Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

پی ٹی اۤئی نے کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ اب اسکا نتیجہ اۤگے بھی نظر اۤنا چاہیئے۔اگر ہم دنیا کی صلح کرانے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی تو مفاہمت کریں۔۔یہاں پر ذرا بات ہو تو بندوق، مقدمہ، پرچہ۔۔۔۔یہ کیا طریقہ ہے؟۔۔پاکستان کے لوگ...

31,727 views • 5 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,750 views • 1 month ago

آج کشمیر، میرپور اور کوٹلی سے وفد آیا۔ وفد نے مجھے کشمیر کی صورتِ حال پر بریف کیا۔ بہت افسوس ہے کہ کشمیر میں جانی نقصان ہوا ہے اور وہاں بحران ہے۔ میری وفد سے جتنی بات ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ کشمیری پاکستان سے بہت محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے، وہاں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسائل افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔ جو معاہدہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہوا تھا، اس پر عمل کیا جائے۔ موجودہ صورتِ حال سے متعلق معاملات مفاہمت، مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے چاہییں۔ کشمیری ہم سے بھی زیادہ اچھے پاکستانی ہیں اور وہ ہم سے زیادہ پاکستان کے لیے درد رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسمبلی میں، میں نے اور اپوزیشن لیڈر نے کشمیر کی صورتِ حال پر بات کی۔ ہم کشمیر کا دورہ بھی کریں گے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔

Asad Qaiser

30,936 views • 3 months ago

پہلی بات یہ وڈیو 2021 کی ہے جب سانحہ اے پی ایس کے ورثاء میں سے ایک وارث کور کمانڈر پشاور آفس کے باہر مظاہرہ کرنے پہنچے. شہید کے والد ہیں، فرط جذبات میں کچھ کہہ دیں، سر آنکھوں پر. دوسری اور اہم بات سانحہ اے پی ایس کے ورثاء کا مطالبہ تھا کہ اگر تحریک طالبان پاکستان سے کوئی مزاکرات ہورہے ہیں تو اسے بالکل قبول نہیں کیا جائے گا اور صدر پاکستان عارف علوی نے تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے لئے کسی رعایت کا اعلان کیا تو ہم سب خود کشی کرلیں گے. تیسری بات کچھ والدین پشاور ہائی کورٹ گئے کہ اگر کوئی مذاکرات ریاستی سطح پر ہورہے ہیں تو ہمیں بھی اسکا حصہ بنایا جائے. لیکن عدالت نے فیصلہ دیا کہ "سانحہ اے پی ایس کے ورثاء تحریک طالبان پاکستان کا ساتھ مذاکرات کرنے والی کسی کمیٹی کا حصہ نہیں بن سکتے" جس پر یہ والدین رنجیدہ تھے، غصہ تھے کہ ایک طرف تو تحریک طالبان سے مذاکرات اور سزائیں معاف کرنے کی بات ہورہی ہے اور دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان کے سب سے بڑے ظلم کو سہنے والوں کی شنوائی نہیں ہورہی ہے. چوتھی اور سوشل میڈیا کی زبان میں بات.. دجال کے Internees یہ پرانی وڈیو اس وقت ٹک ٹاک، ٹیوٹر، فیس بک اور انسٹا گرام پر یہ کہہ کر پھیلارہے ہیں "دیکھو شہید فوجیوں کے والدین فوج فوج کے خلاف ہی نکل آئے" کل تک یہ لوگ تحریک طالبان کے جنگجوؤں کو پاکستان میں لاکر آباد کرنے کی باتیں کرتے تھے اور آج ٹی ٹی پی کے حملے کے اگلے ہی دن اسطرح کی وڈیوز سوشل میڈیا پر جھوٹے کیپشن کے ساتھ شئر کررہے ہیں. سیاست اور عمران خان کے لئے جھوٹ بولنا اور پھیلانا تو چھوٹی بات ہے، یہ اپنی سیاست کے لئے پاکستان کو آگ لگاسکتے ہیں. آگ ہی تو لگا رہے ہیں....

Qaimkhani

16,743 views • 2 years ago

جنابِ اسپیکر! آج قبائل سے کہا جا رہا ہے، آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو، تم لڑو۔ میرا پشتون ہو یا بلوچ، وہ مقامی ہے، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ جنگ لڑے گا تو ان کی دشمنی نسلوں تک جائے گی، کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ یا پھر آپ کہیں کہ ہم پاکستان کے ہر شہری کو فوجی تربیت دیں گے تاکہ وہ جہاد کے جذبے سے سرشار بھی ہو اور اس کے لڑنے کی صلاحیت بھی اس کے اندر ہو۔ ہم نے تو پاکستان میں کسی کو چھوٹا سا پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی، ہم تو چھری بھی نہیں رکھ سکتے، ہم تو بغیر لائسنس کے ایک بندوق بھی نہیں رکھ سکتے، اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ آج ان حالات میں اگر میرے اوپر تین خودکش حملے ہوئے ہیں، میرے گھر پر کئی راکٹ حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کے اوپر حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کو گاڑیوں سے اتارنے کی کوشش کی گئی ہے، میری پارٹی کے سینئر لوگوں کے اوپر خودکش حملے ہوئے ہیں، ایک ایک حادثے میں پچیس پچیس اور تیس تیس لوگ شہید ہوئے ہیں، ان حالات سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں تو ایک بندوق رکھنے کی بھی اجازت نہیں۔ ملبہ قوم پر ڈالنا، ملبہ لشکروں پر ڈالنا، یہ کون سی حکمتِ عملی ہے؟ فوج میں ہم کس لیے بھرتی ہوتے ہیں؟ ہم نے فوجی وردی کس لیے پہنی ہوئی ہے؟ ہم نے پیٹی کس لیے باندھی ہوئی ہے؟ اس لیے باندھی ہوئی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو پھر ہمارا یہ نوجوان جنگ لڑے ٹانک میں، میں جنگ لڑوں ڈیرہ اسماعیل خان میں، فتح اللہ خان جنگ لڑے ڈیرہ اسماعیل خان میں، اس لیے تو نہیں ہے۔ اور اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ اسٹیٹ، بس لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے، کوئی سر اٹھائے تو فنا کر دو۔ کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجیے، کون سی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پر نگوشییٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو؟ ایک پوائنٹ بتایا جائے۔ جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے، یہ ہماری اٹھہتر سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے ہیں۔ میرے علماء شہید ہو رہے ہیں، علماء اس لیے شہید ہو رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہیں، وہ پارلیمنٹ کی سیاست کیوں کرتے ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب

Siddique Jan

22,731 views • 3 months ago