Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

چار مارشل لا کی سزا میں نے دیکھی ہے، آج بھی مجھے ان سے خوف نہیں آتا، لیکن عدلیہ سے مجھے خوف ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک عدلیہ ہے۔ انہوں نے کبھی پارلیمنٹ کو آزادانہ طور پر چلنے نہیں دیا۔ ان کے خلاف بات کی جائے تو وہ عدلیہ...

40,163 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 görüntüleme • 2 ay önce

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 görüntüleme • 5 ay önce

آپ ان دو ویڈیوز کو زرا غور سے دیکھیں۔ ان میں انسانی کردار کو سمجھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ایک ویڈیو کلپ 2020 کا ہے۔ مجھے آپ ٹی وی چینل سے نکلے یا نکالے ہوئے کچھ ماہ ہوئے تھے۔ آفتاب اقبال صاحب کا اس وقت کا لہجہ نوٹ کریں اور جو ویڈیو انہوں نے چھ سال بعد آج جاری کی ہے اسے دیکھیں۔ پہلی ویڈیو میں انہیں احساس ہے انہوں نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی۔ غلط کیا تھا۔ انصاف سے کام نہیں لیا۔ ان کے اندر شدید احساس جرم تھا کہ ایک بندے کو منت ترلوں سے چینل لایا تھا اور اب اس کے عمران خان اور فوجیوں کے چرنوں میں گرنے سے انکار کے بعد نکال دیا تھا۔ اس نے بھی لاکھوں کی نوکری چھوڑ دی لیکن جرنیلوں یا عمران خان سے نہ ملا نہ ہی کمپرومائز کیا۔2020 کلپ میں ان کے ہاں ایک بڑے انسان اور پروفینشل انسان والی اپروچ ہے جو اپنی غلطی مانتا ہے۔ جو شرمندہ ہے۔ وہ وہاں مجھے compliment پیش کررہے ہیں۔ میں نے ان کی گفتگو کو کافی سمجھا اور کبھی دل میں بات نہ رکھی اور کبھی ان کے خلاف بات نہ کی۔ اس کلپ میں انہیں اپنی غلطی کا شدید احساس /شرمندگی ہے تو وہیں میرے اسٹینڈ/انکار میں عزت نظر آرہی ہے۔ آج چھ سال بعد آج کی ویڈیو میں ان کا لہجہ اور الفاظ نوٹ کریں۔ ذہن میں رکھیں کہ ان سات برسوں میں نے کبھی آفتاب اقبال کے خلاف کوئی بات نہ کی۔۔

Rauf Klasra

86,463 görüntüleme • 4 ay önce

میں عدنان اس بات کا حلف اٹھاتا ہوں (اور اس کا ثبوت بھی ویڈیوز کی صورت میں میرے پاس موجود ہے) کہ مجھے مریم نواز نے بتایا کہ "یہ جو دہشتگردی ہے، اسکے پیچھے وردی ہے"۔ مجھے فضل الرحمان نے بتایا کہ "پاکستانی فوجی جرنیل اسرائیلی ایجنٹ ہیں اور انکے پیسوں پر پلتے ہیں"۔ مجھے خواجہ آصف نے بتایا کہ "پاکستانی فوج نے قوم کی ہڈیوں سے گوشت تک نوچ لیا ہے مگر آج تک کوئی ایک بھی جنگ نہیں جیت سکی ہر جنگ ہاری ہے"۔ مجھے ایاز صادق نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر بتایا کہ "بھارت کے نام سے فوج کی ٹانگیں کانپتی ہیں"۔ آصف زرداری نے پوری قوم کے سامنے افواج پاکستان کو دھمکیاں دی کہ "اوقات میں رہو ورنہ ہم تماری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے"۔ حضور! قوم کو بے وقوف بنانا بند کریں، عوام سب کچھ جان چکی ہے، اگر تھوڑی سی غیرت اور شرم باقی ہے تو ان کے خلاف بھی ایکشن لیجئے۔ اور رہی بات عمران خان کی تو اس نے کبھی بھی فوج کے خلاف بات نہیں کی، اس نے تو ہمیشہ کہا ہے کہ "یہ ملک بھی میرا ہے اور یہ فوج بھی میری ہے"۔

Adnan

293,191 görüntüleme • 3 yıl önce

وہ باتیں بھی کردی جو مولانا صاحب نے راز میں رکھی تھی سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کی تازہ ترین گفتگو * مولانا فضل الرحمٰن نے تقریر کی ہے، اور ان کی جماعت نے بھی ان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ * مولانا کی جماعت سے میرا کوئی تعلق نہیں، لیکن ان کے والد، مفتی محمودؒ، کے قدموں میں بیٹھ کر قرآن سنتا رہا ہوں، اس لحاظ سے ان سے میرا ذاتی تعلق ضرور ہے۔ * مولانا صاحب نے بات تو سچ کی ہے، لیکن پروین شاکر کا شعر یاد آتا ہے: “بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی۔” * کچھ عرصہ پہلے میری مولانا صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔ * مولانا فضل الرحمٰن نے مجھے بتایا کہ اس الیکشن سے پندرہ ماہ پہلے پاکستان کے مالکوں نے ان سے رابطہ کیا۔ * اس الیکشن کے نتائج کا فیصلہ پندرہ ماہ پہلے ہی کر لیا گیا تھا۔ * ایک دفعہ محمود اچکزئی صاحب نے بتایا تھا کہ ،پچاس ارب روپے میں اسمبلی کی نشستیں فروخت کی گئیں۔ * دنیا میں بڑا بننے سے پہلے اپنے ملک کو تو بچاؤ۔ * پاکستان کو تحفظ بھی چاہیے اور آزادی بھی، لیکن اگر تم یہ نہیں دو گے تو ہم خود اسے حاصل کریں گے۔

Fahim Akhtar Malik

27,095 görüntüleme • 2 ay önce

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,926 görüntüleme • 24 gün önce

میرے کارکن نظریاتی اور دلیر ہیں۔ انہوں نے اپنے خوف کے بت توڑ دیے ہیں۔ مجھے ان کا جنون سب سے زیادہ پسند ہے۔ جنون کا کوئی توڑ نہیں، کوئی میرے کارکنوں کو شکست نہیں دے سکتا۔ لیڈر باپ کی طرح ہوتا ہے۔ جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو پہلے اللہ کی تعریف کرتے ہیں، پھر سیدھے راستے کی دعا مانگتے ہیں۔ 622 میں نبی ﷺ نے مدینہ ہجرت کی۔ 624 میں جنگِ بدر ہوئی، 313 مسلمان۔ دو سپر پاورز کے مقابلے میں 313 مسلمان۔ 632 میں نبی ﷺ نے دنیا سے پردہ کیا۔ لیکن اس دوران سپر پاورز نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ اسی لیے اللہ نبی ﷺ کے راستے پر چلنے کا حکم دیتا ہے۔ انہوں نے عرب میں کیا تبدیلی لائی کہ مسلمانوں نے دنیا کی امامت سنبھال لی؟ وہ تھی لا الہ الا اللہ۔ صرف آزاد انسان ہی امامت کر سکتا ہے۔ جو ہارنے سے ڈرتا ہے، اسے جیتنا نہیں آتا۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ نے انسان کو اس خوف سے آزاد کیا ہے۔ دوسرا خوف نوکری کا ہے۔ اللہ پر اعتماد ہو تو انسان ضمیر کی آواز سنتا ہے، نہ کہ نہتے بے گناہوں پر کسی کے حکم پر حملہ کرتا ہے۔ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پی ڈی ایم روز میری بہت باتیں کرتا ہے، مگر لوگوں میں میری عزت اور بڑھ گئی ہے۔ شیطان کا راستہ شارٹ کٹ اور آسان راستہ ہے۔ دوسرا نبی ﷺ کا راستہ ہے، وہ آسان نہیں لیکن اوپر لے جاتا ہے۔ میری اللہ سے تین دعائیں ہیں: - اللہ پاکستان کو وہ ریاست بنا جو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑی ہو - جہاں عدل اور انصاف ہو - جہاں لوگ حقیقی طور پر آزاد ہوں - کوئی بھی پاکستانی بھوکا نہ سوئے #افطار_کہتان_کےساتھ #RamadanWithKaptaan

PTI

203,682 görüntüleme • 6 ay önce