Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پہلے ایف آئی کا نوٹس آیا تھا مجھے،میں پھر بھی یہاں پارٹی کے لیے اور ناحق قید کارکنوں اور عمران خان کے لیے آواز بلند کرتا رہا۔ جب میں نے اکاؤنٹ بند کرنے سے انکار کیا تو اب ڈی سی پاکپتن سعدیہ مہر کے ساتھ مل کر ہماری نمبرداری...

493,789 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

Shehr Bano Official profil fotoğrafı
Shehr Bano Official2 yıl önce

کسی کابھی کاروبار تباہ کرنا ان کی زمین پر قبضہ کرنا اور ان کو معاشی لحاظ سے پریشان کرنا یہ سب سے گھٹیا ہتھکنڈا ہے ان لوگوں کا

Arslan Baloch profil fotoğrafı
Arslan Baloch2 yıl önce

یہ وقت بھی گزر جائے گا

SSG of Pti profil fotoğrafı
SSG of Pti2 yıl önce

جس کمشنر کو ٹیک کر رہے ہو وہ تو خود لمبردار چوہدری اکرم گجر اور پولیس انسپکڑ آصف گجر کے ساتھ مل کر زمینوں پر قبضہ کراتا رہا ہے ،

Arslan Baloch profil fotoğrafı
Arslan Baloch2 yıl önce

ریکارڈ پر رہے چیز،انشااللہ ہمارا وقت بھی ائے گا

Faisal Khan profil fotoğrafı
Faisal Khan2 yıl önce

یہ وقت بھی گزر جائے گا، اللہ پاک آپ کے گھروں والوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین

Arslan Baloch profil fotoğrafı
Arslan Baloch2 yıl önce

امین

Jibran Ilyas profil fotoğrafı
Jibran Ilyas2 yıl önce

This too shall pass, indeed. #StayStrongArslanBaloch

Arslan Baloch profil fotoğrafı
Arslan Baloch2 yıl önce

Inshallah thanks for your support

Saba Zahid profil fotoğrafı
Saba Zahid2 yıl önce

ارسلان بھائی اللہ پاک خیر کرے گا سچ کی قیمت ہوتی ئے اور ہر شخص ادا کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا ❤️❤️اللہ آپ کے لیے آسانی پیدا فرمائے۔

Arslan Baloch profil fotoğrafı
Arslan Baloch2 yıl önce

@SABAZAHID99 امین

Benzer Videolar

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,914 görüntüleme • 1 ay önce

وقت کچھ ایسا ہے کہ جو بندہ یا بندی اس وقت لوگوں کو حوصلہ دلائے گا اس سے تھوڑا بہت شکوہ کریں گے سب۔ مگر عمران خان جیل سے باہر ہوتے تو مشکل سے مشکل وقت میں بھی حوصلہ ہی دیتے- پاکستان ایک stalemate کیفیت میں ہے جہاں طاقتور لوگ تمام ادارے کنٹرول کرنے کے باوجود بےچینی میں ہیں کیونکہ عمران خان ہار نہیں مان رہا اور اس کے بغیر پاکستان آگے نہیں جا رہا بلکہ پیچھے کی طرف جارہا ہے۔ یہ چیز وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور عمران خان کو پریشر کر رہے ہیں بشریٰ بی بی کی اور ان کی اپنی صحت سہولیات پر ڈیل کی شرط رکھ کر۔ کم ظرف لوگ ہیں جو صرف “delaying the inevitable” کھیل رہے ہیں۔ کچھ فارغ لوگ اور کچھ شوشے سرِ عام چھوڑ رکھے ہیں، تا کہ معیشت، ملک کے خراب حالات اور نظام کے خلاف لوگوں کی نفرت سرخیوں میں نہ رہیں۔ ڈر کی وجہ سے ویسے بھی کوئی بول نہیں رہا سر عام مگر پھر بھی وہ بہت ڈرے ہوئے ہیں اور ظلم بڑھاتے جا رہے ہیں۔ عمران خان ایک بہت ہی عظیم مشن پر ہیں جس میں اس وقت بہت کم لوگ ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اکیلے بھی رہ گئے تو لڑیں گے حقیقی آزادی کے لیے۔ روز سوشل میڈیا پر لوگ اسی مشن کے لیے اپنا قیمتی وقت دیتے ہیں، طریقوں میں فرق ہے لیکن سب کی کاوشیں عمران خان کے مشن کے لیے ہیں۔ اس وقت لاح عمل نہ ہونے کی وجہ سے، ملاقاتیں بند ہونے کی وجہ سے اور عمران خان کی صحت کو لے کر سب سے زیادہ پریشانی ہے پچھلے چار سالوں کی۔ جتنا vent کرنا ہے کریں مگر ایک دوسرے کا پہلے سے زیادہ ساتھ دیں اور ہار ماننے کا سوچیں بھی نہیں۔ کیا ہوا اگر، زندگی ذرا الجھ سی گئی، سوچو تو ذرا جنگلوں میں بھی، راستے تو ہیں ہمیں بھی کوئی مل ہی جائے گا چلو تو سہی، چلو تو سہی راستہ کوئی مل ہی جائے گا #ReleaseImranKhan

Jibran Ilyas

47,083 görüntüleme • 3 ay önce

ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔ اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب #MaulanaInParliament

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,663 görüntüleme • 2 ay önce

عمران خان صاحب کو جب حکومت ملی، لوگ کہتے تھے کہ ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے، یہ نیا نیا بندہ ہے اور اس سے ملک سنبھالا نہیں جائے گا۔ لیکن وہ یہ بات بھول چکے تھے کہ جو ایماندار حکمران ہوتا ہے، اللہ تعالی اس کی دعا قبول کرتا ہے۔ پہلا وقت کچھ مشکل گزرا، پھر آہستہ آہستہ ملک تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ میں نے اس کے دور میں جنرل اسٹور بنایا تھا، ڈبل اسٹوری جنرل اسٹور تھا اور میں پیٹی پیٹی چیزیں لانے لگا، یعنی کاروبار میں برکت پڑنے لگی۔ میں نے بھتیجے کو رکھا تھا، اس کو تنخواہ بھی دیتا تھا اور گھر کا سرکٹ بھی چلاتا تھا۔ ساتھ ایک پارٹ ٹائم جاب بھی کرتا تھا اور بڑا خوبصورت روزگار چل رہا تھا۔ اس کے دور میں پھر خواب دیکھنے شروع کیے کہ میں مکان بنانا چاہتا ہوں۔ اس کے دور میں 480 روپے کی سیمنٹ کی بوری لی تھی اور 130 روپے کلو سریا لیا تھا اور مکان بنایا تھا۔ مکمل مکان تیار کر کے اس میں اے سی لگوایا تھا۔ بچے میرے دن رات اے سی چلاتے تھے۔ اس کے دور میں، میں عمرے پر گیا تھا—غریب آدمی کا عمرہ کرنا اور مکان بنانا بڑا مشکل کام ہوتا تھا۔ میرے مسلمان بھائیو! اس کے دور میں خوشحالی دیکھی ہے، خواب پورے ہوتے دیکھے ہیں، مسلمانوں کو مضبوط ہوتے دیکھا ہے، اور غربت کا خاتمہ ہوتے دیکھا ہے۔ ایک ماڑے بندے کو صحت کارڈ مل جائے تو امیر اور غریب برابر ہو جاتے ہیں۔ غریبوں کے لیے لنگر خانے اور پناہ گاہیں کھولیں۔ لیکن یہ بات ان کو منظور نہیں تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمیں وہ حکمران چاہیے جو ہماری غلامی کرے۔ اس بندے نے شروع سے غلامی نہیں کی کیونکہ کلمہ ہمیں اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا کہ ہم غلامی کریں۔ تو انہوں نے حکم دیا کہ اس کی حکومت گرا دو۔ اس کے بعد ہم نے کیا نقصان دیکھا؟ وہ کہتا تھا کہ میں تو برداشت کر لوں گا لیکن تمہارے سے برداشت نہیں ہوگا اور وہ جیل کی سختیاں برداشت کر رہا ہے۔ دن بہ دن اس کا ایمان اور مضبوط ہو رہا ہے کیونکہ اس کا اللہ پر توکل ہے۔ لیکن ہمارے پاس برداشت ختم ہو گئی ہے۔ میری نوکری بھی چلی گئی، جنرل اسٹور بھی بند ہو گیا، ڈیرے والی زمین بھی چلی گئی اور ایک کیری ڈبہ لے کر اس پر مزدوری کر رہا ہوں۔ ڈرائیونگ لائسنس رینیو کرواتے وقت پہلے دو تین ہزار لگتا تھا، اب میں نے 10,000 روپیہ دیا ہے۔ گاڑی پاس کروانے کے لیے پہلے دو تین ہزار لگتا تھا، اب 20,000 روپیہ لگا ہے۔ پہلے ٹول پلازہ چھوٹی گاڑی کا 30 روپے تھا، اب 70 روپے ہے۔ میرے مسلمان بھائیو! ہمیں سب معلوم ہے، جو لوگ حکومت میں بیٹھے ہیں اور ان کو سپورٹ کرتے ہیں، انہیں بھی پتہ ہے کہ عمران خان حق پر ہے۔ لیکن وہ اس کو آنے نہیں دیتے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ طاقتور کو قانون کے نیچے لاؤں گا، احتساب کروں گا، امیر اور غریب کے لیے قانون برابر کروں گا، اور عدالتیں انصاف دیں۔ یہ چیزیں تبھی ممکن ہیں جب عوامی طاقت آئے گی۔ عوامی طاقت اس کے پاس ہے، لیکن ہم بزدل ہیں، ہم ڈرپوک ہیں۔ اس کا اللہ پر توکل پورا ہے لیکن ہمارا توکل نہیں ہے۔ ہمیں مولویوں نے غلط راستے پر لگا دیا ہے—لنگر بانٹنے ہیں، سبیلیں لگانی ہیں، محفلیں کرانی ہیں، لیکن مقصدِ حسین ہم بھول چکے ہیں۔ پیغامِ حسین یہ ہے کہ ظالم کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ ہمارے امام حسین نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن ظالم کی بیعت نہیں کی۔ میرے مسلمان بھائیو! پیغامِ حسین یہی ہے۔ اور عمران خان کو اس پر عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے، ہمیں بھی اس پر عمل کرنا پڑے گا اور حق بات بولنی پڑے گی۔ پاکستان زندہ باد! حرف باحرف سچ

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

11,804 görüntüleme • 2 gün önce

خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,749 görüntüleme • 24 gün önce

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 görüntüleme • 8 ay önce

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 görüntüleme • 2 yıl önce

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,041 görüntüleme • 4 gün önce

پیپلز پارٹی جو کل تک خوش اسلوبی سے انتظامات کر رہی تھی اور بھرپور خیر مقدم بھی کیا جا رہا تھا آج جلسہ گاہ میں پولیس بھیج کر اس حقیقت کو خود عیاں کر دیا گیا کہ وہ کل کے عوامی جنون سے خائف ہو چکی ہے اس وقت پولیس نے ہمارے تمام راستے بند کر دیے ہیں سامان کو آگے لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی پورے علاقے کو مکمل محاصرے میں لے لیا گیا ہے حتی کہ جلسہ گاہ کے دروازے بھی بند کر دیے گئے ہیں ایم این اے فہیم خان نے جب سامان منگوانے کے لیے گاڑی طلب کی تو ڈرائیور کو دھمکایا گیا کہ آگے بڑھنے کی صورت میں گرفتار کر لیا جائے گا اس پر ایم این اے فہیم خان نے ڈرائیور کو ہٹا کر خود گاڑی چلائی ڈرائیور نے خوف کے عالم میں گاڑی روک دی تو فہیم خان نے چابی لے کر گاڑی کو دھکا دیتے ہوئے آگے بڑھایا اس وقت پولیس کی بھاری نفری جلسہ گاہ میں موجود ہے مگر پاکستان تحریک انصاف کے تمام قائدین اور کارکن اس عزم پر قائم ہیں کہ ہر صورت جلسہ ہو کر رہے گا

Agha Sheikh Sarwar

38,250 görüntüleme • 7 ay önce

بلوچ قوم! جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دشمن بڑی “بہادری” سے بلوچ نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ “بہادری” سے رات کے اندھیرے میں اور دن کی روشنی میں ہمارے نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے۔ آج وہ چھوٹے بچوں کو بھی جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے، اور خواتین کو بھی جبری طور پر لاپتہ کر رہا ہے۔ اس سب کی وجہ ہماری خاموشی ہے۔جب دشمن یہ دیکھتا ہے کہ ہم خوف کا شکار ہو چکے ہیں، تو وہ اور زیادہ بہادر بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری مدد کے لیے کوئی اور نہیں آئے گا۔اپنی نسلوں کی حفاظت اور اپنے لوگوں کو بچانے کا ہمارے سوا کوئی آسرا نہیں۔ہمیں خود آگے آنا ہوگا، اور اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہم تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جب ان کے عزیز جبری طور پر لاپتہ کیے جائیں تو وہ خاموش نہ رہیں۔ وہ آگے آئیں، اور ظلم کے خلاف بولیں۔اور ہم پورے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔ کل بیسیمہ میں ماہ جبین بلوچ کی رہائی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ہم بیسیمہ کے عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔اور ہم اپنے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ ظلم صرف ایک گھر تک محدود نہیں،، یہ ظلم ہم سب کو ختم کر دے گی لیکن خاموشی کا جو داغ ہم پر لگ جائے گا، وہ ہماری آنے والی نسلیں بھی نہیں مٹا سکیں گی۔ آگے آئیں… اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں! #ReleaseMahjabeenAndYounusBaloch #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

39,735 görüntüleme • 1 yıl önce

عمران خان سیکٹر E-7 اسلام آباد میں میرے پڑوسی تھے جب میں 2008 میں پی ٹی آئی کا کارکن بنا۔ میری عمر پندرہ سال تھی۔ میں وہاں پر اپنی گھر کے قریب کالج کے بعد کرکٹ کھیلتا تھا جب عمران خان نے ہمیں بُلا کر بتایا کہ مجھے آپ جیسے نوجوان لوگوں کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سارا نظام کرپٹ ہے اور ہمارے حکمران امریکہ سے پیسے لے کر غلامی کرتے ہیں جس کے بعد مجھے انہی کے وارڈ کا جنرل سکریٹری اور پھر صدر منتخب کیا گیا۔ ہم لوگ تقریباً ہر جمعہ کو عدلیہ کی آزادی (چیف جسٹس افتخار چوھدری بحالی تحریک)، ڈرون حملوں اور مہنگائی کے خلاف پریس کلب اور آبپارہ چوک میں احتجاج کیا کرتے تھے۔ رشتہ دار، دوست یہاں تک کہ سکول کے ٹیچر بھی مزاک بناتے تھے کہ عمران خان کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتا لیکن عمران خان کے حکم پر اپنی محنت اور کوشش جاری رکھی۔ اس وقت جب پولیس پکڑتی تھی تو تھانے لے جا کر دو تین چھِتر مار کر چھوڑ دیتی تھی۔ پارٹی میں کبھی بھی عہدہ یا ذاتی مفاد لینے کی سیاست نہیں کی بلکہ ہمیشہ ایک ورکر ہونے کی حیثیت سے گراؤنڈ پر کام کیا۔ کبھی بھی میڈیا پراجیکشن نہیں کی اور نا ہی تصاویر اور وڈیوز کا شوق رکھا۔ میں اپنی حکومت میں بھی ہمیشہ فوج کے سیاسی مداخلت پر تنقید کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں اور آیئندہ آنے والے وقت میں بھی کرتا رہوں گا کیونکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب تک خفیہ اداروں کی سیاسی مداخلت اور انجنیئرنگ ختم نہیں ہوگی پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنی زندگی میں قسم کھائی ہے کہ اگر نظریہ عمران خان کے لئے مجھے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بہانہ پڑے گا تو میں ایک بار بھی نہیں سوچوں گا۔ میں اپنی یہ تصویر شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وقت نے مجبور کیا کہ بتایا جائے کہ ٹوئٹر پر بیٹھ کر تنقید کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن اپنے لیڈر کے نظرئے کو تشدد کے بعد بھی قائم و دائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ہمیشہ سے پی ٹی آئی کا اثاثہ رہا ہے لیکن ہم بات یہ کر رہے ہیں کہ جب تک سینئر قیادت عوام کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کے لیے باہر نہیں نکالی گی یہ لوگ عمران خان کو رہا نہیں کریں گے۔ کیا کوئی سینئر لیڈر بتا سکتا ہے کہ آٹھ ماہ بعد بھی آج عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک کا آغاز کیوں نا کیا جاسکا ؟ ایسی کیا رکاوٹ ہے آج بھی سینئر قیادت احتجاج اور جلسے کرنے سے خوف زدہ ہے جبکہ عمران خان ہر میٹنگ میں سینئر قیادت کو کہہ چکے ہیں کہ پورے پاکستان میں احتجاج کئے جایئں۔ سوشل میڈیا کو چاہئے کہ اپنی سینئر قیادت سے سب سوال پوچھے اور ان پر دباؤ ڈالیں کہ عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک چلایئں۔ میری کسی بھی ٹویٹ یا لفظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معزرت خواہ ہوں۔

Wajahat Sami

145,372 görüntüleme • 2 yıl önce

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 görüntüleme • 8 ay önce

آپ کے میسج کا شکریہ۔ ویسے تو میں اس طرح کے ٹویٹس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا، لیکن چونکہ معاملہ ایک بچی کا ہے اس لیے چند باتیں واضح کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے، اس بچی کی مکمل حوصلہ افزائی کی گئی تھی اور آج بھی ہم اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ اُس نے بہت خوبصورت سنایا۔ لیکن یہ ایک ایڈلٹس (Adults) سنگنگ کمپٹیشن تھا، جبکہ ہر جگہ بچوں اور بڑوں کے مقابلے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ جن 32 کنٹسٹنٹس کے نام فائنل ہوئے تھے 44 افراد میں سے ، اُن میں اس بچی کا نام شامل نہیں تھا، بعد میں اُسے فرمائشی موقع دیا گیا۔ اب اگر پہلے سے منتخب کنٹسٹنٹس کو سائیڈ پر رکھ کر کسی اور کو آگے لایا جاتا تو یہ باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔ جہاں تک ان دو افراد کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کیوں ہٹایا گیا، تو حقیقت یہ ہے کہ کسی کو “ہٹایا” نہیں گیا تھا۔ بیک اینڈ پر کافی مسائل چل رہے تھے، جن میں ایک ہوسٹ کا کنیکشن مسلسل اَن اسٹیبل تھا۔ اسپیس بیچ میں ایک مرتبہ گری بھی اور دوبارہ کنیکٹ ہوئی، جس کی وجہ سے کافی لوگوں کو مسائل پیش آئے۔ اسی لیے صرف یہ گزارش کی گئی کہ ہوسٹنگ وہ شخص سنبھال لے جس کا نیٹ ورک زیادہ مستحکم ہو تاکہ کمپٹیشن متاثر نہ ہو۔ لیکن اس فیصلے پر بھی غیر ضروری اعتراضات کیے گئے۔ اس کے بعد جو زبان اور الفاظ استعمال کیے گئے، اگر وہ یہاں شیئر کیے جائیں تو وہ خود ایک نامناسب چیز ہوگی۔ آپ ان افراد سے حلفاً خود بھی پوچھ سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک شخص نے یہ تجویز دی کہ بچی کو کم نمبر دے کر اگلے راؤنڈ سے باہر کر دیا جائے، جو کہ بچی کے ساتھ سراسر زیادتی ہوتی۔ اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بچی کی دل آزاری نہیں کی جائے گی، نہ اسے جان بوجھ کر کم نمبر دیے جائیں گے۔ اُسے مکمل عزت کے ساتھ ایونٹ کے آخر تک سننے کا موقع دیا گیا اور آئندہ اگر Kids Competition ہوا تو اُسے ضرور شامل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ابتدا سے فیصلہ یہ تھا کہ اسپیکرز پر صرف ججز اور سنگرز موجود ہوں گے اور فیصلہ بھی صرف ججز ہی کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود دیگر افراد کی رائے اور فیصلے لینے کی کوشش کی گئی، جو کہ باقی سنگرز اور کنٹسٹنٹس کے ساتھ سراسر ناانصافی تھی، کیونکہ جب ججز موجود تھے تو پھر باہر کے لوگوں کی رائے کو فیصلے پر اثر انداز کرنا درست نہیں تھا۔ جہاں تک انعام کی بات ہے، تو پہلے راؤنڈ کے اختتام پر ہم نے خصوصی طور پر اسی بچی کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا، اور ان شاء اللہ وہ اس تک پہنچایا بھی جائے گا۔ اصول صرف یہ ہے کہ ہر بات کے دو رخ ہوتے ہیں، لیکن اکثر لوگوں تک صرف وہی بات پہنچتی ہے جو کسی کے اپنے مفاد میں ہو۔ بہرحال، ہم سب کا احترام کرتے ہیں اور آپ سب کو آئندہ اسپیسز میں بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ بہت شکریہ ❤️۔ اور اس بچے کی آواز بھی بہت اچھی ہے اگلے راونڈ میں اسے بھی شامل کیا جائے گا !

M.Tayyab Tarar🎖

12,700 görüntüleme • 3 ay önce