Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پہاڑوں میں مزاحمت کاروں کا مقابلہ کرنے کے بجائے ریاستی فوج عام بلوچ نوجوانوں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو تیزاب سے مسخ کرکے، ان کے جسدِ خاکی کو نمائش کے لیے سڑکوں پر رکھ کر بتاتی ہے کہ ہم نے دہشت گرد مارے ہیں، اور پھر پوچھتی...

33,317 görüntüleme • 26 gün önce •via X (Twitter)

22 Yorum

Abdul sattar profil fotoğrafı
Abdul sattar25 gün önce

جو کتے پہاڑوں پہ چڑھے ہیں وہ میدان میں آ کر مقابلہ کر لیں نہتے لوگوں پہ حملہ کر کے بھگوڑے پہاڑوں پہ دوڑ جاتے ہیں ٹک ٹاک بنانے نیچے آتے ہیں

Meri Baat profil fotoğrafı
Meri Baat26 gün önce

کوئی مسنگ پرسن نہیں ہوتا یہ منہ پہ پیمپر لگا کے تو دہشت گردی کرتے ہیں اور اور جب انٹیلیجنس کے ذریعے یہ گرفتار ہوتے ہیں تو یہ ان کی رنڈیاں ا کے مسنگ پرسن کا رونا رونے لگ جاتی ہیں گشتی کے بچے یہ قوم پرست بلوچ دہشت گرد ہوتے ہیں یہ پہاڑوں والا ہی ہوتے ہیں گرفتار

Real Islam profil fotoğrafı
Real Islam25 gün önce

ایک کام کرو بیگناہ نوجوانوں کے خاندانوں کو سامنے لاؤ۔۔ اور ثاںت کرو کہ تمھارے نوجوان بیگناہ تھے دہشتگردوں کے سہولتکار یا انکے ساتھ نہیں تھے۔۔۔ بلاوجہ تو یہاں کتے کو بھی نہیں مارا جاتا۔ بیگناہ انسان کو کون ماریگا۔ ہاں بلوچ ضرور بیگناہ مزدور بلوچوں اور دیگر پاکستانیوں کو مارتے ہیں

QuettaCafé profil fotoğrafı
QuettaCafé25 gün önce

مسلمانوں کی لاشوں کو جلانا ؟؟ بات اب دہشت گردی سے آگے جا چکی ہے نعیمہ ۔۔ @zehrijournalist بلوچستان صرف بلوچوں کا نہیں ہے ، ریاست کے باغییوں کے ساتھ سارے ملک ایک جیسا ہی سلوک کر تے ہیں ! کونسے بچوں کو مارا گیا ہے ؟ نام بتائیں تاکہ آواز اٹھائی جائے ؟ انسانیت کا درس نہ دو ♥️

QuettaCafé profil fotoğrafı
QuettaCafé25 gün önce

@zehrijournalist کتنی عورتیں اب تک پہاڑوں پر جاچکی ہیں اور کتنی خود کش بمبار بن چکی ہیں ؟ کچھ تفصیل بتائیں ؟

پاکستان profil fotoğrafı
پاکستان25 gün önce

جو لوگ ریاستی فوج اور ریاست کے خلاف لڑنے سے انکار کرتے ہیں انکو بی ایل اے والے عبرت کا نشان بنا کر تیزاب سے چیرے مسخ کر کے انکی لاشوں کو جنگلی جانوروں لئے پھینک دیتے ہیں تاکہ بلوچ جوان ایسی موت کے خوف سے دہشت گرد بن کر ریاست سے لڑتے رہیں۔

عرفان لاسکانی بلوچ profil fotoğrafı
عرفان لاسکانی بلوچ25 gün önce

بلوچ عورت کو خ و د ک ش ب م ب ا ر بنایا جا رہا ہے ان کو پہاڑوں پر بھیجا جا رہا ہے تاکہ بلوچ کی نئی نسل کم پیدا ہو اور جو پیدا ہو وہ بھی لڑائی میں مر جائے وہ بلوچ کو لڑائی میں ہی ختم کرنا چاہتے ہیں

aman mansoor profil fotoğrafı
aman mansoor25 gün önce

Lala land awa awa . Alll these terrorist when they get caught they become either student or innocent once released ran towards there masters bla . These bla terrorist aka missing propaganda won’t work

Muhammad Tayyab Shah 🇵🇰 profil fotoğrafı
Muhammad Tayyab Shah 🇵🇰24 gün önce

دہشت گردوں کی چیخیں بتا رہی ہیں کہ فوج نے ڈنڈا اندر تک ڈال رکھا ہے

Sami Ch profil fotoğrafı
Sami Ch25 gün önce

کوئی مسنگ پرسن نہیں ہوتا یہ منہ پہ پیمپر لگا کے تو دہشت گردی کرتے ہیں اور اور جب انٹیلیجنس کے ذریعے یہ گرفتار ہوتے ہیں تو یہ ان کی رنڈیاں ا کے مسنگ پرسن کا رونا رونے لگ جاتی ہیں گشتی کے بچے یہ قوم پرست بلوچ دہشت گرد ہوتے ہیں یہ پہاڑوں والا ہی ہوتے ہیں گرفتار

high value profil fotoğrafı
high value25 gün önce

افغانستان کا بلوچ صوبہ نمروز ہے وہاں تو بلوچی ایسی کی کوئی آزادی کی تحریک نہیں چلا رہے، کیا وہ زمین بلوچوں کی نہیں ہے؟ یا وہاں پر فساد مچانے کیلیے بھارت اور اسرائیل بلوچوں کو فنڈ نہیں کرتا؟ زیادہ بلوچ پنجاب اور سندھ میں رہ رہے ہیں، تو ادھر سے بلوچ کیوں نہیں نکل لیتے پہلے

Shooter🇵🇰 profil fotoğrafı
Shooter🇵🇰25 gün önce

Raho naraz hamari joti sa .

Engr.Sadik🇵🇰 profil fotoğrafı
Engr.Sadik🇵🇰24 gün önce

تم تو پہاڑوں کے بجائے L پر چڑھنے امریکہ گئ

وطن پرست profil fotoğrafı
وطن پرست24 gün önce

چل جھوٹی۔ عام بلوچ کدھر تھے

Abdul Jabbar Marri profil fotoğrafı
Abdul Jabbar Marri25 gün önce

Great lady Naeema Zehri she always speak voice for baloch peoples justice and the oppressed

Dr FJK profil fotoğrafı
Dr FJK25 gün önce

Kidney touching story 🥺

Naved profil fotoğrafı
Naved24 gün önce

آپکی بہادری کو سلام 💪✌️، کامیابی آپکا مقدر ہے ، انشاء اللّٰہ 🤲

Rauf Aslam profil fotoğrafı
Rauf Aslam25 gün önce

یہ فوج کی ڈیوٹی ہے۔ کہ غداروں کو قتل کرے اپی

Malik attaulha profil fotoğrafı
Malik attaulha24 gün önce

ناراض بلوچوں کی ناراضگی ختم کرنے کا پورا بند بست کیا جارہاہے فکر نا کرو

project profil fotoğrafı
project25 gün önce

تکلیف تو ہو گی کتوں والی موت جو مرے ہیں تو کتوں کی طرح ہی پڑے ملے گے۔ سمجھا نا خبر دو جو عوام اچھی لگے جو دکھا رہے ہو عوام تو یہ چاھتی ہے ۔ کے یہ گند صاف ہو۔

ZeeShan Pakistani profil fotoğrafı
ZeeShan Pakistani25 gün önce

Chal jhooti

Salma Khan profil fotoğrafı
Salma Khan24 gün önce

G sary terrorist han

Benzer Videolar

اگر مقصد واقعی بلوچ حقوق ہیں تو راستہ تعلیم، شعور، سیاست اور ترقی ہونا چاہیے نہ کہ کم عمر بچیوں کو مختلف حربوں سے ورغلا کر، دھمکا کر بارود اور شدت پسندی کی طرف دھکیلنا۔ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے بندوق نہیں۔ بلوچ بیٹیوں کو یونیورسٹیوں میں ہونا چاہیے پہاڑوں کے عسکری کیمپوں میں نہیں۔ کیونکہ جو اسپانسرڈ عناصر بلوچ نسل کو جنگ کی آگ میں جھونک رہے ہیں وہ بلوچ قوم کے مستقبل اور تشخص کو تباہ کر رہے ہیں۔ آج سامنے آنے والی ویڈیو نے ایک تلخ حقیقت واضح کر دی۔ شہناز بلوچ یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ بلوچ قوم شعوری طور پر ایک مخصوص عسکری جدوجہد کا فیصلہ کر چکی ہے مگر دوسری طرف ان کے کیمپ میں جن چہروں کو تربیت دی جا رہی ہے ان میں تمام تر لڑکیاں کم عمر اور نابالغ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی ایک شعوری سیاسی فیصلہ ہے تو پھر معصوم بچیوں کو ورغلا کر ان کے ذریعے جنگ اور خودکش تربیت کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا معصوم ذہنوں کو جنگی نفسیات دینا انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف نہیں؟ بلوچ اور اسلامی روایت میں خواتین کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے مگر آج آزادی کے نام پر بلوچ بیٹیوں کو پہاڑوں پر عسکری تربیت دینا بلوچ ننگ، ثقافت اور تشخص کے سراسر خلاف ہے۔ یہی عناصر روز ریاستی اداروں پر بلوچوں کو اٹھانے کے الزامات لگاتے ہیں مگر جب درجنوں خواتین اور نابالغ لڑکیاں عسکری کیمپوں میں موجود ہوں تو ایک منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ خود چاہتے ہیں کہ ریاستی ادارے کل ان کے خاندان والوں سے تحقیقات کریں ۔تاکہ یہی عناصر دوبارہ لاپتہ بلوچ” کا بیانیہ بنائیں ؟ خواتین کی اس حد تک بے حرمتی اور نسل کشی ہر بلوچ خاتون کی راہ میں منفی اثرات اور مشکلات چھوڑتی ہیں۔

Meena Majeed Baloch, MPA

38,657 görüntüleme • 4 ay önce

ماورائے عدالت قتل۔۔۔ شہید حمدان کی بہن “یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے، اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی حمدان اور دیگر تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔ اگر یہ مقابلہ تھا تو اس میں صرف بلوچ نوجوان ہی کیوں مارے گئے؟ آپ کے اہلکاروں کا ایک بندہ تک کیوں نہیں مرا؟ اور پھر اسی طرح، بنا ثبوت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کی دیگر ساتھیوں کو آپ کی عدالت نے عمر قید سنائی ہے۔ میرا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز بگٹی صاحب کہتے ہیں کہ اہلکار شبیر بلوچ کے لواحقین کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اگر ایک واقعے پر مکمل طور پر ردِعمل آ سکتا ہے، اگر لوگوں کو سزائیں سنائی جا سکتی ہیں، تو پھر ہمارے بھائی حمدان بلوچ کے معاملے میں خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ہمارے بھائی کے کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی عدالت بے گناہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے، تو اُن سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کیا سزا ہونی چاہیے جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا؟ اگر بقولِ آپ کے شبیر کے لواحقین کو انصاف ملا ہے، تو حمدان بلوچ کے لواحقین کا انصاف کہاں ہے؟ اگر آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے آپ لوگوں کے منہ اور عدالتوں کے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں؟ ہم بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے اہلِ خانہ کو انصاف دیا جائے اور ان سی ٹی ڈی اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ان کو سزا نہیں دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے ہمارے خاندان کو انصاف دیا جائے۔”

Baloch Yakjehti Committee

13,732 görüntüleme • 2 ay önce

بی وائی سی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا پیغام! بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کاروان کو پورے بلوچستان میں ہر جگہ روکا جا رہا ہے۔ ریاست اپنی پوری طاقت اور پوری مشینری بلوچ راجی مُچی کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ ریاست پرامن اور نہتے عوام پر طاقت کا استعمال کرکے بلوچ عوام کے سامنے اپنی بدترین شکست کا اعتراف کر رہی ہے۔ میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ جہاں جہاں بلوچ راجی مُچی کے کاروان کو روکا جا رہا ہے، وہاں پر امن طریقے سے دھرنا دے کر پورے بلوچستان کو بند کریں۔ ہم اس بربریت کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے پورے بلوچستان کو بند کریں گے۔ آج مستونگ میں قافلے پر حملہ، متعدد بلوچ نوجوانوں کو زخمی کرنا، اور دیگر علاقوں میں گرفتاریاں اور تشدد کے تمام واقعات کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور ہم ریاست کے ان تمام واقعات کا حساب لیں گے۔ میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ فوری طور پر بلوچستان میں ریاستی بربریت کا نوٹس لیں۔ #GwadarIsUnderSiege #WeSupportBalochRaajiMuchi #BalochNationalGathering

Baloch Yakjehti Committee

23,749 görüntüleme • 2 yıl önce

بلوچ راج! بلوچ راجی مچی 28 جولائی بروز اتوار شام 3 بجے پدی زِر گوادر میں منعقد ہوگا۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، ریاست پاکستان بلوچ راجی مچی کو ناکام بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جو ریاستی بوکھلاہٹ اور خوف کو صاف ظاہر کرتی ہے۔ اسے بلوچ راجی مچی کے سامنے ریاستی شکست اور بلوچ راجی مچی کی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ راجی مچی کو کامیاب بنانے کے لیے ریاست کے تمام تر مظالم اور جبر کے خلاف مزاحمتی طریقہ کار اور قاعدہ اپنائیں۔ جیسے کہ ریاست ٹرانسپورٹرز، باورچی، اور دکانداروں کو دھمکیاں دے رہی ہے، اس کے ردعمل میں بلوچ قوم کا ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق ٹرانسپورٹ، راشن، اور دیگر ضروری سامان زیادہ سے زیادہ تعداد میں راجی مچی کے لیے مہیا کرے۔ اس کے علاوہ، ریاستی جبر اور مظالم نے بلوچ راجی مچی کی اہمیت کو دوگنا کردیا ہے۔ اب یہ صرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کا نہیں، بلکہ بلوچ سماج کے ہر طبقہ فکر کے لیے اہمیت کا حامل ہوگیا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ اگر ہم آج ریاست پاکستان کے ظلم، جبر، اور بربریت کے سامنے خاموش ہوجائیں تو اس کے نتائج ہمارے موجود اور آنے والی نسلوں کو بھگتنے ہوں گے۔ لہٰذا یہ وقت خاموش ہونے کا نہیں، مزاحمت کرنے کا ہے۔ ہر طبقہ فکر کو ہر طریقے سے اس مزاحمت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اب ہر بلوچ کا کردار ادا کرنا لازمی بن چکا ہے۔ آخر میں ہم 28 جولائی کو گوادر کے علاوہ (گوادر میں دکاندار بلوچ راجی مچی کے شرکاء کو سامان اور ضروری اشیاء مہیا کریں گے) پورے مکران میں بلوچ راجی مچی کے احترام میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ راجی مچی بلوچ نسل کشی، بلوچ قوم کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے، اور بلوچ قوم کی تشکیل نو کے خلاف ایک منظم عوامی جدوجہد کا آغاز ہے۔ اس لیے اس راجی مچی کے احترام میں بلوچ راج کے تمام دکاندار، کاروباری حضرات، اور تاجر برادری رضاکارانہ بنیادوں پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں اور بلوچ راجی مچی اور بلوچ قومی بقاء کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ #WeSupportBalochRaajiMuchi #BalochNationalGathering #بلوچ_راجی_مُچی

Baloch Yakjehti Committee

26,779 görüntüleme • 2 yıl önce

بلوچستان ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالا دستی کے لیے آواز اٹھا رہی تھیں، بلوچستان میں جو ظلم اور زیادتیاں ہوتی ہیں لوگوں کو جبری لاپتہ کر دیا جاتا ہے اس کے خلاف پُرامن جمہوری جدو جہد کر رہی تھیں ان کو بھی جیل میں بند کیا ہوا ہے، یہ خواتین سے بھی ڈرتے ہیں خواتین نے ان چار سالوں میں پاکستان کے لیے، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور حقیقی آزادی کے لیے بڑا کردار ادا کیا ہے اور آج تک جبر اور ظلم کے سامنے ڈٹی ہوئی ہیں عاصم منیر کی فرعونیت اور یزیدیت کو نہیں مان رہیں اور حسینیت کا پرچم بلند کر کے جیلوں میں بند ہیں، ڈاکٹر یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایمان مزاری، ماہرنگ بلوچ وہ خواتین ہیں جنہوں نے یزید وقت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، یہ خواتین نہیں مان رہی ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ ہم حق اور سچ کے راستے پر چلیں گی چاہے ہمیں جیلوں میں ہی بند کر دیا جائے۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

12,266 görüntüleme • 4 ay önce

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 görüntüleme • 3 ay önce