正在加载视频...

视频加载失败

پیپلزپارٹی اور سندھ نے سب سے زیادہ آمریت کا مقابلہ کیا ہے، جو ڈکٹیٹر مائنڈ سیٹ کے لوگ کہتے ہیں کہ نیا صوبہ بن کے رہے گا تو میں بھی ان کو جواب دینا چاہتی ہوں کہ سندھ کے لوگ لڑیں گے اور مریں گے اس کے بعد اگر...

19,091 次观看 • 17 天前 •via X (Twitter)

4 条评论

Zee Views 的头像
Zee Views17 天前

جس دن نیا صوبہ بننا ہوا سندھی خود آپ کو جوتے مار کر بھگائیں گے اور نیا صوبہ بھی بنوائیں گے ان شاءاللہ

Hassan Cheema 的头像
Hassan Cheema16 天前

Stop spreading the lies. Now the nation knows what kind of party you are and what have you done for Sindh.

Azra Iftikhar 的头像
Azra Iftikhar15 天前

پیپلز پارٹی سندھ میں کچھ ایسے مہاجر افراد کو حکومت میں جگہ دیتی ہے اور بہت سے مفادات اور بیشمار مراعات سے نوازتے ہے جو انکی حکومت کی چاپلوسی اور تعریف کرنے میں ماہر ہیں یہ لوگ کبھی نیے سندھیوں سے ہونی والی ناانصافی،عصبیت اور pppحکومت کی بدترین گورنس پر بات نہیں کرتے یہ منافق ہیں

Kamran Sani 的头像
Kamran Sani16 天前

Yeh Murray kuttiya

相关视频

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 次观看 • 2 年前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 次观看 • 1 个月前

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 次观看 • 3 个月前

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 次观看 • 2 个月前

بریکنگ نیوز 🚨عادل راجہ کا شاندار تجزیہ، علی آمین گنڈا کمینے اور انکے بھائی کی بڑی گیم ایکسپوز کردی، کھل کر سب بتادیا اور ساتھ ہی سہیل آفریدی کو اہم ترین باتیں بھی سمجھا دیں 🔥🔥 سہیل آفریدی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے علی امین گنڈاپور بننا ہے؟ میں آج یہ acknowledge کرتا ہوں، علی امین خان تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ میں نے تمہاری حمایت میں خان صاحب سے بھی بات کی تھی، تمہارے بارے میں جب background چیک مانگا گیا تھا کہ تمہاری ملاقاتیں ہوئی تھیں، فیصل نصیر جیل میں تم سے ملنے آیا تھا، فیصل واوڈا کو ساتھ لے کے آیا تھا اور تم نے خان صاحب کو جو ہے وہ دھوکہ دینے سے انکار کر دیا تھا، تو وہ بات مجھے بھی پتہ تھی اور خان صاحب کو بھی بتائی گئی تھی۔ اس وجہ سے تم سالے کو جو ہے وہ وزیر اعلیٰ لگایا تھا، اس لیے نہیں لگایا تھا کہ تم اربوں روپے کما لو اور تم principle کے اوپر جو ہے سودا کر لو اور تم دو ہزار چوبیس میں جس طرح بھاگے تھے، نو اضلاع cross کر کے تم بھاگ گئے اور اس کے بعد تمہارا بھائی آ کے یہاں پہ ڈرامے کرتا ہے اور کہتا ہے ہماری بڑی قربانیاں تو تم نے قربانیاں cash کی ہیں نا؟ تم نے قربانیاں دیں، جی ایم آئی سے تمہارے بھائی کا جو ہم جانتے نہیں ہیں کیپٹن نعمان امین کا کیا باتیں کرتے ہو تم لوگ؟ سالوں اگر واقعی تم نے قربانیاں دی تھیں تو اس کو cash نہ لیا ہوتا۔ تو سہیل آفریدی کے پاس ابھی choice ہے کہ وہ کیا علی امین گنڈاپور sweet boy two بنے گا یا وہ کھڑا ہو جائے گا۔ دیکھئے لوگ کہتے ہیں کہ ایک دن نہیں ایک دن آپ کا آگے جاتا ہے، اس کو روکا جاتا ہے تو ایک بہت بڑا issue بن جاتا ہے، international میڈیا اس کو pick ضرور کرے گا اگر یہ sustained احتجاج ہوگا، دھرنا ہوگا۔ اگر یہ convert ہو جائے گا آگے دھرنے کی طرف، پورا nationwide protest کے اندر اگر یہ convert ہو جاتا ہے تو international میڈیا اس کو اٹھا لیتا ہے اور تمام game اس وقت چل رہی ہے کہ امریکہ کا میڈیا اس معاملے کو نہ اٹھائے۔ اور دوسری طرف ظاہری بات ہے یمن والا معاملہ میں نے آپ کو بتا دیا کہ total game ساری وہاں پہ یہ ہے کہ عمران خان ان کو نظر نہ آ جائے جو missing peace ہے اس ساری game کے اندر، کہ عمران خان ایک ایسا peace ہے جو کہ تمام parties کو سامنے لا کے بٹھا سکتا ہے، محمد بن سلمان اس کو اپنا بھائی کہتا ہے، اس کے علاوہ ایران والے جو ہیں وہ علی خامنہ ای جو ہیں وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ close تھے اور خان صاحب کے ساتھ بہت زیادہ close نہ تھی لیکن عزت کا رشتہ تھا دونوں کا آپس میں، عزت کا تعلق تھا اور ان کا بیٹا جو ہے ظاہری بات ہے وہ عمران خان سے ملے گا، بات کرے گا، اس کو عاصم منیر کو تو تنخواہ دیتے ہیں، عباس عراقچی سے ملا دیتے ہیں زیادہ سے زیادہ وہ ان کے اپنے صدر سے ملا دیتے ہیں، اصل power تو جو ہے وہ ان کے بیٹے کے پاس ہے تو وہ ملے گا عمران خان سے ملے گا اور کسی سے نہیں ملے گا۔ یہ بات اگر کہیں پہ ٹرمپ کے کان میں سمجھ آگئی، کہیں پڑ گئی تو آپ سوچیں کہ پھر اس کو یہ نہیں ہے کہ پاکستان میرے orders دیتا ہے نہیں دیتا، ان کو پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پاکستان کو انہوں نے اس قابل کر دیا کہ پاکستان اپنی ٹانگوں کے اوپر کھڑے ہونے میں اس کو ages لگ سکتی ہیں اگر democracy آ جائے تو ان کے پاس تو ان سے نہیں چلے گا کام، یہ چھوٹے صوبے بنا کے صرف جو معاملات چلانا چاہتے ہیں، ان چھوٹے چھوٹے صوبوں کے بعد بھی حالات صرف مزید خراب ہوں گے، ethnic violence مزید بڑھے گا پاکستان میں اور دہشت گردی کے مزید واقعات ہوں گے، پاکستان کی economy مزید کمزور ہو گی۔ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اس فوج کا قبضہ ہے تبدیلی آ ہی نہیں سکتی، آ سکتی ہے انقلاب سے آ سکتی ہے، نظریاتی انقلاب پاکستان میں آ چکا ہے، زمینی انقلاب آتا تب ہی ہے جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں اور یہ جس طرف جا رہے ہیں لوگوں کو بھوکا ہی کریں گے اور کوئی ان کے پاس جو ہے دوسرا option نہیں ہے، اسی لیے علیمہ آپا کی گرفتاری کی گئی ہے اور اب آپ سمجھیے کہ ستائیس ستمبر کتنا important ہے اور یہ کیوں ڈرے ہوئے بیٹھے ہیں ستائیس ستمبر سے، please try to understand this.

‏زہـــرہ لیــاقت

46,430 次观看 • 3 天前

مجھے اکثر کہتے ہیں کہ آپ انسانی حقوق کی تنظیموں سے کیوں نہیں رابطہ کرتے تو میں یہ کہتی ہوں کہ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں جتنا ظلم پاکستان میں ہوا ہے وہ چھپا نہیں ہے، جہاں پہ یہ 26 نومبر ہوا وہاں پر ایمبیسیز تھیں ان کو سب پتہ ہے لیکن وہ ان کو سپورٹ کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانی بہت بڑی طاقت ہیں جو عمران خان کے ساتھ ہیں، عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو ہر مشکل سے نکالیں گے کیونکہ ان کے پاس آزادی بھی ہے اور ان کے پاس طاقت بھی ہے، پاکستان میں لوگ اتنے مجبور ہو چکے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کے لیے کاروبار والا انسان ساتھ دیتا ہے تو اس کا کاروبار بند ہو جاتا ہے، اوورسیز اس لحاظ سے بہت آزاد ہیں وہ پاکستان کے لیے بھی آواز اٹھائیں عمران خان کے لیے بھی بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا ظلم ہو رہا ہے جیل کے اندر کتنا برا سلوک ہو رہا ہے اور یہ لوگ کتنے بڑے مجرم ہیں جو اس وقت وہاں پہ کھڑے ہیں، یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ امریکہ ہمیں بچا لے گا ان کو کوئی بھی نہیں بچا سکے گا یہ ان کا آخری وقت چل رہے اور میرا خیال ہے اس کے بعد شاید پاکستان ظلم سے آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ ظلم بہت سالوں سے کرتے رہے ہیں تو مجھے امید ہے انشاءاللہ یہ آخری وقت ان کا چل رہا ہے۔ نورین نیازی #AllowAccessToImranKhan #ImranKhanHealthEmergency

Qasim Khan Suri

40,648 次观看 • 7 个月前

میں جرنیلوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وردی پہن کر اور سونے کے بلے لگا کر اگر اپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پ پاکستان کو خوبصورت وطن بنا سکیں گے،اسٹیبلشمنٹ ،پاکستان کی متکبر بیوروکریسی ، پاکستان کے مفاد پرست طبقے اورسیاست دانوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اب آپ کے بس میں پاکستان کی خوشحالی نہیں ہے اب تم راستے سے ہٹ جاؤ ہم انشاءاللہ پاکستان کو اللہ کے فضل و کرم سے ایک خوشحال اور مستحکم سرزمین بنائیں گے ۔ اپنی ناکامی کو تسلیم کرو تم اداروں کی قوت کو غلط استعمال کر رہے ہو اور تمہارے غلط روش اور غلط حکمرانی کے نتیجے میں آج پاکستان میں قدم قدم پر اضطراب ہے ۔خون بہہ رہا ہے ، حقوق سلب ہو رہے ہیں ،قوموں کے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ جمعیت علماء ہر صوبے کے عوام کے حقوق کا علم بلند رکھے ہوئے ہے ۔ہم صوبائی حقوق کے علمبردار ہیں ۔اور ہمارا نعرہ یہی ہے کہ صوبہ سندھ کے وسائل پر ان کے عوام اوران کے بچوں کا حق ہے ۔کسی کے باپ کو بھی ان وسائل پر جبرا قبضے کا حق نہیں ۔اگر سندھ کے وسائل پر جبرا قبضہ کیا گیا تو تحریک بھی اٹھے گی،فضل الرحمان آگے ہوگا اور سندھی عوام ساتھ ہونگے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

103,611 次观看 • 1 年前