Video wird geladen...
Video konnte nicht geladen werden
"پہلے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پارلیمنٹ، عدلیہ اور دیگر ریاستی امور تک محدود تھی، لیکن اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ میاں بیوی کے نجی معاملات، عدت، نکاح اور طلاق جیسے خالصتاً ذاتی اور مذہبی امور میں بھی زبردستی مداخلت کر رہی ہے" اختر مینگل #اپنا_ادارہ_ٹھیک_کرو
77,632 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)
8 Kommentare

آج عام فوجیوں کو بھی پتہ چل گیا کہ جرنیلوں کی نظر میں ان کی جان بھی عام عوام کی طرح اہمیت نہیں رکھتی، پاکستان میں جان صرف فوج کی ماں مریم منیر کی اہم ہے۔

🎹 Master the Piano on Your Nintendo Switch with "Piano: Learn and Play"! 🎶 #RT🙏 🎹👉 Unlock the joy of music: Easy tutorials 📘 Songs for all levels 🎼 Fun for all ages 🎉 Start your musical journey today! 🌟 Play now! #Piano #NintendoSwitch #NS2

اپنا ارادہ ٹھیک کروں

یہ بیغیرت بھی عمران خان کی پیٹھ میں چھور ا گھونپنے والا ہے

اسٹیبلشمنٹ کے حق میں ووٹ آپ نے بھی دیا تھا ۔۔

رجیم چینج کے وقت یہ بھی اسی ٹولہ کے ساتھ تھا یہ والا اکاؤنٹ بھی pti کے نام پہ لگتا ھے کمپنی چلا رھی ھے

تم لوگ بند کرو اپنی سیاست 😡😡 ملک اس وقت غم کی صورت حال میں ہے، پاک فوج پاکستانی شہریوں کے محفوظ انخلاء کی خاطر دن رات ایک کیے ہوے ہے اور آپ لوگوں کو شرم ہی نہیں آتی🤔😡

If the pti official needs these Company's man to share,, time to unfollow you
Ähnliche Videos
Sensitive content
الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-
Amir H. Qureshi
56,551 Aufrufe • vor 15 Tagen
