Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پڑھا لکھا وکیل، ہتھکڑیوں میں جکڑے شخص سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے والے کو کہتا ہے: ’’پاؤں پر گر جاؤ!‘‘ عدالت کے اندر اپنی ہی عدالت لگانے والو، ذرا یہ بھی یاد رکھو... ایک عدالت اُس رب کی بھی ہے، جہاں نہ وکالت چلے گی، نہ سفارش، نہ...

24,630 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

طاقت کے نشے میں بد مست گروہ نے ملک بھر میں فاشزم کا بازار گرم کر رکھا ہے، شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو جو گزشتہ تین دن سے سیالکوٹ میں میرے کارکنان کے گھروں پر مبینہ ظلم و جبر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے، خواتین سے مبینہ نامناسب سلوک، خاندانوں کو ہراساں کرنے اور گرفتاریوں کے ذریعے خوف پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پنجاب پولیس کے اس طرزِ عمل پر جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ وردی اور سرکاری اختیار عوام کی عزتیں پامال کرنے کا لائسنس نہیں۔ دوسروں کے گھروں میں داخل ہوتے ہوئے ذرا یہ ضرور سوچ لیا کریں کہ وہاں بھی کسی کی ماں، بہن اور بیٹی ہے۔ اگر آج کسی اور کے گھر کی حرمت پامال ہو رہی ہے تو کل یہی سوال آپ کے دروازے پر بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ یاد رکھو! طاقت ہمیشہ کے لیے کسی کے پاس نہیں رہتی۔ اقتدار، عہدے اور اختیار سب عارضی ہیں، مگر ظلم کا حساب باقی رہتا ہے۔ سدا بادشاہی صرف میرے رب کی ہے۔ جو لوگ آج طاقت کے نشے میں ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی عدالت بھی لگے گی، جہاں نہ کرسی کام آئے گی نہ سفارش اور نہ کوئی سیاسی سرپرستی۔ ظلم جتنا بھی طاقتور ہو، انجام سے بچ نہیں سکتا۔ ان شاء اللہ ہر زیادتی کا حساب ہوگا۔

Rehana Dar

37,950 просмотров • 3 дней назад

مریم نواز کی ضد !! لاہور میں بیٹھے باپ بیٹی اس بات کو نہیں مان رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان کو ہاسپٹل شفٹ نہ کیا جائے ۔ عمران خان کو ابھی تک شفاء انٹرنیشنل ہاسپٹل شفٹ نہیں کیا گیا۔ کچھ معتبر وکلا سے میری بات ہوئی انکا کہنا ہے کہ ججز نے یہ فیصلہ اس انداز میں لکھا ہے کہ کوئی لُوپ ہول نہیں چھوڑا، تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ آپ نے یہ جھول چھوڑ دی تھی۔ عدالت نے اس فیصلے میں موجود تمام پارٹیوں کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر لکھا ہے ۔ آج عمران خان کی بہن عظمیٰ خان جو پٹیشنر ہیں وہ اور انکے وکلاء نے اپنی تمام زمہ داریوں کو پورا کیا۔ عدالت کے فیصلے کی کاپی حاصل کی اور جیل انتظامیہ کو عدالتی فیصلے کے ساتھ ساتھ ایک ایک کاغذ کی کاپی جمع کروا دی ہے اور انھیں بتا دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے آڈرز ہیں کہ عمران خان کو 48 گھنٹے میں شفٹ کرنا ہے اگر نہ کیا تو توہین عدالت کی کاروائی ہو گی ۔ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا ۔ حکومتی ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی طبعیت کافی خراب ہے اسکے بعد عدالت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ عدالت سے مزید وقت لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن20 تاریخ کی شام کے بعد سے ان پر توہین عدالت شروع ہو جائے گی ۔ (شہباز گل )

Rodium-A

69,401 просмотров • 1 месяц назад

وزیرِ قانون کو واضح جواب ہے کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کروائیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ علاج صرف سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے اور پرائیویٹ ہسپتال میں نہیں ہو سکتا۔ تو پھر لندن میں نواز شریف کا علاج جس ہسپتال میں ہوا، کیا وہ سرکاری ہسپتال تھا؟ ، ان کی مرضی کے ڈاکٹرز نے علاج کیا، کیا وہ سب کچھ اس وقت جائز تھا؟ ہم نہ کوئی ڈیل مانگ رہے ہیں، نہ ڈھیل مانگ رہے ہیں، نہ کسی قسم کا این آر او چاہتے ہیں اور نہ ہی ملک سے بھاگنے والے ہیں،یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ آج سپریم کورٹ نے عمران خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جو فیصلہ آپ کے حق میں آئے، وہ آپ کو درست لگتا ہے، لیکن جو فیصلہ انصاف پر مبنی ہو اور آپ کے خلاف ہو، اسے ماننے سے انکار کر دیا جائے—یہ طرزِ عمل قابلِ قبول نہیں۔ میں معزز عدلیہ سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ اپنے فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اگر متعلقہ حکام عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کرتے تو عدالت اپنے احکامات کی خلاف ورزی کا نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں، یہ ایک انسان کی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے۔ عمران خان صاحب کو عدالتی حکم کے مطابق فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں وہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں جن کا عدالت نے حکم دیا ہے۔

Naeem Haider Panjutha

40,946 просмотров • 1 месяц назад

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 просмотров • 7 месяцев назад