正在加载视频...

视频加载失败

پنجاب کی جعلی وزیراعلی جس کو پنجاب کی عوام نے ریجیکٹ کیا جو اپنی لاہور کی سیٹ بھی ہاری ہوئی ہیں اس نے آج ہمارے سندھ ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو دہشتگرد کہا ہے۔ پاکستانیو یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔...

18,157 次观看 • 15 天前 •via X (Twitter)

5 条评论

Shaheen 的头像
Shaheen14 天前

مریم نواز اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر بالکل درست بات کہہ رہی ہے۔ مریم نواز کے ساتھ جو گیراج والی دہشتگردی ہوئی تھی وہ بھی پڑوسی صوبے سے تعلق رکھنے والے کیپٹن صفدر نے کی تھی۔ اس وقت مریم نے پہلی بار یہ نعرہ لگایا تھا۔۔۔۔۔ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے

SHABIR 的头像
SHABIR15 天前

Bakwas

Ahmad Khan 的头像
Ahmad Khan15 天前

Kya baat hai.

shazainkhan 的头像
shazainkhan14 天前

سہیل آفریدی کے دور میں اب تک 76 ڈرون حملے ہوئے جن میں عام شہری شہید اور زخمی ہوئے. ڈرون حملوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

Shoaib 的头像
Shoaib15 天前

Ik or bat mil gae Imrandu ko Ary bhai koi kam b kr k dikha do ya bs 5 saal Idhr udhr ki baten he krta raho ga

相关视频

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے کان کھا لئے کہ “فتنہ الہندستان” نے تباہی تباہی مچا رکھی ہے ۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل نے یہ بات مارکو روبیو کو کیوں نہیں بتائی ؟! مارکو روبیو انڈین صحافی کے سوال پہ کئی جواب دے سکتے تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے ہمارا انڈیا سے الگ تعلق ہے پاکستان سے الگ،لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا بلکہ کہا کہ: “ہاں یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر سے انڈیا پہ دہشتگردی کے حملے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی زمیں انڈیا کے اندر دہشتگردی کے لیے استعمال ہوتی ہے” فیورٹ فلیڈ مارشل کا شٹل کاک بنکر گھومنے کا حاصل جمع کیا نکلا؟ انڈیا کہ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف یہی پوزیشن ہے، مارکو روبیو انڈیا میں کھڑے ہو کر اس پوزیشن کو اس وقت تسلیم کر رہے ہیں جس وقت ہم نے بلوچستان کے اندر شہید ہونے والے لوگوں کو دفنایا بھی نہیں ہے۔اس موقع پر مارکو روبیو یہ بھی کہہ سکتے رھے کہ جیسے انڈیا کو concern ہے ویسے پاکستان کو بھی concern ہے ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔لیکن انہوں نے ایسا نہیں کہا اور پاکستان کو دہشتگردی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا یہ ہے جھوٹے بیانیے پاسپورٹ اور سلوٹ کی عزت ۔

Rodium-A

71,376 次观看 • 3 个月前

یہ پنجاب حکومت ہے، آپ ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جو میٹرو کی طرف جا رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ان لوگوں کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت بالکل مفت کر دی ہے، ان سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا جا رہا۔ آپ میرے پیچھے یہ جنگلہ دیکھ سکتے ہیں، اس سے مجھے عمران کی بات یاد آگئی جو اسے جنگلہ بس کہتا تھا، لیکن اب اسی پنجاب حکومت نے عوام کو چار مختلف سروسز یعنی میٹرو، اسپیڈو، گرین بس اور اورنج لائن بالکل مفت فراہم کر دی ہیں ​مہنگائی کے اس دور میں جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئیں، مختلف صوبوں نے اپنے اپنے حساب سے اقدامات کیے، کسی نے موٹر سائیکل پر سبسڈی دی تو کسی نے کچھ اور، لیکن پنجاب حکومت لاکھوں لوگوں کو ان بسوں میں مفت سفر کروا رہی ہے۔ پی ٹی آئی والے اس حکومت کو 'فارم 47' کی حکومت اور کرپٹ کہتے ہیں، مگر میرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ کرپٹ ہیں تو عوام کو اتنی بڑی سہولت اور سبسڈی کیوں دے رہے ہیں؟ جو لوگ خود کو ایماندار کہتے ہیں انہیں تو اس سے بھی دگنی سہولتیں دینی چاہیے تھیں انہوں نے کچھ بھی نہیں دیا .پشتون بھائی

Muzamil

14,766 次观看 • 5 个月前

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,608 次观看 • 13 天前