو نکال دیا۔ آج چائنا کی بھی خواہش ہے کہ میری رسائی افغانستان تک ہو سکے، افغانستان اور ہمارے فاٹا وخیبر پختون خواہ کے علاقوں میں دو قسم کے معدنیات ہیں، ایک وہ معدنیات جس کے ساتھ عام لوگوں کی معیشت کا تعلق ہے گیس کوئلہ تیل چاندی کاپر وغیرہ وغیرہ کچھ وہ پتھر بھی ہیں کہ جو خلا میں جانے والے راکٹوں اور میزائلوں میں استعمال ہوتے ہیں، جو ساڑھے چار سو کی ہیٹ پر بھی تحلیل نہیں ہوتے، اس سے الٹا جائیں تو اتنی سخت سردی میں بھی وہ منجمد نہیں ہوتے، اس کی ضرورت امریکہ کو بھی ہے، اس کی ضرورت چائنا کو بھی ہے، اس کی ضرورت رشیا کو بھی ہے۔ وہ ان علاقوں تک پہنچنا چاہتے ہیں اور ہمارے ان وسائل پر کہ جن کے ساتھ بڑی قوتوں کے مفادات وابستہ ہیں جو ان کی میزائلوں میں استعمال ہونگے، ان کے راکٹوں میں استعمال ہوں گے اور اس کے لیے وہ تگ ودو کر رہے ہیں کہ کس طرح اس علاقے پر اپنا ہاتھ مظبوط کر لیا جائے، کوئی عجب نہیں اگر ٹرمپ غزہ کے بارے میں یہ بات کہہ سکتا ہے تو اس کے ایجنڈے پر یہ بھی ہو کہ قبائلی علاقے پر ہم قبضہ کر لیں، یہاں کا نظام اپنے ہاتھ میں لے لیں، پاکستان کا عمل دخل ہم ختم کر دیں۔ وہاں ویسے بھی اس کی رٹ کمزور ہو چکی ہے اور پھر اس کے بعد وہ یہی سے ہمارے معدنیات کو بھی لے جائیں اور افغانستان کو بھی ڈیل کرے، تہران کو بھی ڈیل کرے، انڈیا پہ بھی راج کرے، پاکستان کو بھی کرے اور چائنا کو بھی کرے۔ یہ جغرافیائی تبدیلیوں کے وہ خطرات ہیں جن کو ہم محسوس کر رہے ہیں، ہمارے قبائلی علاقوں میں جنگیں ہو رہی ہیں، کرم ایجنسی میں جنگیں ہو رہی ہیں، کیا ریاست پر کسی کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہاں کی صورتحال کو بہتر بنائیں، ایک طرف آپ نے ان کو ضم کر دیا ضم کرنے کے بعد بجائے اس کے کہ وہاں خوشحال آنی چاہیے تھی۔ وہاں باغ بہار ہونا چاہیے تھا، وہاں سبزا ہونے چاہیے تھا، وہاں دودھ کی نہریں اور شہد کی نہریں بہنی چاہیے تھی، الٹا ہمارے علاقے بھی خوار ہو گئے، وہاں کا امن بھی ہم سے چھن گیا، وہاں کی خوشیاں بھی ہم سے چھن گئی،ایک سال کے اس پورے عرصے میں باجوڑ جہاں سے ہم اپنی پارٹی کے نوے جنازے بیک وقت، روزانہ ہمارے دو دو تین تین جنازے اٹھ رہے ہیں۔ قبائل کا بڑا جرگہ میرے پاس آیا، باجوڑ کا جرگہ میرے پاس آیا ہے، افریدیوں کے جرگہ میرے پاس آیا ہے، مہمند کا جلسہ میرے پاس آیا ہے، شنواری، اورکزئی، کرم، وزیروں، داوڑ، محسود، ایک ایجنسی ایسی نہیں ہے کہ جن کے لوگ جرگہ لے کر میرے گھر نہ آئے ہوں ایک ہی بھیک مانگ رہے ہیں کہ ہمیں امن دو، آپ بتائیں میں کہاں سے امن دوں۔ پارلیمنٹ کی نہیں سنتا کوئی تو میرے ایک آدمی کی کیا سنے گا، ابھی پشاور میں تمام قبائل کا جرگہ ہوا ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ خدا کے لیے ہمیں امن دو۔ ہم دربدر ہوچکے ہیں، دو ہزار دس سے وہ لوگ مہاجر ہیں، اپنے ملک کے اندر مہاجر ہیں، بھیک مانگ رہے ہیں، وہ قبائل جو اپنے روایات رکھتے ہیں، جن کی خواتین گھروں سے باہر نہیں نکلتی، آج وہ گلی کوچوں میں بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی ہیں، تمہیں اپنے پشتونوں کے اور ان کی روایات کیا اور ان کی عزت کی کوئی لحاظ نہیں، تمہیں اپنے بلوچوں کی عزت کا کوئی لحاظ نہیں ہے، پالیساں صحیح لوگوں کے حوالے کرو تاکہ معاملات بہتری کی طرف جانا شروع ہو جائیں،ہم ملک کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں، ہم پوری طرح تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن معاملہ پارلیمنٹ طے کرے گی، سویلین قیادت کے اوپر ہمیں اعتماد کرنا چاہیے، ورنہ پھر یہی ہوگا کہ آئے روز پارلیمان میں بھی ہنگامہ آرائی، نہ کوئی مشترکہ سوچ، نہ کسی مسئلے پر سنجیدہ ڈیبیٹ، نہ کوئی معاملہ فہمی، نہ ہی اس کی طرف آگے بڑھ سکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

25,740 views • 1 year ago

آپ کو 9 مئی والے واقعات یاد ہوں گے نا ڈرتے ہیں کہیں ایسا موقع پھر نہ آ جائے اس میں میں ایک سوال کرتا ہوں آپ سبھی ساتھیوں سے خاص کر جو سمجھتے ہیں کور کمانڈر کا گھر آپ کا گھر نہیں ہے وہ میرا گھر ہے کور کمانڈر کا گھر ایسے کھلا کیوں تھا کہ لوگ چلے گئے آپ جواب دیں نا اس سے کیوں نہیں پوچھا گیا کہ کور کمانڈر صاحب آپ... کور کمانڈر کا گھر تو... نہیں دیکھیں جب عوام کا ایک سمندر آ جاتا ہے نا تو پھر اس کو روکا نہیں جا سکتا نہیں ہم... گولیاں تو نہیں چلاتے نا ہماری اپنی ایک فیصلہ ہو رہا ہے سچ یہ ہے اگر 9 مئی کے لوگوں کا یہ وہ ہے آپ رات پوچھیں سوچیں وہ بھی سوچیں آپ کو بھی پتہ ہے آپ کا یہ دل بھی مانتا ہے میرا بھی مانتا ہے اس 8 فروری کو الیکشن عمران کی پارٹی... 25 کروڑ انسانوں کو شہباز شریف اور ان کے متحدہ فوجیوں، سپاہیوں اور مجھ جیسے بیکار لوگوں نے سپورٹ کیا 25 کروڑ انسانوں کے خلاف دہشت گردی کی 9 مئی میں آپ نے 10 سال جیل دیے تو میں پوچھتا ہوں سپریم کورٹ ایک پارٹی سے اس کا نشان چھینتی ہے اس کی پارٹی کے لیڈر کو کہیں بھی کاغذات نامزدگی داخل ہونے نہیں دیے گئے تمام لوگوں کی یہ جو کے پی کے کی بات کر رہا ہے 200 نشانوں پر لوگوں نے انتخاب لڑا کہیں گائے تھی کہیں گھوڑا تھا کہیں گدھا تھا ووٹ انہوں نے دیے جیت لیے آسمان سے میں عمران خان کا، میں اس کا مخالف تھا لیکن جب وہ جیت چکا ہے اور آپ بائے فورس اس کو وہ کریں گے یہ تو پاکستان کی بنیادیں ہلا دے گا قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

16,902 views • 3 months ago

‼️سرکاری ہسپتالوں کے ہوتے ہوئے نجی ہسپتالوں کو بخشنے کے لیے صحت کارڈ کا استعمال کیوں؟؟ ‼️ 🚨اگر غرض غریب کو مفت علاج کی تھی تو وہ سرکاری ہسپتالوں کو بہت کم رقم میں اچھا کر کے بھی کی جا سکتی تھی۔ اصل وجہ منظر عام پر 🚨دجالی ٹولے نے کرپشن کے لیے ایسا انوکھا طریقہ نکالا کہ شیطان بھی حیران۔ اس ایک طریق سے ان کی جیبیں بھی بھریں اور ووٹ بینک بھی۔ 🚨جب بھی غریب بندہ علاج کے لیے آیا اس کو اپنڈیکس اور دل کے مرض سے ڈرایا گیا، پھر اس کو لاکھوں کا خرچہ بتایا گیا، جب وہ مجبور پیسوں کا سن کر بے ہوش ہوا تو اس کو صحت کارڈ کا لولی پاپ دیا گیا۔ جس مریض کو نہ سٹنٹ کی ضرورت تھی نہ اپنڈیکس کے علاج کی، ان کے جھانسے میں وہ معصوم سمجھا کہ صحت کارڈ نہ ہوتا تو وہ مر جاتا۔ 🚨اب صحت کارڈ پہ آتے ہیں۔ صرف اپر دیر کے ایک نجی ہسپتال اخلاص میڈیکل سنٹر جس کا مالک سرکاری ڈاکٹر سمیع اللہ ہے، اس میں ایک سال میں 2602 آپریشن کیے گئے جن میں صرف 1826 اپنڈیکس کے ہیں۔ 773 تو صرف سمیع اللہ نے خود کیے۔ تحقیقات کے مطابق ایک ہی خاندان کے دو سے تین لوگوں کا اپنڈیکس کا آپریشن ہوا۔ ستم ظریفی وہاں سرکاری ہسپتال موجود ہے جس کے ایم ایس ہونے کی تنخواہ یہ سمیع اللہ کھا رہا ہے پر اس نے اس کو صحت کارڈ پینل میں شامل نہیں ہونے دیا۔ 🚨اب سمجھ آئی کہ کیوں گنڈا پور نے حلف لیتے ہی 7 ارب روپے کی رقم صحت کارڈ کے لیے کیوں مختص کی۔ دوسرا یہ جو امریکن ڈاکٹر کی تنظیم کو عمرانی محبت کا جوش چڑھا اس کی اصل وجہ کیا ہے۔ ایسی شیطانی سوچ ان دجال کے انٹرنیز کو ہی آ سکتی ہے کہ پیسے بھی بٹورے اور غریب کو بے وقوف بھی بنایا۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

21,369 views • 2 years ago

ایک ملتانی کا خواب اور میرا کاروبار تحریر/رئوف کلاسرا کل جناح سپر مارکیٹ میں گاڑی میں بیٹھا، سٹارٹ کی تو ایک نوجوان جو شاید میرا وہاں انتظار کررہا تھا وہ میری طرف آیا۔ اس نے کندھے پر ایک کالے رنگ کا تھیلا بھی اٹھا رکھا تھا۔ کہنے لگا آپ کی گاڑی کا بمپر تھوڑا سا ہٹا ہوا ہے۔ اس میں ربڑ ڈلنے والی ہیں۔ میں نے کچھ دیر سوچا اور پھر اسے مزدوری دینے کا فیصلہ کیا کہ چلیں اس نوجوان کو مزدری چاہئے۔ گاڑی دفتر کی ہے کرانے کو آفس کو کہتا وہ کرا دیتے لیکن میں نے اس نوجوان کا کام دینے کا فیصلہ کیا جو میں اکثر کرتا رہتا ہوں ۔ میں نے گاڑی بند کی، نیچے اترا اور اسے کہا چلیں ڈال دیں۔ وہ بڑی محنت سے کام کرتا رہا۔ مجھے لگا اسے واقعی کام آتا ہے۔ اس کے پاس ہنر ہے۔ خوشی ہوئی کوئی نوجوان نوکری کی تلاش میں نہیں ہے اور اپنے ہنر سے عزت سے پیسے کما رہا ہے۔ میں اسے کافی دیر تک کام کرتے دیکھتا رہا۔ اس نے اچھا کام کیا۔ وہ کام کر کے فارغ ہوا تو اس نے کہا مجھے لگتا ہے آپ کی گاڑی کے بونٹ میں بھی بہت سارے ربڑ لگنے والے ہوں گے۔ کہیں تو وہ بھی کر دوں ۔ واقعی بونٹ اور گاڑی کے دروازوں میں ربڑ کے نٹ لگنے والے تھے جس سے ان کی آواز بند ہوتے وقت بدل گئی۔ میں نے اس سے پوچھا آپ کہاں سے ہیں۔ وہ بولا ملتان سے ہوں۔ سرائیکی میں گفتگو شروع ہوگئی۔ میں نے جیب سے دو ہزار روپے نکال کر اسے دیے۔ وہ اچانک بولا کوئی کہیں نوکری نہیں مل سکتی؟ میرا یہ سن کر موڈ سخت آف ہوا۔ میں نے کہا اگر آپ نے مجھے پہلے یہ بات کی ہوتی تو میں آپ سے کام نہ کرواتا۔آپ نے چند منٹس میں اپنے ہنر سے مجھ سے دو ہزار روپے کما لیے۔ اگر سارا دن اور کام نہ بھی ملے تو بھی ایک ماہ کا اوسط ساٹھ ہزار بنتا ہے۔ آپ اپنے باس خود ہو۔ جہاں چاہ کام کر لیا ۔ نہ دل کیا کام نہ کیا۔ لیکن آپ کے اندر ہر پاکستانی کی طرح خواہش ہے بس کہیں سے بیس تیس ہزار کی نوکری مل جائے۔ کہنے لگا دیکھیں ناں وہ لگی بندھی ہوتی ہے۔ تو میں نے کہا آپ بیس تیس ہزار کے ساتھ صبح چھ بجے سے رات بارہ بجے تک کہیں کام کرو گے۔ صبح سویرے وہ مالک آپ کے منہ پر ٹھنڈے پانی کی بالٹی انڈیل کر اٹھائے گا۔ دس گالیاں اس کی سنو گے یا آتے جاتے گاہکوں کی باتیں۔ بارہ چودہ گھنٹے تیس دن کام کر کے آپ کو بیس تیس ہزار ملے گا وہ اچھا لگتا ہے لیکن اپنے ہنر سے دن میں دو تین ہزار کمانا برا لگتا ہے؟ اس نے بھی ہمت نہیں ہاری اور کہنے لگ سر جی کہیں نوکری ہو تو بتائے گا۔ میں مایوس ہو کر گاڑی میں بیٹھا کہ اس نوجوان کے دل میں وہی ہے کہ لگی بندھی تنخواہ میں سارا دن بے عزتی کرا کے جو مزہ ہے وہ بھلا یوں اپنے ہنر کے ساتھ روزانہ تین چار ہزار روپے کمانے میں کہاں۔ شام کو اپنے دوست خاور اظہر سے ملاقات ہوئی اسے واقعہ سنایا ۔ میں نے کہا اب مجھے افسوس ہورہا ہے کہ اس نوجوان کا نمبر لے لیتا جس کا سارا خواب صرف بیس تیس ہزار کی نوکری ہے۔ وہ اپنے ہنر سے ساٹھ ہزار یا لاکھ روپیہ نہیں کمانا چاہتا۔ اسے تیس ہزار روپے ماہوار پر ملازم رکھ کر ایک چھوٹی سی ورکشاپ کرائے پر لے کر ہر ماہ میں خود دس بیس لاکھ خود کمائوں۔۔۔اس کی بیس تیس ہزار روپے کی نوکری کی ٹھرک بھی پوری ہو جائے گی اور میں بھی زندگی میں پہلی بار کوئی کاروبار کر کے پیسے کما لوں گا۔۔ کیا کہتے ہیں آپ میرے ہمدرد اور دوست 🤪؟ #RaufKlasra

Rauf Klasra

31,174 views • 8 months ago

🔴 داڑھی طوالت نہیں، ایمان کی طوالت ہی اللہ کے ہاں کامیاب ہے، لیبیا کے پر ایمان مسلمان کی کہانی، سوشل میڈیا پر وائرل یہ لیبیا کے ایک نوجوان حاجی کی حیران کن داستان ہے، جسے نہ لے کر جانے والا طیارے کو 2 بار فضا سے واپس لوٹنا پڑا۔ لیبیا کے عوام نے اس انوکھے اور دل کو چھو لینے والے واقعے پر بھرپور ردعمل دیا ہے، جو حاجی عامر المہدی کے ساتھ پیش آیا۔ یہ وہ خوش نصیب شخص ہے جس کی نیت اتنی پختہ اور دل اتنا سچا تھا کہ خالقِ کائنات نے اسے حج کی سعادت بخشنے کے لیے طیارہ بھی 2 بار پلٹا دیا۔ یہ واقعہ 26 مئی 2025ء کو نشر ہونے والے الجزیرہ کے پروگرام "شبکات" میں زیر بحث آیا۔ ہوا کچھ یوں کہ جنوبی لیبیا کے سبہا ایئرپورٹ پر موجود حکام نے عامر المہدی کو پاسپورٹ کے ایک مسئلے کی بنیاد پر طیارے میں سوار ہونے سے روک دیا۔ فلائٹ کے وقت حجاز جانے والے مسافروں کے نام پکارے گئے۔ مگر اسے اندر جانے نہیں دیا گیا۔ پھر طیارہ اپنے مقررہ وقت پر اڑان بھر کر روانہ ہو گیا، لیکن المہدی نہ مایوس ہوا، نہ ایئر پورٹ کی روانگی ہال سے نکلا۔ وہ پوری استقامت اور یقین سے کہتا رہا: میں نے نیت باندھ لی ہے، میں حج کے لیے جا رہا ہوں، اور میں جاؤں گا!" لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ بھئی، فلائٹ جا چکی ہے۔ اب تمہارا جانا ناممکن ہے۔ لہٰذا گھر چلے جاؤ، اللہ سے مانگو کہ اگلے سال تمہیں حج کی سعادت نصیب فرمائے۔ مگر عامر نے کسی کی نہیں سنی اور کہا کہ دیکھنا، میں حج پر چلا جاؤں گا۔ ادھر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ طیارہ آسمان میں پہنچ کر اچانک فنی خرابی کا شکار ہو گیا اور واپس ایئر پورٹ لینڈ کر گیا۔ یہ موقع المہدی کے لیے ایک نئی امید کی کرن بن سکتا تھا، مگر جب طیارہ واپس آیا اور المہدی کو سوار ہونے کی اجازت طلب کی گئی، تو پائلٹ نے سیڑھی کھولنے سے انکار کر دیا۔ طیارے کی فنی خرابی دور کر دی گئی اور وہ ایک بار پھر اڑان بھر کر فضا میں بلند گیا، المہدی کو پیچھے چھوڑ کر۔ مگر وہ مردِ مومن نہ تو مایوس ہوا نہ ہی گھر لوٹا۔ حکام نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اب کوئی امید باقی نہیں، لیکن اس کا جواب ایمان سے لبریز تھا: إن الطائرة لن تذهب بدونه وإنها ستعود."یہ جہاز میرے بغیر نہیں جائے گا، یہ پھر لوٹے گا۔" اور حیرت انگیز طور پر، وہی ہوا! طیارہ ایک اور فنی خرابی کا شکار ہوا اور مجبوراً اسے دوبارہ ایئرپورٹ آنا پڑا۔ اب کی بار پائلٹ نے اعلان کیا: "جب تک عامر المہدی سوار نہیں ہوگا، میں جہاز نہیں اڑاؤں گا۔" چنانچہ ایسا ہی ہوا، وہ لمحہ جب المہدی بالآخر طیارے پر سوار ہوا، اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، اس وقت مہدی کی خوشی دیدنی تھی۔ سوشل میڈیا پر ردعمل: 🔸️ یہ ناقابلِ یقین واقعہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔ کسی نے اسے صدقِِ نیت کی فتح کہا، تو کسی نے لیبیا کے ہوائی نظام کی بدانتظامی پر تنقید کی۔ ▪️ ایک صارف "الابتسامہ" نے لکھا:"جب طیارہ دو بار صرف تمہارے لیے واپس آئے، تو یہ عام بات نہیں۔ تمہارا اللہ سے کوئی خاص ناتا ہے کہ اس نے تمہاری دعا قبول کر لی۔" ▪️ ایک اور صارف "ألون" نے کہا:"جب حسنِ نیت عمل سے آگے ہو، حسنِ ظن اللہ سے مضبوط ہو اور توکل خالص ہو، تب ہی ایسی کرامت ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اللہ اپنی قدرت سے سب کچھ ممکن بناتا ہے۔" ▪️ ایک اور صارف جُمعاح لکھتے ہیں:"یقین نہیں آتا! پہلے تمہارے اعصاب کی دھجیاں اڑا دیں، پھر پائلٹ سیڑھی کھولنے سے انکار کرے؟ ہم لیبیائی لوگ واقعی ہر چیز کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں!لیکن المہدی کی ثابت قدمی اور اللہ پر کامل یقین رنگ لے آیا۔ وہ اب اراضی مقدسہ پہنچ چکے ہیں اور ایک ویڈیو میں مہدی لباسِ احرام پہنے نظر آتا ہے۔ اپنے سفر کی روداد سنا رہا ہے اور یہ کہتا سنا گیا: "الحمد للہ! میں بیت اللہ پہنچ چکا ہوں"۔ تحریر: ضیاء الرحمن چترالی

RTEUrdu

291,693 views • 1 year ago