Sensitive content

This media may contain sensitive content.

正在加载视频...

视频加载失败

پہلے کوئی بندہ اگر کسی کو اپنی بیوی پیش کرتا تھا اور اُسکو کسی اور سے چدتا دیکھتا تھا تو وہ اُسکی ایک فینٹسی ہوتی تھی جو اُس کی سوچ کی منازل کو کہیں دور لذت کی وادیوں میں لے جاتی تھی مگر اب کچھ لوگوں نے اس فینٹسی...

25,237 次观看 • 8 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

تصویر کہانی: موت زندگانی ہے! حوا بلوچ : وہ اپنے ساتھی جنگجوؤں کے ہمراہ دشمن کے فولادی حصار کو توڑ کر ایسی مضبوط پوزیشن سنبھال چکی تھی جہاں سے پسپائی کا کوئی سوال باقی نہ رہا تھا۔ اس کی للکار میں خوف نہیں، فیصلہ تھا، ایک ایسا فیصلہ جو محکوم قوموں کی تاریخ میں صرف وہی کرتے ہیں جو زندگی کو مقصد اور موت کو دلیل بنا لیتے ہیں۔ دورانِ جنگ اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ دشمن کی بزدلی پر ایک زوردار طمانچہ تھی۔ وہ مسکراہٹ محض چہرے کا تاثر نہیں تھی بلکہ شعور کا وہ سیلاب تھا جو غلامی کے تمام بند توڑ دیتا ہے۔ وہ جنگ سے خائف نہیں تھی کیونکہ اس نے خوف کو بہت پہلے شکست دے دی تھی۔ وہ موت سے بے باک تھی کیونکہ اس نے زندگی کو قومی آزادی کے ساتھ مشروط کر لیا تھا۔ دشمن کے کیمپ پر قبضہ کرکے وہ دوبدو مقابلے کا چیلنج دے رہی تھی، کھلے میدان میں، نظریے کے زور پر، یقین کے ہتھیار کے ساتھ۔ وہ ہنستی تھی، مسکراتی تھی، پُرعزم اور پُرحوصلہ، جیسے خطرہ اس کے وجود سے راہِ فرار اختیار کر چکا ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کی چمک تھی اور اس کی زبان پر قومی شعور کا وہ درس تھا جو صدیوں کی محکومی کو لمحوں میں بے معنی کر دیتا ہے۔ وہ مسکراتی ہوئی، پری نما زمین زادی، اپنی موت کا فیصلہ خود کرکے اس میدانِ کارزار میں اتر چکی تھی کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ اعلیٰ شعور ہی انسان کو نظریے کا حقیقی وارث بناتا ہے۔ یہی شعور فرد کو علامت، علامت کو مثال اور مثال کو تاریخ کا فیصلہ کن موڑ بنا دیتا ہے۔ ایسی مثالیں ہی قوموں کے مقدر لکھتی ہیں اور ایسی ہی موتیں زندگانی بن جاتی ہیں۔ تحریرحکیم بلوچ ۔

Rodium-A

25,759 次观看 • 8 个月前

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 次观看 • 10 个月前