Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پنجاب گورنمنٹ کالج کے گارڈ اور استاد کی ہمت کیسے ہوئی ایک نوعمر طالبہ کو ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنائیں !!! اب ہماری بہن بیٹیاں خاموش نہیں بیٹھے گی، اب صرف مذاحمت مذاحمت مذاحمت ہوگی۔ #Punjabcollege #Lahore #JusticeForPGCStudent

30,250 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

لاہور شہر کی خواتین طالبات سے جُڑی تین خبریں خاتون وزیراعلی مریم نواز کی حکومت خاموش تماشائی پنجاب کالج کا کیمپس 10 گلبرگ جہاں کالج کے گارڈ نے زیرتعلیم طالبہ کا مبینہ ریپ کیا ، میڈیا سمیت کوئی پنجاب کالج کا نام چلانے کو تیار نہیں ، کالج انتظامیہ نے معاملہ دبایا الٹا اسٹوڈنٹس کو احتجاج کرنے پر ڈرایا جارہا لیکن کالج کی طالبات نے آج بھرپور احتجاج کیا ہے ، پولیس نے ملزم گرفتار کیا ہے تاحال وہ بھی نجی کالج کہہ رہے ساتھ میں ملزم کی تفصیلات نہیں دی جارہیں اگر بااثر پنجاب کالج نہ ہوتا تو انتظامیہ پولیس اور میڈیا کا یہی رویہ ہوتا ؟ اب تک کالج کے اندر کی فوٹیج اور سی سی ٹی وی تک چل چکی ہوتی ادارے کا نام پر مریم نواز جائیں پنجاب کالج اور ادارہ سیل کروائیں ساتھ میں بتائیں ابھی تک ایف آئی أر کیوں نہیں ہوسکی ؟ دوسری خبر جیل روڈ پر واقع لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی ہے جہاں مرد عملے پر مسلسل خواتین اسٹوڈنٹس کا ہراساں کرنے کا الزام ہے ، طالبات نے آج احتجاج کیا ہے اور نعرے بازی بھی یہ سرکاری ادارہ ہے یہاں ہی پنجاب حکومت کچھ کرلے یا عورت کارڈ صرف پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلی تک ہی چلانا ہوتا ہے ؟ تیسری خبر پنجاب یونیورسٹی سے ہے جہاں رات ہاسٹل میں طالبہ نے مبینہ خودکشی کی ہے ، بتایا جا رہا لڑکی کسی کی طرف سے بلیک میلنگ کا شکار تھی اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے یہ لاہور شہر کا حال ہے جہاں تاریخ کی پہلی “ خاتون وزیراعلی “ ہیں

Umar Daraz Gondal

232,308 görüntüleme • 1 yıl önce

مختصر تعارف کے ساتھ ایک بہتر اور پروفیشنل انداز میں: جو لوگ آج بھی اپنی بیٹیوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھ کر انہیں آگے بڑھنے کے مواقع نہیں دیتے، وہ دراصل وقت کے ساتھ چلنے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ میری بانجی اور میری بیٹی ہیں۔ دونوں نے محنت سے اپنا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بنایا، مستقل ویڈیوز بنائیں، لائیو سیشن کیے اور اپنی پہچان خود بنائی۔ آج الحمدللہ ان کی محنت رنگ لا رہی ہے۔ انہیں مختلف برانڈز اور کاروباری اداروں کی جانب سے آفرز موصول ہوتی رہتی ہیں۔ اب دبئی سے ایک بزنس کی افتتاحی تقریب کے لیے باقاعدہ دعوت ملی ہے۔ ویزا اور دیگر سفری انتظامات مکمل ہو چکے ہیں، اور ان شاء اللہ ایک دو دن میں دونوں ایک ہفتے کے لیے دبئی روانہ ہوں گی۔ یہ سفر صرف ایک تقریب میں شرکت کے لیے ہے، جس کے عوض انہیں ایک ہفتے کا معاوضہ 20 لاکھ روپے دیا جائے گا۔ بیٹیوں کو قید نہیں، تعلیم، اعتماد اور مواقع دیجیے۔ جب وہ آگے بڑھتی ہیں تو صرف اپنا نہیں، پورے خاندان کا نام روشن کرتی ہیں۔ ❤️

Nadia Malik

45,143 görüntüleme • 29 gün önce

محترمہ مشعال یوسفزئی نے یہ جھوٹ پہلے بھی پھیلایا تھا کہ وہ اسلامیہ کالج پشاور کی پہلی خاتون صدر سٹوڈنٹ یونین رہی ہیں اور بعدازاں یکے بعد دیگرے وہ تین بار منتخب ہوئی ہیں۔ موصوفہ 2013 سے 2018 میں وہاں کی طالبہ تھیں اسلامیہ کالج پشاور میں کوئی سٹوڈنٹ یونین ہے ہی نہیں۔ موصوفہ وہاں ایک ہال جس نام خیبریونین ہال ہے اس کی سٹوڈنٹ صدر رہی ہیں۔ یہ یونین کا کام غیر نصابی سرگرمیوں کا انعقاد کراتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ذاتی باتوں کا علم بھی میں رکھتا ہوں جو موصوفہ کالج ہاسٹل میں کیا کرتی تھیں۔ کس طرح وہاں چند لڑکیوں کے ساتھ مل کر موصوفہ نئی آنے والی لڑکیوں کو اپنے کمرے میں بلا کر کیا کیا کرواتی تھی ریگنگ کے نام پر اور کس نام سے ہاسٹل اور کالج میں مشہور تھیں وہ ذرا نامناسب حرکات اور القابات ہیں لہذا میں فی الحال کیلئے اس کو بیان نہیں کروں گا۔ البتہ موصوفہ ایک اور جھول سے کام لیتی ہیں کہ میں نے سو سالہ تاریخ رکھنے والے اسلامیہ کالج پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے یہ بھی جھوٹ ہے کیونکہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشاور دو مختلف سیٹ اپ ہیں۔ جس اسلامیہ یونیورسٹی سے انہوں نے لاء کی ڈگری کی وہ 18 سال پہلے بنا ہے۔ وضاحت: یہ تمام تفصیل مشعال کے ساتھ ہی اسی ٹینیور میں مگر اس سے جونیئر رہنے والے طالبعلم کی جانب سے ہی تفصیلات ملیں ہیں جن کا نام فی الحال بتانا مناسب نہیں کیونکہ وہ اب ایک نامور نوجوان ایکٹویسٹ اور صحافی ہیں۔

Azeem Butt

19,989 görüntüleme • 8 ay önce

آج اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی، بیبگر اور دیگر اسیر کارکنان کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگایا گیا، جس میں ان کی باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بلوچستان کی عدالتوں، حکومت، اور میڈیا سے مایوس ہو کر، خواتین، بزرگ مائیں، اور معصوم بچے سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچے اس امید کے ساتھ کہ شاید ریاست کے دارالحکومت میں، جہاں اعلیٰ عدلیہ، حکمران، اور میڈیا سب موجود ہیں، ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر ایک بار پھر نہ صرف ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا، بلکہ ان کا آئینی حقِ احتجاج بھی چھین لیا جارہا ہے۔ پہلے پولیس اہلکاروں نے احتجاجی کیمپ کے ٹینٹ اور اسپیکر تک ضبط کر لیے۔ بزرگ خواتین اور بچے بارش اور خراب موسم کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے، اب جبکہ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی نے مظاہرین کو گرفتاری اور ممکنہ کریک ڈاؤن کے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاست کی یہی طاقت پر مبنی پالیسیاں آج بلوچستان کو جلا رہی ہیں۔ انصاف کے مطالبے پر سنجیدہ ردعمل دینے کے بجائے، اگر ریاست بزرگ ماؤں اور بہنوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹے گی، تو یہ نہ صرف ظلم ہوگا بلکہ ایک اور شرمناک باب رقم کیا جائے گا۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

18,209 görüntüleme • 1 yıl önce