Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پنجاب میں اگر کسی بچے کو ایک کیلا دیا جاتا ہے یا دودھ کا پیکٹ ملتا ہے تو اس پر بھی مریم نواز کا اسٹیکر لازمی چسپاں ہوتا ہے۔ عوامی فلاح کے کاموں کو بھی ذاتی تشہیر کا مستقل ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ واضح طور پر ان سیاسی...

27,233 views • 10 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

میرپور کا جلسہ صرف ایک عوامی اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان کی سیاست کا رخ متعین کرنے والا طاقتور پیغام تھا۔ میری رائے میں اس جلسے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ نواز شریف Nawaz Sharif آج بھی پاکستان کے سب سے بڑے عوامی رہنما اور حقیقی “کروڈ پلر” ہیں۔ برسوں کی سیاسی مہمات، تنقید اور مخالفت کے باوجود عوام کا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ دوسری جانب مریم نواز شریف Maryam Nawaz Sharif نے خود کو صرف ایک سیاسی وارث نہیں بلکہ ایک باعمل اور نتائج دینے والی قائد کے طور پر منوایا ہے۔ پنجاب میں ان کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبے اور عوامی رابطہ انہیں ووٹروں کے لیے ایک مضبوط اور پرکشش انتخاب بنا رہے ہیں۔ ان کی تقاریر بھی عوام کے دلوں پر اثر چھوڑ رہی ہیں۔ وفاق میں میری نظر میں وزیراعظم شہباز شریف Shehbaz Sharif نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی ریاستی معاملات سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ معاشی اور سیاسی چیلنجز ہوں یا سفارتی آزمائشیں، انہوں نے اپنی حکمتِ عملی اور انتظامی صلاحیت کے ذریعے پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کی ہے، جس سے ایک تجربہ کار منتظم کے طور پر ان کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔ میری رائے میں مسلم لیگ (ن) کے پاس اس وقت تجربہ، عوامی مقبولیت اور حکومتی کارکردگی کا ایسا امتزاج موجود ہے جسے اس کے سیاسی مخالفین نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ انتخابی معرکے میں یہ ٹیم دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

Azhar Javaid

17,025 views • 18 days ago

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 views • 7 months ago

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,674 views • 7 months ago

مریم صفدر کے کمپلین سیل میں انصاف کی امید لے کر جانے والے ایک باپ کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ دراصل ظلم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں شکایت کرنا جرم بن چکا ہو، وہاں ایک معصوم بچے کی جان بھی محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سفاکی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ڈاکٹر، جسے مسیحا ہونا چاہیے تھا، اگر انسانیت سے اس قدر گر جائے کہ ایک بچے کو تجربہ گاہ کا سامان بنا دے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا قصور نہیں رہتا بلکہ پورا نظام مجرم بن جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس میں طاقتور کے لیے قانون ایک کھلونا اور کمزور کے لیے پھانسی کا پھندا بن چکا ہے۔ یہ ملک اب انصاف کا نہیں بلکہ طاقت اور بے رحمی کا اکھاڑا بن چکا ہے، جہاں حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ادارے، جو عوام کی حفاظت کے لیے تھے، اب ظلم کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ انسانیت، اخلاق اور انصاف جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ فارم 47 کی حکومت نے اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مظلوم کی چیخ بھی دب جاتی ہے اور ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ عوام کی تکلیف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اقتدار کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر اندھے پن کی چادر ڈال دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔ لوگ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے درد کو سمجھے، انصاف بحال کرے، اور اس ظلم کے نظام کو توڑے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ عوام کو ایک ایسے رہنما کی تلاش ہے جو کم از کم ان کی آواز سن سکے۔ یہ کہانی صرف ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے خلاف فردِ جرم ہے ایک ایسا نظام جو اگر نہ بدلا گیا تو مزید کتنی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ #نااہل_حکمراں_عوام_پریشان

PTI North Punjab

17,320 views • 2 months ago

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 views • 6 months ago

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

31,678 views • 1 year ago