Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

چلیں جی ایک اور #MiddleClass گشتی کی #VideoLeak ہوگئی اب رونا دھونا شروع ہے وہی پرانی کہانی #Ai ہےاور بعد میں کسی #EliteClass کے لڑکے پر جھوٹا الزام اور پیسے لیکر چپ ہوجانا شامل ہےاورخود کو #Influencer کہتی ہیں سارا معاشرہ ہی مڈل کلاس کی لڑکیوں نےخراب کیاہواہے #ParasKhan #TikTok

47,537 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 görüntüleme • 11 ay önce

خیبر پختونخوا میں بلین ٹری منصوبے کی کامیابی کے باوجود جنگلات کی کٹائی کی شرح زیادہ کیوں ۔۔۔ اہم وجہ سامنے آ گئی ۔۔۔! اگر آپ اب بھی سوات، ہزارہ اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں جائیں آپ کو سڑکوں کے کناروں سے لے کر ہر جگہ پر young plantations نظر آئیں گی۔۔۔۔ اسی وجہ سے کے پی میں بلین ٹری منصوبہ صوبے نے اپنے وسائل اور بجٹ سے لانچ کیا تھا جسکی کامیابی کی بعد اب ٹین بلین ٹری منصوبہ شروع ہوا ہے مگر اب ایشو یہ ہے کہ صوبے میں جو میچور یا پرانے جنگلات ہیں ان کو کاٹا جا رہا ہے اور ہر شخص کو یہ لالچ ہے کہ میں بھی پرانی لکڑی بیچ کر پیسے کما لوں ۔۔۔۔ اسی طرح جو high reaches یعنی بلندی پر واقع جنگلات ہیں وہاں سے درختوں کو کاٹا گیا ہے جسکی وجہ سے اب خیبر پختونخوا میں بلندی پر واقع جنگلات بڑی تعداد میں کٹ چکے ہیں اور نیچے ابھی نوخیز پودے اور درخت ہی باقی بچے ہیں۔۔۔ سابق چیف فاریسٹ کنزرویٹر علی گوہر خان نے انتہائی اہم وجہ بتا دی ۔۔۔!

Shiffa Z. Yousafzai

36,919 görüntüleme • 1 yıl önce

فخر الرحمن صاحب کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق اس میں نہ تو 'اسلام آباد پوسٹ' نامی کسی اکاؤنٹ کا ذکر ہے اور نہ ہی اس سے جڑا کوئی الزام۔ جب بنیاد ہی سرے سے موجود نہیں، تو پھر 'اعترافِ جرم' کا کیسا؟ اگر صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے فخر صاحب کیخلاف ایک باقاعدہ منظم مہم شروع کی گئی، گرفتاری کے فوراً بعد پہلی پوسٹ 'مارخور' نامی اکاؤنٹ سے منظرِ عام پر آتی ہے، جس کے بعد وہ مخصوص صحافی میدان میں اترتے ہیں جو آج کل ریاستی بیانیے کے ہمنوا ہیں۔ ان لوگوں نے کسی تحقیق یا تصدیق کی زحمت کیے بغیر مواد کو 'کاپی پیسٹ' کیا اور فخر صاحب کو ملک دشمن ثابت کرنے کی دوڑ میں لگ گئے۔ اس کے بعد ن لیگ اور مقتدر حلقوں کے سوشل میڈیا ٹرولز، بشمول نیشا پومی جیسے اکاؤنٹس نے محاذ سنبھالا اور جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعے اپنی 'نوکری حلال' کرنے کی کوشش کی۔ ملک دشمنی کے فتوے بانٹنے والے ان فکری اپاہجوں کو کیا معلوم کہ فخر الرحمن جیسے صحافی ان گمنام ہینڈلز سے کہیں زیادہ محبِ وطن ہیں۔ آخر ایک صحافی اپنی آزادی اور تحفظ کو خطرے میں ڈال کر اگر حق کی بات کرتا ہے، تو اس میں اس کا کیا ذاتی مفاد ہو سکتا ہے؟ حق گوئی ہی تو اصل حب الوطنی ہے، کیونکہ جو شخص نظام کی خامیوں پر خاموش رہنے کے بجائے آئینہ دکھاتا ہے، وہ دراصل اس مٹی کی اصلاح چاہتا ہے۔ افسوس ان پراپیگنڈا عناصر پر نہیں جو کل کو صحافیوں پر ایٹمی اثاثوں کی چوری جیسا الزام بھی لگا دیں گے، گلہ تو ان 'اپنوں' سے ہے جو اس بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔اس سے زیادہ شرمناک صورتحال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایک صحافی، دوسرے صحافی پر ملک دشمنی جیسے سنگین الزامات کو بغیر تحقیق اور شواہد کے انڈورس کرے؟ آخر ایسی کیا مجبوری آن پڑی ہے؟

Waseem Malik

21,504 görüntüleme • 4 ay önce

عمران نیازی کا ایک اور بین الاقوامی سکینڈل آنے کو ہے۔۔ ایپسٹن سکینڈل کیا ہے؟ جیفری ایپسٹن اور اسکی پارٹنر گیزلین میکسول پر ایک کیس چلا جس کے مطابق نوے کی دہائی میں ایپسٹن نے اپنے جزیرے پر ایک مکروہ دھندہ شروع کیا جس میں تیرہ سے سترہ سال کی بچیوں کو سیکس کے لیے انٹرنیشنل کلائنٹس کو پیش کیا جاتا ، جزیرے تک آنے کے لیے جہاز کا بندوبست بھی یہی لوگ کرتے اور کام مکمل ہونے کے بعد کلائنٹ کو واپس چھوڑا جاتا ، اس کیس کی شروعات انہی متاثرہ بچیوں میں سے ایک بچی کی شکایت پر شروع ہوئی اور دونوں کو مجرم قرار دے دیا گیا اب تک کی کارروائی کے مطابق لسٹ میں سے چند نام سامنے آ چکے ہیں جبکہ بہت سے نام سامنے آنا باقی ہیں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان میں مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ سابق امریکی صدر ٹرمپ عمران خان کے سسر گولڈ سمتھ کے علاوہ بہت سے ماڈل ایکٹرز اور بزنس مین شامل ہیں یہ سب وہ مکروہ کردار ہیں جنہوں نے جنسی خواہشات کے لیے بچیوں کے ساتھ زیادتی کی اس لسٹ میں ایک شخص کے بارے میں عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک وزیراعظم ہے یاد رہے یہ کیس 2020 میں چلا تھا اور اس وقت ایک ہی ایسا وزیراعظم تھا جس کے میکسول یا ایپسٹن کے ساتھ لنکس تھے اور وہ کوئی اور نہیں عمران خان ہے اب کہانی یہاں پہنچی ہے کہ اس وزیر اعظم کے وکیل نے اپنے کلائنٹ کے کوڈ نیم Doe 107 سے درخواست دائر کی ہے کہ اسکے کلائنٹ کا نام شائع نہ کیا جائے کیونکہ اسکا جس ملک سے تعلق ہے وہاں ایسی باتوں کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور اسکا ملک کی روایات کی وجہ سےسوسائٹی میں بہت بڑا ردعمل آئے گا یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ وسیم اکرم نے ایک ٹی وی شو میں بتایا تھا کہ ایک دفعہ عمران خان ایک خاتون دوست کے ہمراہ ایک پرائیویٹ جہاز میں سوار ہو کے کسی جزیرے میں چلا گیا تھا اور اب وقت نے بتا دیا وہ جزیرہ کونسا تھا اور جہاز کسکا تھا لیکن ابھی تک نام کی باقاعدہ تشہیر نہ کرنے کا فیصلہ نہیں آیا اور نام شائع ہو رہے ہیں.. (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

77,501 görüntüleme • 2 yıl önce

ڈاکٹر اعجاز شاکر ایک اچھے اور صاف ستھرے کردار کے مالک ڈاکٹر ہیں۔۔۔ جتنے مرض ہیں اسی کے حساب سے علاج بھی ہے اور علاج کرنے کا طریقہ چاہے آپکو پسند آئے ناں آئے علاج تو کرنا ہے اگر مریض کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ اگر آپ کہیں کے انجیکشن بھی لگوانا ہے اور درد بھی ناں ہو تو ایسا ممکن نہیں۔ حکومتی نااہلی ہے کہ عوام کو چھوڑ دیا گیا ہے ڈاکٹرز پر، نا کوئی سیکیورٹی جسکا دل کرتا ہے منہ اٹھا کر آتا ہے گالم گلوچ کرتا ہے، ویڈیو بناتا ہے کوئی رسک ٹوک نہیں ہے اور اسکے بعد جو بکواس سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دے، عوام واہ واہ ہی کرتی ہے۔ ہم سمجتے ہیں اچھے سے کہ مریض اور اسکے لواحقین پریشان ہوتے ہیں مگر اسکا یہ مطلب تو نہیں ہے آپ ڈاکٹرز کو ہی گالم گلوچ شروع کر دیں۔ آج کل ڈاکٹرز کے حالات ہر جگہ ہی برے ہیں مگر ٹی ایچ کیو اور ڈی ایچ کیو پر تو مت ہی ماری گئی ہے سیکیورٹی نہ ہونے کے برابر اور ایسے موقع پر ایم ایس، اے ایم ایس، ڈی ایم ایس ٹائپ کے ہمارے ہی ڈاکٹرز اپکی حفاظت کے لئے کوئی نہیں آتا، ڈاکٹرز اکیلے ہی عوام بھیڑ میں ذلیل ہوتا اور پھر سسپنڈ بھی ہو جاتا۔ یہی کچھ یہ میانچنوں والے واقعہ میں ہوا ہے ایک خاتون نیم بیہوشی کی حالت میں ہسپتال میں داخل ہوتی ہے، ڈاکٹر صاحب اس کو باقی مریضوں اور لواحقین کی موجودگی میں، وارڈ میں مریضہ کا معائنہ کیا گیا۔۔۔ ایسے نیم بیہوش مریض/مریضہ کو ہنسلی کی ہڈی یا ناک کی ہڈی پر پین سٹیمولس/ دبایا جاتا ہے تاکہ مریضہ کی بیہوشی کی حقیقی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔۔۔ جس کے جواب میں مریضہ نے ڈاکٹر کے ہاتھ کو پیچھے کی طرف دھکیلا۔۔۔ الله کو جواب دینا ہے، سدا اس دنیا میں نہیں رہنا۔۔۔ مہربانی فرما کر کسی کے کہنے پر اور ادھوری کہانی دیکھ کر الزام تراشی کر کے اپنی آخرت خراب مت کریں۔۔۔ شکریہ 💔💔

𝗗𝗿 𝗡𝗮𝗲𝗲𝗺 𝗠𝗲𝗼 𝗢𝗳𝗳𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹

11,796 görüntüleme • 3 ay önce