Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب آیا لیکن پنجاب کی مدد کو کوئی نہیں آیا، پر الحمداللہ پنجاب پھر بھی اپنے حصہ میں سے اپنے چھوٹے بھائیوں کی مدد کرئے گا KPK کشمیر اور گلگت بلتستان کے روشن مستقبل کیلیے ہونہار طلباء و طالبات کو سکالر شپ دے گا۔

33,153 görüntüleme • 10 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

“کراچی پنجاب میں تھا اور پنجاب کا حصہ تھا۔”امیتابھ بچن بالکل درست کہہ رہے ہیں . امیتابھ بچن کی بات کراچی پنجاب میں تھا یا پنجاب کا حصہ تھا بالکل درست ہے اس کا سادا سا مطلب ہے کہ تقسیم سے پہلے کا کراچی تک پھیلا ہوا پنجاب ہندوستان کا اتنا بڑا صوبہ تھا کہ کراچی پنجاب کا ہی ایک حصہ لگتا تھا۔پنجاب ایک طرف جمنا دوسری طرف افغانستان تیسری طرف کراچی اور چوتھی طرف جموں کشمیر گلگت بلتستان چین تک پھیلا ہواتھا۔سندھ کا اسوقت کوئی وجود نہیں تھا سندھ بمبئی کا حصہ تھا کراچی کی بندرگاہ درحقیقت پنجاب کی گندم چاول کپاس اور زرعی اجناس یورپ ایکسپورٹ کرنے کیلئے ہی انگریزوں نے تعمیر کی تھی۔دوسرا سارا ناتھ انڈیا کراچی کی بندرگاہ براستہ پنجاب استعمال کرتا تھا۔اگر پاکستان نہ بنتا کراچی پنجاب کا ہی حصہ ہوتا اور اندرون سندھ بمبئئ کا حصہ ہوتا۔ویسے بھی کراچی کی بندرگاہ گذشتہ آٹھ ہزار سالوں سے ہڑپا سپتا سندھو کے زمانوں سے بلاشرکت غیرے پنجاب ہی بندرگاہ ہی کی بندرگاہ رہی ہےاور پنجاب ہی کے زیر استعمال میں رہی ہے۔قدیم پنجابی سلطنت سپتا سندھو /پنجاب ہڑپا اور ٹیکسلا کی ساری درآمدات و برآمدات عالمی تجارت میسوپٹیمیا اور دیگرقدیم دیشوں سے سندھو دریا سے جڑے سمندر/ کراچی کے ذریعہ ہی ہوتی تھی جوایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی کی بندرگاہ بننے تک انڈس دریا میں چلنے والے بحری جہازوں اور جہازی کشتیوں کے ذریعے کراچی کے سمندر تک مال پہنچانے اور لانے کیلئے جاری رکھی ۔پنجاب کی درآمد وبرآمدکیلئےہی کراچی کی بندرگاہ تعمیر کی گئی۔ہزاروں سالوں سے پنجاب کے پنج ست دریاؤں کا پانی ,پنجند کا پانی, پنجابی دریا سندھو /Indus کے ذریعے سمندر میں جاگرتاہے .سندھو دریا کےاندر بہنے والاسندھ گذرکر سمندر میں جاگرنےوالا پنجاب کےپنج ست دریاؤں کا پانی اور سمندر تک جانیوالی دریا کی بلاشرکت غیرے روزاول سے پنجاب کو سندھو دریا کا حق ملکیت دیتی ہے۔ پنجاب ہزاروں سالوں سے بیرونی دنیا تجارت کیلئے کراچی کی بندرگاہ یا سمندر اپنی بندرگاہ کے طور پر استعمال کرتا آ رہا ہے۔اور سپتا سندھو کی ساری بیرونی تجارت سمندر کےسندھو پنجاب سے جڑے ہونے کی وجہ سے ہوتی آرہی تھی۔ کیوں کہ اس وقت سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا .سندھ صوبہ انگریزوں نے قائم کیا۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سپتا سندھو اور ٹیکسلا کی آٹھ ہزار سال قدیم پنجابی سلطنوں کے زمانوں سے کراچی اور اس کا سمندر پنجاب کےزیر استعمال اور پنجاب کا حصہ رہا ہے اور پنجاب زمانہ قدیم آٹھ ہزار سال سے کراچی اور سمندر تک تھا اور ہے۔جب تک پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی پنجند سے لے کر پنجاب کا سب سے بڑا پنجابی دریا سندھو المعروف دریائےپنجاب کراچی کے سمندر تک لے کر جاتا رہے گا اسوقت تک کراچی اس کی بندرگاہ اور سمندر بھی پنجاب کاحصہ رہے گا۔ اسی لئے امیتابھ بچن جو خود بھی پنجابی ہیں یا کوئی بھی اور پنجابی یا ساراپنجاب سارا نارتھ انڈیا کہہ سکتا ہے کہ کراچی پنجاب میں تھا۔اور سمندر کے سندھو دریا کے ذریعے پنجاب سےجڑے ہونے کی وجہ سے ہم بلا کسی تردر کے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی پنجاب میں ہے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔کیونکہ اسوقت پنجاب آدھے بھارت کے برابر تھا اور سندھ کو کوئی نہیں جانتا تھاتب سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا۔سندھ کل کی بات ہے۔ساری دنیا پنجاب کو ہی ہند سے الگ ایک ملک کے طور پر اور کراچی پنجاب میں ہے کے طور پر ہی کراچی کو جانتی تھی۔

Chaudhry Nazeer Kahut

59,819 görüntüleme • 12 gün önce

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 görüntüleme • 1 ay önce