Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پی آئی اے کا پیرس والا روٹ نقصان والا روٹ ہوگا، یہ سمجھتے ہیں پیرس کیلئے دو فلائیٹس چلا کر پتہ نہیں کیا کرلینگے، شاہد خاقان عباسی اینج کرو اینوں ہن لاہور لے جاو 😇

107,765 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля Yousaf Awan
Yousaf Awan1 год назад

جی بالکل یہ والا روٹ بلیو ائیر کو دے دیں تو پھر فائدے والا روٹ بن جائے گا۔

Фото профиля Zubair Yousaf
Zubair Yousaf1 год назад

شاہد خاقان عباسی کے لیے 1 بات کہوں گا کوئی جل گیا کسی نے دعا دی بہت بہت کم ظرف دیکھے اس کا اپنا لیول ہے

Фото профиля Sir Dig A Lot
Sir Dig A Lot1 год назад

Why has he become such a phuppay Kutni. As Umer Akmal would say, what a grace from fall!

Фото профиля حق کا ساتھی
حق کا ساتھی1 год назад

خاقان عباسی کو کیا تکلیف ہے سمجھ نہیں آتا ایک جہاز میں 323 لوگ بیٹھ سکتے ہیں جو پیرس گیا ہے وہ جہاز فل ہوکہ گیا ہے لیکن یہ بے شرم کہ رہا نقصان ہوگا واہ ائیر بیلو کے سالے

Фото профиля Chilli-Milli 🌶️
Chilli-Milli 🌶️1 год назад

شاہد خاقان جتنا گھٹیا اور گرا ہوا آدمی مجھے پوری پی ٹی آئی میں فواد چودری کے علاوہ کوئی نہیں نظر آتا اس نمک حرام کو پی ایم بنایا تھا میاں صاحب کے نمک میں بھی کوئی مسئلہ ہے شاید 😔

Фото профиля Sohail Khawaja
Sohail Khawaja1 год назад

شاہد خاقان عباسی اتنا بیغیرت ہو گا ایسا سوچا بھی نہیں تھا 🖐️🖐️

Фото профиля Adnan Adil
Adnan Adil1 год назад

یہ اس عمر میں سٹیا گیا ہے

Фото профиля Shaan
Shaan1 год назад

Is ko air blue ka root pasand ha khota

Фото профиля Yousaf Awan
Yousaf Awan1 год назад

ویسے ایک حساب سے بات ٹھیک بھی ہے۔ پی اے آئی میں کرپشن کے حالات یہ ہیں کہ انکا سینیئر سٹاف بھی پیرس سے واپس آنے فلائٹس میں آئے ہوئے پیرس کے منرل واٹر کی بوتلیں لینے پر لڑتا ہے۔

Фото профиля Javed Rehman
Javed Rehman1 год назад

ویسے یہ مرنے والا ہوا پڑا ہے

Похожие видео

میرے پسندیدہ اینکر کاشف عباسی نے اچھی گفتگو کی ہے۔ان پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں۔ اپنی تقریر میں کاشف نے وہاں موجود سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا حوالہ دیا کہ وہ کہتے ہیں اب میڈیا میں آواز نہیں اٹھ سکتی۔اجازت نہیں۔ عرض ہے ہمارے ارشد شریف پر ایف آئی اے کو پہلا مقدمہ درج کرنے کی اجازت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ہی دی تھی۔ ارشد نے اپنے پروگرام میں آئی بی کی ایک فہرست چھاپی تھی ایم این ایز کے بارے۔ خاقان عباسی وزیراعظم تھے اور ان کے حکم پر ایف آئی اے نے ارشد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا گیا۔ارشد فلائٹ لے کر کراچی چلا گیا تھا اور عدالت سے ضمانت کرائی اور ہم سب نے ارشد شریف کا وہ کیس لڑا تھا۔ آفتاب سلطان اس وقت ڈی جی آئی بی، بشیر میمن ڈی جی ایف آئی اے اور یہی شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے جو آج میڈیا کی آزادی کا رونا رو رہے ہیں۔انہی کے دور میں صحافیوں پر مقدمات کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور ارشد شریف ان کا پہلا شکار تھا۔ Kashif Abbasi

Rauf Klasra

124,467 просмотров • 9 месяцев назад

وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا لاہور شہر کا دورہ وزیراعلی مریم نواز شریف نے ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کا جائزہ لیا وزیراعلی مریم نواز شریف نے والٹن روڈ پر نئے اوور ہیڈ برج کا معائنہ کیا وزیراعلی مریم نواز شریف نے نو تعمیر شدہ "روٹ 47 "کا بھی معائنہ کیا سی بی ڈی" روٹ 47" کو عام ٹریفک کے لیے مکمل فعال کردیا گیا اورباقاعدہ طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا "روٹ -47" 4.5 کلومیٹر طویل، دو طرفہ اور تین رویہ جدید ترین انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے کلمہ چوک کو والٹن سے ملانے والا "روٹ 47" کو 1947 کی جدوجہدِ آزادی سے منسوب ہے۔ سی بی ڈی" روٹ 47 سے گلبرگ سے والٹن تک کا سفر چند منٹوں میں ممکن ہے۔ یہ لاہور کی پہلی سمارٹ اور جدید انفراسٹرکچر سے مزین شاہراہ ہے، جو اپنی طرز کی ایک منفرد مثال ہے۔ یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ پنجاب میں سمارٹ ترقی کی ایک نئی داستان ہے۔ "روٹ 47" پر تقریباً 2.5 کلومیٹر طویل سائیکل سواروں کے لیے لین بھی مخصوص ہے۔ والٹن ریلوے کراسنگ فلائی اوور پر پیدل اور سائیکل سواروں کے لیے بھی علیحدہ واک وے مخصوص ہے والٹن ریلوے کراسنگ فلائی اوور پر 912 میگا واٹ پر نصب سولر پینلز سے ایک میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی "روٹ 47"شاہراہ کے ساتھ بارش کے 50 لاکھ گیلن پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئےمصنوعی جھیل ،خوبصورتی کے لیے فوارے اور ایریشن سسٹم نصب کیے گئے ہیں "روٹ 47"شاہراہ کی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف مونیومنٹس بھی نصب کیے گئے ہیں۔ روٹ 47 پنجاب کے روشن اور پائیدار مستقبل کی جانب ایک اور نمایاں اقدام ہے۔ مریم نواز شریف

Zeeshan Malik

10,778 просмотров • 1 год назад

یہ ہے حکمرانوں کی احکامات کی اوقات۔۔۔۔ محترم سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ صاحب آج لاہور ہائیکورٹ تشریف لائے، انکے ساتھ پروٹوکول کیلئے ایک ڈی آئی جی سمیت مختلف پولیس افسران اور اہلکار بھی عدالت تشریف لائے۔ سی سی پی او لاہور آفس سے لاہور ہائیکورٹ کا فاصلہ شاید آدھا کلومیٹر ہوگا تاہم پروٹوکول پر آئے افسران کی گاڑیاں آن رکھنے، ای سی چلا کر رکھنے وغیرہ وغیرہ پر شاید پانی خرچ ہوتا ہے، اس لئے انہیں پرواہ نہیں، اگر حکومت اپنے سرکاری افسران کی پروٹوکول عیاشی پر کفایت شعاری نہیں کروا سکتی تو عوام پر پیرافورس کی شکل میں غنڈا گرد فورس مسلط کرنے کا کیا جواز ہے؟ محترم سی سی پی او صاحب اکیلے تشریف لے آتے، یا چلیں کم از کم متعلقہ ایس پی اور ایس ایچ او تین بندے بھی کافی تھے لیکن اتنی فوج ظفر موج کیوں؟ لاہور ہائیکورٹ کے سکیورٹی اسٹاف کو بھی نکال دیا جائے، پھر بھی پروٹوکول کیلئے افسر و اہلکار غیر ضروری ہیں۔۔۔

Mian Dawood

71,118 просмотров • 4 месяцев назад